بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 17 از 194
حدیث نمبر: 7439 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أَبِي صَالِحٍ ، وَأَبِي رَزِينٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
قَالَ: وَقَالَ وَكِيعٌ : عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، وَأَبِي رَزِينٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَرْفَعُهُ:" ثَلَاثًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7439]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله.
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله.
حدیث نمبر: 7440 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" حَتَّى يَغْسِلَهَا مَرَّةً، أَوْ مَرَّتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے ایک یا دو مرتبہ ہاتھ دھونے کے حکم کے ساتھ بھی ایک دوسری سند سے مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7440]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله.
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله.
حدیث نمبر: 7441 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَافِيَةُ رَأْسِ أَحَدِكُمْ حَبْلٌ فِيهِ ثَلَاثُ عُقَدٍ، فَإِذَا اسْتَيْقَظَ، فَذَكَرَ اللَّهَ، انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِذَا قَامَ فَتَوَضَّأَ، انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، انْحَلَّتْ عُقَدُهُ كُلُّهَا" قَالَ: فَيُصْبِحُ نَشِيطًا طَيِّبَ النَّفْسِ، قَدْ أَصَابَ خَيْرًا، وَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ، أَصْبَحَ كَسْلَانَ خَبِيثَ النَّفْسِ، لَمْ يُصِبْ خَيْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا شیطان تم میں سے کسی ایک کے سر کے جوڑ کے پاس تین گرہیں لگاتا ہے ہر گرہ پر وہ یہ کہتا ہے کہ رات بڑی لمبی ہے آرام سے سوجا اگر بندہ بیدار ہو کر اللہ کا ذکر کرلے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے وضو کرلے تو دو گرہیں کھل جاتی ہیں اور نماز پڑھ لے تو ساری گرہیں کھل جاتی ہیں اور اس کی صبح اس حال میں ہوتی ہے کہ اس کا دل مطمئن اور وہ چست ہوتا ہے ورنہ وہ اس حال میں صبح کرتا ہے کہ اس کا دل گندہ اور وہ خود سست ہوتا ہے۔ اور اسے کوئی خیر حاصل نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7441]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1142، م: 776.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1142، م: 776.
حدیث نمبر: 7442 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمْ اللَّهُ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ: رَجُلٌ عَلَى فَضْلِ مَاءٍ بِالْفَلَاةِ، يَمْنَعُهُ مِنَ ابْنِ السَّبِيلِ، وَرَجُلٌ بَايَعَ الْإِمَامَ، لَا يُبَايِعُهُ إِلَّا لِدُنْيَا، فَإِنْ أَعْطَاهُ مِنْهَا وَفَى لَهُ، وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ لَمْ يَفِ لَهُ"، قَالَ:" وَرَجُلٌ بَايَعَ رَجُلًا سِلْعَةً بَعْدَ الْعَصْرِ، فَحَلَفَ لَهُ بِاللَّهِ لَأَخَذَهَا بِكَذَا وَكَذَا، فَصَدَّقَهُ وَهُوَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین قسم کے آدمیوں سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہم کلام ہوگا نہ ان پر نظر کرم فرمائے گا اور نہ ان کا تزکیہ فرمائے گا بلکہ ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا ایک تو وہ آدمی جس کے پاس صحرائی علاقے میں زائد پانی موجود ہو اور وہ کسی مسافر کو دینے سے انکار کردے۔ دوسرا وہ آدمی جو کسی حکمران بیعت کرے اور اس کا مقصد صرف دنیا ہو اگر مل جائے تو وہ اس حکمران کا وفادار رہے اور نہ ملے تو اپنی بیعت کا وعدہ پورا نہ کرے اور تیسرا وہ آدمی جو نماز عصر کے بعد کوئی سامان تجارت فروخت کرے اور خریدار کے سامنے اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ اس نے وہ چیز اتنی قیمت میں لی ہے اور خریدار اسے سچا سمجھ لے حالانکہ وہ اپنی بات میں سچا نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7442]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2379، م: 108.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2379، م: 108.
حدیث نمبر: 7443 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشُ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ . وَابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ مَوْلُودٌ يُولَدُ، إِلَّا عَلَى هَذِهِ الْمِلَّةِ". وَقَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً:" عَلَى الْمِلَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر بچہ فطرت سلیمہ پر ہی پیدا ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7443]
حکم دارالسلام
أسانيده صحيحة، خ: 1358، م: 2658.
الحكم: أسانيده صحيحة، خ: 1358، م: 2658.
