بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 27 از 194
حدیث نمبر: 7639 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ فِي كُلِّ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ" قَالَ مَعْمَرٌ: وَقَالَ غَيْرُ سُهَيْلٍ:" وَتُعْرَضُ الْأَعْمَالُ فِي كُلِّ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ، فَيَغْفِرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، إِلَّا الْمُتَشَاحِنَيْنِ، يَقُولُ اللَّهُ لِلْمَلَائِكَةِ: " ذَرُوهُمَا حَتَّى يَصْطَلِحَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں (دوسری روایت کے مطابق اعمال پیش کئے جاتے ہیں) اور اللہ تعالیٰ ہر اس بندے کو بخش دیتے ہیں جو ان کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو سوائے ان دو آدمیوں کے جن کے درمیان آپس میں لڑائی جھگڑا ہو کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ان دونوں کو چھوڑے رکھو یہاں تک کہ یہ آپس میں صلح کرلیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7639]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2565.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2565.
حدیث نمبر: 7640 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ"، قَالُوا: فَمَنْ الشَّدِيدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ٍپہلوان وہ نہیں ہے جو کسی کو پچھاڑ دے صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ پھر پہلوان کون ہوتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اصل پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7640]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6114، م: 2609.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6114، م: 2609.
حدیث نمبر: 7641 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " الْإِيمَانُ بِاللَّهِ"، قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ:" الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ"، قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ:" ثُمَّ حَجٌّ مَبْرُورٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ کون سا عمل سب سے زیادہ افضل ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ پر ایمان لانا سائل نے پوچھا کہ پھر کون سا عمل افضل ہے فرمایا جہاد فی سبیل اللہ سائل نے پوچھا کہ اس کے بعد فرمایا حج مبرور۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7641]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 26، م: 83.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 26، م: 83.
حدیث نمبر: 7642 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فِي آخِرِ الزَّمَانِ لَا تَكَادُ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ تَكْذِبُ، وَأَصْدَقُكُمْ رُؤْيَا أَصْدَقُكُمْ حَدِيثًا، وَالرُّؤْيَا ثَلَاثَةٌ: الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ بُشْرَى مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَالرُّؤْيَا يُحَدِّثُ بِهَا الرَّجُلُ نَفْسَهُ، وَالرُّؤْيَا تَحْزِينٌ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ رُؤْيَا يَكْرَهُهَا، فَلَا يُحَدِّثْ بِهَا أَحَدًا، وَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ" . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: يُعْجِبُنِي الْقَيْدُ، وَأَكْرَهُ الْغُلَّ، الْقَيْدُ: ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ. وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا آخر زمانے میں مؤمن کا خواب جھوٹا نہیں ہوا کرے گا اور تم میں سے سب سے زیادہ سچا خواب اسی کا ہوگا جو بات کا سچا ہوگا اور خواب کی تین قسمیں ہیں اچھے خواب تو اللہ کی طرف سے خوشخبری ہوتے ہیں بعض خواب انسان کا تخیل ہوتے ہیں اور بعض خواب شیطان کی طرف سے انسان کو غمگین کرنے کے لئے ہوتے ہیں جب تم میں سے کوئی شخص ایسا خواب دیکھے جو اسے ناپسند ہو تو کسی کے سامنے اسے بیان نہ کرے بلکہ کھڑا ہو کر نماز پڑھنا شروع کردے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے خواب میں قید کا دکھائی دینا پسند ہے لیکن بیڑی ناپسند ہے کیونکہ قید کی تعبیر دین میں ثابت قدمی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسلمان کا خواب اجزاء نبوت میں سے چھیالیسواں جزء ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7642]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6988، م: 2263.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6988، م: 2263.
حدیث نمبر: 7643 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مؤمن کا خواب اجزاء نبوت میں سے چھپالیسواں جز ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7643]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6988، م: 2263.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6988، م: 2263.
