بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 141 از 194
حدیث نمبر: 9920 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، مَثَلُ الْقَائِمِ لَا يَفْتُرُ، وَمَثَلُ الصَّائِمِ لَا يُفْطِرُ، حَتَّى يَرْجِعَ الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں کوئی ایسا عمل بتائیے جو جہاد کے برابر ہو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اس کی طاقت نہیں رکھتے (دو تین مرتبہ فرمایا) لوگوں نے عرض کیا کہ آپ بتا دیجئے شاید ہم کرسکیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس آدمی کی سی ہے جو دن کو روزہ، رات کو قیام اور اللہ کی آیات کے سامنے عاجز ہو اور اس نماز روزے میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کرے، یہاں تک کہ وہ مجاہد اپنے اہل خانہ کے پاس واپس آجائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9920]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2785، م: 1878
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2785، م: 1878
حدیث نمبر: 9921 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ ، مَالِكٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ : مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ " إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ فَأَمِّنُوا، فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلائِكَةِ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب امام غیرالمغضوب علیہم ولاالضالین کہہ لے تو مقتدی اس پر آمین کہے کیونکہ جس شخص کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہوجائے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9921]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 780، م: 410
الحكم: إسناده صحيح، خ: 780، م: 410
حدیث نمبر: 9922 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، سُمَيٍّ ، أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ , وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا قَالَ الإِمَامُ: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7، فَقُولُوا: آمِينَ , فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلائِكَةِ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب امام غیرالمغضوب علیہم ولاالضالین کہہ لے تو مقتدی اس پر آمین کہے کیونکہ جس شخص کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہوجائے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9922]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 782، م: 10
الحكم: إسناده صحيح، خ: 782، م: 10
حدیث نمبر: 9923 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، سُمَيٍّ ، أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا قَالَ الْإِمَامُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب امام سمع اللہ لمن حمدہ کہے اور مقتدی اللہم ربنا ولک الحمد کہے اور اس کا یہ جملہ آسمان والوں کے اللہم ربنا لک الحمد کے موافق ہوجائے تو اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9923]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 796، م: 409
الحكم: إسناده صحيح، خ: 796، م: 409
حدیث نمبر: 9924 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال: " إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ: آمِينَ، قَالَتْ الْمَلَائِكَةُ فِي السَّمَاءِ: آمِينَ، فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص آمین کہتا ہے تو فرشتے بھی اس پر آمین کہتے ہیں سو جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہوجائے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9924]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 782، م: 410
الحكم: إسناده صحيح، خ: 782، م: 410
حدیث نمبر: 9925 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ , وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ , أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ، فَسَلَّمَ مِنْ رَكْعَتَيْنِ، فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: أَقَصُرَتْ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ" , فَقَالَ: قَدْ كَانَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ:" أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ؟" فَقَالُوا: نَعَمْ،" فَأَتَمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَقِيَ مِنْ صَلَاتِهِ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی اور دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا اس پر ذوالیدین نے کھڑے ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا آپ بھول گئے یا نماز کی رکعتیں کم ہوگئی ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں بھولا بھی نہیں ہوں اور نہ ہی نماز کی رکعتیں کم ہوئی ہیں اس نے کہا کچھ تو ہوا ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا ایسا ہی ہے جیسے ذوالیدین کہہ رہے ہیں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے ان کی تائید کی اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو دو رکعتیں چھوٹ گئی تھیں انہیں ادا کیا۔ اور سلام پھیر کر بیٹھے بیٹھے سجدہ سہو کے دو سجدے کر لئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9925]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 482، م: 573
الحكم: إسناده صحيح، خ: 482، م: 573
حدیث نمبر: 9926 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، سُمَيٍّ ، أَبِي صَالِحٍ السَّمَّان ، أَبِي هُرَيْرَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، قََالَ: وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّان ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ , فِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: غُسْلَ الْجَنَابَةِ، ثُمَّ رَاح، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَة، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ كَبْشًا , قَالَ إِسْحَاقُ: أَقْرَنَ، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَيْضَةً، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ، أَقْبَلَتْ الْمَلَائِكَةُ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْر" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص جمعہ کے دن غسل کرکے نماز جمعہ کے لئے روانہ ہو تو وہ اونٹ قربان کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے دوسرے نمبر پر آنے والا گائے ذبح کرنے والے کی طرح تیسرے نمبر پر آنے والا مینڈھا قربان کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے چوتھے نمبر پر آنے والا مرغی اور پانچویں نمبر پر آنے والا انڈہ صدقہ کرنے کا ثواب پاتا ہے پھر امام نکل آتا ہے تو فرشتے ذکر سننے کے لئے متوجہ ہوجاتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9926]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3211، م: 850
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3211، م: 850
حدیث نمبر: 9927 مسند احمد
رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، شُعْبَةُ ، سَيَّارٌ ، الشَّعْبِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قََالَ: حَدَّثَنَا سَيَّارٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لاَ تَبَايَعُوا بِالْحَصَاةِ، وَلا تَنَاجَشُوا، وَلا تَبَايَعُوا بِالْمُلَامَسَة، وَمَنْ اشْتَرَى مِنْكُمْ مُحَفَّلَةً فَكَرِهَهَا فَلْيَرُدَّهَا، وَلْيَرُدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ طَعَامٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کنکریاں مار کر بیع مت کرو خریدوفروخت میں ایک دوسرے کو دھوکہ مت دو چھو کر بیع مت کرو اور جو شخص (دھوکے کا شکار ہو کر) ایسی اونٹنی یا بکری خرید لے جس کے تھن باندھ دیئے گئے ہوں تو یا تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رکھے (اور معاملہ رفع دفع کردے) یا پھر اس جانور کو مالک کے حوالے کردے اور ساتھ میں ایک صاع کھجور بھی دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9927]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2151، م: 1524
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2151، م: 1524
حدیث نمبر: 9928 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَوْلا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ كُلِّ وُضُوءٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر وضو کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9928]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 887، م: 252
الحكم: إسناده صحيح، خ: 887، م: 252
حدیث نمبر: 9929 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، قََالَ: وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ، فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ مار دے تو اسے چاہئے کہ اس برتن کو سات مرتبہ دھوئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9929]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 172، م: 279
الحكم: إسناده صحيح، خ: 172، م: 279
حدیث نمبر: 9930 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، أَبِيهِ ، وَإِسْحَاقَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، عَنْ أَبِيهِ ، فِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , وَإِسْحَاقَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلاةِ، فَلا تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ، وَأْتُوهَا وَعَلَيْكُمْ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ فِي صَلاَةٍ إِذَا مَا كَانَ يَعْمِدُ الصَّلاَة" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نماز کے لئے دوڑتے ہوئے مت آیا کرو بلکہ اطمینان اور سکون کے ساتھ آیا کرو جتنی نماز مل جائے وہ پڑھ لیا کرو اور جو رہ جائے اسے مکمل کرلیا کرو کیونکہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز کا ارادہ کرلیتا ہے وہ نماز ہی میں شمار ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9930]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 908، م: 602
الحكم: إسناده صحيح، خ: 908، م: 602
حدیث نمبر: 9931 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَة
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا نُودِيَ لِلصَّلاَةِ، أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لا يَسْمَعَ التَّأْذِينَ، فَإِذَا قُضِيَ النِّدَاءُ أَقْبَلَ، حَتَّى إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلاة، أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لاَ يَسْمَعَ التَّأْذِينَ، حَتَّى إِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ، حتى يَخْطِرُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ، يَقُولُ اذْكُرْ كَذَا، اذْكُرْ كَذَا، لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ، حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ إِنْ يَدْرِي كَمْ صَلَّى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لئے اذان دی جاتی ہے تو شیطان زور زور سے ہوا خارج کرتے ہوئے بھاگ جاتا ہے تاکہ اذان نہ سن سکے جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو پھر واپس آجاتا ہے پھر جب اقامت شروع ہوتی ہے تو دوبارہ بھاگ جاتا ہے اور اقامت مکمل ہونے پر پھر واپس آجاتا ہے اور انسان کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں بات یاد کرو فلاں بات یاد کرو اور وہ باتیں یاد کراتا ہے جو اسے پہلے یاد نہ تھیں حتی کہ انسان کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتی پڑھی ہیں؟۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9931]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 608، م: 389
الحكم: إسناده صحيح، خ: 608، م: 389
حدیث نمبر: 9932 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، أَبَا السَّائِبِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
قَرَأْتُ عَلَى قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ، فَهِيَ خِدَاجٌ، هِيَ خِدَاجٌ، هِيَ خِدَاجٌ، غَيْرُ تَمَامٍ" . فَقُلْتُ: يَا فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، إِنِّي أَحْيَانًا أَكُونُ وَرَاءَ الإِمَامِ، قَالَ: فَغَمَزَ ذِرَاعِي، وَقَالَ: اقْرَأْ بِهَا يَا فَارِسِيُّ فِي نَفْسِكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ، فَنِصْفُهَا لِي، وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ" . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْرَءُوا، يَقُولُ الْعَبْدُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2، يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: حَمِدَنِي عَبْدِي، يَقُولُ الْعَبْدُ: الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1، يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي، يَقُولُ الْعَبْدُ: مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ سورة الفاتحة آية 4، يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: مَجَّدَنِي عَبْدِي، يَقُولُ الْعَبْد: إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ سورة الفاتحة آية 5، يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: هَذِهِ الآيَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، يَقُولُ الْعَبْدُ: اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 6 - 7، فَهَؤُلاءِ لِعَبْدِي , وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس نماز میں سورت فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ نامکمل ہے نامکمل ہے نامکمل ہے اور یہ بات مجھ سے پہلے میرے حبیب علیہ السلام نے بھی فرمائی ہے پھر فرمایا کہ اے فارسی! سورت فاتحہ پڑھا کرو کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ارشادباری تعالیٰ ہے میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان تقسیم کردیا ہے (اور میرا بندہ جو مانگے گا اسے وہ ملے گا) چنانچہ جب بندہ۔ الحمد للہ رب العلمین۔۔ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے میری تعریف بیان کی جب بندہ کہتا ہے الرحمن الرحیم۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے میری بزرگی یا ثناء بیان کی جب بندہ کہتا ہے مالک یوم الدین تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے اپنے آپ کو میرے سپرد کردیا جب بندہ ایاک نعبد وایاک نستعین کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرا بندہ مجھ سے جو مانگے گا اسے وہ ملے گا پھر جب بندہ اہدناالصراط المستقیم سے آخر تک پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہ میرے بندے کے لئے ہے اور جو تو نے مجھ سے مانگا وہ تجھے مل کر رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9932]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 395
الحكم: إسناده صحيح، م: 395
حدیث نمبر: 9933 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، أَبَا زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , وَحَجَّاجٌ , قََالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، قََالَ: حَجَّاجٌ مِنَ النَّخْعِ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي" . " وَكَانَ يَكْرَهُ الشِّكَالَ مِنَ الْخَيْلِ" , قََالَ: حَجَّاجٌ يَعْنِي: إِحْدَى رِجْلَيْهِ سَوَادٌ , أَوْ بَيَاضٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایسے گھوڑے کو ناپسند فرماتے تھے جس کی تین ٹانگوں کا رنگ سفید ہو اور چوتھی کا رنگ باقی جسم کے رنگ کے مطابق ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9933]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1875
الحكم: إسناده صحيح، م: 1875
حدیث نمبر: 9934 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، شُعْبَةُ ، سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , قََالَ: قََالَ شُعْبَةُ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ بَعْدَمَا كَبِرَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا أَسْفَلُ مِنَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الْإِزَارِ فِي النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تہبند کا جو حصہ ٹخنوں کے نیچے رہے گا وہ جہنم میں ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9934]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5787
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5787
حدیث نمبر: 9935 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، شُعْبَةُ ، مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، أَبَا يَحْيَى ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا يَحْيَى يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُغْفَرُ لِلْمُؤَذِّنِ مَدَّ صَوْتِهِ، وَيَشْهَدُ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ، وَشَاهِدُ الصَّلَاةِ يُكْتَبُ لَهُ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ، وَيُكَفَّرُ عَنْهُ مَا بَيْنَهُمَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مؤذن کی آواز جہاں تک پہنچتی ہے ان کی برکت سے اس کی بخشش کردی جاتی ہے کیونکہ ہر تر اور خشک چیز اس کے حق میں گواہی دیتی ہے اور نماز میں باجماعت شریک ہونے والے کے لئے پچیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور دو نمازوں کے درمیانی وقفے کے لئے کفارہ بنادیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9935]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد جيد
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد جيد
حدیث نمبر: 9936 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا إِغْرَارَ فِي صَلَاةٍ وَلَا تَسْلِيمٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نماز اور سلام میں " اغرار " بالکل نہیں ہے امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابوعمروالشیبانی رحمہ اللہ سے اس حدیث کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ لفظ اغرار نہیں بلکہ غرار ہے اور غرار کا معنی امام احمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہ ہے کہ انسان کو جب تک نماز کے مکمل ہوجانے کا یقین کامل نہ ہوجائے اور اس کا یہ گمان ہو کہ نماز کا کچھ حصہ باقی ہے اس وقت تک نماز سے خارج نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9936]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9937 مسند احمد
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عُبَيْدٍ مَوْلَى أَبِي رَهْمٍ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ مِنْ الْمَسْجِدِ فَرَأَى امْرَأَةً تَنْضَخُ طِيبًا لِذَيْلِهَا إِعْصَارٌ قَالَ يَا أَمَةَ الْجَبَّارِ مِنْ الْمَسْجِدِ جِئْتِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ وَلَهُ تَطَيَّبْتِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ فَارْجِعِي فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ يَقُولُ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ لِامْرَأَةٍ صَلَاةً تَطَيَّبَتْ لِلْمَسْجِدِ أَوْ لِهَذَا الْمَسْجِدِ حَتَّى تَغْتَسِلَ غُسْلَهَا مِنْ الْجَنَابَةِ
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9938 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عُبَيْدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُبَيْدٍ يعني مَوْلَى أَبِي رَهْمٍ، قََالَ: خَرَجْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ مِنَ الْمَسْجِد، فَرَأَى امْرَأَةً تَنْضَخُ طِيبًا لِذَيْلِهَا إِعْصَارٌ، قََالَ: يَا أَمَةَ الْجَبَّارِ، مِنَ الْمَسْجِدِ جِئْتِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قََالَ: وَلَهُ تَطَيَّبْتِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قََالَ: فَارْجِعِي، فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ يَقُولُ: " لَا يَقْبَلُ اللَّهُ لِامْرَأَةٍ صَلَاةً تَطَيَّبَتْ لِلْمَسْجِدِ أَوْ لِهَذَا الْمَسْجِدِ , حَتَّى تَغْتَسِلَ غُسْلَهَا مِنَ الْجَنَابَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابورہم کے آزاد کردہ غلام سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا سامنا ایک ایسی خاتون سے ہوگیا جس نے خوشبولگا رکھی تھی انہوں نے اسے پوچھا کہ اے امۃ الجبار کہاں کا ارادہ ہے؟ اس نے کہا مسجد کا انہوں نے پوچھا کیا تم نے اسی وجہ سے خوشبو لگا رکھی ہے؟ اس نے کہا جی ہاں۔ فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے جو عورت اپنے گھر سے خوشبو لگا کر مسجد کے ارادے سے نکلے اللہ اس کی نماز کو قبول نہیں کرتا یہاں تک کہ وہ اپنے گھر واپس جا کر اسے اس طرح دھوئے جیسے ناپاکی کی حالت میں غسل کیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9938]
حکم دارالسلام
حديث محتمل للتحسين، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم
الحكم: حديث محتمل للتحسين، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم
حدیث نمبر: 9939 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: " سَجَدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ , وَاقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سورت انشقاق اور سورت علق میں آیت سجدہ پر سجدہ تلاوت کیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9939]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 768، م: 578
الحكم: إسناده صحيح، خ: 768، م: 578