بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 62 از 194
حدیث نمبر: 8339 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيَجْتَنِبْ الْوَجْهَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی کو مارے تو چہرے پر مارنے سے اجتناب کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8339]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2559، م: 2612
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2559، م: 2612
حدیث نمبر: 8340 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ، وَذِرَاعًا فِِِِذِِراعًا، وَبَاعًا فَبَاعًا، حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ لَدَخَلْتُمُوهُ"، قَالُوا: وَمَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ أَهْلُ الْكِتَابِ؟ قَالَ" فَمَه" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم لوگ گزشتہ امتوں والے اعمال میں بالشت بالشت بھر اور گز گز بھر مبتلا ہوجاؤگے حتٰی کہ اگر وہ کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم بھی داخل ہوجاؤگے لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! وہ کون لوگ ہیں؟ اہل کتاب؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تو اور کون؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8340]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7319
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7319
حدیث نمبر: 8341 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، أَيُّوبَ بْنِ خَالِدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حدثني ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلًى لِأُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي، فَقَالَ: " خَلَقَ اللَّهُ التُّرْبَةَ يَوْمَ السَّبْتِ، وَخَلَقَ الْجِبَالَ فِيهَا يَوْمَ الْأَحَدِ، وَخَلَقَ الشَّجَرَ فِيهَا يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَخَلَقَ الْمَكْرُوهَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ، وَخَلَقَ النُّورَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ، وَبَثَّ فِيهَا الدَّوَابَّ يَوْمَ الْخَمِيسِ، وَخَلَقَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام بَعْدَ الْعَصْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، آخِرَ الْخَلْقِ فِي آخِرِ سَاعَةٍ مِنْ سَاعَاتِ الْجُمُعَةِ، فِيمَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى اللَّيْلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا اللہ نے ہفتہ کے دن مٹی کو پیدا فرمایا اتوار کے دن پہاڑوں کو پیر کے دن درختوں کو منگل کے دن ناپسندیدہ امور اور بدھ کے دن نور کو پیدا کیا اور جمعرات کے دن اس میں جانداروں کو بسایا جمعہ کے دن نماز عصر کے بعد حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق فرمائی یہ آخری تخلیق تھی جو جمعہ کی آخری ساعتوں میں عصر اور رات کے درمیان وجود میں آئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8341]
حکم دارالسلام
الأصح أنه موقوف على كعب الأحبار، وليس من قول النبي صلى الله عليه و آله وسلم ، م: 2789
الحكم: الأصح أنه موقوف على كعب الأحبار، وليس من قول النبي صلى الله عليه وسلم ، م: 2789
حدیث نمبر: 8342 مسند احمد
هَاشِمٌ ، عِيسَى يَعْنِي بْنَ الْمُسَيَّبِ ، أَبُو زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا عِيسَى يَعْنِي بْنَ الْمُسَيَّبِ ، حَدَّثَنِي أَبُو زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي دَارَ قَوْمٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَدُونَهُمْ دَارٌ، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ، تَأْتِي دَارَ فُلَانٍ وَلَا تَأْتِي دَارَنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِأَنَّ فِي دَارِكُمْ كَلْبًا"، قَالُوا: فَإِنَّ فِي دَارِهِمْ سِنَّوْرًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ السِّنَّوْرَ سَبُعٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک انصاری کے گھر تشریف لے جاتے تھے ان کے پیچھے بھی ایک گھر تھا ان لوگوں پر یہ بات گراں گذری اور وہ کہنے لگے یا رسول اللہ! آپ فلاں کے گھر تو تشریف لاتے ہیں ہمارے گھر تشریف نہیں لاتے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ تمہارے گھر میں کتا ہے وہ کہنے لگے کہ ان لوگوں کے گھر میں بھی تو بلی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بلی (ایسا) درندہ ہے (جو رحمت کے فرشتوں کو آنے سے نہیں روکتا) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8342]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عيسی