حدیث نمبر: 7444 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ، أَبِي ، أَبِي حَمْزَةَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حدثنا عبدُ الله، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يُولَدُ مَوْلُودٌ إِلَّا عَلَى هَذِهِ الْمِلَّةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، وَيُنَصِّرَانِهِ"، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر بچہ فطرت سلیمہ پر ہی پیدا ہوتا ہے۔ بعد میں اس کے والدین اسے یہودی، عیسائی بنا دیتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7444]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1358، م: 2658.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1358، م: 2658.
حدیث نمبر: 7445 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا عَلَى هَذِهِ الْمِلَّةِ، حَتَّى يُبِينَ عَنْهُ لِسَانُهُ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، أَوْ يُنَصِّرَانِهِ، أَوْ يُشَرِّكَانِهِ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ مَا كَانَ قَبْلَ ذَلِكَ؟ قَالَ:" اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہر بچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے بعد میں اس کے والدین اسے یہودی، عیسائی یا مشرک بنا دیتے ہیں؟ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس سے پہلے (مرجانے والے کے ساتھ) کیا ہوگا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ زیادہ جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا عمل کرتے؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7445]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1358، م: 2658.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1358، م: 2658.
حدیث نمبر: 7446 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا نَفَعَنِي مَالٌ قَطُّ، مَا نَفَعَنِي مَالُ أَبِي بَكْرٍ"، فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ: هَلْ أَنَا وَمَالِي إِلَّا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟!".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ابوبکر کے مال نے مجھے جتنا نفع پہنچایا ہے اتنا کسی کے مال نے نفع نہیں پہنچایا یہ سن کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ روپڑے اور عرض کیا یا رسول اللہ! میں اور میرا مال آپ ہی کا تو ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7446]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7447 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، وابن رزين ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، وابن رزين ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ، فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ، وَإِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ، فَلَا يَمْشِي فِي نَعْلِهِ الْأُخْرَى، حَتَّى يُصْلِحَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ مار دے تو اسے چاہئے کہ اس برتن کو سات مرتبہ دھوئے۔ اور جب تم میں سے کسی کی جوتی کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ صرف دوسری جوتی پہن کر نہ چلے یہاں تک کہ اسے ٹھیک کرلے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7447]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5856، 172، م: 2097، 279.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5856، 172، م: 2097، 279.
حدیث نمبر: 7448 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ، فَحَدِيدَتُهُ بِيَدِهِ يَجَأُ بِهَا فِي بَطْنِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِسُمٍّ، فَسُمُّهُ بِيَدِهِ يَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا، وَمَنْ تَرَدَّى مِنْ جَبَلٍ، فَقَتَلَ نَفْسَهُ، فَهُوَ يُرَدَّى فِي نَارِ جَهَنَّمَ، خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے آپ کو کسی تیز دھار آلے سے قتل کرلے (خودکشی کرلے) اس کا وہ تیز دھار آلہ اس کے ہاتھ میں ہوگا جسے وہ جہنم کے اندر اپنے پیٹ میں گھونپتا ہوگا اور وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا جو شخص زہر پی کر خود کشی کرلے اس کا وہ زہر اس کے ہاتھ میں ہوگا جسے وہ جہنم کے اندر پھانکتا ہوگا اور وہاں ہمیشہ ہمیش رہے گا اور جو شخص اپنے آپ کو پہاڑ سے نیچے گرا کر خود کشی کرلے وہ جہنم میں بھی پہاڑ سے نیچے گرتا رہے گا اور وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7448]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1365، م: 109.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1365، م: 109.
حدیث نمبر: 7449 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْكُمْ، وَلَا تَنْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَكُمْ، فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ لَا تَزْدَرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ". قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ:" عَلَيْكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (دنیا کے معاملے میں) اپنے سے نیچے والے کو دیکھا کرو اپنے سے اوپر والے کو مت دیکھا کرو اس طرح تم اللہ کی نعمتوں کو حقیر سمجھنے سے بچ جاؤگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7449]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6490، م: 2963.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6490، م: 2963.
