بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 86 از 194
حدیث نمبر: 8820 مسند احمد
رَوْحٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، الزُّهْرِيُّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ، يَقْرَأُ، فَقَالَ: " لَقَدْ أُعْطِيَ هَذَا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَام" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو تلاوت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا ابوموسیٰ اشعری کو حضرت داؤدعلیہ السلام جیسا سُر عطاء کیا گیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8820]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8821 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ؟ هُمْ الضُّعَفَاءُ وَالْمَظْلُومُونَ، أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ؟ كُلُّ شَدِيدٍ جَعْظَرِيٍّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں اہل جنت کے بارے میں نہ بتاؤں؟ جنتی کمزور اور مظلوم لوگ ہوں گے کیا میں تمہیں اہل جہنم کے بارے میں نہ بتاؤں؟ جہنمی ہر بیوقوف اور متکبر آدمی ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8821]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف البراء
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف البراء
حدیث نمبر: 8822 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِشِرَارِكُمْ؟" فَقَالَ:" هُمْ الثَّرْثَارُونَ الْمُتَشَدِّقُونَ، أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخِيَارِكُم؟ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں بدترین لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ واہی تباہی بکنے والے اور لوگوں کا مذاق اڑانے والے لوگ کیا میں تمہیں بہترین لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ جو تم میں سے بہترین اخلاق والے ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8822]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 8823 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءُ ، الْحَسَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَلِيلِي الصَّادِقُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " يَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْثٌ إِلَى السِّنْدِ وَالْهِنْدِ" ، فَإِنْ أَنَا أَدْرَكْتُهُ فَاسْتُشْهِدْتُ، فَذاِكَ، وَإِنْ أَنَا، فَذَكَرَ كَلِمَةً، رَجَعْتُ وَأَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْمُحَرَّرُ قَدْ أَعْتَقَنِي مِنَ النَّارِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مروی ہے کہ مجھ سے میرے خلیل و صادق پیغمبر اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیان فرمایا کہ اس امت میں ایک لشکر سندھ اور ہند کی طرف بھی جائے گا اگر میں نے وہ زمانہ پایا اور شہید ہوگیا تو بہت اچھا اور اگر میں زندہ واپس آگیا تو میں ابوہریرۃ المحرر ہوں گا جو جہنم کی آگ سے آزاد ہوچکا ہوگا [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8823]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف البراء ولانقطاعه ، الحسن البصري لم يسمع من أبي هريرة
الحكم: إسناده ضعيف لضعف البراء ولانقطاعه ، الحسن البصري لم يسمع من أبي هريرة
حدیث نمبر: 8824 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، وَرْقَاءُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَتَقُم السَّاعَةُ وَثَوْبُهُمَا بَيْنَهُمَا لَا يَطْوِيَانِهِ وَلَا يَتَبَايَعَانِهِ، وَلَتَقُمِ السَّاعَةُ وَقَدْ حَلَبَ لِقْحَتَهُ لَا يَطْعَمُهُ، وَلَتَقُمِ السَّاعَةُ وَقَدْ رَفَعَ لُقْمَتَهُ إِلَى فِيهِ وَلَا يَطْعَمُهَا، وَلَتَقُمِ السَّاعَةُ وَالرَّجُلُ يَلِيطُ حَوْضَهُ لَا يَسْقِي مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دو آدمیوں کے درمیان خریدو فروخت ہو رہی ہوگی کہ قیامت قائم ہوجائے گی ابھی کپڑا ان دونوں کے درمیان ہی ہوگا انہوں نے اسے لپیٹا ہوگا اور نہ ہی خریدو فروخت مکمل ہوگی اسی طرح ایک آدمی نے اپنے جانور کا دودھ دوہا ہوگا لیکن ابھی پہننے کی نوبت نہ آئی ہوگی کہ قیامت قائم ہوجائے گی ایک آدمی نے لقمہ اٹھا کر اپنے منہ کے قریب کیا ہوگا ابھی کھانے نہیں پایا ہوگا کہ قیامت قائم ہوجائے اور ایک آدمی اپنے حوض کی لپائی کر رہا ہوگا اسے سیراب نہ کرسکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8824]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6506، م: 2954
