بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 60 از 194
حدیث نمبر: 8299 مسند احمد
أَبُو عَامِر , ، إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِر , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مِنْ تَمْرٍ، فَجَعَلْتُهُ فِي مِكْتَلٍ لَنَا، فَعَلَّقْنَاهُ فِي سَقْفِ الْبَيْتِ، فَلَمْ نَزَلْ نَأْكُلُ مِنْهُ حَتَّى كَانَ آخِرُهُ أَصَابَهُ أَهْلُ الشَّامِ حَيْثُ أَغَارُوا عَلَى الْمَدِينَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے کچھ کھجوریں عطاء فرمائیں میں نے اسے ایک تھیلی میں رکھ لیا اور اس تھیلی کو اپنے گھر کی چھت میں لٹکا لیا ہم اس میں سے کھجور نکال کر کھاتے رہتے (لیکن وہ کم نہ ہوتیں) لیکن جب شام والوں نے مدینہ منورہ پر حملہ کیا تو وہ ان کے ہاتھ لگ گئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8299]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وقوله فى هذا الحديث: « أصابه أهل الشام » وهم لعله وقع من أحد الرواة
الحكم: إسناده صحيح، وقوله فى هذا الحديث: « أصابه أهل الشام » وهم لعله وقع من أحد الرواة
حدیث نمبر: 8300 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، أَبِي ، حَبِيبٌ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ ، عَمْروُ بْنُ شُعَيْبٍ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ ، حَدَّثَنَا عَمْروُ بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلَّمَ: " الزَّانِي الْمَجْلُودُ لَا يَنْكِحُ إِلَّا مِثْلَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کوڑوں سے پٹا ہوا زانی اپنے ہی جیسے رشتے سے نکاح کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8300]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8301 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، الْجُرَيْرِيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: أَقَمْتُ بِالْمَدِينَةِ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ سَنَةً، فَقَالَ لِي ذَاتَ يَوْمٍ وَنَحْنُ عِنْدَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ: لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا لَنَا ثِيَابٌ إِلَّا الْبِرَادُ الْمُفَتَّقَةُ، وَإِنَّهُ لَيَأْتِي عَلَى أَحَدِنَا الْأَيَّامُ مَا يَجِدُ طَعَامًا يُقِيمُ بِهِ صُلْبَهُ، حَتَّى إِنْ كَانَ أَحَدُنَا لَيَأْخُذُ الْحَجَرَ فَيَشُدُّهُ عَلَى أَخْمَصِ بَطْنِهِ، ثُمَّ يَشُدُّهُ بِثَوْبِهِ لِيُقِيمَ بِهِ صُلْبَه، " فَقَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ بَيْنَنَا تَمْرًا"، فَأَصَابَ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنَّا سَبْعَ تَمَرَاتٍ فِيهِنَّ حَشَفَةٌ، فَمَا سَرَّنِي أَنَّ لِي مَكَانَهَا تَمْرَةً جَيِّدَةً، قَالَ: قُلْتُ: لِم؟ قَالَ: تَشُدُّ لِي مِنْ مَضْغِي . قَالَ: فَقَالَ لِي: مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ؟ قُلْتُ مِنَ الشَّامِ، قَالَ: فَقَالَ لِي: هَلْ رَأَيْتَ حَجَرَ مُوسَى؟ قُلْتُ: وَمَا حَجَرُ مُوسَى؟ قَالَ: إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالُوا لِمُوسَى قَوْلًا تَحْتَ ثِيَابِهِ فِي مَذَاكِيرِهِ، قَالَ: فَوَضَعَ ثِيَابَهُ عَلَى صَخْرَةٍ وَهُوَ يَغْتَسِلُ، قَالَ: فَسَعَتْ ثِيَابُهُ، قَالَ: فَتَبِعَهَا فِي أَثَرِهَا وَهُوَ يَقُولُ: يَا حَجَرُ، أَلْقِ ثِيَابِي، حَتَّى أَتَتْ بِهِ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَرَأَوْا مُسْتَوِيًا حَسَنَ الْخَلْقِ، فَلَجَبَهُ ثَلَاثَ لَجَبَاتٍ، فَوَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ، لَوْ كُنْتُ نَظَرْتُ، لَرَأَيْتُ لَجَبَاتِ مُوسَى فِيهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ میں ایک سال تک حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی رفاقت میں رہا ہوں ایک دن جب کہ ہم حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے قریب تھے وہ مجھ سے کہنے لگے کہ میں نے اپنے آپ پر وہ وقت بھی دیکھا ہے کہ ہمارے پاس سوائے پھٹی پرانی چادروں کے کوئی دوسرے کپڑے نہ ہوتے تھے اور ہم پر کئی کئی دن ایسے گذر جاتے تھے کہ اتنا کھانا بھی نہ ملتا تھا جس سے کمر سیدھی ہوجائے حتی کہ ہم لوگ اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیتے تھے تاکہ اسی کے ذریعے کمر سیدھی ہوجائے۔ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمارے درمیان کچھ کجھوریں تقسیم فرمائیں اور ہم میں سے ہر ایک کے حصے میں سات سات کھجوریں آئیں جن میں ایک کھجور گدر بھی تھی مجھے اس کی جگہ عمدہ کھجور ملنے کی کوئی تمنا نہ پیدا ہوئی میں نے پوچھا کیوں؟ فرمایا مجھے چبانے میں دشواری ہوتی پھر مجھ سے فرمایا تم کہاں سے آئے ہو؟ میں نے عرض کیا شام سے فرمایا کیا تم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا پتھر دیکھا ہے؟ میں نے پوچھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا کیسا پتھر ہے؟ فرمایا کہ ایک مرتبہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شرمگاہ کے متعلق انتہائی نازیبا باتیں کہیں ایک دن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے غسل کرنے کے لئے اپنے کپڑے اتار کر ایک پتھر پر رکھے وہ ان کے کپڑے لے کر بھاگ گیا حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کے پیچھے اے پتھر میرے کپڑے دے دے اے پتھر میرے کپڑے دے دے کہتے ہوئے دوڑے یہاں تک کہ وہ پتھر بنی اسرائیل کے پاس پہنچ کر رک گیا انہوں نے دیکھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تو بالکل تندرست ہیں اور ان کی جسامت بھی انتہائی عمدہ ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے غصے میں آ کر اس پتھر پر تین ضربیں لگائیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی جان ہے اگر میں اسے دیکھ پاتا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ضربوں کے نشان بھی نظر آجاتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8301]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8302 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، فَرْقَدٌ ، أَبِي الْعَلَاءِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا فَرْقَدٌ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ أَكْذَبَ النَّاسِ الصَّوَّاغُونَ، وَالصَّبَّاغُونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سب سے بڑھ کر جھوٹے رنگریز اور زرگر ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8302]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، فرقد ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف، فرقد ضعيف
حدیث نمبر: 8303 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، الْحَسَنِ ، زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: ثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَبَادَرُوا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا: طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَالدَّجَّال، وَالدُّخَانَ، وَدَابَّةَ الْأَرْضِ، وَخُوَيْصَّةَ أَحَدِكُمْ، وَأَمْرَ الْعَامَّةِ" ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: وَكَانَ قَتَادَةُ إِذَا قَالَ:" وَأَمْرَ الْعَامَّةِ"، قَالَ: وَأَمْرَ السَّاعَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا چھ واقعات رونما ہونے سے قبل اعمال صالحہ میں سبقت کرلو سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دجال کا خروج، دھواں چھاجانا، دابۃ الارض کا خروج تم میں سے کسی خاص آدمی کی موت یا سب کی عمومی موت۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8303]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2947
الحكم: إسناده صحيح، م: 2947
حدیث نمبر: 8304 مسند احمد
رَوْحٌ ، أَبُو أُمَيَّةَ عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، سَعِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُمَيَّةَ عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَدِّي سَعِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " هَلَاكُ أُمَّتِي عَلَى يَدِ غِلْمَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ" ، قَالَ مَرْوَانُ: وَهُوَ مَعَنَا فِي الْحَلْقَةِ قَبْلَ أَنْ يَلِيَ شَيْئًا , فَلَعْنَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ غِلْمَةً، قَالَ: وَأَمَا وَاللَّهِ لَوْ أَشَاءُ أَقُولُ: بَنُو فُلَانٍ وَبَنُو فُلَانٍ، لَفَعَلْتُ، قَالَ: فَقُمْتُ أَخْرُجُ أَنَا مَعَ أَبِي وَجَدِّي إِلَى مَرْوَانَ بَعْدَمَا مُلِّكُوا، فَإِذَا هُمْ يُبَايِعُونَ الصِّبْيَانَ مِنْهُمْ، وَمَنْ يُبَايِعُ لَهُ وَهُوَ فِي خِرْقَةٍ، قَالَ لَنَا: هَلْ عَسَى أَصْحَابُكُمْ هَؤُلَاءِ أَنْ يَكُونُوا الَّذِينَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَذْكُرُ أَنَّ هَذِهِ الْمُلُوكَ يُشْبِهُ بَعْضُهَا بَعْضًا؟.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت کی تباہی قریش کے چند بیوقوف لونڈوں کے ہاتھوں ہوگی یہ حدیث سن کر مروان نے جو ہمارے ساتھ درس حدیث کے حلقے میں بیٹھا ہوا تھا اور ابھی گورنر نہیں بنا تھا کہا کہ ان لڑکوں پر اللہ کی لعنت ہو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا واللہ اگر میں چاہوں تو ان کے قبیلوں کے نام تک بتاسکتا ہوں راوی کہتے ہیں کہ جب مروان گورنر بن گیا تو میں اپنے والد اور دادا کے ساتھ روانہ ہوا وہ لوگ بچوں سے بھی بیعت لے رہے تھے اور جس کے لئے بیعت لے رہے تھے وہ ایک چادر میں لپٹا ہوا تھا اس نے ہم سے کہا کہ شاید تمہارے ان ساتھیوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بادشاہوں کے متعلق ایک حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہو کہ یہ ایک دوسرے کے مشابہہ ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8304]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3605
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3605
حدیث نمبر: 8305 مسند احمد
رَوْحٌ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، سُمَيٍّ ، أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الشُّهَدَاءُ خَمْسَةٌ: الْمَطْعُونُ، وَالْمَبْطُونُ، وَالْغَرِقُ، وَصَاحِبُ الْهَدْم، وَالشَّهِيدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا شہداء پانچ طرح کے لوگ ہیں طاعون میں مبتلا ہو کر مرنا بھی شہادت ہے پیٹ کی بیماری میں مرنا بھی شہادت ہے دریا میں غرق ہو کر مرنا بھی شہادت ہے گر کر مرنا بھی شہادت ہے جہاد فی سبیل اللہ میں مارا جانا بھی شہادت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8305]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 653، م: 1914
