بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 9 از 194
حدیث نمبر: 7279 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، الْأَعْرَجِ ، أبِي هُرَيْرَةَ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْرَجُ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سُفْيَانُ : سَأَلْتُهُ أنا عَنْهُ: كَيْفَ الطَّعَامُ، أَيْ طَعَامُ الْأَغْنِيَاءِ؟ قَالَ: أَخْبَرَنِي الْأَعْرَجُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " شَرُّ الطَّعَامِ، طعامُ الْوَلِيمَةُ، يُدْعَى إِلَيْهَا الْأَغْنِيَاءُ، وَيُتْرَكُ الْمَسَاكِينُ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِ الدَّعْوَةَ، فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بدترین کھانا اس ولیمے کا کھانا ہوتا ہے جس میں مالداروں کو بلایا جائے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جائے اور جو شخص دعوت ملنے کے باوجود نہ آئے تو اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نافرمانی کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7279]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5177، م: 1432، قال الحافظ في الفتح: أول هذا الحديث موقوف ولكن آخره يقتضي رفعه.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5177، م: 1432، قال الحافظ في الفتح: أول هذا الحديث موقوف ولكن آخره يقتضي رفعه.
حدیث نمبر: 7280 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ"، قال عبد الله بن أحمد: قَالَ أَبِي: سَمِعْتُهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ مِنْ سُفْيَانَ، وَقَالَ مَرَّةً:" مَنْ صَامَ رَمَضَانَ"، وَقَالَ مَرَّةً:" مَنْ قَامَ"، وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے۔ اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہو جائیں گے میرے والد فرماتے ہیں کہ میں نے سفیان سے یہ حدیث چار مرتبہ سنی ہے اور اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت سے شب قدر میں قیام کرلے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہو جائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7280]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2014، م: 760.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2014، م: 760.
حدیث نمبر: 7281 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَغِّبُ فِي قِيَامِ يَعْنِي رَمَضَانَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قیام رمضان کی ترغیب دیتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7281]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 37، م: 759.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 37، م: 759.
حدیث نمبر: 7282 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، رِوَايَةً:" إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ، فَلَا يَغْمِسْ يَدَهُ فِي إِنَائِهِ، حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثًا، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایتہ مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ کسی برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک اسے تین مرتبہ دھونہ لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7282]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 162، م: 278.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 162، م: 278.
حدیث نمبر: 7283 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمَّا مَاتَ النَّجَاشِيُّ أَخْبَرَهُمْ، أَنَّهُ قَدْ مَاتَ، فَاسْتَغْفَرُوا لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب شاہ حبشہ نجاشی کا انتقال ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ کو ان کے انتقال کی اطلاع دی چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ عنم نے ان کے لئے استغفار کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7283]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1245، م: 951.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1245، م: 951.
حدیث نمبر: 7284 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَمَنْ أَدْرَكَ مِنْ صَلَاةٍ رَكْعَةً، فَقَدْ أَدْرَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جو شخص کسی بھی نماز کی ایک رکعت پالے گویا اس نے پوری نماز پالی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7284]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 580، م: 607.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 580، م: 607.
حدیث نمبر: 7285 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيَّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ امام کے بھول جانے پر سبحان اللہ کہنے کا حکم مرد مقتدیوں کے لئے ہے اور تالی بجانے کا حکم عورتوں کے لئے ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7285]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1203، م: 422.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1203، م: 422.
حدیث نمبر: 7286 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَأْتِي أَحَدَكُمْ الشَّيْطَانُ وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ، فَيَلْبِسُ عَلَيْهِ، حَتَّى لَا يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى، فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ، وَهُوَ جَالِسٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آ کر اسے اشتباہ میں ڈال دیتا ہے۔ یہاں تک کہ اسے یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟ جس شخص کے ساتھ ایسا معاملہ ہو تو اسے چاہیے کہ جب وہ قعدہ اخیرہ میں بیٹھے تو سہو کے دو سجدے کرلے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7286]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1232، م: 389.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1232، م: 389.
حدیث نمبر: 7287 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ، فَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ، إِلَّا السَّامَ". قَالَ سُفْيَانُ السَّامُ: الْمَوْتُ، وَهِيَ الشُّونِيزُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کلونجی کا استعمال اپنے اوپر لازم کر لو کیونکہ اس میں موت کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7287]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5688، م: 2215.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5688، م: 2215.
حدیث نمبر: 7288 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، سَعِيدٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَوْ سَعِيدٍ ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ، وَالْمُزَفَّتِ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ". وَيَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ :" وَاجْتَنِبُوا الْحَنَاتِمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دباء اور مزفت نامی برتنوں میں نبیذ بنانے اور پینے سے منع فرمایا ہے اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ حنتم نامی برتن استعمال کرنے سے بھی اجتناب کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7288]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1993.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1993.