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6506، م: 2954
حدیث نمبر: 8825 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، وَرْقَاءُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا تَعْجَبُونَ كَيْفَ يُصْرَفُ عَنِّي شَتْمُ قُرَيْشٍ، يَشْتِمُونَ مُذَمَّمًا وَأَنَا مُحَمَّدٌ، وَيَلْعَنُونَ مُذَمَّمًا وَأَنَا مُحَمَّدٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں اس بات پر تعجب نہیں ہوتا کہ کس عجیب طریقے سے قریش کی دشنام طرازیوں کو مجھ سے دور کردیا جاتا ہے؟ وہ کس مذمم پر لعنت اور سب و شتم کرتے ہیں جبکہ میرا نام تو محمد ہے (مذمم نہیں) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8825]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3533
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3533
حدیث نمبر: 8826 مسند احمد
عَلِيٌّ ، وَرْقَاءُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَأَسْلَمُ وَغِفَارٌ وَجُهَيْنَةُ، وَمَنْ كَانَ مِنْ مُزَيْنَةَ أَوْ مُزَيْنَةُ وَمَنْ كَانَ مِنْ جُهَيْنَةَ، خَيْرٌ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَسَدٍ وطَيِّئٍ وَغَطَفَانَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے قیامت کے دن قبیلہ اسلم غفار اور مزینہ و جہنیہ کا کچھ حصہ اللہ کے نزدیک بنو اسد بنو طئی اور بنو غطفان سے بہتر ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8826]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3523، م: 2521
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3523، م: 2521
حدیث نمبر: 8827 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَنْعَمُ لَا يَيْئَسُ، وَلَا تَبْلَى ثِيَابُهُ وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُ، فِي الْجَنَّةِ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص جنت میں داخل ہوجائے گا وہ ناز و نعم میں رہے گا پریشان نہ ہوگا اس کے کپڑے پرانے نہ ہوں گے اور اس کی جوانی فنا نہ ہوگی اور جنت میں ایسی چیزیں ہوں گی جنہیں کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل پر ان کا خیال بھی گذرا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8827]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3244، م: 2824
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3244، م: 2824
حدیث نمبر: 8828 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ مَرَّتْ سَحَابَةٌ، فَقَالَ: " أَتَدْرُونَ مَا هَذِهِ؟" قَالَ: قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" الْعَنَانُ، وَرَوَايَا الْأَرْضِ، يَسُوقُهُ اللَّهُ إِلَى مَنْ لَا يَشْكُرُهُ مِنْ عِبَادِهِ وَلَا يَدْعُونَهُ، أَتَدْرُونَ مَا هَذِهِ فَوْقَكُمْ؟" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" الرَّقِيعُ، مَوْجٌ مَكْفُوفٌ، وَسَقْفٌ مَحْفُوظٌ، أَتَدْرُونَ كَمْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهَا؟" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ"، ثم قَالَ:" أَتَدْرُونَ مَا الَّتِي فَوْقَهَا؟" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" سَمَاءٌ أُخْرَى، أَتَدْرُونَ كَمْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهَا؟" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ" حَتَّى عَدَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ، ثُمَّ قَال:" أَتَدْرُونَ مَا فَوْقَ ذَلِكَ؟" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" الْعَرْشُ"، قَالَ:" أَتَدْرُونَ كَمْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ السَّمَاءِ السَّابِعَة؟" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ"، ثُمَّ قَالَ:" أَتَدْرُونَ مَا تَحْتَكُمْ؟" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَم، قَالَ:" أَرْضٌ أَتَدْرُونَ مَا تَحْتَهَا؟" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" أَرْضٌ أُخْرَى، أَتَدْرُونَ كَمْ بَيْنَهَا وَبَيْنَهَا؟" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ" حَتَّى عَدَّ سَبْعَ أَرَضِينَ، ثُمَّ قَالَ:" وَايْمُ اللَّهِ، لَوْ دَلَّيْتُمْ أَحَدَكُمْ بِحَبْلٍ إِلَى الْأَرْضِ السُّفْلَى السَّابِعَةِ لَهَبَطَ" ثُمَّ قَرَأَ: هُوَ الأَوَّلُ وَالآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ سورة الحديد آية 3 .