حدیث نمبر: 7450 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَوْ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ هُوَ شَكَّ، يعنى الأعمش، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِلَّهِ عُتَقَاءَ فِي كُلِّ يَوْمٍ، وَلَيْلَةٍ لِكُلِّ عَبْدٍ مِنْهُمْ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر دن اور ہر رات اللہ کی طرف سے کچھ لوگوں کو جہنم سے خلاصی نصیب ہوتی ہے اور ان میں سے ہر بندے کی ایک دعا ایسی ضرور ہوتی ہے جو قبول ہوجائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7450]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7451 مسند احمد
رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيد ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَهُوَ أَخُو إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ، وَكَانَ يُفَضَّلُ عَلَى أَخِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيد ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ، فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ وَرَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ دَخَلَ عَلَيْهِ رَمَضَانُ، فَانْسَلَخَ قَبْلَ أَنْ يُغْفَرَ لَهُ، وَرَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ أَدْرَكَ عِنْدَهُ أَبَوَاهُ الْكِبَرَ، فَلَمْ يُدْخِلَاهُ الْجَنَّةَ". قَالَ رِبْعِيٌّ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَدْ قَالَ:" أَوْ أَحَدُهُمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس آدمی کی ناک خاک آلودہ ہو جس کے سامنے میرا تذکرہ کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے وہ آدمی ہلاک ہو جس کے پاس رمضان کا مہینہ آیا لیکن اس کی بخشش ہونے سے قبل ہی وہ ختم ہوگیا اور وہ شخص برباد ہو جس کے والدین پر اس کی موجودگی میں بڑھاپا آیا اور وہ اسے جنت میں داخل نہ کرا سکیں۔ (خدمت کرکے انہیں خوش نہ کرنے کی وجہ سے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7451]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2551.
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2551.
حدیث نمبر: 7452 مسند احمد
رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ، فَلْيُوتِرْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے سے کوئی شخص پتھروں سے استنجاء کرے تو اسے طاق عدد اختیار کرنا چاہیے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7452]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 162، م: 237.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 162، م: 237.
حدیث نمبر: 7453 مسند احمد
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمَطْلُ ظُلْمُ الْغَنِيِّ، وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ، فَلْيَتْبَعْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قرض کی ادائیگی میں مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تم میں سے کسی کو کسی مالدار کے حوالے کردیا جائے تو اسے اس ہی کا پیچھا کرنا چاہیے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7453]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2288، م: 1564.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2288، م: 1564.
حدیث نمبر: 7454 مسند احمد
رِبْعِيٌّ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، أَبُو الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رِبْعِيٌّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً، قَالَ:" ارْكَبْهَا وَيْحَكَ"، قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ! قَالَ:" ارْكَبْهَا وَيْحَكَ"، قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ:" ارْكَبْهَا وَيْحَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ایک اونٹ کو ہانک کر لئے جا رہا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اس پر سوار ہوجاؤ اس نے عرض کیا کہ یہ قربانی کا جانور ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اس پر سوار ہوجاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7454]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1689، م: 1322.
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1689، م: 1322.
حدیث نمبر: 7455 مسند احمد
رِبْعِيٌّ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رِبْعِيٌّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ صَدَقَةٌ فِي فَرَسِهِ وَلَا عَبْدِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی نے فرمایا مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7455]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1465، م: 982.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1465، م: 982.
حدیث نمبر: 7456 مسند احمد
رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَنَحْنُ غِلْمَانٌ تَجِيءُ الْأَعْرَابُ، نقُولُ: يَا أَعْرَابِيُّ، نَحْنُ نَبِيعُ لَكَ، قَالَ: دَعُوهُ فَلْيَبِعْ سِلْعَتَهُ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مسلم بن ابی مسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اس وقت دیکھا جب ہم بچے تھے دیہاتی لوگ آتے تو ہم ان سے کہتے ہیں کہ اے دیہاتی ہم تمہارا سامان بیچ دیتے ہیں؟ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے کہ اسے چھوڑ دو اسے اپنا سامان خود فروخت کرنا چاہے اور فرماتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی شہری کو کسی دیہاتی کا سامان تجارت فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7456]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2140، م: 1413.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2140، م: 1413.
حدیث نمبر: 7457 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، وأبى سلمة ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، وأبى سلمة ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا چوپائے کا زخم رائیگاں ہے کنوئیں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7457]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6913، م: 1710، ابن جريج ثقة لكنه يدلس، وقد صرح هنا بالسماع.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6913، م: 1710، ابن جريج ثقة لكنه يدلس، وقد صرح هنا بالسماع.
حدیث نمبر: 7458 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ صَلَّى رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَلَمْ تَفُتْهُ، وَمَنْ صَلَّى رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَلَمْ تَفُتْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص طلوع آفتاب سے قبل فجر کی نماز کی ایک رکعت پڑھ لے اس کی وہ نماز فوت نہیں ہوئی اور جو شخص غروب آفتاب سے قبل نماز عصر کی ایک رکعت پڑھ لے اس کی وہ نماز بھی فوت نہیں ہوئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7458]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 556، م: 608.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 556، م: 608.