بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 24 از 194
حدیث نمبر: 7579 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كَانَ رَجُلٌ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَكَانَ يَقُولُ لِفَتَاهُ: إِذَا أَتَيْتَ مُعْسِرًا، فَتَجَاوَزْ عَنْهُ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنَّا. قَالَ: فَلَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَتَجَاوَزَ عَنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پہلے زمانے میں ایک آدمی تھا جو لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا اور اپنے نوجوانوں سے کہہ دیتا تھا کہ جب تم کسی تنگدست سے قرض وصول کرنے جاؤ تو اس سے درگذر کرنا شاید اللہ تم سے بھی درگذر کرے چنانچہ (موت کے بعد) جب اللہ سے اس کی ملاقات ہوئی تو اللہ نے اس سے درگذر فرمایا (اسے معاف فرمایا) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7579]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3480، م: 1562.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3480، م: 1562.
حدیث نمبر: 7580 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْزِلُنَا غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ، حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ کل ہم (ان شاء اللہ) خیف بنی کنانہ جہاں قریش نے کفر پر قسمیں کھائیں تھیں میں پڑاوکریں گے (مراد وادی محصب تھی) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7580]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1590، م: 1314.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1590، م: 1314.
حدیث نمبر: 7581 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، إِبْرَاهِيمُ ، ابْنُ شِهَابٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَأَيْتُمْ الْهِلَالَ، فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ، فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ، فَصُومُوا ثَلَاثِينَ يَوْمًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم چاند دیکھ لو تو روزہ رکھ لو اور جب چاند دیکھ لو تو عید الفطر منا لو اگر ابر چھا جائے تو تیس دن روزے رکھو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7581]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1909، م: 1081.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1909، م: 1081.
حدیث نمبر: 7582 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، إِبْرَاهِيمُ ، ابْنُ شِهَابٍ ، الْأََََََََََغَرِّ ، وأبي سَلَمة ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَيَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ شِهَابٍ ، يُونُسُ ، الْأغَرِّ ، وأبي سلمة ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنِ الْأََََََََََغَرِّ ، وأبي سَلَمة ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَيَعْقُوبُ ، قَال: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ الْأَغرَّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ يَعْقُوبُ، أَبَا سَلَمَةَ. قال عبد الله بن أحمد: قَالَ أَبِي: حَدَّثَنَاه يُونُسُ ، عَنِ الْأغَرِّ ، وأبي سلمة، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، كَانَ عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَائِكَةٌ، يَكْتُبُونَ الَأوَّلَ فَالْأَوَّلَ، فَإِذَا جَلَسَ الْإِمَامُ طَوَوْا الصُّحُفَ، وَجَاءُوا فَاسْتَمَعُوا الذِّكْرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یہاں حدیث کی صرف سند مذکور ہے غالباً اس کا متن وہی ہے جو اگلی حدیث کا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب جمعہ کا دن آتا ہے تو مسجد کے ہر دروازے پر فرشتے آجاتے ہیں اور پہلے دوسرے نمبر پر آنے والے نمازی کا ثواب لکھتے رہتے ہیں اور جب امام نکل آتا ہے تو وہ صحیفے اور کھاتے لپیٹ کر ذکر سننے کے لئے آجاتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7582]
حکم دارالسلام
أسانيده صحاح، خ: 3211، م: 850.
الحكم: أسانيده صحاح، خ: 3211، م: 850.
حدیث نمبر: 7583 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، إِبْرَاهِيمُ ، ابْنُ شِهَابٍ ، وَيَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، وَيَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ، فَلَا يُؤْذِينَا بِهَا فِي مَسْجِدِنَا هَذَا" . قَالَ يَعْقُوبُ: يَعْنِي الثُّومَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس درخت (لہسن) میں سے کچھ کھا کر آئے وہ ہمیں ہماری اس مسجد میں تکلیف نہ پہنچائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7583]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 563.
الحكم: إسناده صحيح، م: 563.