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آسمان پر سے ایک بادل گذرا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا چیز ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا یہ عنان ہے جو زمین کی تراوٹ کو ان لوگوں کے پاس ہانک کرلے جا رہا ہے جو اللہ کا شکر ادا نہیں کرتے اور اسے کبھی نہیں پکارتے کیا تم جانتے ہو کہ یہ تمہارے اوپر کیا چیز ہے ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی زیادہ جانتے ہیں فرمایا اس کا نام رقیع ہے یہ ایک لپٹی ہوئی موج ہے اور محفوظ چھت ہے کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے اور اس کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں فرمایا پانچ سو سال فاصلہ ہے۔ پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اس کے اوپر کیا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا دوسرا آسمان ہے کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے اور اس کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں؟ فرمایا پانچ سو سال کا فاصلہ ہے یہاں تک کہ ساتوں آسمان گنوانے کے بعد فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اس کے اوپر کیا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا اس کے اوپر عرش ہے کیا تم جانتے ہو کہ اس کے اور ساتویں آسمان کے درمیان کتن ا فاصلہ ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا پانچ سو سال کا فاصلہ ہے کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے نیچے کیا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا زمین ہے کیا تم جانتے ہو کہ اس کے نیچے کیا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا دوسری زمین ہے کیا تم جانتے ہو کہ ان دونوں کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا سات سو سال کا فاصلہ ہے یہاں تک کہ ساتوں زمینیں گنوا دیں پھر فرمایا واللہ اگر تم میں سے کوئی شخص رسی سے لٹک کر ساتویں زمین تک اترنا چاہے تو اتر سکتا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی وہی اول و آخر اور ظاہر و باطن ہے اور وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8828]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الحكم ضعيف، وقتادة مدلس وعنعنه، والحسن لم يسمع من أبي هريرة
الحكم: إسناده ضعيف، الحكم ضعيف، وقتادة مدلس وعنعنه، والحسن لم يسمع من أبي هريرة
حدیث نمبر: 8829 مسند احمد
عَارِمٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُبَارَكٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، رَبِيعَةَ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُبَارَكٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ رَبِيعَةَ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَبِيعَةَ فَلَمْ أُنْكِرْ، قَالَ: " الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ، أَوْ أَفْضَلُ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ، وَكُلٌّ خَيْرٌ، احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ وَلَا تَعْجِزْ، فَإِنْ غَلَبَكَ أَمْرٌ فَقُلْ قَدَّرَ اللَّهُ، وَمَا شَاءَ صَنَعَ، وَإِيَّاكَ وَاللَّوَّ، فَإِنَّ اللَّوَّ يُفْتَحُ مِنَ الشَّيْطَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ کی نگاہوں میں طاقتور مسلمان کمزور مسلمان کی نسبت زیادہ بہتر افضل اور محبوب ہے اور ہر ایک ہی بھلائی میں ہے ایسی چیزوں کی حرص کرو جن کا تمہیں فائدہ ہو اور تم اس سے عاجز نہ آجاؤ اگر کوئی معاملہ تم پر غالب آنے لگے تو یوں کہہ لو کہ اللہ نے اسی طرح مقرر فرمایا تھا اور اللہ جو چاہتا ہے کر گذرتا ہے اور اگر مگر سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ اگر مگر شیطان کا دروازہ کھولتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8829]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وقد اختلف فى إسناده، م: 2664
الحكم: حديث حسن، وقد اختلف فى إسناده، م: 2664
حدیث نمبر: 8830 مسند احمد
عَارِمٌ ، مُعْتَمِرٌ ، أَبِي ، بَرَكَةَ ، بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ بَرَكَةَ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ حَتَّى أَرَى بَيَاضَ إِبْطَيْهِ" ، قَالَ أَبِي وَهُوَ أَبُو الْمُعْتَمِرِ: لَا أَظُنُّهُ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دعاء میں اس طرح ہاتھ پھیلاتے تھے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک بغل کی سفیدی دیکھ لیتا تھا راوی کہتے ہیں کہ میرے خیال کے مطابق یہ نماز استسقاء کا موقع تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8830]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8831 مسند احمد
