بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 1 از 194
حدیث نمبر: 7119 مسند احمد
هُشَيْمُ بْنُ بَشِير ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانُ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِير ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ِِِيَمِينُكَ عَلَى مَا يُصَدِّقُكَ بِهِ صَاحِبُكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہاری قسم کا وہی مفہوم معتبر ہو گا جس کی تصدیق تمہارا ساتھی (قسم لینے والا) بھی کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7119]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، م: 1653
الحكم: إسناده حسن، م: 1653
حدیث نمبر: 7120 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، مَنْصُورٌ ، وَهِشَامٌ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، وَهِشَامٌ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَالْعَجْمَاءُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کنوئیں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے، کان اور صحرا میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے، اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7120]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2355، م: 1710
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2355، م: 1710
حدیث نمبر: 7121 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، الزُّهْرِيّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنِ الزُّهْرِيّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: دَخَلَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَآهُ يُقَبِّلُ حَسَنًا أَوْ حُسَيْنًا، فَقَالَ لَهُ: أتُقَبِّلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟! لَقَدْ وُلِدَ لِي عَشَرَةٌ، مَا قَبَّلْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عیینہ بن حصن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرات حسنین رضی اللہ عنہما میں سے کسی ایک کو چوم رہے ہیں، وہ کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! آپ انہیں چوم رہے ہیں، جبکہ میرے یہاں تو دس بیٹے ہیں، لیکن میں نے ان میں سے کسی کو نہیں چوما؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو کسی پر رحم نہیں کرتا، اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7121]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5997، م: 2318
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5997، م: 2318
حدیث نمبر: 7122 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، شُعْبَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: مَرَّ بِقَوْمٍ يَتوضَّئونَ، فَقَالَ: أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن زیاد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو وضو کر رہے تھے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ وضو خوب اچھی طرح کرو کیونکہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جہنم کی آگ سے ایڑیوں کے لئے ہلاکت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7122]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 165، م: 242
الحكم: إسناده صحيح، خ: 165، م: 242
حدیث نمبر: 7123 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، أَبُو بِشْرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِي بُعِثْتُ فِيهِمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَقَالَ الثَّالِثَةَ أَمْ لَا، ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ يُحِبُّونَ السَّمَانَةَ، يَشْهَدُونَ قَبْلَ أَنْ يُسْتَشْهَدُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت کا بہترین زمانہ وہ ہے جس میں مجھے مبعوث کیا گیا ہے، پھر اس کے بعد والوں کا زمانہ، پھر اس کے بعد والوں کا زمانہ سب سے بہتر ہے۔ (اب یہ بات اللہ زیادہ جانتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تیسری مرتبہ بھی بعد والوں کا ذکر فرمایا یا نہیں) اس کے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جو موٹاپے کو پسند کرے گی اور گواہی کے مطالبے سے قبل ہی گواہی دینے کے لئے تیار ہو گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7123]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2534
الحكم: إسناده صحيح، م: 2534
حدیث نمبر: 7124 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيز ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيز ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" مَنْ وَجَدَ عَيْنَ مَالِهِ عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَفْلَسَ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِمَّنْ سِوَاهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس آدمی کو مفلس قرار دیا گیا ہو اور کسی شخص کو اس کے پاس بعینہ اپنا مال مل جائے تو دوسروں کی نسبت وہ اس مال کا زیادہ حقدار ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7124]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2404، م: 1559
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2404، م: 1559
حدیث نمبر: 7125 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، زَكَرِيَّا ، الشَّعْبِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَتِ الدَّابَّةُ مَرْهُونَةً، فَعَلَى الْمُرْتَهِنِ عَلَفُهَا، وَلَبَنُ الدَّرِّ يُشْرَبُ، وَعَلَى الَّذِي يَشْرَبُهُ نَفَقَتُهُ، وَيَرْكَبُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر جانور کو بطور رہن کے کسی کے پاس رکھوایا جائے تو اس کا چارہ مرتہن کے ذمے واجب ہو گا اور دودھ دینے والے جانور کا دودھ پیا جا سکتا ہے، البتہ جو شخص اس کا دودھ پیے گا اس کا خرچہ بھی اس کے ذمے ہو گا اور اس پر سواری بھی کی جا سکتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7125]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2512، هشيم صرح بالتحديث عندالدارقطني، وقد توبع .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2512، هشيم صرح بالتحديث عندالدارقطني، وقد توبع .
حدیث نمبر: 7126 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، خَالِدٌ ، يُوسُفَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ يُوسُفَ ، أَوْ عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا اخْتَلَفُوا فِي الطَّرِيقِ، رُفِعَ مِنْ بَيْنِهِمْ سَبْعَةُ أَذْرُع".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب راستے کی پیمائش میں لوگوں کے درمیان اختلاف ہو جائے تو اسے سات گز پر اتفاق کر کے دور کر لیا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7126]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2473، م: 1613
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2473، م: 1613
حدیث نمبر: 7127 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، أَبُو الْجُهَيْمِ الْوَاسِطِيُّ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجُهَيْمِ الْوَاسِطِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" امْرُؤُ الْقَيْسِ صَاحِبُ لِوَاءِ الشُّعَرَاءِ إِلَى النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: امرؤالقیس جہنم میں جانے والے شعراء کا علم بردار ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7127]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا، أبو الجهم الواسطي مجهول، واهي الحديث .
