سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عِيسَى بْنِ نُمَيْلَةَ الْفَزَارِيِّ ، أَبِيهِ ، شَيْخٌ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ نُمَيْلَةَ الْفَزَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَسُئِلَ عَنْ أَكْلِ الْقُنْفُذِ، فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا سورة الأنعام آية 145 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَقَالَ شَيْخٌ عِنْدَه: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " خَبِيثٌ مِنَ الْخَبَائِثِ" ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِنْ كَانَ قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ كَمَا قَالَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نمیلہ فزاری کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا کہ کسی نے ان سے سیہ (ایک خاص قسم کا جانور) کے متعلق پوچھا انہوں نے اس کے سامنے یہ آیت تلاوت فرما دی " قل لا اجد فیما اوحی الی محرما " الی آخرہ، تو ایک بزرگ کہنے لگے کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے اس کا تذکرہ ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ گندی چیزوں میں سے ایک ہے اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر واقعی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ بات فرمائی ہے تو اسی طرح ہے جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8954]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة عيسى وأبيه، ولإبهام الراوي عن أبي هريرة
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة عيسى وأبيه، ولإبهام الراوي عن أبي هريرة