حدیث نمبر: 7644 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ حَسَّانَ قَالَ فِي حَلْقَةٍ فِيهِمْ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَجِبْ عَنِّي، أَيَّدَكَ اللَّهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ" ؟، فَقَالَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ایک حلقے کے لوگوں سے جن میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے فرمایا اے ابوہریرہ میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری طرف سے جواب دو اللہ روح القدس کے ذریعے تمہاری مدد فرمائے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جی ہاں بخدا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7644]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7645 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کا اکرام کرنا چاہیے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7645]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6138، م: 47.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6138، م: 47.
حدیث نمبر: 7646 مسند احمد
عَبْدُ الرزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ابْنِ طَاوسٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أُرْسِلَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى، فَلَمَّا جَاءَهُ، صَكَّهُ فَفَقَأَ عَيْنَهُ، فَرَجَعَ إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ: أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ! قَالَ: فَرَدَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ عَيْنَهُ، وَقَالَ: " ارْجِعْ إِلَيْهِ، فَقُلْ لَهُ: يَضَعُ يَدَهُ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ، فَلَهُ بِمَا غَطَّتْ يَدُهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَنَةٌ". فَقَالَ: أَيْ رَبِّ، ثُمَّ مَهْ؟ قَالَ: ثُمَّ الْمَوْتُ. قَالَ: فَالْآنَ. فَسَأَلَ اللَّهَ أَنْ يُدْنِيَهُ مِنَ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلَوْ كُنْتُ ثَمَّ، لَأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَانِبِ الطَّرِيقِ، تَحْتَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ملک الموت کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس جب ان کی روح قبض کرنے کے لئے بھیجا گیا اور وہ ان کے پاس پہنچے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک طمانچہ مارا ان کی آنکھ پھوٹ گئی وہ پروردگار کے پاس واپس جا کر کہنے لگے کہ آپ نے مجھے ایسے بندے کے پاس بھیج دیا جو مرنا نہیں چاہتا اللہ نے ان کی آنکھ واپس لوٹا دی اور فرمایا ان کے پاس واپس جا کر ان سے کہو کہ ایک بیل کی پشت پر ہاتھ رکھ دیں ان کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آگئے ہر بال کے بدلے ان کی عمر میں ایک سال کا اضافہ ہوجائے گا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا کہ اے پروردگار پھر کیا ہوگا فرمایا پھر موت آئے گی انہوں نے کہا تو پھر ابھی سہی پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے درخواست کی کہ انہیں ایک پتھر پھینکنے کی مقدار کے برابر بیت المقدس کے قریب کردے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر میں وہاں ہوتا تو تمہیں راستے کی جانب ایک سرخ ٹیلے کے نیچے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قبر دکھاتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7646]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات لكن اختلف في وقفه ورفعه، خ: 1339، م: 2372.
الحكم: رجاله ثقات لكن اختلف في وقفه ورفعه، خ: 1339، م: 2372.
