بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 92 از 194
حدیث نمبر: 8940 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيُنْضِي شَيَاطِينَهُ كَمَا يُنْضِي أَحَدُكُمْ بَعِيرَهُ فِي السَّفَرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مومن اپنے پیچھے لگنے والے شیاطین کو اس طرح دبلا کردیتا ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص دوران سفر اپنے اونٹ کو دبلا کردیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8940]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ
الحكم: إسناده ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 8941 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَصْحَابَ الصُّوَرِ الَّذِينَ يَعْمَلُونَهَا، يُعَذَّبُونَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن مصوروں کو جو تصویر سازی کرتے ہیں عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ تم نے جن کی تخلیق کی تھی انہیں زندگی بھی دو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8941]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7558، م: 2111
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7558، م: 2111
حدیث نمبر: 8942 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، ثَابِتِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْفِقْهُ يَمَانٍ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ، أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ، فَهُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً، وَأَلْيَنُ قُلُوبًا، وَالْكُفْرُ قِبَلَ الْمَشْرِقِ، وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَهْلِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ وَالْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ، وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں یہ لوگ نرم دل ہیں اور ایمان حکمت اور فقہ اہل یمن میں بہت عمدہ ہے اور کفر مشرقی جانب ہے غرور تکبر گھوڑوں اور اونٹوں کے مالکوں میں ہوتا ہے اور سکون و اطمینان بکریوں کے مالکوں میں ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8942]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 4388، م: 52، وهذا إسناد ضعيف ، ثابت الأنصاري لا يكاد يعرف
الحكم: حديث صحيح، خ: 4388، م: 52، وهذا إسناد ضعيف ، ثابت الأنصاري لا يكاد يعرف
حدیث نمبر: 8943 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بن سعيد ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي يُونُسَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بن سعيد ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَحْسَنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَأَنَّ الشَّمْسَ تَجْرِي فِي وَجْهِهِ، وَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَسْرَعَ فِي مَشْيِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَأَنَّمَا الْأَرْضُ تُطْوَى لَهُ، إِنَّا لَنُجْهِدُ أَنْفُسَنَا، وَإِنَّهُ لَغَيْرُ مُكْتَرِثٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ حسین کسی کو نہیں دیکھا ایسا محسوس ہوتا تھا کہ گویا سورج آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیشانی پر چمک رہا ہے اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ کسی کو تیز رفتار نہیں دیکھا ایسا محسوس ہوتا تھا کہ گویا زمین ان کے لئے لپیٹ دی گئی ہے ہم اپنے آپ کو بڑی مشقت میں ڈال کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ چل پاتے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر مشقت کا کوئی اثر نظر نہ آتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8943]
حکم دارالسلام
حديث حسن، ابن لهيعة وإن كان سيئ الحفظ، قد توبع
الحكم: حديث حسن، ابن لهيعة وإن كان سيئ الحفظ، قد توبع
حدیث نمبر: 8944 مسند احمد
قُتَيْبَةُ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الْأَسْوَدِ ، يَحْيَى بْنِ النَّضْرِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " حُفَّتْ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ، وَحُفَّتْ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جہنم کو پسندیدہ خواہشات سے اور جنت کو ناپسندیدہ (مشکل) امور سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8944]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6487، م: 2823
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6487، م: 2823
حدیث نمبر: 8945 مسند احمد
قُتَيْبَةُ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، دَرَّاجٍ ، ابْنِ حُجَيْرَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ دَرَّاجٍ ، عَنْ ابْنِ حُجَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " سَافِرُوا تَصِحُّوا، وَاغْزُوا تَسْتَغْنُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سفر کیا کرو صحت مند رہوگے اور جہاد کیا کرو مستغنی رہا کرو گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8945]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ ودرّاج، ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ ودرّاج، ضعيف
حدیث نمبر: 8946 مسند احمد
قُتَيْبَةُ ، لَيْثٌ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " قَلْبُ الشَّيْخِ شَابٌّ فِي حُبِّ اثْنَيْنِ طُولِ الْحَيَاةِ، وَكَثْرَةِ الْمَالِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بوڑھے آدمی میں دو چیزوں کی محبت جوان ہوجاتی ہے لمبی زندگانی اور مال و دولت کی فراوانی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8946]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 6420، م: 1046
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 6420، م: 1046