الحكم: إسناده ضعيف جدا، أبو الجهم الواسطي مجهول، واهي الحديث .
حدیث نمبر: 7128 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، سَيَّارٍ ، جَبْرِ بْنِ عَبِيدَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ سَيَّارٍ ، عَنْ جَبْرِ بْنِ عَبِيدَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" وَعَدَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ الْهِنْدِ، فَإِنْ اسْتُشْهِدْتُ، كُنْتُ مِنْ خَيْرِ الشُّهَدَاءِ، وَإِنْ رَجَعْتُ، فَأَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْمُحَرَّرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم سے غزوہ ہند کا وعدہ فرما رکھا ہے، اگر میں اس جہاد میں شرکت کر سکا اور شہید ہو گیا تو میرا شمار بہترین شہداء میں ہو گا اور اگر میں زندہ واپس آ گیا تو میں نار جہنم سے آزاد ابوہریرہ ہوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7128]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، جبر مجهول .
الحكم: إسناده ضعيف، جبر مجهول .
حدیث نمبر: 7129 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ ، أَبِي هُرَيْرةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الصَّلَاةُ الْمَكْتُوبَةُ إِلَى الصَّلَاةِ الَّتِي بَعْدَهَا كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا"، قَالَ" وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ، وَالشَّهْرُ إِلَى الشَّهْرِ يَعْنِي رَمَضَانَ إِلَى رَمَضَانَ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا"، قَالَ: ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ:" إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ"، قَالَ: فَعَرَفْتُ أَنَّ ذَلِكَ الْأَمْرَ حَدَثَ:" إِلَّا مِنَ الْإِشْرَاكِ بِاللَّهِ، وَنَكْثِ الصَّفْقَةِ، وَتَرْكِ السُّنَّةِ"، قَالَ: أَمَّا نَكْثُ الصَّفْقَةِ: أَنْ تُبَايِعَ رَجُلًا ثُمَّ تُخَالِفَ إِلَيْهِ تُقَاتِلُهُ بِسَيْفِكَ، وَأَمَّا تَرْكُ السُّنَّةِ، قال: قلتُ: يا رسولَ الله، أما الإشراكُ بالله فقد عَرَفْناهُ، فما نَكْثُ الصَّفْقةِ؟ قال:" فأن تُبايعَ رجلاً ثم تخالِفَ إليهِ تُقاتِلُه بسَيْفكَ، وأَما تَرْكُ السُّنةِ، فََالْخُرُوجُ مِنَ الْجَمَاعَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک فرض نماز اگلی نماز تک درمیان میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہوتی ہے، اسی طرح ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک، ایک مہینہ (رمضان) دوسرے مہینے (رمضان) تک بھی درمیان میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا: سوائے تین گناہوں کے۔ میں سمجھ گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ جملہ کسی خاص وجہ کی بناء پر فرمایا ہے۔ (بہرحال! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا) سوائے اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے، معاملہ توڑنے کے اور سنت چھوڑنے کے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کے ساتھ شرک کرنے کا مطلب تو ہم سمجھ گئے، معاملہ توڑنے سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: معاملہ توڑنے سے مراد یہ ہے کہ تم کسی شخص کے ہاتھ پر بیعت کرو، پھر اس کی مخالفت پر کمربستہ ہو جاؤ اور تلوار پکڑ کر اس سے قتال شروع کر دو اور سنت چھوڑنے سے مراد جماعت مسلمین سے خروج ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7129]
حکم دارالسلام
صحيح دون قوله: «إلا من ثلاث ....» إلى آخر الحديث، أخرجه مسلم: 233 مختصرا، وإسناده ضعيف لجهالة الرجل الراوي عن أبى هريرة، كما روى يزيد بن هارون وسيأتي بزيادة رجل مبهم بين عبدالله وبين أبى هريرة، وقال الدارقطني : قول يزيد أشبه بالصواب من قول هشيم .
