بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 13 از 194
حدیث نمبر: 7359 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنِ الْعَجْلَانِ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ الْعَجْلَانِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ، فَلْيَغْمِسْهُ فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ شِفَاءً، وَالْآخَرِ دَاءً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گر جائے تو وہ یاد رکھے کہ مکھی کے ایک پر میں شفا اور دوسرے میں بیماری ہوتی ہے اس لئے اسے چاہئے کہ اس مکھی کو اس میں مکمل ڈبو دے (پھر اسے استعمال کرنا اس کی مرضی پر موقوف ہے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7359]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 5782.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 5782.
حدیث نمبر: 7360 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنُ عَجْلَانَ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ ، وَقُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُولُ فَقَالَ سُفْيَانُ: هُوَ هَكَذَا، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَضَعَ جَنْبَهُ يَقُولُ:" بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي، فَإِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا، فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بستر پر اپنا پہلو رکھتے تو یوں فرماتے کہ پروردگار میں نے آپ کے نام کی برکت سے اپنا پہلو زمین پر رکھ دیا اگر میری روح کو اپنے پاس روک لیں تو اس پر رحم فرمائیے اور اگر واپس بھیج دیں تو اس کی اسی طرح حفاظت فرمائیے جیسے آپ اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7360]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 7393، م: 2714.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 7393، م: 2714.
حدیث نمبر: 7361 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، قَالَ سُفْيَانُ الَّذِي سَمِعْنَاهُ مِنْهُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، لَا أَدْرِي عَمَّنْ سُئِلَ سُفْيَانُ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ أُثَال؟! فَقَالَ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ أَسَرُوهُ أَخَذُوهُ، فَكَانَ إِذَا مَرَّ بِهِ، قَالَ:" مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ؟" قَالَ: إِنْ تَقْتُلْ، تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وإِِنْ تُنْعِمْ، تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ، وَإِنْ تُرِدْ مَالًا، تُعْطَ مَالًا، قَالَ: فَكَانَ إِذَا مَرَّ بِهِ، قَالَ:" مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ؟" قَالَ: إِنْ تُنْعِمْ، تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ، وَإِنْ تَقْتُلْ، تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ تُرِدْ الْمَالَ، تُعْطَ الْمَالَ، قَالَ: فَبَدَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَطْلَقَهُ، وَقَذَفَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي قَلْبِهِ، قَالَ: فَذَهَبُوا بِهِ إِلَى بِئْرِ الْأَنْصَارِ، فَغَسَلُوهُ، فَأَسْلَمَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَمْسَيْتَ وَإِنَّ وَجْهَكَ كَانَ أَبْغَضَ الْوُجُوهِ إِلَيَّ، وَدِينَكَ أَبْغَضَ الدِّينِ إِلَيَّ، وَبَلَدَكَ أَبْغَضَ الْبُلْدَانِ إِلَيَّ، فَأَصْبَحْتَ وَإِنَّ دِينَكَ أَحَبُّ الْأَدْيَانِ إِلَيَّ، وَوَجْهَكَ أَحَبُّ الْوُجُوهِ إِلَيَّ، لَا يَأْتِي قُرَشِيًّا حَبَّةٌ مِنَ الْيَمَامَةِ، حَتَّى قَالَ عُمَرُ: لَقَدْ كَانَ وَاللَّهِ فِي عَيْنِي أَصْغَرَ مِنَ الْخِنْزِيرِ، وَإِنَّهُ فِي عَيْنِي أَعْظَمُ مِنَ الْجَبَلِ، خَلَّى عَنْهُ، فَأَتَى الْيَمَامَةَ حَبَسَ عَنْهُمْ، فَضَجُّوا وَضَجِرُوا، فَكَتَبُوا تَأْمُرُ بِالصِّلَةِ؟ قَالَ: وَكَتَبَ إِلَيْهِ. قال عبد الله بن أحمد: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: عَنْ سُفْيَانَ، سَمِعْتُ ابْنَ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة أَنَّ ثُمَامَةَ بْنَ أُثَالٍ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مسلمانوں نے ثمامہ بن اثال نامی ایک شخص کو (جو اپنے قبیلے میں بڑا معزز اور مالدار آدمی تھا) گرفتار کر کے قید کر لیا جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سے گزرا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ ثمامہ کا کیا ارادہ ہے؟ اس نے کہا کہ اگر آپ مجھے قتل کر دیں گے تو ایک ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کا خون قیمتی ہے اگر آپ مجھ پر احسان کریں گے تو ایک شکر گزار پر احسان کریں گے اور اگر آپ کو مال و دولت درکار ہو تو آپ کو وہ مل جائے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جب بھی اس کے پاس سے گزر ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس سے مذکورہ بالا سوال کرتے اور وہ حسب سابق وہی جواب دے دیتا۔ ایک دن اللہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دل میں یہ بات ڈالی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رائے یہ ہوئی کہ اسے چھوڑ دیا جائے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے آزاد کر دیا لوگ اس کی درخواست پر اسے انصار کے ایک کنوئیں کے پاس لے گئے اور اسے غسل دلوایا اور پھر اس نے اسلام قبول کر لیا اور کہنے لگا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کل شام تک میری نگاہوں میں آپ کے چہرے سے زیادہ کوئی چہرہ ناپسندیدہ اور آپ کے دین سے زیادہ کوئی دین اور آپ کے شہر سے زیادہ کوئی شہر ناپسندیدہ نہ تھا اور اب آپ کا دین میری نگاہوں میں تمام ادیان سے زیادہ اور آپ کا مبارک چہرہ تمام چہروں سے زیادہ محبوب ہو گیا ہے آج کے بعد یمامہ سے غلہ کا ایک دانہ بھی قریش کے پاس نہیں پہنچے گا۔ _x000D_ یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: واللہ یہ میری نگاہوں میں خنزیر سے بھی زیادہ حقیر تھا اور اب پہاڑ سے بھی زیادہ عظیم ہے اور اس کا راستہ چھوڑ دیا چنانچہ ثمامہ نے یمامہ پہنچ کر قریش کا غلہ روک لیا جس سے قریش کی چیخیں نکل گئیں اور وہ سخت پریشان ہوگئے مجبور ہو کر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں یہ عریضہ لکھا کہ ثمامہ کو مہربانی اور نرمی کرنے کا حکم دیں چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ثمامہ کو اس نوعیت کا ایک خط لکھ دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7361]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 462، م: 1764.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 462، م: 1764.
حدیث نمبر: 7362 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رِوَايَةً:" خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا، وَشَرُّهَا آخِرُهَا، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا، وَشَرُّ صُفُوفِ النِّسَاءِ أَوَّلُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایۃ منقول ہے کہ مردوں کی صف سب سے بہترین اور آخری صف سب سے زیادہ شر کے قریب ہوتی ہے اور عورتوں کی صفوں میں آخری صف سب سے بہترین اور پہلی صف سب سے زیادہ شر کے قریب ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7362]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 440.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 440.
حدیث نمبر: 7363 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ الدَّوْسِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ الدَّوْسِيِّ ، قَالَ: فَأَهْدَى لَهُ نَاقَةً، يَعْنِي قَوْلَهُ، قَالَ:" لَا أَتَّهِبُ إِلَّا مِنْ قُرَشِيٍّ، أَوْ دَوْسِيٍّ، أَوْ ثَقَفِيٍّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک اونٹنی بطور ہدیہ کے پیش کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: آئندہ میں صرف کسی قریشی یا دوسی یا ثقفی ہی کا ہدیہ قبول کروں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7363]
حکم دارالسلام
حسن، وهذا إسناد قوي.
الحكم: حسن، وهذا إسناد قوي.
حدیث نمبر: 7364 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَجْلَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لِلْمَمْلُوكِ طَعَامُهُ، وَكِسْوَتُهُ، وَلَا تُكَلِّفُونَهُ مِنَ الْعَمَلِ مَا لَا يُطِيقُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: غلام کا حق ہے کہ اسے کھانا اور لباس مہیا کیا جائے اور تم انہیں کسی ایسے کام کا مکلف مت بناؤ جس کی وہ طاقت نہیں رکھتے ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7364]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد جيد، م: 1662.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد جيد، م: 1662.
حدیث نمبر: 7365 مسند احمد
هَارُونُ ، ابْنِ وَهْبٍ ، عَمْرٌو ، بُكَيْرًا ، الْعَجْلَانِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ، عَنْ الْعَجْلَانِ مَوْلَى فَاطِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لِلْمَمْلُوكِ طَعَامُهُ، وَكِسْوَتُهُ، وَلَا يُكَلَّفُ مِنَ الْعَمَلِ مَا لَا يُطِيقُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: غلام کا حق ہے کہ اسے کھانا اور لباس مہیا کیا جائے اور تم انہیں کسی ایسے کام کا مکلف مت بناؤ جس کی وہ طاقت نہیں رکھتے ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7365]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد جيد، وانظر ما قبله.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد جيد، وانظر ما قبله.