عَارِمٌ ، مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَبِي ، نُعَيْمُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: قَالَ أَبِي ، حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ أَبُو جَهْلٍ: هَلْ يُعَفِّرُ مُحَمَّدٌ وَجْهَهُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ؟ قَالَ: فَقِيلَ: نَعَمْ، فَقَالَ: وَاللَّاتِ وَالْعُزَّى، يَمِينًا يَحْلِفُ بِهَا، لَئِنْ رَأَيْتُهُ يَفْعَلُ ذَلِكَ، لَأَطَأَنَّ عَلَى رَقَبَتِهِ، أَوْ لَأُعَفِّرَنَّ وَجْهَهُ فِي التُّرَابِ، قَالَ: فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي، زَعَمَ لَيَطَأُ عَلَى رَقَبَتِهِ، قَالَ: فَمَا فَجَأَهُمْ مِنْهُ إِلَّا وَهُوَ يَنْكُصُ عَلَى عَقِبَيْهِ وَيَتَّقِي بِيَدَيْهِ، قَال: فقَالُوا: لَهُ مَا لَكَ؟ قَالَ: إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَهُ لَخَنْدَقًا مِنْ نَارٍ وَهَؤُلَاءِ أَجْنِحَةٌ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَوْ دَنَا مِنِّي لَخَطَفَتْهُ الْمَلَائِكَةُ عُضْوًا عُضْوًا" ، قَالَ: فَأُنْزِلَ لَا أَدْرِي فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ شَيْءٍ بَلَغَه إِنَّ الإِنْسَانَ لَيَطْغَى أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى إِنَّ إِلَى رَبِّكَ الرُّجْعَى أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَى عَبْدًا إِذَا صَلَّى أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَى الْهُدَى أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَى أَرَأَيْتَ إِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى يَعْنِي أَبَا جَهْلٍ أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ يَرَى كَلَّا لَئِنْ لَمْ يَنْتَهِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ قَالَ: يَدْعُو قَوْمَهُ سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ قَالَ: يَعْنِي الْمَلَائِكَةَ كَلَّا لا تُطِعْهُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ سورة العلق آية 6 - 19.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ قریش کے سرداروں سے ابوجہل کہنے لگا کیا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہاری موجودگی میں اپنا چہرہ زمین پر رکھتے ہیں؟ انہوں نے کہا ہاں اس پر وہ کہنے لگا کہ لات اور عزی کی قسم اگر میں نے انہیں ایسا کرتے ہوئے دیکھا تو ان کی گردن کو اپنے پاؤں تلے روند دوں گا اور ان کا چہرہ مٹی میں ملا دوں گا یہ کہہ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف آیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت نماز پڑھ رہے تھے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گردن پر اپنا ناپاک پاؤں رکھنے کے لئے آگے بڑھا لیکن پھر اچانک ہی الٹے پاؤں واپس بھاگ پڑا اور اپنے ہاتھوں سے کسی چیز سے بچنے لگا۔ سرداران قریش نے اس سے پوچھا کیا ہوا؟ وہ کہنے لگا کہ میرے اور ان کے درمیان آگ کی ایک خندق حائل ہوگئی اور مختلف ہاتھ میری طرف بڑھنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر وہ میرے قریب آتا تو فرشتے اس کا ایک عضو اچک کرلے جاتے اور اسی موقع پر سورت علق کی یہ آخری آیات نازل ہوئی ان الانسان لیطغی الی آخرہ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8831]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2797
الحكم: إسناده صحيح، م: 2797
حدیث نمبر: 8832 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، فُلَيْحٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قالَ:" أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِي، الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ارشاد فرمائیں گے میری خاطر آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنے والے لوگ کہاں ہیں؟ میرے جلال کی قسم آج میں انہیں اپنے سائے میں جبکہ میرے سائے کے علاوہ کہیں کوئی سایہ نہیں جگہ عطاء کروں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8832]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2566
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2566