حدیث نمبر: 7584 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، إِبْرَاهِيمُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، يعقوبُ ، أَبي ، ابن شهابٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، وحدثنا يعقوبُ ، حدثنا أَبي ، عن ابن شهابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قال عبد الله بن أحمد: قَالَ أَبِي: وَلَمْ يَشُكَّ يَعْقُوبُ، قَالَ: " فَضْلُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ عَلَى صَلَاةِ أَحَدِكُمْ وَحْدَهُ خَمْسَةً وَعِشْرِينَ جُزْءًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اکیلے نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت پچیس درجے زیادہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7584]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 648، م: 649.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 648، م: 649.
حدیث نمبر: 7585 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، إِبْرَاهِيمُ ، ابْنُ شِهَابٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صلى الله عليه و آله وسلم قَالَ: " بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِم، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الأَرْضِ، فَوُضِعَتْ فِي يَدِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے جوامع الکلم کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے اور ایک مرتبہ سوتے ہوئے زمین کے تمام خزانوں کی چابیاں میرے پاس لا کر میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7585]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7273، م: 523.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7273، م: 523.
حدیث نمبر: 7586 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، إِبْرَاهِيمُ ، ابْنُ شِهَابٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: اسْتَبَّ رَجُلَانِ، رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَرَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ، فَقَالَ الْمُسْلِمُ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُحَمَّدًا عَلَى الْعَالَمِينَ، وَقَالَ الْيَهُودِيُّ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْعَالَمِينَ، فَغَضِبَ الْمُسْلِمُ، فَلَطَمَ عَيْنَ الْيَهُودِيِّ، فَأَتَى الْيَهُودِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ، فَاعْتَرَفَ بِذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُخَيِّرُونِي عَلَى مُوسَى، فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ، فَأَجِدُ مُوسَى مُمْسِكًا بِجَانِبِ الْعَرْشِ، فَمَا أَدْرِي أَكَانَ فِيمَنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي؟ أَمْ كَانَ مِمَّنْ اسْتَثْنَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ؟!" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دو آدمیوں میں جن میں سے ایک مسلمان اور دوسرا یہودی تھا تلخ کلامی ہوگئی مسلمان نے اپنی بات پر قسم کھاتے ہوئے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تمام جہان والوں پر برگزیدہ کیا اور یہودی نے قسم کھاتے ہوئے کہہ دیا کہ اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام جہان والوں پر برگزیدہ کیا اس پر مسلمان کو غصہ آیا اور اس نے یہودی کو ایک طمانچہ دے مارا اس یہودی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا واقعہ عرض کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس مسلمان کو بلا کر اس سے دریافت فرمایا اس نے تھپڑ مارنے کا اعتراف کیا اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم مجھے موسیٰ علیہ السلام پر ترجیح نہ دو کیونکہ قیامت کے دن سب لوگوں پر بیہوشی طاری ہوجائے گی سب سے پہلے مجھے افاقہ ہوگا میں اس وقت دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام نے عرش کے پائے کو پکڑ رکھا ہے مجھے معلوم نہیں کہ وہ بھی بیہوش ہونے والوں میں سے ہوں گے کہ انہیں مجھ سے قبل افاقہ ہوگیا یا ان لوگوں میں سے ہوں گے جنہیں اللہ نے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7586]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2411، م: 2373.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2411، م: 2373.
حدیث نمبر: 7587 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، أَبِي عُبَيْدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَنْ يُدْخِلَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ"، قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " ولَا أَنَا، إِلا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِفَضْلٍ وَرَحْمَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرا سکتا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ! آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا مجھے بھی نہیں۔ الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7587]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5673، م: 2816.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5673، م: 2816.