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عيسی
حدیث نمبر: 8343 مسند احمد
هَاشِمٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شُبْرُمَةَ ، أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شُبْرُمَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُعْدِي شَيْءٌ شَيْئًا، لَا يُعْدِي شَيْءٌ شَيْئًا"، ثَلَاثًا، قَالَ: فَقَامَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ النُّقْبَةَ تَكُونُ بِمِشْفَرِ الْبَعِيرِ أَوْ بِعَجْبِهِ، فَتَشْمَلُ الْإِبِلَ جَرَبًا! قَالَ: فَسَكَتَ سَاعَةً، ثم قَالَ: " مَا أَعْدَى الْأَوَّلَ؟! لَا عَدْوَى، وَلَا صَفَرَ، وَلَا هَامَةَ، خَلَقَ اللَّهُ كُلَّ نَفْسٍ فَكَتَبَ حَيَاتَهَا، وَمَوْتَهَا، وَمُصِيبَاتِهَا، وَرِزْقَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی ایک دیہاتی کہنے لگا کہ پھر اونٹوں کا کیا معاملہ ہے جو صحراء میں ہر نوں کی طرح چوکڑیاں بھرتے ہیں اچانک ان میں ایک خارشی اونٹ شامل ہوجاتا ہے اور سب کو خارش زدہ کردیتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ دیر خاموش رہ کر اس سے پوچھا کہ اس پہلے اونٹ کو خارش کہاں سے لگی؟ کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی صفر کا مہینہ منحوس نہیں ہوتا اور کھوپڑی سے کیڑا نکلنے کی کوئی حقیقت نہیں ہے اللہ نے ہر انسان کو پیدا کیا ہے اور اس کی زندگی موت مصیبت اور رزق سب لکھ دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8343]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5717، م: 2220، محمد بن طلحة، وإن روى له الشيخان، ينحط عن رتبة الصحيح، لكنه متابع
الحكم: حديث صحيح، خ: 5717، م: 2220، محمد بن طلحة، وإن روى له الشيخان، ينحط عن رتبة الصحيح، لكنه متابع
حدیث نمبر: 8344 مسند احمد
هَاشِمٌ ، مُحَمَّدٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شُبْرُمَةَ ، أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شُبْرُمَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ النَّاسِ أَحَقُّ مِنِّي بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ؟ قَالَ: " أُمُّكَ"، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" ثُمَّ أُمُّكَ"، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" ثُمَّ أُمُّكَ"، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" ثم أَبَوكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں یہ سوال پیش کیا کہ لوگوں میں عمدہ رفاقت کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ فرمایا تمہاری والدہ اس نے پوچھا اس کے بعد کون؟ فرمایا تمہاری والدہ اس نے پوچھا اس کے بعد کون؟ فرمایا تمہاری والدہ اس نے پوچھا اس کے بعد کون۔ فرمایا تمہارے والد۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8344]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وإسناده كسابقه ، خ: 5971، م: 2548
الحكم: حديث صحيح، وإسناده كسابقه ، خ: 5971، م: 2548
حدیث نمبر: 8345 مسند احمد
رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ضِرْسُ الْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِثْلُ أُحُدٍ، وَعَرْضُ جِلْدِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا، وَفَخِذُهُ مِثْلُ وَرِقَانَ، وَمَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ مِثْلُ مَا بَيْنِي وَبَيْنَ الرَّبَذَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن کافر کی ایک ڈاڑھ احد پہاڑ کے برابر ہوگی اور اس کی کھال کی چوڑائی ستر گز ہوگی اور اس کی ران ورقان پہاڑ کے برابر ہوگی اور جہنم میں اس کے بیٹھنے کی جگہ میرے اور رہذہ کے درمیانی فاصلے جتنی ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8345]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، م: 2851
الحكم: إسناده حسن، م: 2851
حدیث نمبر: 8346 مسند احمد
رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَدُهُمَا أَشْرَفُ مِنَ الْآخَرِ، فَعَطَسَ الشَّرِيفُ فَلَمْ يَحْمَدْ اللَّهَ، فَلَمْ يُشَمِّتْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَطَسَ الْآخَرُ فَحَمِدَ اللَّهَ، فَشَمَّتَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: فَقَالَ الشَّرِيفُ عَطَسْتُ عِنْدَكَ فَلَمْ تُشَمِّتْنِي، وَعَطَسَ هَذَا عِنْدَكَ فَشَمَّتَّهُ! فَقَالَ: " إِنَّ هَذَا ذَكَرَ اللَّهَ فَذَكَرْتُهُ، وَإِنَّكَ نَسِيتَ اللَّهَ فَنَسِيتُكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک مجلس میں دو آدمیوں کو چھینک آئی ان میں سے ایک دوسرے کی نسبت زیادہ معزز تھا لیکن اس نے چھینکے کے بعد الحمد