حدیث نمبر: 7647 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيُّ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ: قَالَ لِي الزُّهْرِيُّ : أَلَا أُحَدِّثُكَ بِحَدِيثَيْنِ عَجِيبَيْنِ؟ قَالَ الزُّهْرِيُّ: عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَسْرَفَ رَجُلٌ عَلَى نَفْسِهِ، فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ أَوْصَى بَنِيهِ، فَقَالَ: إِذَا أَنَا مِتُّ، فَأَحْرِقُونِي، ثُمَّ اسْحَقُونِي، ثُمَّ اذْرُونِي فِي الرِّيحِ فِي الْبَحْرِ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ عَلَيَّ رَبِّي لَيُعَذِّبَنِّي عَذَابًا مَا عُذِّبَهُ أَحَدٌ، قَالَ: فَفَعَلُوا ذَلِكَ بِهِ، فَقَالَ اللَّهُ لِلْأَرْضِ: " أَدِّي مَا أَخَذْتِ"، فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ، فَقَالَ له:" مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟" قَالَ: خَشْيَتُكَ يَا رَبِّ، أَوْ مَخَافَتُكَ، فَغَفَرَ لَهُ بِذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی نے اپنی جان پر بڑا ظلم کیا تھا جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو بلا کر یہ وصیت کی کہ جب میں مرجاؤں تو مجھے آگ میں جلانا پھر اسے خوب باریک کرکے پیسنا اور سمندری ہواؤں میں مجھے بکھیر دینا واللہ اگر اللہ کو مجھ پر قدرت اور دسترس حاصل ہوگئی تو وہ مجھے ایسی سزا دے گا کہ مجھ سے پہلے کسی کو نہ دی ہوگی۔ اس کے بیٹوں نے ایسا ہی کیا اللہ نے زمین کو حکم دیا کہ تو نے اس کے جتنے حصے وصول کئے ہیں سب کو واپس کر اسی لمحے وہ بندہ پھر اپنی شکل و صورت میں کھڑا ہوگیا اللہ نے اس سے پوچھا کہ تجھے اس حرکت پر کس چیز نے برانگیختہ کیا؟ اس نے عرض کیا کہ پروردگار تیرے خوف نے اللہ نے اس پر اس کی بخشش فرما دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7647]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3481، م: 2756.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3481، م: 2756.
حدیث نمبر: 7648 مسند احمد
الزُّهْرِيُّ ، حُمَيْدٌ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ ، وَحَدَّثَنِي حُمَيْدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " دَخَلَتْ امْرَأَةٌ النَّارَ فِي هِرَّةٍ، رَبَطَتْهَا، فَلَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَلَا هِيَ أَرْسَلَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ، حَتَّى مَاتَتْ" . قَالَ الزُّهْرِيُّ: ذَلِكَ أَنْ لَا يَتَّكِلَ رَجُلٌ، وَلَا يَيْأَسَ رَجُلٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک عورت جہنم میں صرف ایک بلی کی وجہ سے داخل ہوگئی جسے اس نے باندھ دیا تھا خود اسے کھلایا پلایا اور نہ ہی اسے کھلا چھوڑا کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7648]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3318، م: 2242.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3318، م: 2242.
حدیث نمبر: 7649 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَالْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ التَّمِيمِيُّ جَالِسٌ، فَقَالَ الْأَقْرَعُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي عَشَرَةً مِنَ الْوَلَدِ مَا قَبَّلْتُ إِنْسَانًا مِنْهُمْ قَطُّ! قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَال:" إِنَّ مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو بوسہ دیا اس وقت مجلس میں اقرع بن حابس تمیمی بھی بیٹھے ہوئے تھے وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے تو دس بیٹے ہیں لیکن میں نے ان میں سے کسی کو کبھی نہیں چوما؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو کسی پر رحم نہیں کرتا۔ اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7649]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5997، م: 2318.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5997، م: 2318.
حدیث نمبر: 7650 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ كَبِرْتُ، وَلِي عِيَالٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الإٍبلَ نِسَاءُ قُرَيْشٍ، أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ، وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ" . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَلَمْ تَرْكَبْ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ بَعِيرًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنی چچا زاد بہن ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس اپنے لئے پیغام نکاح بھیجا وہ کہنے لگیں یا رسول اللہ! میں بوڑھی ہوگئی ہوں اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اونٹ پر سواری کرنے والی عورتوں میں سب سے بہترین عورتیں قریش کی ہیں جو بچپن میں اپنی اولاد پر شفیق اور اپنے شوہر کی ذات میں سب سے بڑی محافظ ہوتی ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت مریم علیہ السلام نے کبھی اونٹ کی سواری نہیں کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7650]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5082، م: 2527.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5082، م: 2527.
حدیث نمبر: 7651 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ابْنِ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، إِلَّا قَوْلَهُ: وَلَمْ تَرْكَبْ مَرْيَمُ بَعِيرًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ اس میں آخری جملہ نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7651]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5365، م: 2527.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5365، م: 2527.