حدیث نمبر: 8833 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ زَكَرِيَّا ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ زَكَرِيَّا ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَعُودَ أَرْضُ الْعَرَبِ مُرُوجًا وَأَنْهَارًا، وَحَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ بَيْنَ الْعِرَاقِ وَمَكَّةَ لَا يَخَافُ إِلَّا ضَلَالَ الطَّرِيقِ، وَحَتَّى يَكْثُرَ الْهَرْجُ"، قَالُوا: وَمَا الْهَرْجُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الْقَتْلُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک سر زمین عرب دریاؤں اور نہروں سے لبریز نہ ہوجائے اور جب تک ایک سوار عراق اور مکہ کے درمیان سفر کرے اور اس سفر میں سوائے راہ بھٹکنے کے کوئی اور اندیشہ نہ ہو اور جب تک کہ ہرج کی کثرت نہ ہوجائے صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ! ہرج سے کیا مراد ہے؟ فرمایا قتل۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8833]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7061، م: 2672
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7061، م: 2672
حدیث نمبر: 8834 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، إِسْمَاعِيلُ ابْنَ زَكَرِيَّا ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي عُبَيْدٍ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنَ زَكَرِيَّا ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَبَّحَ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَحَمِدَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبَّرَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، فَتِلْكَ تِسْعٌ وَتِسْعُونَ، ثُمَّ قَالَ: تَمَامُ الْمِائَةِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَه، لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، غُفِرَ لَهُ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص ہر نماز کے بعد ٣٣ مرتبہ اللہ اکبر۔ ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ۔ ٣٣ مرتبہ الحمد اللہ پڑھ لیا کرے اور ننانوے تک پہنچ کر سو کی تکمیل کے لئے اور آخر میں یہ کہہ لیا کرو۔ لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد و ہو علی کل شیء قدیر۔ تو اس کے سارے گناہ معاف ہوجائیں گے اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8834]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 597
الحكم: إسناده صحيح، م: 597
حدیث نمبر: 8835 مسند احمد
مُحَمَّدٌ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِي: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، مِائَةَ مَرَّةٍ، لَمْ يَأْتِ أَحَدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ، إِلَّا أَحَدٌ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ، أَوْ زَادَ عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص صبح و شام سو مرتبہ سبحان اللہ وبحمدہ کہہ لے قیامت کے دن کوئی شخص اس سے افضل عمل والا نہیں آئے گا الاّ یہ کہ کسی اور نے بھی یہ کلمات اتنی ہی مرتبہ یا اس سے زیادہ مرتبہ کہے ہوں [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8835]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2692
الحكم: إسناده صحيح، م: 2692
حدیث نمبر: 8836 مسند احمد
مُحَمَّدٌ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، الْحَسَنِ بْنِ الْحَكَمِ النَّخَعِيِّ ، عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَكَمِ النَّخَعِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ بَدَا جَفَا، وَمَنْ اتَّبَعَ الصَّيْدَ غَفَلَ، وَمَنْ أَتَى أَبْوَابَ السُّلْطَانِ افْتُتِنَ، وَمَا ازْدَادَ عَبْدٌ مِنَ السُّلْطَانِ قُرْبًا إِلَّا ازْدَادَ مِنَ اللَّهِ بُعْدًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص دیہات میں رہتا ہو وہ اپنے ساتھ زیادتی کرتا ہے جو شخص شکار کے پیچھے پڑتا ہے وہ غافل ہوجاتا ہے جو بادشاہوں کے دروازے پر آتا ہے وہ فتنے میں مبتلا ہوتا ہے اور جو شخص بادشاہ کا جتنا قرب حاصل کرتا جاتا ہے اللہ سے اتنا ہی دور ہوتا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8836]
حکم دارالسلام
حديث ضعيف للاضطراب الذي وقع في إسناده
الحكم: حديث ضعيف للاضطراب الذي وقع في إسناده
