بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 113 از 194
حدیث نمبر: 9360 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي ، أَبُو هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ أَبِي فَاطَّلَعَ أَبِي فِي دَارِ قَوْمٍ، فَرَأَى امْرَأَةً، فَقَالَ: أَمَا إِنَّهُمْ لَوْ فَقَئُوا عَيْنِي لَهُدِرَتْ، ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَة أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ اطَّلَعَ فِي دَارِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَفَقَئُوا عَيْنَهُ، هُدِرَتْ" ، وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً: عَيْنٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سہیل بن ابی صالح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ہمراہ چل رہا تھا کہ میرے والد نے ایک گھر میں جھانک کر دیکھا، ان کی نظر ایک عورت پر پڑگئی، وہ کہنے لگے کہ اگر یہ لوگ میری آنکھ پھوڑ دیتے تو یہ رائیگاں جاتی، پھر فرمایا کہ مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنائی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر کوئی آدمی اجازت کے بغیر کسی کے گھر میں جھانک کر دیکھے اور وہ اسے کنکری دے مارے جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9360]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 6902 ، م : 2158
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 6902 ، م : 2158
حدیث نمبر: 9361 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ بَابًا أَفْضَلُهَا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْعَظْمِ عَنِ الطَّرِيقِ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایمان کے ستر سے زائد شعبے ہیں، جن میں سب سے افضل اور اعلیٰ " لاالہ الا اللہ " کہنا ہے اور سب سے ہلکا شعبہ راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے اور حیاء بھی ایمان کا ایک شعبہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9361]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 9 ، م : 35
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 9 ، م : 35
حدیث نمبر: 9362 مسند احمد
عَفَّانُ ، مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، أَبِي ، قَتَادَةَ ، زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جَرَسٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس قافلے کے ساتھ فرشتے نہیں رہتے جس میں کتا یا گھنٹیاں ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9362]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، م : 2113
الحكم: إسنادہ صحیح ، م : 2113
حدیث نمبر: 9363 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ , بِكُلِّ حَسَنَةٍ عَشْرُ حَسَنَاتٍ إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ، وَالصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، فَإِنْ جَهِلَ عَلَى أَحَدِكُمْ جَاهِلٌ , وَهُوَ صَائِمٌ، فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے اے ابن آدم! ہر نیکی کا بدلہ دس سے لے کر سات سو نیکیاں یا اس سے دگنی چوگنی ہیں لیکن روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا جہنم سے بچاؤ کے لئے روزہ ڈھال ہے، روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے اور اگر کوئی شخص تم سے روزے کی حالت میں جہالت کا مظاہرہ کرے تو تم یوں کہہ دو کہ میں روزے سے ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9363]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، خ : 5223 ، 7492 ، م : 1151 ، 2761
الحكم: حدیث صحیح ، خ : 5223 ، 7492 ، م : 1151 ، 2761
حدیث نمبر: 9364 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ سَلَكَتِ الْأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا، لَسَلَكْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ أَوْ وَادِيَ الْأَنْصَارِ، وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ" ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَمَا ظَلَمَ بِأَبِي وَأُمِّي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , لَآوَوْهُ وَنَصَرُوهُ. قَالَ: وَأَحْسَبُهُ، قَالَ: وَوَاسَوْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر لوگ ایک وادی میں چل رہے ہوں اور انصاری دوسری وادی میں تو میں انصار کے ساتھ ان کی وادی میں چلوں گا اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9364]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 3779 ، م : 76
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 3779 ، م : 76
حدیث نمبر: 9365 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ ، أَبَا الرَّبِيعِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ أَنْبَأَنِي , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الرَّبِيعِ يُحَدِّثُ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَرْبَعٌ فِي أُمَّتِي لَنْ يَدَعُوهَا: التَّطَاعُنُ فِي الْأَنْسَابِ، وَالنِّيَاحَةُ، وَمُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا، اشْتَرَيْتَ بَعِيرًا أَجْرَبَ، أَوْ فَجَرِبَ فَجَعَلْتَهُ فِي مِائَةِ بَعِيرٍ، فَجَرِبَتْ , مَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا زمانہ جاہلیت کی چار چیزیں ایسی ہیں جنہیں میرے امتی کبھی ترک نہیں کریں گے۔ حسب نسب میں عار دلانا، میت پر نوحہ کرنا، بارش کو ستاروں سے منسوب کرنا اور بیماری کو متعدی سمجھنا، ایک اونٹ خارش زدہ ہوا اور اس نے سو اونٹوں کو خارش میں مبتلا کردیا، تو پہلے اونٹ کو خارش زدہ کس نے کیا؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9365]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9366 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، قَاسِمُ بْنُ مِهْرَانَ ، أَبَا رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: قَاسِمُ بْنُ مِهْرَانَ أَخْبَرَنِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا رَافِعٍ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي الْقِبْلَةِ، قَالَ: كَانَ يَقُولُ مَرَّةً: فَحَتَّهَا، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: قُمْتُ فَحَتَّيْتُهَا، ثُمَّ قَالَ: " أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ إِذَا كَانَ فِي صَلَاتِهِ أَنْ يُتَنَخَّعَ فِي وَجْهِهِ، أَوْ يُبْزَقَ فِي وَجْهِهِ، إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَا يَبْزُقَنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ تَحْتَ قَدَمِهِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ , قَالَ: بِثَوْبِهِ هَكَذَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسجد میں قبلہ کی جانب بلغم لگا ہوا دیکھا تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا تم میں سے کسی کا کیا معاملہ ہے کہ اپنے رب کی طرف منہ کر کے کھڑا ہوتا ہے اور پھر تھوک بھی پھینکتا ہے؟ کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات کو پسند کرے گا کہ کوئی آدمی اس کے سامنے رخ کر کے کھڑا ہوجائے اور اس کے چہرے پر تھوک دے؟ جب تم میں سے کوئی شخص تھوک پھینکنا چاہے تو اسے بائیں جانب یا پاؤں کی طرف تھوکنا چاہنے اور اگر اس کا موقع نہ ہو تو اس طرح اپنے کپڑے میں تھوک لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9366]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، و إسنادہ قوي ، خ : 416 ، م : 550
الحكم: حدیث صحیح ، و إسنادہ قوي ، خ : 416 ، م : 550
حدیث نمبر: 9367 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُوشِكُ أَنْ يَحْسِرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَيَقْتَتِلَ عَلَيْهِ النَّاسُ، حَتَّى يُقْتَلَ مِنْ كُلِّ عَشَرَةٍ تِسْعَةٌ وَيَبْقَى وَاحِدٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے قریب دریائے فرات کا پانی ہٹ کر اس میں سے سونے کا ایک پہاڑ برآمد ہوگا لوگ اس کی خاطر آپس میں لڑنا شروع کردیں گے حتی کہ ہر دس میں سے نو آدمی مارے جائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9367]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 7119 ، م : 2894
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 7119 ، م : 2894
حدیث نمبر: 9368 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَلْيَضْطَجِعْ عَلَى جَنْبِهِ الْأَيْمَنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز فجر سے پہلے دو سنتیں پڑھ لے تو پہلو پر لیٹ جایا کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9368]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح
الحكم: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 9369 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ ، رَجُلٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَلْعَقْ أَصَابِعَهُ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ ذَلِكَ الْبَرَكَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھاچکے تو اسے اپنی انگلیاں چاٹ لینی چاہئیں کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ ان میں سے کس میں برکت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9369]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، م : 2035 ، وھذا إ سناد ضعیف لإبھام الراوي
الحكم: حدیث صحیح ، م : 2035 ، وھذا إ سناد ضعیف لإبھام الراوي
حدیث نمبر: 9370 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جانور سے مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کنویں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9370]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 6913 ، م : 1710
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 6913 ، م : 1710
حدیث نمبر: 9371 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ هَذَا، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ:" الرَّكَائِزُ".
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 2355 ، م : 1710
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 2355 ، م : 1710
حدیث نمبر: 9372 مسند احمد
عَفَّانُ ، الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَبِي ، مُعَاوِيَةَ الْمَهْرِيِّ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ مُعَاوِيَةَ الْمَهْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : يَا مَهْرِيُّ،" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَكَسْبِ الْمُومِسَةِ، وَكَسْبِ الْحَجَّامِ، وَكَسْبِ عَسِيبِ الْفَحْلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سینگی لگانے والے کی اور جسم فروشی کی کمائی اور کتے کی قیمت سے اور سانڈ کی جفتی پر دی جانے والی قیمت سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9372]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، خ : 2283 ، وھذا إسناد ضعیف لجھالة الفضل و جھالة حال المھري
الحكم: حدیث صحیح ، خ : 2283 ، وھذا إسناد ضعیف لجھالة الفضل و جھالة حال المھري
حدیث نمبر: 9373 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، الْعَبَّاسُ الْجُرَيْرِيُّ ، أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الْجُرَيْرِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ ، يَقُولُ: تَضَيَّفْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ سَبْعًا، قَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ تَمْرًا، فَأَصَابَنِي سَبْعُ تَمَرَاتٍ، إِحْدَاهُنَّ حَشَفَةٌ، فَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَعْجَبَ إِلَيَّ مِنْهَا، شَدَّتْ مَضَاغِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوعثمان نہدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سات دن تک حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے یہاں مہمان رہا میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ کھجوریں تقسیم فرمائیں مجھے سات کھجوریں ملیں جن میں سے ایک کھجور گدر بھی تھی میرے نزدیک وہ ان سب میں سے زیادہ عمدہ تھی کہ اسے سختی سے مجھے چبانا پڑ رہا تھا (اور میرے مسوڑھے اور دانت حرکت کر رہے تھے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9373]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 5411
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 5411
حدیث نمبر: 9374 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَزَالُ الْعَبْدُ فِي صَلَاةٍ، مَا كَانَ فِي مُصَلَّاهُ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ، تَقُولُ الْمَلَائِكَةُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، حَتَّى يَنْصَرِفَ، أَوْ يُحْدِثَ" ، قُلْتُ: وَمَا يُحْدِثُ؟ قَالَ:" يَفْسُو، أَوْ يَضْرِطُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انسان جب تک نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے اسے نماز ہی میں شمار کیا جاتا ہے اور فرشتے اس کے لئے اس وقت تک دعاء مغفرت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہتا ہے اور کہتے رہتے ہیں کہ اے اللہ اس کی بخشش فرما اے اللہ اس پر رحم فرما جب تک وہ بےوضو نہ ہوجائے۔ راوی نے " بےوضو " ہونے کا مطلب پوچھا تو فرمایا آہستہ سے یا زور سے ہوا خارج ہوجائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9374]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 477 ، م : 649
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 477 ، م : 649
حدیث نمبر: 9375 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ مُرْدًا بِيضًا جِعَادًا مُكَحَّلِينَ، أَبْنَاءَ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ، عَلَى خَلْقِ آدَمَ سَبْعِينَ ذِرَاعًا فِي سَبْعَةِ أَذْرُعٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنتی جنت میں اس طرح داخل ہوں گے کہ ان کے جسم بالوں سے خالی ہوں گے وہ نوعمر ہوں گے گورے چٹے رنگ والے ہوں گے گھنگھریالے بال سرمگیں آنکھوں والے ہوں گے ٣٣ سال کی عمر ہوگی حضرت آدم علیہ السلام کی شکل و صورت پر ساٹھ گز لمبے اور سات گز چوڑے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9375]
حکم دارالسلام
حسن بطرقه و شواھدہ دون قوله : في سبعة أذرع، فقد تفرد بھا علي ، وھو ضعیف
الحكم: حسن بطرقه و شواھدہ دون قوله : في سبعة أذرع، فقد تفرد بھا علي ، وھو ضعیف
حدیث نمبر: 9376 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " صُومُوا الْهِلَالَ لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چاند کو دیکھ کر روزہ رکھا کرو، چاند دیکھ کر عید منایا کرو، اگر چاند نظر نہ آئے اور آسمان پر ابر چھایا ہو تو تیس کی گنتی پوری کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9376]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 1909 ، م : 1081
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 1909 ، م : 1081
حدیث نمبر: 9377 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسلمان ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9377]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح خ : 5396 ، م : 2062
الحكم: إسنادہ صحیح خ : 5396 ، م : 2062
حدیث نمبر: 9378 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ بْنِ شُبْرُمَةَ الضَّبِّيُّ ، أَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ بْنِ شُبْرُمَةَ الضَّبِّيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ؟، قَالَ: " أَنْ تَتَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ، تَخْشَى الْفَقْرَ، وَتَأْمُلُ الْبَقَاءَ، وَلَا تَمَهَّلْ، حَتَّى إِذَا بَلَغَتَ الْحُلْقُومَ، قُلْتَ: لِفُلَانٍ كَذَا، وَلِفُلَانٍ كَذَا، وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک کہ آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کس موقع کے صدقہ کا ثواب سب سے زیادہ ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سب سے افضل صدقہ یہ ہے کہ تم تندرستی کی حالت میں صدقہ کرو جبکہ مال کی حرص تمہارے اندر موجود ہو۔ تمہیں فقروفاقہ کا اندیشہ ہو۔ اور تمہیں اپنی زندگی باقی رہنے کی امید ہو اس وقت سے زیادہ صدقہ خیرات میں تاخیر نہ کرو کہ جب روح حلق میں پہنچ جائے تو تم یہ کہنے لگو کہ فلاں کو اتنا دے دیا جائے اور فلاں کو اتنا دے دیا جائے حالانکہ وہ تو فلاں (ورثاء) کا ہوچکا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9378]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح خ : 1419 ، م : 1032
الحكم: إسنادہ صحیح خ : 1419 ، م : 1032
حدیث نمبر: 9379 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كَانَتْ شَجَرَةٌ تُؤْذِي أَهْلَ الطَّرِيقِ فَقَطَعَهَا رَجُلٌ فَنَحَّاهَا، فَدَخَلَ الْجَنَّةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک درخت کی وجہ سے راستے میں گذرنے والوں کو تکلیف ہوتی تھی، ایک آدمی نے اسے کاٹ کر راستے سے ہٹا کر ایک طرف کردیا اور اس کی برکت سے اسے جنت میں داخلہ نصیب ہوگیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9379]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، م : 1914
الحكم: إسنادہ صحیح ، م : 1914