حدیث نمبر: 8947 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلَاءَ ، مُحْصِنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلَاءَ ، عَنْ مُحْصِنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ رَاحَ فَوَجَدَ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا، أَعْطَاهُ اللَّهُ مِثْلَ أَجْرِ مَنْ صَلَّاهَا أَوْ حَضَرَهَا، لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح کرے پھر نکل کر مسجد پہنچے لیکن وہاں پہنچنے پر معلوم ہو کہ لوگ تو نماز پڑھ چکے اللہ تعالیٰ اسے باجماعت نماز کا ثواب عطاء فرمائیں گے اور پڑھنے والوں کے ثواب میں کسی قسم کی کمی نہ ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8947]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8948 مسند احمد
قُتَيْبَةُ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، أَبِي طَلْحَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَيُّمَا ضَيْفٍ نَزَلَ بِقَوْمٍ، فَأَصْبَحَ الضَّيْفُ مَحْرُومًا، فَلَهُ أَنْ يَأْخُذَ بِقَدْرِ قِرَاهُ، وَلَا حَرَجَ عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی قوم کے یہاں مہمان بنے لیکن صبح تک محروم ہی رہے تو وہ مہمان نوازی کی حد تک کسی سے بھی کچھ لے کر کھا سکتا ہے اور اس پر کوئی گناہ نہ ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8948]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8949 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، أَبُو زُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو زُبَيْدٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسَتَيْنِ وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ، فَأَمَّا اللُّبْسَتَانِ: فَإِنَّهُ يَلْتَحِفُ فِي ثَوْبِهِ، وَيُخْرِجُ شِقَّهُ، أَوْ يَحْتَبِي بِثَوْبٍ وَاحِدٍ، فَيُفْضِي بِفَرْجِهِ إِلَى السَّمَاءِ، وَأَمَّا الْبَيْعَتَانِ: فَالْمُلَامَسَةُ أَلْقِ إِلَيَّ، وَأُلْقِ إِلَيْكَ، وَأَلْقِ الْحَجَرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو قسم کی خریدو فروخت اور دو قسم کے لباس سے منع فرمایا ہے لباس تو یہ ہے کہ انسان ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھے اور اس کی شرمگاہ پر ذرہ سا بھی کپڑا نہ ہو اور یہ کہ نماز پڑھتے وقت انسان اپنے ازار میں لپٹ کر نماز پڑھے اور دو قسم کی بیع سے منع فرمایا ہے (١) ملامسہ یعنی مشتری (خریدنے والا) یوں کہے کہ تم میری طرف کوئی چیز ڈال دو یا میں تمہاری طرف ڈال دیتاہوں اور (٢) پتھر پھینکنے کی بیع۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8949]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2145، م: 1511
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2145، م: 1511
حدیث نمبر: 8950 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَبُو زُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو زُبَيْدٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَرَّتْ بِهِ جِنَازَةٌ سَأَلَهُمْ: " أعَلَيْهِ دَيْنٌ؟" فَإِنْ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" تَرَكَ وَفَاءً؟" فَإِنْ قَالُوا: نَعَمْ، صَلَّى عَلَيْهِ، وَإِلَّا قَالَ:" صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جب کوئی جنازہ لایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پہلے یہ سوال پوچھتے کہ اس شخص پر کوئی قرض ہے؟ اگر لوگ کہتے جی ہاں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پوچھتے کہ اسے اداء کرنے کے لئے اس نے کچھ مال چھوڑا ہے؟ اگر لوگ کہتے جی ہاں! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھادیتے اور اگر وہ ناں میں جواب دیتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما دیتے کہ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود ہی پڑھ لو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8950]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6731، م: 1619
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6731، م: 1619
حدیث نمبر: 8951 مسند احمد
سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدٍ الزُّهْرِيُّ ، عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدٍ الزُّهْرِيُّ ، وَكَانَ مِنَ الْقَارَةِ، وَهُوَ حَلِيفٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُمْ كَانُوا يَحْمِلُونَ اللَّبِنَ لِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ، قَالَ: فَاسْتَقْبَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَارِضٌ لَبِنَةً عَلَى بَطْنِهِ، فَظَنَنْتُ أَنَّهَا قَدْ شُقَّتْ عَلَيْهِ، قُلْتُ: نَاوِلْنِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" خُذْ غَيْرَهَا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، فَإِنَّهُ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ تعمیر مسجد کے لئے اینٹیں اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اس کام میں ان کے ساتھ شریک تھے اسی اثناء میں میرا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آمنا سامنا ہوگیا تو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے پیٹ پر اینٹ رکھی ہوئی ہے میں سمجھا کہ شاید اٹھانے میں دشواری ہو رہی ہے اس لئے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ مجھے دے دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ابوہریرہ دوسری اینٹ لے لو کیونکہ اصل زندگانی تو آخرت کی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8951]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، ابن عبدالله لم يسمع من أبي هريرة
الحكم: إسناده ضعيف، ابن عبدالله لم يسمع من أبي هريرة
حدیث نمبر: 8952 مسند احمد
سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الْأَخْلَاقِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے مبعوث ہی اس لئے کیا گیا ہے کہ عمدہ اخلاق کی تکمیل کردوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8952]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد قوي
الحكم: صحيح، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 8953 مسند احمد
سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ ، يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " عَلَيْكَ السَّمْعَ وَالطَّاعَةَ فِي عُسْرِكَ وَيُسْرِكَ، وَمَنْشَطِكَ وَمَكْرَهِكَ، وَأَثَرَةٍ عَلَيْكَ" ، وَقَالَ قُتَيْبَةُ: الطَّاعَةُ، وَلَمْ يَقُلْ: السَّمْعَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تنگی اور آسانی نشاط اور سستی اور دوسروں کو تم پر ترجیح دیئے جانے کی صورت میں بہرحال تم امیر کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا اپنے اوپر لازم کرلو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8953]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1836
الحكم: إسناده صحيح، م: 1836
حدیث نمبر: 8954 مسند احمد
سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عِيسَى بْنِ نُمَيْلَةَ الْفَزَارِيِّ ، أَبِيهِ ، شَيْخٌ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ نُمَيْلَةَ الْفَزَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَسُئِلَ عَنْ أَكْلِ الْقُنْفُذِ، فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا سورة الأنعام آية 145 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَقَالَ شَيْخٌ عِنْدَه: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " خَبِيثٌ مِنَ الْخَبَائِثِ" ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِنْ كَانَ قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ كَمَا قَالَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نمیلہ فزاری کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا کہ کسی نے ان سے سیہ (ایک خاص قسم کا جانور) کے متعلق پوچھا انہوں نے اس کے سامنے یہ آیت تلاوت فرما دی " قل لا اجد فیما اوحی الی محرما " الی آخرہ، تو ایک بزرگ کہنے لگے کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے اس کا تذکرہ ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ گندی چیزوں میں سے ایک ہے اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر واقعی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ بات فرمائی ہے تو اسی طرح ہے جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8954]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة عيسى وأبيه، ولإبهام الراوي عن أبي هريرة
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة عيسى وأبيه، ولإبهام الراوي عن أبي هريرة
حدیث نمبر: 8955 مسند احمد
سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ، فَلَا يَبْرُكْ كَمَا يَبْرُكُ الْجَمَلُ، وَلْيَضَعْ يَدَيْهِ ثُمَّ رُكْبَتَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص سجدہ کرے تو اونٹ کی طرح نہ بیٹھے بلکہ پہلے ہاتھ زمین پر رکھے پھر گھٹنے رکھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8955]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 8956 مسند احمد
سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَّأَ إِنْسَانًا، قَالَ: " بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، وَبَارَكَ عَلَيْكَ، وَجَمَعَ بَيْنَكُمَا عَلَى خَيْرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی آدمی کو شادی کی مبارک باد دیتے تو یوں فرماتے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے مبارک فرمائے اللہ تم پر اپنی برکتوں کا نزول فرمائے اور تم دونوں کو بہترین طریقے پر جمع رکھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8956]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 8957 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَفَّأَ الْإِنْسَانَ إِذَا تَزَوَّجَ، قَالَ: " بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، وَبَارَكَ عَلَيْكَ، وَجَمَعَ بَيْنَكُمَا فِي خَيْرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی آدمی کو شادی کی مبارک باد دیتے تو یوں فرماتے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے مبارک فرمائے اللہ تم پر اپنی برکتوں کا نزول فرمائے اور تم دونوں کو بہترین طریقے پر جمع رکھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8957]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 8958 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَبِيهِ ، قَتَادَةَ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَلْقَهُ، كَتَبَ: غَلَبَتْ أَوْ سَبَقَتْ رَحْمَتِي غَضَبِي، فَهُوَ عِنْدَهُ عَلَى الْعَرْشِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے جب مخلوق کو وجود عطاء کرنے کا فیصلہ فرمایا تو اس کتاب میں جو اس کے پاس عرش پر ہے لکھا کہ میری رحمت میرے غضب پر سبقت رکھتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8958]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7554، م: 2751
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7554، م: 2751
حدیث نمبر: 8959 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ، فَأُرِيدُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفَاعَةً لِأُمَّتِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کی ایک دعاء ضرور قبول ہوتی ہے اور میں نے اپنی وہ دعاء قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے رکھ چھوڑی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8959]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7474، م: 198
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7474، م: 198