الحكم: صحيح دون قوله: «إلا من ثلاث ....» إلى آخر الحديث، أخرجه مسلم: 233 مختصرا، وإسناده ضعيف لجهالة الرجل الراوي عن أبى هريرة، كما روى يزيد بن هارون وسيأتي بزيادة رجل مبهم بين عبدالله وبين أبى هريرة، وقال ا
حدیث نمبر: 7130 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، هِشَامٍ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَة
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" شِدَّةُ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے اس لئے نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7130]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 533، م: 615
الحكم: إسناده صحيح، خ: 533، م: 615
حدیث نمبر: 7131 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ، وَالثَّيِّبُ تُشَاوَرُ"، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحِي! قَال:" سُكُوتُهَا رِضَاهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کنواری لڑکی سے نکاح کی اجازت لی جائے اور شوہر دیدہ عورت سے مشورہ کیا جائے۔ کسی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کنواری لڑکی شرماتی ہے (تو اس سے اجازت کیسے حاصل کی جائے؟) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کی خاموشی ہی اس کی رضامندی کی علامت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7131]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6970، م: 1419
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6970، م: 1419
حدیث نمبر: 7132 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أخبرنا عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُصُّوا الشَّوَارِبَ، وَأَعْفُوا اللِّحَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مونچھیں خوب تراشا کرو اور داڑھی کو خوب بڑھایا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7132]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 8593، م: 259
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 8593، م: 259
حدیث نمبر: 7133 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَعْنِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَا قَالَ:" أَنَّهُ نَهَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، أَوْ عَلَى خَالَتِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7133]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5110، م: 1408
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5110، م: 1408
حدیث نمبر: 7134 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيَّامُ التَّشْرِيقِ أَيَّامُ طُعْمٍ، وَذِكْرِ اللَّهِ". قَالَ مَرَّةً:" أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایام تشریق کھانے پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے دن ہیں۔ ایک دوسری سند میں صرف کھانے پینے کا ذکر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7134]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 7135 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، الزُّهْرِيَّ ، سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ يَعْنِي الزُّهْرِيَّ ، فَحَدَّثَنِي سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا عَتِيرَةَ فِي الْإِسْلَامِ، وَلَا فَرَعَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسلام میں ماہ رجب میں قربانی کرنے کی کوئی حیثیت نہیں، اسی طرح جانور کا سب سے پہلا بچہ بتوں کے نام قربان کرنے کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7135]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5474، م: 1976، وهذا إسناد صحيح إن كان هشيم سمعه من الزهري، وإن كان الواسطة بينهما سفيان بن حسين فالإسناد لأجله ضعيف، ومع ذلك فهو متابع .
الحكم: حديث صحيح، خ: 5474، م: 1976، وهذا إسناد صحيح إن كان هشيم سمعه من الزهري، وإن كان الواسطة بينهما سفيان بن حسين فالإسناد لأجله ضعيف، ومع ذلك فهو متابع .
حدیث نمبر: 7136 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، سَيَّارٍ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ سَيَّارٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَجَّ فَلَمْ يَرْفُثْ، وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اس طرح حج کرے کہ اس میں اپنی عورتوں سے بےحجاب بھی نہ ہو اور کوئی گناہ کا کام بھی نہ کرے، وہ اس دن کی کیفیت لے کر اپنے گھر لوٹے گا جس دن اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7136]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1521، م: 1350، هشيم وإن كان مدلسا وقد عنعن، قد تابعه شعبة .
الحكم: حديث صحيح، خ: 1521، م: 1350، هشيم وإن كان مدلسا وقد عنعن، قد تابعه شعبة .
حدیث نمبر: 7137 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، هِشَامٍ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ: أَطُوفُ اللَّيْلَةَ عَلَى مِائَةِ امْرَأَةٍ، تَلِدُ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ غُلَامًا يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَلَمْ يَسْتَثْنِ، فَمَا وَلَدَتْ إِلَّا وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ بِشِقِّ إِنْسَانٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ اسْتَثْنَى، لَوُلِدَ لَهُ مِائَةُ غُلَامٍ كُلُّهُمْ يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا: آج رات ميں عورتوں کے پاس چکر لگاؤں گا، ان میں سے ہر ایک عورت کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہو گا، جو اللہ کے راستہ میں جہاد کرے گا۔ اس موقع پر وہ ان شاء اللہ کہنا بھول گئے، چنانچہ ان کی بیویوں میں سے صرف ایک بیوی کے یہاں ایک نامکمل بچہ پیدا ہوا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:اگر وہ ان شاء اللہ کہہ لیتے تو ان کے یہاں حقیقتاً سو بیٹے پیدا ہوتے اور وہ سب کے سب اللہ کے راستہ میں جہاد کرتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7137]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 7469، م: 1654، لا تضر عنعنة هشيم، فقد تابعه يزيد بن هارون .
الحكم: حديث صحيح، خ: 7469، م: 1654، لا تضر عنعنة هشيم، فقد تابعه يزيد بن هارون .
حدیث نمبر: 7138 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، يُونُسَ ، الْحَسَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ قَالَ هُشَيْمٌ: فَلَا أَدَعُهُنَّ حَتَّى أَمُوتَ: بِالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ، وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَالْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے (میں انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا)۔ سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی، ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی، جمعہ کے دن غسل کرنے کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7138]
حکم دارالسلام
حسن، خ: 1178، م: 721، فيه تدليس الحسن، وقد توبع .
الحكم: حسن، خ: 1178، م: 721، فيه تدليس الحسن، وقد توبع .