الحكم: إسناده صحيح، خ: 653، م: 1914
حدیث نمبر: 8306 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، نُعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ ، ابْنَ شِهَابٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي نُعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَأْكُلْ بِيَمِينِهِ، ويشرب بيمينه، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ، وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص جب بھی کھانا کھائے تو دائیں ہاتھ سے کھائے اور دائیں ہاتھ سے پیئے کیونکہ بائیں ہاتھ سے شیطان کھاتا پیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8306]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 8307 مسند احمد
رَوْحٌ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ يَذْكُرُونَ الْكَمْأَةَ، وَبَعْضُهُمْ يَقُولُ: جُدَرِيُّ الْأَرْضِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ، وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَهِيَ شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے تو وہ اس درخت کے بارے میں اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے تھے جو سطح زمین سے ابھرتا ہے اور اسے قرار نہیں ہوتا چنانچہ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ ہمارے خیال میں وہ کھنبی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کھنبی تو من (جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا) کا حصہ ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفاء ہے اور عجوہ کھجور جنت کی کھجو رہے اور وہ زہر کی شفاء ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8307]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر، وقد توبع
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر، وقد توبع
حدیث نمبر: 8308 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَال: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَأْخُذَ أُمَّتِي مَا أَخَذَ الْأُمَمَ وَالْقُرُونَ قَبْلَهَا، شِبْرًا بِشِبْرٍ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَمَا فَعَلَتْ فَارِسُ وَالرُّومُ؟ قَالَ:" وَهَلْ النَّاسُ إِلَّا أُولَئِك؟!" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک میری امت گزشتہ امتوں والے اعمال میں بالشت بالشت بھر اور گز گز بھر مبتلا نہ ہوجائے صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ کیا جیسے فارس اور روم کے لوگوں نے کیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تو کیا ان کے علاوہ بھی پہلے کوئی لوگ گذرے ہیں؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8308]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7319
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7319
حدیث نمبر: 8309 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، وَأَبُو سَلَمَةَ ، سُلَيْمَانُ بْنَ بِلَالٍ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، وَأَبُو سَلَمَةَ , قَالَا: ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنَ بِلَالٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَعَنَ الرَّجُلَ يَلْبَسُ لُبْسَةَ الْمَرْأَةِ، وَالْمَرْأَةَ تَلْبَسُ لُبْسَةَ الرَّجُلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عورتوں کا لباس پہننے والے مردوں اور مردوں کا لباس پہننے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8309]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8310 مسند احمد
رَوْحٌ ، أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ سَفَرًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْصِنِي، قَالَ: " أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ"، فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ ازْوِ لَهُ الْأَرْضَ، وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا وہ سفر پر جانا چاہ رہا تھا کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے کوئی وصیت فرما دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی اور ہر بلندی پر تکبیر کہنے کی وصیت کرتا ہوں جب اس شخص نے واپسی کے لئے پشت پھیری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ اس کے لئے زمین کو لپیٹ دے اور سفر کو آسان فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8310]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8311 مسند احمد