اللہ نہیں کہا لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے جواب نہیں دیا اور دوسرے نے الحمد اللہ کہا لہذا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے جواب دے دیا وہ آدمی کہنے لگا کہ مجھے چھینک آئی تو آپ نے جواب نہیں دیا اور اسے چھینک آئی تو أپ نے اسے جواب دے دیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس نے اللہ کو یاد کیا تھا چنانچہ میں نے بھی اسے یاد رکھا اور تم نے اسے بھلا دیا لہذا میں نے بھی تمہیں بھلا دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8346]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8347 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، مَالِكِ بْنِ ظَالِمٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ ظَالِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يُحَدِّثُ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا الْقَاسِمِ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ، يَقُولُ: " هَلَاكُ أُمَّتِي عَلَى رُءُوسِ غِلْمَةٍ أُمَرَاءَ سُفَهَاءَ مِنْ قُرَيْشٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ مروان بن حکم کو حدیث سناتے ہوئے فرمایا کہ میں نے ابوالقاسم جو کہ صادق و مصدوق تھے صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے کہ میری امت کی تباہی قریش کے چند بیوقوف لونڈوں کے ہاتھوں ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8347]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مالك
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مالك
حدیث نمبر: 8348 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، الْفُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا، وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ، فَقَالَ: يَأَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ سورة المؤمنون آية 51 , وَقَالَ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ سورة البقرة آية 172 . ثُمَّ ذَكَرَ: " الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ، أَشْعَثَ أَغْبَرَ، ثُمَّ يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ يَا رَبِّ، يَا رَبّ، وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ، وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ، وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ، وَغُذِّيَ بِالْحَرَامِ، فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ؟!" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگو! اللہ پاکیزہ ہے اور پاکیزہ چیزوں ہی کو قبول کرتا ہے اور اس نے عام مسلمانوں کو بھی وہی حکم دیا ہے جو پیغمبروں کو دیا ہے چنانچہ ارشاد ہے اے رسولو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک اعمال کرو میں تمہارے اعمال کو جانتا ہوں اور فرمایا اے ایمان والو! ہماری دی ہوئی پاکیزہ چیزیں کھایا کرو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک ایسے آدمی کا ذکر کیا جو طویل سفر کر کے آیا ہو اس کے بال بکھرے ہوئے ہوں گرد و غبار سے وہ اٹا ہوا ہو اور آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا اٹھا کر یا رب یا رب کر رہا ہو جبکہ اس کا کھانا بھی حرام کا ہو پینا بھی حرام کا ہو لباس بھی حرام کا ہو اور اس کی غذا بھی حرام کی ہو تو اس کی دعا کہاں سے قبول ہو؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8348]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8349 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، شَرِيكٌ ، الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَفْضُلُ صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ عَلَى الْوَحْدَةِ سَبْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اکیلے نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت ستائیس درجے زیادہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8349]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 648، م: 649
الحكم: حديث صحيح، خ: 648، م: 649
حدیث نمبر: 8350 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، وَابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، وَابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُوَطِّنُ قَالَ ابْنُ أَبِي بَكْرٍ: لَا يُوَطِّنُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ الْمَسَاجِدَ لِلصَّلَاةِ وَالذِّكْرِ، إِلَّا تَبَشْبَشَ اللَّهُ بِهِ حَتَّى يَخْرُجَ، كَمَا يَتَبَشْبَشُ أَهْلُ الْغَائِبِ بِغَائِبِهِمْ إِذَا قَدِمَ عَلَيْهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو مسلمان مسجد کو اپنا وطن بنائے اور اس کا مقصد صرف ذکر کرنا اور نماز پڑھنا ہی ہو تو اللہ تعالیٰ اس سے ایسے خوش ہوتے ہیں جیسے کسی مسافر کے اپنے گھر پہنچنے پر اس کے اہل خانہ خوش ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8350]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات، لكن روي الحديث بزیادة رجل مجهول وهو الذي رجحه الدارقطني