حدیث نمبر: 7289 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَبْصَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَقْرَعُ يُقَبِّلُ حَسَنًا، فَقَالَ: لِي عَشَرَةٌ مِنَ الْوَلَدِ، مَا قَبَّلْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ قَطُّ! قَالَ:" إِنَّهُ مَنْ لَا يَرْحَمُ، لَا يُرْحَمُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک مرتبہ اقرع بن حابس نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرات حسن رضی اللہ عنہ کو چوم رہے ہیں وہ کہنے لگے کہ میرے تو دس بیٹے ہیں لیکن میں نے ان میں سے کسی کو کبھی نہیں چوما؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو کسی پر رحم نہیں کرتا اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7289]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5995، م: 2318.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5995، م: 2318.
حدیث نمبر: 7290 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: رَجُلٌ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَلَكْتُ، قَالَ:" وَمَا أَهْلَكَكَ"، قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ:" أَتَجِدُ رَقَبَةً؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" تَسْتَطِيعُ تُطْعِمُ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" اجْلِسْ"، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرْقٍ فِيهِ تَمْرٌ، وَالْعَرْقُ الْمِكْتَلُ الضَّخْم، قَالَ:" تَصَدَّقْ بِهَذَا"، قَالَ: عَلَى أَفْقَرَ مِنَّا؟! مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَفْقَرُ مِنَّا، قَال: فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" أَطْعِمْهُ أَهْلَكَ". وَقَالَ مَرَّةً: فَتَبَسَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ، وَقَالَ:" أَطْعِمْهُ عِيَالَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں ہلاک ہو گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تجھے کس چیز نے ہلاک کر دیا؟ اس نے کہا کہ میں نے رمضان کے مہینے میں دن کے وقت اپنی بیوی سے جماع کر لیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک غلام آزاد کردو اس نے کہا کہ میرے پاس غلام نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دو مہینوں کے مسلسل روزے رکھ لو اس نے کہا مجھ میں اتنی طاقت نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو اس نے کہا کہ میرے پاس اتنا کہاں؟ نبی کریم نے فرمایا: بیٹھ جاؤ اتنی دیر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کہیں سے ایک بڑا ٹوکرا آیا جس میں کھجوریں تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ لے جاؤ اور اپنی طرف سے ساٹھ مسکینوں کو کھلا دو اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مدینہ منورہ کے اس کونے سے لے کر اس کونے تک ہم سے زیادہ ضرورت مند گھرانہ کوئی نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسکرا کر فرمایا: جاؤ تم اور تمہارے اہل خانہ ہی اسے کھا لیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7290]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6709، م: 1111.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6709، م: 1111.
حدیث نمبر: 7291 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ الْحُرَقِيِّ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ الْحُرَقِيِّ ، فِي بَيْتِهِ عَلَى فِرَاشِهِ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَيُّمَا صَلَاةٍ لَا يُقْرَأُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فهي خداج، ثم هي خداج، ثم هي خداج" . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَقَالَ قَبْلَ ذَلِكَ حَبِيبِي عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ، قَالَ: فَقَالَ يَا فَارِسِيُّ، اقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي، وَقَالَ مَرَّةً: لِعَبْدِي مَا سَأَلَ، فَإِذَا قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2، قَال: حَمِدَنِي عَبْدِي، فَإِذَا قَالَ: الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 3، قَالَ: مَجَّدَنِي عَبْدِي، أَوْ أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي، فَإِذَا قَالَ: مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ سورة الفاتحة آية 4، قَالَ: فَوَّضَ إِلَيَّ عَبْدِي، فَإِذَا قَالَ: إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ سورة الفاتحة آية 5، قَالَ: فَهَذِهِ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، وَقَالَ مَرَّةً: مَا سَأَلَنِي، فَيَسْأَلُهُ عَبْدُهُ: اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 6 - 7، قَالَ: هَذَا لِعَبْدِي، ولَكَ مَا سَأَلْتَ، وَقَالَ مَرَّةً: وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَنِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس نماز میں سورت فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ نامکمل ہے نامکمل ہے نامکمل ہے اور یہ بات مجھ سے پہلے میرے حبیب علیہ السلام نے بھی فرمائی ہے پھر فرمایا: کہ اے فارسی! سورت فاتحہ پڑھا کرو کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ارشادباری تعالیٰ ہے میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان تقسیم کر دیا ہے (اور میرا بندہ جو مانگے گا اسے وہ ملے گا) چنانچہ جب بندہ الحمد للہ رب العلمین کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے میری تعریف بیان کی جب بندہ کہتا ہے الرحمن الرحیم۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے میری بزرگی یا ثناء بیان کی جب بندہ کہتا ہے مالک یوم الدین تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے اپنے آپ کو میرے سپرد کر دیاجب بندہ ایاک نعبد وایاک نستعین کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرا بندہ مجھ سے جو مانگے گا اسے وہ ملے گا پھر جب بندہ اھدناالصراط المستقیم سے آخر تک پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہ میرے بندے کے لئے ہے اور جو تو نے مجھ سے مانگاوہ تجھے مل کر رہے گا ایک دوسری روایت میں ہے کہ میرے بندے نے مجھ سے جو مانگا وہ اسے ملے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7291]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 395.