حدیث نمبر: 8837 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي أَبَا أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيَّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَمِّي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي أَبَا أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيَّ , قَالَ: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَال: أَخْبَرَنِي عَمِّي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُكُمْ مَا لَهُ فِي أَنْ يَمْشِيَ بَيْنَ يَدَيْ أَخِيهِ مُعْتَرِضًا وَهُوَ يُنَاجِي رَبَّهُ، كَانَ أَنْ يَقِفَ فِي ذَلِكَ الْمَكَانِ مِائَةَ عَامٍ، أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَخْطُوَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر کسی شخص کو یہ معلوم ہوجائے کہ اپنے نمازی بھائی کے آگے سے گذرنے کی کیا سزا ہے تو اس یک نظروں میں وہاں سے گذرنے کی نسبت سو سال تک کھڑا رہنا زیادہ بہتر ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8837]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، وعبيد الله بن عبدالله مجهول، وعبيد الله بن عبدالرحمن ليس بذاك القوي، وفي الاسناد قلب
الحكم: إسناده ضعيف، وعبيد الله بن عبدالله مجهول، وعبيد الله بن عبدالرحمن ليس بذاك القوي، وفي الاسناد قلب
حدیث نمبر: 8838 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، ثَوْرٍ ، الْحُصَيْنِ ، أَبِي سَعْدِ الْخَيْر ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنِ الْحُصَيْنِ كَذَا قَالَ، عَنْ أَبِي سَعْدِ الْخَيْر ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ عُمَرَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ اكْتَحَلَ فَلْيُوتِرْ، وَمَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ عَلَيْهِ، وَمَنْ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ، وَمَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ، وَمَنْ أَكَلَ فَمَا تَخَلَّلَ فَلْيَلْفِظْ، وَمَنْ لَاكَ بِلِسَانِهِ فَلْيَبْتَلِعْ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ، وَمَنْ أَتَى الْغَائِطَ فَلْيَسْتَتِرْ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا أَنْ يَجْمَعَ كَثِيبًا، فَلْيَسْتَدْبِرْهُ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَلْعَبُ بِمَقَاعِدِ بَنِي آدَمَ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص سرمہ لگائے وہ طاق عدد کا خیال رکھے جو خیال رکھ لے تو بہت اچھا ورنہ کوئی حرج بھی نہیں ہے اور جو شخص پتھروں سے استنجاء کرے وہ طاق عدد کا خیال رکھے جو خیال رکھ لے تو بہت اچھا ورنہ کوئی حرج بھی نہیں ہے اور جو شخص کھانا کھائے تو خلال کو پھینک دے اور جو زبان سے چبا لیا ہو اسے نگل لے جو خیال رکھ لے تو بہت اچھا ورنہ کوئی حرج بھی نہیں ہے جو شخص بیت الخلاء آئے تو ستر کا خیال رکھے اگر اسے ٹیلے کے علاوہ کچھ نہ ملے تو اس کی طرف پشت کرلے کیونکہ شیطان بنی آدم کی شرمگاہوں سے کھلیتا ہے جو ایسا کرلے تو بہت اچھا ورنہ کوئی حرج بھی نہیں ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8838]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف حصين، ولجهالة أبي سعد
الحكم: إسناده ضعيف لضعف حصين، ولجهالة أبي سعد
حدیث نمبر: 8839 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، خَلَفٌ يَعْنِي بْنَ خَلِيفَةَ ، يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي بْنَ خَلِيفَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَسَمِعْنَا وَجْبَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَدْرُونَ مَا هَذَا؟" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" هَذَا حَجَرٌ أُرْسِلَ فِي جَهَنَّمَ مُنْذُ سَبْعِينَ خَرِيفًا، فَالْآنَ انْتَهَى إِلَى قَعْرِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ہم نے ایک دھماکے کی آواز سنی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیسی آواز ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی زیادہ جانتے ہیں فرمایا یہ ایک پتھر کی آواز ہے جیسے ستر سال پہلے جہنم میں لڑھکایا گیا تھا وہ پتھر اب اس کی تہہ میں پہنچا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8839]
حکم دارالسلام
صحيح بلفظ: « إذ سمع وجبة » ، م: 2844، تفرد يزيد وأخطأ فى لفظ الحديث فرواه على الاخبار بسماع الصحابة في مجلس النبي صلى الله عليه و آله وسلم لصوت سقوط الحجر
الحكم: صحيح بلفظ: « إذ سمع وجبة » ، م: 2844، تفرد يزيد وأخطأ فى لفظ الحديث فرواه على الاخبار بسماع الصحابة في مجلس النبي ﷺ لصوت سقوط الحجر