حدیث نمبر: 7588 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، إِبْرَاهِيمُ ، ابْنُ شِهَابٍ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَام، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: أَنْتَ آدَمُ الَّذِي أَخْرَجَتْكَ خَطِيئَتُكَ مِنَ الْجَنَّةِ؟! فَقَالَ لَهُ آدَمُ: وَأَنْتَ مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلَامِهِ وَبِرِسَالَتِهِ، تَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قُدِّرَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ؟!" قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ عالم ارواح میں حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہ السلام میں مباحثہ ہوا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ اے آدم! آپ ہی ہیں جن کی غلطی نے ہمیں جنت سے نکلوا دیا؟ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا اے موسیٰ تم وہی ہو کہ اللہ نے تمہیں اپنے سے ہم کلام ہونے اور اپنی پیغام بری کے لئے منتخب کیا تم مجھے اس بات پر ملامت کرتے ہو جس کا فیصلہ اللہ نے میرے متعلق میری پیدائش سے پہلے کرلیا تھا؟ اس طرح حضرت آدم علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آگئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7588]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3409، م: 2652.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3409، م: 2652.
حدیث نمبر: 7589 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7589]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ماقبله.
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ماقبله.
حدیث نمبر: 7590 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، إِبْرَاهِيمُ ، ابْنُ شِهَابٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ فقَالَ: " إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ"، قَالَ ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ:" ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ"، قِيلَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَال:" ثُمَّ حَجٌّ مَبْرُورٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ کون سا عمل سب سے زیادہ افضل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا سائل نے پوچھا کہ پھر کون سا عمل افضل ہے؟ فرمایا جہاد فی سبیل اللہ سائل نے پوچھا کہ اس کے بعد؟ فرمایا حج مبرور۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7590]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 26، م: 83.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 26، م: 83.
حدیث نمبر: 7591 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، لَيْثٌ ، سَعِيدٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" يَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ، لَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا وَلَوْ فِرْسِنَ شَاةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا کرتے تھے خواتین اسلام! کوئی پڑوسن کی بھیجی ہوئی چیز کو حقیر نہ سمجھے خواہ وہ بکری کا ایک کھر ہی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7591]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6017، م: 1030.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6017، م: 1030.
حدیث نمبر: 7592 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، إِبْرَاهِيمُ ، ابْنُ شِهَابٍ ، الْأَغَرِّ ، وأبي سَلَمة بن عبد الرحمن ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنِ الْأَغَرِّ ، وأبي سَلَمة بن عبد الرحمن ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ اسْمُهُ كُلَّ لَيْلَةٍ، حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآَخِرُ، إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ: " مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ؟ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ؟ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَه؟" حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ" . فَلِذَلِكَ كَانُوا يُفَضِّلُونَ صَلَاةَ آخِرِ اللَّيْلِ عَلَى صَلَاةِ أَوَّلِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا روزانہ جب رات کا ایک تہائی حصہ باقی بچتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ کون ہے جو مجھ سے دعا کرے کہ میں اسے قبول کرلوں؟ کون ہے جو مجھ سے طلب کرے کہ میں اسے عطا کروں؟ کون ہے جو مجھ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگے کہ میں اسے معاف کردوں؟ یہ اعلان طلوع فجر تک ہوتا رہتا ہے اسی وجہ سے وہ لوگ رات کے پہلے حصے کی بجائے آخری حصے میں نماز پڑھنے کو ترجیح دیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7592]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1145، م: 758.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1145، م: 758.
حدیث نمبر: 7593 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، سَعِيدَ بْنَ مَرْجَانَةَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَتَيْتُ سَعِيدَ بْنَ مَرْجَانَةَ ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ، فَلَمْ يَمْشِ مَعَهَا، فَلْيَقُمْ حَتَّى تَغِيبَ عَنْهُ، وَمَنْ مَشَى مَعَهَا، فَلَا يَجْلِسْ حَتَّى تُوضَعَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص نماز جنازہ پڑھے لیکن تدفین کے لئے اس کے ساتھ نہ جاسکے تو اسے جنازہ کی نظروں سے غائب ہونے تک کھڑا رہنا چاہئے اور جو شخص جنازے کے ساتھ چلا جائے وہ قبرستان پہنچ کر جنازہ زمین پر رکھے جانے سے قبل نہ بیٹھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7593]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعنة.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعنة.
حدیث نمبر: 7594 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةً، فَقَدْ أَدْرَكَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی بھی نماز کی ایک رکعت پالے گویا اس نے پوری نماز پا لی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7594]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 580، م: 607، وهذا إسناد ضعيف كسابقه.
الحكم: حديث صحيح، خ: 580، م: 607، وهذا إسناد ضعيف كسابقه.
حدیث نمبر: 7595 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، مَنْ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ:" أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ، وَنَهَانِي عَنْ ثَلَاثٍ: أَوْصَانِي بِالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ، وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَكْعَتَيْ الضُّحَى، قَالَ: وَنَهَانِي عَنِ الِالْتِفَاتِ، وَإِقْعَاءٍ كَإِقْعَاءِ الْقِرْدِ، وَنَقْرٍ كَنَقْرِ الدِّيكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے اور تین چیزوں سے منع کیا ہے وصیت تو (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٢) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی۔ (٣) اور چاشت کی دو رکعتیں پڑھنے کی فرمائی ہے اور ممانعت نماز میں دائیں بائیں دیکھنے، بندر کی طرح بیٹھنے اور مرغ کی طرح ٹھونگیں مارنے سے فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7595]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف يزيد، ولجهالة الراوي عن أبي هريرة، ولكن الشطر الأول من الحديث- وهو الأمر بالثلاث- صحيح، خ: 1178، م: 721.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف يزيد، ولجهالة الراوي عن أبي هريرة، ولكن الشطر الأول من الحديث- وهو الأمر بالثلاث- صحيح، خ: 1178، م: 721.
حدیث نمبر: 7596 مسند احمد
أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ السَّمَّاكِ ، الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، مَنْ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ السَّمَّاكِ ، حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ:" أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَبِالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ، وَبِصَلَاةِ الضُّحَى، فَإِنَّهَا صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (ین چیزوں کی وصیت کی ہے) (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٢) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی۔ (٣) چاشت کی نماز کی کیونکہ یہ رجوع کرنے والوں کی نماز ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7596]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1178، م: 721، وهذا إسناد ضعيف للراوي المبهم، وهو سليمان: مجهول.
الحكم: حديث صحيح، خ: 1178، م: 721، وهذا إسناد ضعيف للراوي المبهم، وهو سليمان: مجهول.
حدیث نمبر: 7597 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، ذَكْوَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ: " مَنْ أَذْهَبْتُ حَبِيبَتَيْهِ، فَصَبَرَ وَاحْتَسَبَ، لَمْ أَرْضَ لَهُ بِثَوَابٍ دُونَ الْجَنَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں جس شخص کی دونوں پیاری آنکھوں کا نور ختم کردوں اور وہ اس پر صبر کرے اور ثواب کی امید رکھے تو میں اس کے لئے جنت کے سوا کسی دوسرے ثواب پر راضی نہیں ہوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7597]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7598 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، لَيْثٍ ، كَعْبٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ كَعْبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَيَّ، فَاسْأَلُوا اللَّهَ لِي الْوَسِيلَةَ"، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْوَسِيلَةُ؟ قَالَ:" أَعْلَى دَرَجَةٍ فِي الْجَنَّةِ، لَا يَنَالُهَا إِلَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم مجھ پر درود بھیجا کرو تو اللہ سے میرے لئے وسیلہ مانگا کرو کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! وسیلہ سے کیا مراد ہے؟ فرمایا یہ جنت کے سب سے اعلیٰ ترین درجے کا نام ہے جو صرف ایک آدمی کو ملے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7598]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، ليث ضعيف، وكعب ليس هو بمعروف، ويغني عنه حديث عبدالله ابن عمرو عند مسلم: 384.
الحكم: إسناده ضعيف، ليث ضعيف، وكعب ليس هو بمعروف، ويغني عنه حديث عبدالله ابن عمرو عند مسلم: 384.