رَوْحٌ ، حَمَّادٌ ، إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ، وَالْقِلَّةِ، وَالذِّلَّةِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أَظْلِمَ، أَوْ أُظْلَمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ میں فقر و فاقہ قلت اور ذلت سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں اور اس بات سے کہ میں کسی پر ظلم کروں یا کوئی مجھ پر ظلم کرے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8311]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8312 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، زِيَادٌ ، ثَابِتًا ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ ، أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِيُسَلِّمْ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي، وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِير" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا چاہئے کہ سوار پیدل کو، چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اور تھوڑے لوگ زیادہ کو سلام کریں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8312]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6233، م: 2160
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6233، م: 2160
حدیث نمبر: 8313 مسند احمد
رَوْحٌ ، وَأَبُو الْمُنْذِرِ ، مَالِكٌ ، إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، زُفَرِ بْنِ صَعْصَعَةَ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَأَبُو الْمُنْذِرِ , قَالَا: ثَنَا مَالِكٌ , عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ زُفَرِ بْنِ صَعْصَعَةَ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ , يَقُولُ: " هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا؟ إِنَّهُ لَيْسَ يَبْقَى بَعْدِي مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب فجر کی نماز سے فارغ ہو کر صحابہ رضی اللہ عنہ کی طرف رخ کر کے بیٹھتے تو فرماتے کہ تم میں سے کسی نے آج رات کوئی خواب تو نہیں دیکھا؟ میرے بعد نبوت کا کوئی جزو سوائے اچھے خوابوں کے باقی نہیں رہا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8313]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6990
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6990
حدیث نمبر: 8314 مسند احمد
رَوْحٌ ، أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي لَبِيدٍ ، الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَرَنِي جِبْرِيلُ بِرَفْعِ الصَّوْتِ فِي الْإِهْلَالِ، فَإِنَّهُ مِنْ شَعَائِرِ الْحَجِّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جبرائیل نے مجھے بلند آواز سے تلبیہ پڑھنے کا حکم پہنچایا ہے کیونکہ تلبیہ شعائر حج میں سے ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8314]
حکم دارالسلام
متن الحديث صحيح لكن من حديث زيد ، وأخطأ أسامة فجعله من حديث أبي هريرة
الحكم: متن الحديث صحيح لكن من حديث زيد ، وأخطأ أسامة فجعله من حديث أبي هريرة
حدیث نمبر: 8315 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرٍ ، هِشَامٍ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّمْسَ لَمْ تُحْبَسْ لِبَشَرٍ إِلَّا لِيُوشَعَ لَيَالِيَ سَارَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سوائے یوشع علیہ السلام کے اور کسی کے لئے سورج کو محبوس نہیں کیا گیا ان کے ساتھ یہ واقعہ ان دنوں میں پیش آیا تھا جب انہوں نے بیت المقدس کی طرف پیش قدمی کی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8315]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3124، م: 1747
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3124، م: 1747
حدیث نمبر: 8316 مسند احمد
الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص حصول علم کے راستے پر چلتا ہے اللہ اس کے لئے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8316]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2699
الحكم: إسناده صحيح، م: 2699
حدیث نمبر: 8317 مسند احمد
الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرٍ ، هِشَامٍ ، الْحَسَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَزُورًا فَانْتَهَبَهَا النَّاسُ، فَنَادَى مُنَادِيهِ: إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنِ النُّهْبَةِ، فَجَاءَ النَّاسُ بِمَا أَخَذُوا، فَقَسَمَهُ بَيْنَهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک اونٹ ذبح کیا لوگ اسے چھین کرلے گئے اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے منادی نے یہ منادی کردی کہ اللہ اور اس کے رسول تمہیں لوٹ مار سے منع کرتے ہیں چنانچہ لوگوں نے جو گوشت لیا تھا وہ سب واپس لے آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے ان کے درمیان تقسیم فرما دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8317]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، الحسن لم يسمع من أبي هريرة
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، الحسن لم يسمع من أبي هريرة
حدیث نمبر: 8318 مسند احمد
الْأَسْوَدُ ، أَبُو بَكْرٍ ، هِشَامٍ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُبَاشِرْ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ، وَلَا الرَّجُلُ الرَّجُلَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت دوسری عورت کے ساتھ اپنا برہنہ جسم نہ لگائے اسی طرح کوئی مرد دوسرے مرد کے ساتھ ایسا نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8318]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح