بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 94 از 194
حدیث نمبر: 8980 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي بْنَ زِيَادٍ ، عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ ، أَبُو زُرْعَةَ وَاسْمُهُ هَرِمُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي بْنَ زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ وَاسْمُهُ هَرِمُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْتَدَبَ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ، لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا جِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَإِيمَانًا بِي، وَتَصْدِيقًا بِرُسُلِي، أَنَّهُ عَلَيَّ ضَامِنٌ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ أُرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ، نَائِلًا مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے متعلق اپنے ذمے یہ بات لے رکھی ہے جو اس کے راستے میں نکلے کہ اگر وہ صرف میرے راستے میں جہاد کی نیت سے نکلا ہے اور مجھ پر ایمان رکھتے ہوئے اور میرے پیغمبر کی تصدیق کرتے ہوئے روانہ ہوا ہے تو مجھ پر یہ ذمہ داری ہے کہ اسے جنت میں داخل کروں یا اس حال میں اس کے ٹھکانے کی طرف واپس پہنچا دوں کہ وہ ثواب یا مال غنیمت کو حاصل کرچکا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8980]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 36، م: 1876
الحكم: إسناده صحيح، خ: 36، م: 1876
حدیث نمبر: 8981 مسند احمد
قَالَ: قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مَكْلُومٍ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ كُلِمَ، وَكَلْمُهُ يَدْمَى، اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ، وَالرِّيحُ رِيحُ مِسْكٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں جس کسی شخص کو کوئی زخم لگتا ہے وہ قیامت کے دن اسی طرح تروتازہ ہوگا جیسے زخم لگنے کے دن تھا اس کا رنگ تو خون کی طرح ہوگا لیکن اس کی بو مشک کی طرح عمدہ ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8981]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5533، م: 1876
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5533، م: 1876
حدیث نمبر: 8982 مسند احمد
وَبِإِسْنَادِهِ، قَالَ: وَبِإِسْنَادِهِ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي مَا قَعَدْتُ خِلَافَ سَرِيَّةٍ تَغْدُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَكِنْ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ، وَلَا يَجِدُونَ سَعَةً فَيَتْبَعُونِي، وَلَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا بَعْدِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر میں سمجھتا کہ مسلمان مشقت میں نہیں پڑیں تو میں اللہ کے راستہ میں نکلنے والے کسی سریہ سے کبھی پیچھے نہ رہتا لیکن میں اتنی سواریاں نہیں پاتا جن پر انہیں سوار کرسکوں اور وہ اتنی وسعت نہیں پاتے کہ وہ میری پیروی کرسکیں اور ان کی دلی رضامندی نہ ہو اور وہ میرے بعد جہاد میں شرکت کرنے سے پیچھے ہٹنے لگیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8982]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 36، م: 1876
الحكم: إسناده صحيح، خ: 36، م: 1876
حدیث نمبر: 8983 مسند احمد
قَالَ: قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوَدِدْتُ أَنْ أَغْزُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأُقْتَلَ، ثُمَّ أَغْزُوَ فَأُقْتَلَ، ثُمَّ أَغْزُوَ فَأُقْتَلَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے مجھے اس بات کی تمنا ہے کہ اللہ کے راستہ میں جہاد کروں اور جام شہادت نوش کرلوں پھر زندگی عطا ہو اور جہاد میں شرکت کروں اور شہید ہوجاؤں پھر جہاد میں شرکت کروں اور شہید ہوجاؤں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8983]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 36، م: 1876
الحكم: إسناده صحيح، خ: 36، م: 1876
حدیث نمبر: 8984 مسند احمد
عَفَّانٌ ، حَمَّادٌ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى، وَتَنْفِي الْخَبَثَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے ایسی بستی میں جانے کا حکم ملا جو دوسری تمام بستیوں کو کھاجائے گی اور وہ لوگوں کے گناہوں کو ایسے دور کردے گی جیسے لوہار کی بھٹی لوہے کے میل کچیل کو دور کردیتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8984]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1871، م: 1382
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1871، م: 1382
حدیث نمبر: 8985 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الْعَلَاءُ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قِيلَ لَهُ: مَا الْغِيبَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ"، قَالَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ، أَيْ رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" إِنْ كَانَ فِي أَخِيكَ مَا تَقُولُ فَقَدْ اغْتَبْتَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدْ بَهَتَّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے صحابہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غیبت کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا ذکر ایک ایسے عیب کے ساتھ کرو جو اس کو ناپسند ہو کسی نے پوچھا کہ یہ بتایئے اگر میرے بھائی میں وہ عیب موجود ہو جو اس کی غیر موجودگی میں بیان کروں تو کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تمہارا بیان کیا ہوا عیب اس میں موجود ہو تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر تمہارا بیان کیا ہوا عیب اس میں موجود نہ ہو تو تم نے اس پر بہتان باندھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8985]
حکم دارالسلام
احديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2589
الحكم: احديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2589
حدیث نمبر: 8986 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَبِي عُثْمَانَ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، كَانَ فِي سَفَرٍ، فَلَمَّا نَزَلُوا أَرْسَلُوا إِلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي لِيَطْعَمَ، فَقَالَ لِلرُّسُولِ: إِنِّي صَائِمٌ، فَلَمَّا وُضِعَ الطَّعَامُ وَكَادُوا يَفْرُغُونَ جَاءَ فَجَعَلَ يَأْكُلُ، فَنَظَرَ الْقَوْمُ إِلَى رَسُولِهِمْ , فَقَالَ: مَا تَنْظُرُونَ؟ قَدْ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ صَائِمٌ! فَقَالَ: أَبُو هُرَيْرَةَ صَدَقَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ، وَثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، صَوْمُ الدَّهْرِ" فَقَدْ صُمْتُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَأَنَا مُفْطِرٌ فِي تَخْفِيفِ اللَّهِ، وَصَائِمٌ فِي تَضْعِيفِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوعثمان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سفر میں تھے لوگوں نے ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کھانا کھانے کے لئے بلا بھیجا وہ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے انہوں نے قاصد سے کہلا بھیجا کہ میں روزے سے ہوں چنانچہ لوگوں نے کھانا کھانا شروع کردیا جب وہ کھانے سے فارغ ہونے کے قریب ہوئے تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی آگئے اور کھانا شروع کردیا لوگ قاصد کی طرف دیکھنے لگے اس نے کہا مجھے کیوں گھورتے ہو انہوں نے خود ہی مجھ سے کہا تھا کہ میں روزے سے ہوں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ سچ کہہ رہا ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ماہ رمضان کے مکمل روزے اور ہر مہینے میں تین روزے رکھ لینا پورے سال روزہ رکھنے کے برابر ہے چنانچہ میں ہر مہینے تین روزے رکھتا ہوں میں جب روزہ کھولتاہوں (نہیں رکھتا) تو اللہ کی تخفیف کے سائے تلے اور رکھتا ہوں تو اللہ کی تضعیف (ہر عمل کا بدلہ دگنا کرنے) کے سائے تلے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8986]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8987 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِ لُوطٍ: لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ سورة هود آية 80، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ"، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَمَا بُعِثَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ إِلَّا فِي ثَرْوَةٍ مِنْ قَوْمِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوان لی بکم قوۃ۔۔۔۔ کی تفسیر میں فرمایا حضرت لوط علیہ السلام کسی مضبوط ستون " کا سہارا ڈھونڈ رہے تھے ان کے بعد اللہ نے جو نبی بھی مبعوث فرمایا انہیں اپنی قوم کے صاحب ثروت لوگوں میں سے بنایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8987]
حکم دارالسلام
صحيح دون قوله: « فما بعث ۔۔۔ الخ » ، فهذا إسناد حسن، خ: 3387، م: 151
الحكم: صحيح دون قوله: « فما بعث ۔۔۔ الخ » ، فهذا إسناد حسن، خ: 3387، م: 151
حدیث نمبر: 8988 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنْ رَضِيَتْ فَلَهَا رِضَاهَا، وَإِنْ كَرِهَتْ فَلَا جَوَازَ عَلَيْهَا" يَعْنِي الْيَتِيمَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا (کنواری بالغ لڑکی سے اس کے نکاح کے متعلق اجازت لی جائے گی) اگر وہ خاموش رہے تو یہ اس کی جانب سے اجازت تصور ہوگی اور اگر وہ انکار کردے تو اس پر زبردستی کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8988]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8989 مسند احمد
عَفَّانُ ، مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ ، شَيْخٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ صَاحِبُ الزِّيَادِيِّ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ:" مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَمُوتُ، يَشْهَدُ لَهُ ثَلَاثَةُ أَبْيَاتٍ مِنْ جِيرَانِهِ الْأَدْنَيْنَ بِخَيْرٍ، إِلَّا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: قَدْ قَبِلْتُ شَهَادَةَ عِبَادِي عَلَى مَا عَلِمُوا، وَغَفَرْتُ لَهُ مَا أَعْلَمُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ارشادباری تعالیٰ ہے جو بندہ مسلم فوت ہوجائے اور اس کے تین قریبی پڑوسی اس کے لئے خیر کی گواہی دے دیں اس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندوں کی شہادت ان کے علم کے مطابق قبول کرلی اور اپنے علم کے مطابق جو جانتا تھا اسے پوشیدہ کر کے اسے معاف کردیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8989]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإبهام الشيخ البصري
الحكم: إسناده ضعيف لإبهام الشيخ البصري
حدیث نمبر: 8990 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، سُهَيْلٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ:" لَأَدْفَعَنَّ الرَّايَةَ إِلَى رَجُلٍ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيْهِ"، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: فَمَا أَحْبَبْتُ الْإِمَارَةَ قَبْلَ يَوْمَئِذٍ، فَتَطَاوَلْتُ لَهَا وَاسْتَشْرَفْتُ، رَجَاءَ أَنْ يَدْفَعَهَا إِلَيَّ، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ دَعَا عَلِيًّا عَلَيْهِ السَّلَام فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ، فَقَالَ:" قَاتِلْ وَلَا تَلْتَفِتْ حَتَّى يُفْتَحَ عَلَيْكَ"، فَسَارَ قَرِيبًا، ثُمَّ نَادَى: يَا رَسُولَ اللَّهِ، علَى ماَ أُقَاتِلُ؟ قَالَ: " حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ، فَقَدْ مَنَعُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن فرمایا میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوگا اور اسی کے ہاتھ پر یہ قلعہ فتح ہوگا حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے اس سے قبل کبھی امارت کا شوق نہیں رہا میں نے اس امید پر کہ شاید نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جھنڈا میرے حوالے کردیں اپنی گردن بلند کرنا اور جھانکنا شروع کردیا لیکن جب اگلا دن ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو بلا کر وہ جھنڈا ان کے حوالے کردیا اور فرمایا ان سے قتال کرو اور جب تک فتح نہ ہوجائے کسی طرف توجہ نہ کرو۔ چنانچہ وہ روانہ ہوگئے ابھی کچھ ہی دورگئے تھے کہ پکار کر پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان سے کب تک قتال کروں؟ فرمایا یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دینے لگیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں جب وہ ایسا کرلیں تو انہوں نے اپنے جان مال کو مجھ سے محفوظ کرلیا سوائے اس کلمے کے حق کے اور ان کا حساب اللہ کے ذمے ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8990]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2405
الحكم: إسناده صحيح، م: 2405
حدیث نمبر: 8991 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبُ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَشِّرُ أَصْحَابَهُ: " قَدْ جَاءَكُمْ شَهْرُ رَمَضَانَ، شَهْرٌ مُبَارَكٌ افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ، يُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَيُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَحِيمِ، وَتُغَلُّ فِيهِ الشَّيَاطِينُ، فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ، مَنْ حُرِمَ خَيْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب ماہ رمضان قریب آتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے کہ تمہارے پاس رمضان کا مہینہ آ رہا ہے یہ مبارک مہینہ ہے اللہ نے تم پر اس کے روزے فرض کئے ہیں اس مبارک مہینے میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔ اس مہینے میں ایک رات ایسی بھی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے جو شخص اس کی خیر و برکت سے محروم رہا وہ مکمل طور پر محروم ہی رہا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8991]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وفيه أبو قلابة، ورايته عن أبي هريرة مرسلة
الحكم: حديث صحيح، وفيه أبو قلابة، ورايته عن أبي هريرة مرسلة
حدیث نمبر: 8992 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، أَيُّوبُ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8992]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وإسناده كسابقه
الحكم: حديث صحيح، وإسناده كسابقه
حدیث نمبر: 8993 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي الْحَكَمِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَا سَبَقَ إِلَّا فِي خُفٍّ أَوْ حَافِرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا صرف اونٹ یا گھوڑے میں ریس لگائی جاسکتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8993]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وإسناده ضعيف من أجل أبي الحكم
الحكم: حديث صحيح، وإسناده ضعيف من أجل أبي الحكم
حدیث نمبر: 8994 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَنْبَأَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: جُرَيْجٌ، كَانَ يَتَعَبَّدُ فِي صَوْمَعَتِهِ، فَأَتَتْهُ أُمُّهُ ذَاتَ يَوْمٍ فَنَادَتْهُ، فَقَالَتْ: أَيْ جُرَيْجُ، أَيْ بُنَيَّ، أَشْرِفْ عَلَيَّ أُكَلِّمْكَ، أَنَا أُمُّكَ، أَشْرِفْ عَلَيَّ، قَالَ: أَيْ رَبِّ، صَلَاتِي وَأُمِّي! فَأَقْبَلَ عَلَى صَلَاتِهِ، ثُمَّ عَادَتْ، فَنَادَتْهُ مِرَارًا، فَقَالَتْ: أَيْ جُرَيْجُ، أَيْ بُنَيَّ، أَشْرِفْ عَلَيَّ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ، صَلَاتِي وَأُمِّي! فَأَقْبَلَ عَلَى صَلَاتِهِ، فَقَالَتْ: اللَّهُمَّ لَا تُمِتْهُ حَتَّى تُرِيَهُ الْمُومِسَةَ، وَكَانَتْ رَاعِيَةً تَرْعَى غَنَمًا لِأَهْلِهَا، ثُمَّ تَأْوِي إِلَى ظِلِّ صَوْمَعَتِهِ، فَأَصَابَتْ فَاحِشَةً، فَحَمَلَتْ، فأُخِذَتْ، وَكَانَ مَنْ زَنَى مِنْهُمْ قُتِلَ قَالُوا: مِمَّنْ؟ قَالَتْ: مِنْ جُرَيْجٍ صَاحِبِ الصَّوْمَعَةِ، فَجَاءُوا بِالْفُئُوسِ وَالْمُرُورِ، فَقَالُوا: أَيْ جُرَيْجُ، أَيْ مُرَاءٍ، ثُمَّ قَالُوا انْزِلْ، فَأَبَى، وَأَقْبَلَ عَلَى صَلَاتِهِ يُصَلِّي، فَأَخَذُوا فِي هَدْمِ صَوْمَعَتِهِ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ نَزَلَ، فَجَعَلُوا فِي عُنُقِهِ وَعُنُقِهَا حَبْلًا، وَجَعَلُوا يَطُوفُونَ بِهِمَا فِي النَّاسِ، فَوَضَعَ أُصْبُعَهُ عَلَى بَطْنِهَا، فَقَالَ: أَيْ غُلَامُ، مَنْ أَبُوكَ؟ قَالَ: أَبِي فُلَانٌ رَاعِي الضَّأْنِ، فَقَبَّلُوهُ، وَقَالُوا: إِنْ شِئْتَ بَنَيْنَا لَكَ الصَّوْمَعَةَ مِنْ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ، قَالَ: أَعِيدُوهَا كَمَا كَانَتْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل میں ایک شخص کا نام جریج تھا یہ ایک مرتبہ نماز پڑھ رہا تھا کہ اس کی ماں نے آکر آواز دی جریج بیٹا! میری طرف جھانک کر دیکھو میں تمہاری ماں ہوں تم سے بات کرنے کے لئے آئی ہوں یہ اپنے دل میں کہنے لگا کہ والدہ کو جواب دوں یا نماز پڑھوں آخرکار ماں کو جواب نہیں دیا کئی مرتبہ اسی طرح ہوا بالاآخر ماں نے (بددعا دی اور) کہا الٰہی جب تک اس کا بدکار عورتوں سے واسطہ نہ پڑجائے اس پر موت نہ بھیجنا۔ ادھر ایک باندی اپنے آقا کی بکریاں چراتی تھی اور اس کے گرجے کے نیچے آکر پناہ لیتی تھی اس نے بدکاری کی اور امید سے ہوگئی لوگوں نے اسے پکڑ لیا اس وقت رواج یہ تھا کہ زانی کو قتل کردیا جائے لوگوں نے اس سے پوچھا کہ یہ بچہ کس کا ہے؟ اس نے کہا کہ یہ لڑکا جریج کا ہے لوگ کلہاڑیاں اور رسیاں لے کر جریج کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اے ریاکار جریج نیچے اتر جریج نے نیچے اترنے سے انکار کردیا اور نماز پڑھنے لگا لوگوں نے اس کا گرجا ڈھانا شروع کردیا جس پر وہ نیچے اتر آیا لوگ جریج اور عورت کی گردن میں رسی ڈال کر انہیں لوگوں میں گھمانے لگے اس نے بچے کے پیٹ پر انگلی رکھ کر اس سے پوچھا اے لڑکے تیرا باپ کون ہے؟ لڑکا بولا فلاں چرواہا لوگ (یہ صداقت دیکھ کر) کہنے لگے ہم تیرا عبادت خانہ سونے چاندی کا بنائے دیتے ہیں جریج نے جواب دیا جیسا تھا ویسا ہی بنادو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8994]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3436، م: 2550
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3436، م: 2550
حدیث نمبر: 8995 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَتَادَةَ ، النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِذَا أَفْلَسَ الرَّجُلُ، فَوَجَدَ غَرِيمُهُ مَتَاعَهُ عِنْدَ الْمُفْلِسِ بِعَيْنِهِ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس آدمی کو مفلس قرار دے دیا گیا ہو اور کسی شخص کو اس کے پاس بعینہ اپنا مال مل جائے تو دوسروں کی نسبت وہ اس مال کا زیادہ حقدار ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8995]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2402، م: 1559
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2402، م: 1559
حدیث نمبر: 8996 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، أَبِي ، قَتَادَةَ ، خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي رَافِعٍ يَعْنِي الصَّائِغَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ يَعْنِي الصَّائِغَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لِلْمُؤْمِنِ زَوْجَتَانِ، يُرَى مُخُّ سُوقِهِمَا، مِنْ فَوْقِ ثِيَابِهِمَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اہل جنت میں سے ہر ایک کی دو دو بیویاں ہوں گی جن کی پنڈلیوں کا گودا کپڑوں کے باہر سے نظر آجائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8996]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3254، م: 2834
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3254، م: 2834
حدیث نمبر: 8997 مسند احمد
عَلِيٌّ ، مُعَاذٌ ، أَبِي ، قَتَادَةَ ، النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ اطَّلَعَ فِي بَيْتِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ، فَفَقَئُوا عَيْنَهُ، فَلَا دِيَةَ لَهُ وَلَا قِصَاصَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی آدمی اجازت کے بغیر کسی کے گھر میں جھانک کر دیکھے اور وہ اسے کنکری دے مارے جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو اس کی کوئی دیت اور قصاص نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8997]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6902، م: 2158
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6902، م: 2158
حدیث نمبر: 8998 مسند احمد
عَلِيٌّ ، مُعَاذٌ ، أَبِي ، قَتَادَةَ ، زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جَرَسٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس قافلے کے ساتھ فرشتے نہیں رہتے جس میں کتا یا گھنٹیاں ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8998]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2113
الحكم: إسناده صحيح، م: 2113
حدیث نمبر: 8999 مسند احمد
عَلِيٌّ ، أَبُو صَفْوَانَ ، يُونُسُ ، ابنِ شِهَابٍ ، سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمَدِينَةِ: " لَتَتْرُكَنَّهَا عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ، مُذَلَّلَةً لِلْعَوَافِي" يَعْنِي السِّبَاعَ وَالطَّيْرَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگ مدینہ منورہ کو بہترین حالت میں ہونے کے باوجود ایک وقت میں آکر چھوڑ دیں گے اور وہاں صرف درندے اور پرندے رہ جائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8999]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1874، م: 1389
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1874، م: 1389