الحكم: إسناده صحيح، م: 395.
حدیث نمبر: 7292 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الْعَلَاءِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ يَبِيعُ طَعَامًا، فَسَأَلَهُ:" كَيْفَ تَبِيعُ؟" فَأَخْبَرَهُ، فَأُوحِيَ إِلَيْهِ: أَدْخِلْ يَدَكَ فِيهِ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ، فَإِذَا هُوَ مَبْلُولٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَيْسَ مِنَّا مَنْ غَشّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گزر ایک ایسے آدمی پر ہوا جو گندم بیچ رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کس حساب بیچ رہے ہو؟ اس نے قیمت بتائی اسی اثناء میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر وحی ہوئی کہ اس گندم کے ڈھیر میں اپنا ہاتھ ڈال کر دیکھئے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس میں ہاتھ ڈالا تو وہ اندر سے گیلا نکلا اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دھوکہ دینے والا ہم میں سے نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7292]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 102.
الحكم: إسناده صحيح، م: 102.
حدیث نمبر: 7293 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْيَمِينُ الْكَاذِبَةُ مَنْفَقَةٌ لِلسِّلْعَةِ، مَمْحَقَةٌ لِلْكَسْبِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جھوٹی قسم کھانے سے سامان تو بک جاتا ہے لیکن برکت مٹ جاتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7293]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2087، م: 1606.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2087، م: 1606.
حدیث نمبر: 7294 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الْعَلَاءِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَرْفَعُهُ:" إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ، يَضَعُ يَدَهُ عَلَى فِيهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو اپنے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7294]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2994.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2994.
حدیث نمبر: 7295 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عِرَاكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عِرَاكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي فَرَسِهِ، وَلَا عَبْدِهِ صَدَقَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7295]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1464، م: 982.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1464، م: 982.
حدیث نمبر: 7296 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَبُو الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:" إِنْ هَمَّ عَبْدِي بِحَسَنَةٍ، فاكْتُبُوها، فَإِنْ عَمِلَهَا، فَاكْتُبُوهَا بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَإِنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ، فَلَا تَكْتُبُوهَا، فَإِنْ عَمِلَهَا، فَاكْتُبُوهَا بِمِثْلِهَا، فَإِنْ تَرَكَهَا، فَاكْتُبُوهَا حَسَنَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ (اپنے فرشتوں سے) فرماتے ہیں اگر میرا کوئی بندہ نیکی کا ارادہ کرے تو اسے لکھ لیا کرو پھر اگر وہ اس پر عمل کرلے تو اسے دس گنا بڑھا کر لکھ لیا کرو اور اگر وہ کسی گناہ کا ارادہ کرے تو اسے مت لکھا کرو اگر وہ گناہ کر گزرے تو صرف ایک ہی گناہ لکھا کرو اور اگر اسے چھوڑ دے تو ایک نیکی لکھ لیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7296]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7501، م: 130.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7501، م: 130.
حدیث نمبر: 7297 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:" لَا يَأْتِي النَّذْرُ عَلَى ابْنِ آدَمَ بِشَيْءٍ لَمْ أُقَدِّرْهُ عَلَيْهِ، وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ أَسْتَخْرِجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ، يُؤْتِينِي عَلَيْهِ مَا يُؤْتِينِي عَلَى الْبُخْلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ارشاد باری تعالیٰ ہے میں نے جس چیز کا فیصلہ نہیں کیا ابن آدم کی منت اسے وہ چیز نہیں دلا سکتی البتہ اس منت کے ذریعے میں کنجوس آدمی سے پیسہ نکلوا لیتاہوں وہ مجھے منت مان کر وہ کچھ دے دیتا ہے جو اپنے بخل کی حالت میں کبھی نہیں دیتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7297]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6694، م: 1640.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6694، م: 1640.
حدیث نمبر: 7298 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:" يَا ابْنَ آدَمَ، أَنْفِقْ، أُنْفِقْ عَلَيْكَ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ:" يَمِينُ اللَّهِ مَلْأَى سَحَّاءُ، لَا يَغِيضُهَا شَيْءٌ، اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے ابن آدم! خرچ کر میں تجھ پر خرچ کروں گا اور فرمایا: اللہ کا داہنا ہاتھ بھرا ہوا اور خوب سخاوت کرنے والا ہے اسے کسی چیز سے کمی نہیں آتی اور وہ رات دن خرچ کرتا رہتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7298]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7419، م: 993.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7419، م: 993.