الحكم: رجاله ثقات، لكن روي الحديث بزیادة رجل مجهول وهو الذي رجحه الدارقطني
حدیث نمبر: 8351 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، سَعِيدِ بْنِ سَمْعَان ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَمْعَان ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ أَبَا قَتَادَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " يُبَايَعُ لِرَجُلٍ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ، وَلَنْ يَسْتَحِلَّ الْبَيْتَ إِلَّا أَهْلُهُ، فَإِذَا اسْتَحَلُّوهُ فَلَا تَسْأَلْ عَنْ هَلَكَةِ الْعَرَبِ، ثُمَّ تَأْتِي الْحَبَشَةُ فَيُخَرِّبُونَهُ خَرَابًا لَا يَعْمُرُ بَعْدَهُ أَبَدًا، وَهُمْ الَّذِينَ يَسْتَخْرِجُونَ كَنْزَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان ایک آدمی سے بیعت لی جائے گی اور بیت اللہ کی حرمت اسی کے پاسبان پامال کریں گے اور جب لوگ بیت اللہ کی حرمت کو پامال کردیں پھر عرب کی ہلاکت کے متعلق سوال نہ کرنا بلکہ حبشی آئیں گے اور اسے اس طرح ویران کردیں گے کہ دوبارہ کبھی آباد نہ ہوسکے گا اور یہی لوگ اس کا خزانہ نکالنے والے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8351]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8352 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ كَانَ يَنْعَتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كَانَ شَبْحَ الذِّرَاعَيْنِ، أَهْدَبَ أَشْفَارِ الْعَيْنَيْنِ، بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ، يُقْبِلُ جَمِيعًا وَيُدْبِرُ جَمِيعًا، بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي، لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا، وَلَا صَخَّابًا فِي الْأَسْوَاقِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا حلیہ بیان کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ بھرے ہوئے۔ آنکھوں کی پلکیں لمبی اور گھنی اور دونوں کندھوں کے درمیان فاصلہ تھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پوری طرح متوجہ ہوتے اور پوری طرح رخ پھیرتے میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں وہ فحش گو یا بتکلف بےحیاء نہ بنتے تھے اور نہ ہی بازاروں میں شور مچاتے پھرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8352]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8353 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، الْمُبَارَكُ ، الْحَسَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: ثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ذَكَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" أَنَّ الْعَبْدَ الْمَمْلُوكَ لَيُحَاسَبُ بِصَلَاتِهِ، فَإذا نَقَصَ مِنْهَا شَيْئًا، قِيلَ: لِمَ نَقَصْتَ مِنْهَا؟ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، سَلَّطْتَ عَلَيَّ مَلِيكًا شَغَلَنِي عَنْ صَلَاتِي، فَيَقُولُ: قَدْ رَأَيْتُكَ تَسْرِقُ مِنْ مَالِهِ لِنَفْسِكَ، فَهَلَّا سَرَقْتَ لِنَفْسِكَ مِنْ عَمَلِكَ أَوْ عَمَلِهِ , قَالَ: فَيَتَّخِذُ اللَّهُ عَلَيْهِ الْحُجَّةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب عبد مملوک سے نماز کا حساب ہوگا اور اس میں کچھ کمی واقع ہوگی تو اس سے پوچھا جائے گا کہ تو نے اس میں کوتاہی کیوں کی؟ وہ عرض کرے گا کہ پروردگار تو نے مجھ پر ایک مالک مسلط کر رکھا تھا جس نے مجھے نماز سے روکے رکھا اللہ فرمائے گا کہ میں نے تجھے اس کے مال میں سے اپنے لئے کچھ چوری کرتے ہوئے دیکھا تھا تو کیا اپنے لئے اس کا عمل نہیں چوری کرسکتا تھا؟ اس طرح اس پر حجت تمام ہوجائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8353]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، المبارك مشهور بالتدليس وقد عنعنه ، والحسن لم يسمع من أبي هريرة
الحكم: إسناده ضعيف، المبارك مشهور بالتدليس وقد عنعنه ، والحسن لم يسمع من أبي هريرة
حدیث نمبر: 8354 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، الْمُبَارَكُ بْنُ فُضَالَةَ ، الْحَسَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ بْنُ فُضَالَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " كُلُّ سُلَامَى مِنَ ابْنِ آدَمَ صَدَقَةٌ حِينَ يُصْبِحُ" فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ سَلَامَكَ عَلَى عِبَادِ اللَّهِ صَدَقَةٌ، وَإِمَاطَتَكَ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ، وَإِنَّ أَمْرَكَ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ، وإن َنَهْيَكَ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ" ، وَحَدَّثَ أَشْيَاءَ مِنْ نَحْوِ هَذَا لَمْ أَحْفَظْهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انسان کے ہر جوڑ پر صبح کے وقت صدقہ واجب ہوتا ہے مسلمانوں کو یہ بات بڑی مشکل معلوم ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارا اللہ کے بندوں کو سلام کرنا بھی صدقہ ہے راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا بھی صدقہ ہے امر باالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا بھی صدقہ ہے اس کے علاوہ بھی کچھ چیزیں بیان فرمائیں جو مجھے یاد نہیں رہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8354]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 8355 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، الْمُبَارَكُ ، الْحَسَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا مَنْ لَا يَرْجُو أَنْ يَلْبَسَهُ فِي الْآخِرَةِ، إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَه" ، قَالَ الْحَسَنُ: فَمَا بَالُ أَقْوَامٍ يَبْلُغُهُمْ هَذَا عَنْ نَبِيِّهِمْ فَيَجْعَلُونَ حَرِيرًا فِي ثِيَابِهِمْ وَفِي بُيُوتِهِمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دنیا میں تو وہی شخص ریشم پہنتا ہے جسے آخرت میں اسے پہننے کی امید نہ ہو اور دنیا میں وہی شخص ریشم پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8355]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 8356 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، الْمُبَارَكُ ، الْحَسَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " الْعَيْنُ تَزْنِي، وَالْقَلْبُ يَزْنِي، فَزِنَا الْعَيْنِ النَّظَرُ، وَزِنَا الْقَلْبِ التَّمَنِّي، وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ مَا هُنَالِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے غالباً مرفوعاً مروی ہے کہ آنکھ بھی زنا کرتی ہے اور دل بھی آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے دل کا زنا تمنا اور خواہش کرنا ہے جبکہ شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8356]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6612، م: 2657، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
الحكم: حديث صحيح، خ: 6612، م: 2657، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 8357 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، الْمُبَارَكُ ، الْحَسَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ: " صَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَأَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ، وَالْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے میں انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا (١) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٢) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٣) جمعہ کے دن غسل کرنے کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8357]
حکم دارالسلام
حسن، خ: 1178، م: 721، وهذا إسناد ضعيف، المبارك مدلس وقد عنعنه، والحسن البصري لم يسمع من أبي هريرة
الحكم: حسن، خ: 1178، م: 721، وهذا إسناد ضعيف، المبارك مدلس وقد عنعنه، والحسن البصري لم يسمع من أبي هريرة
حدیث نمبر: 8358 مسند احمد
الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، زَائِدَةَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ بَعْدَ الْمَكْتُوبَةِ؟ قَالَ: " الصَّلَاةُ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ"، قَالَ: فَأَيُّ الصِّيَامِ أَفْضَلُ بَعْدَ رَمَضَانَ؟ قَالَ:" شَهْرُ اللَّهِ الَّذِي تَدْعُونَهُ الْمُحَرَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی نے پوچھا فرض نمازوں کے بعد کون سی نماز سب سے زیادہ افضل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا رات کے درمیانی حصے میں پڑھی جانے والی نماز سائل نے پوچھا کہ ماہ رمضان کے روزہ کے بعد کس دن کا روزہ سب سے زیادہ افضل ہے؟ فرمایا اللہ کا مہینہ جسے تم محرم کہتے ہو (اس کے روزے افضل ہیں) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8358]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1163
الحكم: إسناده صحيح، م: 1163