حدیث نمبر: 7652 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، وأبي سَلَمة ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، وأبي سَلَمة ، أو أحدهما، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي الْفَدَّادِينَ مِنْ أَهْلِ الْوَبَرِ، وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ، وَالْإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا فخر و تکبراونٹوں کے مالکوں میں ہوتا ہے اور سکون اطمینان بکریوں والوں میں ہوتا ہے اور اہل یمن کا ایمان اور ان کی حکمت بہت عمدہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7652]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3499، م: 52.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3499، م: 52.
حدیث نمبر: 7653 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِي عَلَى قُرَيْشٍ حَقًّا، وَإِنَّ لِقُرَيْشٍ عَلَيْكُمْ حَقًّا، مَا حَكَمُوا فَعَدَلُوا، وَائْتُمِنُوا فَأَدَّوْا، وَاسْتُرْحِمُوا فَرَحِمُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرا قریش پر ایک حق ہے اور قریش کا تم پر ایک حق ہے جب فیصلہ کریں عدل سے کام لیں جب امین بنائے جائیں تو امانت ادا کریں اور جب ان سے رحم کی بھیک مانگی جائے رحم کریں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7653]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7654 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7654]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3539، م: 2134.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3539، م: 2134.
حدیث نمبر: 7655 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، هَمَّامٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نِعِمَّا لِلْعَبْدِ أَنْ يَتَوَفَّاهُ اللَّهُ بِحُسْنِ عِبَادَةِ رَبِّهِ، وَبِطَاعَةِ سَيِّدِهِ، نِعِمَّا لَهُ، وَنِعِمَّا لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی غلام کے لئے کیا ہی خوب ہے کہ اللہ اسے اپنی بہترین عبادت اور اس کے آقا کی اطاعت کے ساتھ موت دے دے کیا ہی خوب ہے کیا ہی خوب ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7655]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2549، م: 1667.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2549، م: 1667.
حدیث نمبر: 7656 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيُّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمَنْ عَصَانِي، فَقَدْ عَصَى اللَّهَ، وَمَنْ أَطَاعَ أَمِيرِي فَقَدْ أَطَاعَنِي، وَمَنْ عَصَى أَمِيرِي فَقَدْ عَصَانِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7656]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7137، م: 1835.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7137، م: 1835.
حدیث نمبر: 7657 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاق ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاق ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ:" كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُصَلِّي بِنَا، فَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، وَحِينَ يَرْكَعُ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ بَعْدَمَا يَرْفَعُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ بَعْدَمَا يَرْفَعُ مِنَ السُّجُودِ، وَإِذَا جَلَسَ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْفَعَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ، وَيُكَبِّرُ مِثْلَ ذَلِكَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ، فَإِذَا سَلَّمَ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَقْرَبُكُمْ شَبَهًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَعْنِي صَلَاتَهُ، مَا زَالَتْ هَذِهِ صَلَاتُهُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہمیں نماز پڑھایا کرتے تھے وہ جب کھڑے ہوتے یا رکوع میں جاتے یا رکوع سے سر اٹھانے کے بعد سجدہ میں جانے کا ارادہ کرتے یا ایک سجدہ سے سر اٹھا کر دوسرا سجدہ کرنا چاہتے یا جب قعدہ میں بیٹھتے یا دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوتے تو ہر موقع پر تکبیر کہتے اسی طرح دیگر رکعتوں میں بھی تکبیر کہتے تھے اور جب سلام پھیرتے تو فرماتے کہ واللہ نماز میں میں تم سے سب سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ قریبی مشابہت رکھتا ہوں ان کی نماز بھی ہمیشہ اسی طرح رہی یہاں تک کہ دنیا سے رخصت ہوگئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7657]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 785، م: 392.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 785، م: 392.
حدیث نمبر: 7658 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُمَا صَلَّيَا خَلْفَ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَذَكَرَا نَحْوَ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7658]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 785، م: 392.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 785، م: 392.