حدیث نمبر: 7366 مسند احمد
سُفْيَانَ ، ابْنَ عَجْلَانَ ، بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَجْلَان ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ ، سَمِعْتُ ابْنَ عَجْلَانَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَجْلَان ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا سَالَمْنَاهُنَّ مُنْذُ حَارَبْنَاهُنَّ" يَعْنِي الْحَيَّاتِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سانپوں کے متعلق فرمایا: ہم نے جب سے ان کے ساتھ جنگ شروع کی ہے کبھی صلح نہیں کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7366]
حکم دارالسلام
إسناده جيد.
الحكم: إسناده جيد.
حدیث نمبر: 7367 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنُ عَجْلَانَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ، وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، مَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ، فَانْتَهُوا، وَمَا أَمَرْتُكُمْ، فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں جب تک کسی مسئلے کو بیان کرنے میں تمہیں چھوڑے رکھوں اس وقت تک تم بھی مجھے چھوڑے رکھو اس لئے کہ تم سے پہلی امتیں بکثرت سوال کرنے اور اپنے انبیاء (علیہم السلام) سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہی ہلاک ہوئی تھیں میں تمہیں جس چیز سے روکوں اس سے رک جاؤ اور جس چیز کا حکم دوں اسے اپنی طاقت کے مطابق پورا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7367]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد جيد، خ: 7288، م: 1337
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد جيد، خ: 7288، م: 1337
حدیث نمبر: 7368 مسند احمد
سُفْيَانُ ، ابْنُ عَجْلَانَ ، الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ، إِذَا أَتَيْتُمْ الْغَائِطَ، فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ، وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا". وَنَهَى عَنِ الرَّوْثِ، وَالرِّمَّةِ، وَلَا يَسْتَطِيبُ الرَّجُلُ بِيَمِينِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے لئے باپ کی طرح ہوں (اس لئے تمہیں سمجھانا میری ذمہ داری ہے) جب بیت الخلاء جایا کرو تو قبلہ کی جانب منہ کر کے یا پشت کر کے مت بیٹھا کرو نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لید اور بوسیدہ ہڈی سے استنجاء کرنا ممنوع قرار دیا ہے اور فرمایا: کہ کوئی شخص دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7368]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، وأخرجه مسلم مختصرا: 265.
الحكم: إسناده قوي، وأخرجه مسلم مختصرا: 265.
حدیث نمبر: 7369 مسند احمد
سُفْيَانَ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ : عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ". قَالَ سُفْيَانُ: لَا يُرَشُّ فِي وَجْهِهِ، تَمْسَحُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو راتوں کو اٹھ اٹھ کر نماز پڑھتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7369]
حکم دارالسلام
إسناده قوي.
الحكم: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 7370 مسند احمد
سُفْيَانُ ، يَحْيَى ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى، يَقُولُونَ: يَثْرِبُ، وَهِيَ الْمَدِينَةُ، تَنْفِي النَّاسَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایسی بستی میں جانے کا حکم ملا جو دوسری تمام بستیوں کو کھآ جائے گی۔ لوگ اسے یثرب کہتے ہیں حالانکہ اس کا صحیح نام مدینہ ہے اور مدینہ لوگوں کے گناہوں کو ایسے دور کردیتا ہے جیسے لوہار کی بھٹی لوہے کے میل کچیل کو دور کردیتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7370]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1871، م: 1382.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1871، م: 1382.
حدیث نمبر: 7371 مسند احمد
سُفْيَانُ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَبِي بَكْرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَبِي بَكْرٍ الْمَخْزُومِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" سَجَدَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ و َاقْرَأْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورت انشقاق اور سورت علق میں آیت سجدہ پر سجدہ تلاوت کیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7371]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 768، م: 578.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 768، م: 578.
حدیث نمبر: 7372 مسند احمد
سُفْيَانُ ، يَحْيَى ، أَبِي بَكْرٍ ، عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ وَجَدَ مَالَهُ عِنْدَ رَجُلٍ مُفْلِسٍ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس آدمی کو مفلس قرار دے دیا گیا ہو اور کسی شخص کو اس کے پاس بعینہ اپنا مال مل جائے تو دوسروں کی نسبت وہ اس مال کا زیادہ حقدار ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7372]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2402، م: 1559.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2402، م: 1559.
حدیث نمبر: 7373 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَيُّوبَ ، عِكْرِمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أُحَدِّثُكُمْ بِأَشْيَاءَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِصَارٍ:" لَا يَشْرَبْ الرَّجُلُ مِنْ فَمِ السِّقَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں تمہارے سامنے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے مختصر احادیث بیان کرتا ہوں مثلا یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مشکیزے کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7373]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5628.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5628.
حدیث نمبر: 7374 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَيُّوبَ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" سَجَدَهُمَا بَعْدَ التَّسْلِيمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سہو کے دو سجدے سلام پھیرنے کے بعد کئے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7374]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 482، م: 573.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 482، م: 573.
حدیث نمبر: 7375 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَيُّوبَ ، مُحَمَّدٍ ، أبو هريرة
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ : اخْتَصَمَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ، أَيُّهُمْ فِي الْجَنَّةِ أَكْثَرُ؟ فَقال أبو هريرة : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِثْلُ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى أَضْوَإِ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ، لِكُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ اثْنَتَانِ، يُرَى مُخُّ سَاقِهِمَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ، وَمَا فِي الْجَنَّةِ أَعْزَبُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ لوگوں نے اس بات پر آپس میں جھگڑا کیا کہ جنت میں مردوں کی تعدادزیادہ ہو گی یا عورتوں کی؟ تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہنے لگے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کہ جنت میں جو گروہ سب سے پہلے داخل ہو گا وہ چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوئے چہروں والا ہو گا اس کے بعد داخل ہونے وال اگر وہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہو گا ان میں سے ہر ایک کی دو دو بیویاں ہوں گی جن کی پنڈلیوں کا گوداگوشت کے باہر سے نظر آ جائے گا اور جنت میں کوئی شخص کنوارہ نہیں ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7375]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3254، م: 2834.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3254، م: 2834.
حدیث نمبر: 7376 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَيُّوبَ ، مُحَمَّدِ ابْنِ سِيرِينَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، سَمِعَ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ سِيرِينَ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: صَلَّى رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيْ الْعَشِيِّ، إِمَّا الظُّهْرُ، أو العصر وَأَكْثَرُ ظَنِّي أَنَّهَا الْعَصْرُ، فَسَلَّمَ فِي اثْنَتَيْنِ، ثُمَّ أَتَى جِذْعًا كَانَ يُصَلِّي إِلَيْهِ، فَجَلَسَ إِلَيْهِ مُغْضَبًا، وَقَالَ سُفْيَانُ: ثُمَّ أَتَى جِذْعًا فِي الْقِبْلَةِ كَانَ يُسْنِدُ إِلَيْهِ ظَهْرَهُ، فَأَسْنَدَ إِلَيْهِ ظَهْرَهُ، قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ، فَقَالُوا: قُصِرَتْ الصَّلَاةُ، وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، فهاباهُ أَن يُكلِّماه، فقِال ذو اليَدينِ: أي رسولَ الله، قُصِرَتِ الصَّلاةُ أَم نَسِيتَ؟ قَالَ:" مَا قُصِرَتْ، وَمَا نَسِيتُ"، قَالَ: فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ، قَالَ: فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: نَعَمْ، فَقَامَ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ كَسَجْدَتِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ وَكَبَّرَ، ثُمَّ سَجَدَ وَكَبَّرَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دوپہر کی دو میں سے کوئی ایک نماز ظہر یا عصر، غالب گمان کے مطابق پڑھائی اور دو رکعتیں پڑھا کر ہی سلام پھیر دیا اور مسجد میں موجود اس تنے کے پاس تشریف لائے جو چوڑائی میں تھا اور اپنے ہاتھ سے ایسا اشارہ کیا گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غصے میں ہوں جلد باز قسم کے لوگ مسجد سے نکلنے اور کہنے لگے کہ نماز کی رکعتیں کم ہو گئیں اس وقت لوگوں میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی تھے لیکن اس معاملے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے گفتگو کرنے میں انہیں ہیبت محسوس ہوئی اس پر ذوالیدین نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ بھول گئے یا نماز کی رکعتیں کم ہو گئی ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں بھولا ہوں اور نہ ہی نماز کی رکعتیں کم ہوئی ہیں ذو الیدین نے کہا آپ نے تو دو رکعتیں پڑھی ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا کیا ایسا ہی ہے جیسے ذوالیدین کہہ رہے ہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے ان کی تائید کی اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھڑے ہو کردو رکعتیں پڑھیں اور سلام پھیر کر اللہ اکبر کہا اور نماز کے سجدہ کی طرح یا اس سے کچھ طویل سجدہ کیا، پھر سر اٹھا کر تکبیر کہی اور بیٹھ گئے، پھر دوبارہ تکبیر کہہ کر دوسرا سجدہ کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7376]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 482، م: 573.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 482، م: 573.
حدیث نمبر: 7377 مسند احمد
سُفْيَانَ ، أَيُّوبَ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ ، سَمِعْتُ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7377]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3539، م: 2134.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3539، م: 2134.
حدیث نمبر: 7378 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، أَيُّوبُ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7378]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله.
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله.