بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 34 از 194
حدیث نمبر: 7779 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَعَجَّلَ شَهْرُ رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ، إِلَّا رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صِيَامًا فَيَأْتِي ذَلِكَ عَلَى صِيَامِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ البتہ اس شخص کو اجازت ہے جس کا معمول پہلے سے روزہ رکھنے کا ہو کہ اسے روزہ رکھ لینا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7779]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1914، م: 1082.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1914، م: 1082.
حدیث نمبر: 7780 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنِ أَبِي أُنَيْسٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي أُنَيْسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ، فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ، وَسُلْسِلَتْ الشَّيَاطِينُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب ماہ رمضان شروع ہوتا ہے تو رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں جہنم کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7780]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1899، م: 1079.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1899، م: 1079.
حدیث نمبر: 7781 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، ابْنُ أَبِي أَنَسٍ ، أَبَاهُ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي أَنَسٍ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يقولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ، فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ، وَسُلْسِلَتْ الشَّيَاطِينُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب ماہ رمضان شروع ہوتا ہے تو رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں جہنم کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7781]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ماقبله.
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ماقبله.
حدیث نمبر: 7782 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، ابْنَ شِهَابٍ ، ابْنُ أَبِي أَنَسٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَاه يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: ذُُكِرَ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي أَنَسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَلَمْ يَقُلْ: عَنْ أَبِيهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7782]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه في موضعين: ابن إسحاق لم يسمعه من الزهري، وابن أبي أنس لم يسمعه من أبي هريرة، وانظر ماقبله.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه في موضعين: ابن إسحاق لم يسمعه من الزهري، وابن أبي أنس لم يسمعه من أبي هريرة، وانظر ماقبله.
حدیث نمبر: 7783 مسند احمد
عَتَّابٌ ، عَبْدُ اللَّهِ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنُ أَبِي أَنَسٍ
حَدَّثَنَاه عَتَّابٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي أَنَسٍ ، فَذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7783]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1899، م: 1079.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1899، م: 1079.
حدیث نمبر: 7784 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ ، ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَعَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ :" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ، حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رمضان کے عشرہ اخیرہ میں ہمیشہ اعتکاف فرماتے تھے (اور یہ سلسلہ چلتا رہا) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7784]
حکم دارالسلام
إسناداه صحيحان، خ: 2044.
الحكم: إسناداه صحيحان، خ: 2044.
حدیث نمبر: 7785 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَلَكْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" وَمَا ذَاكَ؟"، قَالَ: وَاقَعْتُ أَهْلِي فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَجِدُ رَقَبَةً؟"، قَالَ: لَا، قَالَ:" أَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟" قَالَ: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" أَفَلَا تُطْعِمُ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟"، قَالَ: لَا أَجِدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرْقٍ وَالْعَرْقُ: الْمِكْتَلُ فِيهِ تَمْرٌ، فقَالَ:" اذْهَبْ فَتَصَدَّقْ بِهَا"، فَقَالَ: عَلَى أَفْقَرَ مِنِّي؟ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنَّا، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" اذْهَبْ بِهِ إِلَى أَهْلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں ہلاک ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تجھے کس چیز نے ہلاک کردیا؟ اس نے کہا کہ میں نے رمضان کے مہینے میں دن کے وقت اپنی بیوی سے جماع کرلیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک غلام آزاد کردو اس نے کہا کہ میرے پاس غلام نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دو مہینوں کے مسلسل روزے رکھ لو اس نے کہا مجھ میں اتنی طاقت نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو اس نے کہا کہ میرے پاس اتنا کہاں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا بیٹھ جاؤ اتنی دیر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کہیں سے ایک بڑا ٹوکرا آیا جس میں کھجوریں تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ لے جاؤ اور اپنی طرف سے ساٹھ مسکینوں کو کھلادو اس نے عرض کیا یا رسول اللہ! مدینہ منورہ کے اس کونے سے لے کر اس کونے تک ہم سے زیادہ ضرورت مند گھرانہ کوئی نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسکرا کر فرمایا جاؤ تم اور تمہارے اہل خانہ ہی اسے کھا لیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7785]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2600، م: 1111.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2600، م: 1111.
حدیث نمبر: 7786 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، وعبدُ الأعلى ، مَعْمَر ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، وعبدُ الأعلى ، عن مَعْمَر ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُوَاصِلُوا"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ تُوَاصِلُ! قَالَ: " إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي"، قَالَ: فَلَمْ يَنْتَهُوا عَنِ الْوِصَالِ، فَوَاصَلَ بِهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَيْنِ وَلَيْلَتَيْنِ، ثُمَّ رَأَوْا الْهِلَالَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ تَأَخَّرَ الْهِلَالُ لَزِدْتُكُمْ" ، كَالْمُنَكِّلِ بِهِمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے مت رکھا کرو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس معاملے میں تمہاری طرح نہیں ہوں میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے لیکن لوگ اس سے باز نہ آئے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے ساتھ دو دن اور دو راتوں تک وصال فرمایا پھر لوگوں کو چاند نظر آگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا اگر چاند ابھی نظر نہ آتا تو میں مزید وصال کرتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7786]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1965، م: 1103.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1965، م: 1103.
حدیث نمبر: 7787 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَغِّبُ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ بِعَزِيمَةٍ، فَيَقُولُ: " مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قیام رمضان کی ترغیب دیتے تھے لیکن پختہ حکم نہیں دیتے تھے اور فرماتے تھے جو شخص ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام کرے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7787]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 37، م: 759.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 37، م: 759.
حدیث نمبر: 7788 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ، إِلَّا الصِّيَامَ، الصِّيَامُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ارشادباری تعالیٰ ہے ابن آدم کا ہر عمل اس کے لئے ہے البتہ روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7788]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151.
حدیث نمبر: 7789 مسند احمد
الزُّهْرِيُّ ، سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ ، وَأَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُسْرِيَ بِهِ:" لَقِيتُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام" فَنَعَتَهُ، قَالَ:" رَجُلٌ، قَالَ: حَسِبْتُهُ قَالَ: مُضْطَرِبٌ، رَجِلُ الرَّأْسِ، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ"، قَالَ:" وَلَقِيتُ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَام"، فَنَعَتَهُ النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" رَبْعَةٌ أَحْمَرُ، كَأَنَّهُ أُخْرِجَ مِنْ دِيمَاسٍ" يَعْنِي حَمَّامًا، قَالَ:" وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام، وَأَنَا أَشْبَهُ وَلَدِهِ بِهِ" قَالَ: " فَأُتِيتُ بِإِنَاءَيْنِ، أَحَدُهُمَا فِيهِ لَبَنٌ، وَفِي الْآخَرِ خَمْرٌ، فَقَالَ لِي: خُذْ أَيَّهُمَا شِئْتَ، فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ فَشَرِبْتُهُ، فَقِيلَ لِي: هُدِيتَ الْفِطْرَةَ، أو أَصَبْتَ الْفِطْرَةَ أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ، غَوَتْ أُمَّتُكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا شب معراج کے موقع پر میری ملاقات حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہوئی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا حلیہ بیان کرتے ہوئے غالباً یہ فرمایا وہ ایک بکھرے بالوں والے آدمی محسوس ہوئے ان کے سر کے بال گھنگریالے تھے اور وہ قبیلہ شنوءہ کے مرد محسوس ہو رہے تھے اس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بھی میری ملاقات ہوئی اور ان کا حلیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ درمیانے قد کے سرخ وسفید رنگ کے آدمی تھے اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ابھی ابھی حمام سے نکل کر آ رہے ہیں اسی طرح میں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بھی زیارت کی میں نے ان کی ساری اولاد میں ان سے سب سے زیادہ مشابہہ ہوں اس کے بعد میرے پاس دو برتن لائے گئے ان میں سے ایک میں دودھ اور دوسرے میں شراب تھی مجھ سے کہا گیا کہ ان میں جیسے چاہیں منتخب کرلیں میں نے دودھ اٹھا کر اسے پی لیا مجھ سے کہا گیا کہ فطرت صحیحہ کی طرف آپ کی رہنمائی ہوئی اگر آپ شراب اٹھا لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہوجاتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7789]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3394، م: 168.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3394، م: 168.
حدیث نمبر: 7790 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، هِشَامَ بْنَ حَسَّانَ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَسَّانَ يُحَدِّثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ شَيْءٍ لَمْ أَدْرِ مَا هُوَ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : اللَّهُ أَكْبَرُ، سَأَلَ عَنْهَا اثْنَانِ، وَهَذَا الثَّالِثُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ رِجَالًا سَتَرْتَفِعُ بِهِمْ الْمَسْأَلَةُ، حَتَّى يَقُولُوا: اللَّهُ خَلَقَ الْخَلْقَ، فَمَنْ خَلَقَهُ؟!" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی نے ان سے کوئی بات پوچھی جس کا مجھے علم نہیں کہ اس نے کیا بات پوچھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس کا سوال سن کر کہنے لگے اللہ اکبر اس چیز کے متعلق مجھ سے دو آدمیوں نے پہلے پوچھا تھا اب یہ تیسرا آدمی ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کچھ لوگوں پر سوال کی عادت غالب آجائے گی حتی کہ وہ یہ سوال بھی کرنے لگیں گے کہ ساری مخلوق کو تو اللہ نے پیدا کیا پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7790]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3276، م: 135.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3276، م: 135.
حدیث نمبر: 7791 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَيْلٌ لِلْعَقِبِ مِنَ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایڑیوں کے لئے جہنم کی آگ سے ہلاکت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7791]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 165، م: 242.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 165، م: 242.
حدیث نمبر: 7792 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَنْزِلُ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ كُلَّ لَيْلَةٍ إِذَا مَضَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ، فَيَقُولُ: " أَنَا الْمَلِكُ، مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ؟" فَلَا يَزَالُ كَذَلِكَ إِلَى الْفَجْرِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب رات کا ایک تہائی حصہ گذر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ میں ہوں حقیقی بادشاہ کون ہے جو تجھ سے مانگے کہ میں اسے عطاء کروں؟ کون ہے جو مجھ سے دعا کرے کہ اسے قبول کرلوں؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے کہ میں اسے بخشش دوں؟ یہ اعلان طلوع فجر تک ہوتا رہتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7792]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1145، م: 758.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1145، م: 758.
حدیث نمبر: 7793 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ مَعْمَرٌ : عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ مَرَّةً، وَأَتُوبُ إِلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں دن میں ستر مرتبہ سے زیادہ توبہ و استغفار کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7793]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6307.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6307.
حدیث نمبر: 7794 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَتَى مِنْكُمْ الصَّلَاةَ فَلْيَأْتِهَا بِوَقَارٍ وَسَكِينَةٍ، فَلْيُصَلِّ مَا أَدْرَكَ، وَلْيَقْضِ مَا سَبَقَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو شخص نماز کے لئے آئے وہ اطمینان اور سکون کے ساتھ آیا کرے جتنی نماز مل جائے وہ پڑھ لیا کرے اور جو رہ جائے اسے مکمل کرلیا کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7794]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات، خ: 908، م: 602.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات، خ: 908، م: 602.
حدیث نمبر: 7795 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، رَبَاحٌ ، عُمَرَ بْنِ حَبِيبٍ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، طَاوُسٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كُلُّ مَوْلُودٍ وُلِدَ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، وَيُنَصِّرَانِهِ، مِثْلَ الْأَنْعَامِ، تُنْتَجُ صِحَاحًا، فَتُكْوَى آذَانُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر بچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے بعد میں اس کے والدین اسے یہودی عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے ایک جانور کے یہاں صحیح سالم جانور پیدا ہوتا ہے پھر تم اس کے کانوں میں سوراخ کردیتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7795]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1358، م: 2658.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1358، م: 2658.
حدیث نمبر: 7796 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، رَبَاحٌ ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَتَكُونُ فِتَنٌ، الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي، وَالْمَاشِي خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي، وَمَنْ وَجَدَ مَلْجَأً أَوْ مَعَاذًا، فَلْيَعُذْ بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عنقریب فتنوں کا دور دورہ ہوگا اس دور میں بیٹھا ہوا شخص کھڑے ہوئے سے بہتر ہوگا کھڑا ہوا شخص چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا اور جسے کوئی ٹھکانہ یا پناہ گاہ مل جائے اسے چاہئے کہ وہ اس کی پناہ میں چلا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7796]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3601، م: 2886.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3601، م: 2886.
حدیث نمبر: 7797 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " تَكُونُ فِتْنَةٌ لَمْ يرَفَعَهُ، قَالَ: مَنْ وَجَدَ مَلْجَأً أَوْ مَعَاذًا، فَلْيَعُذْ بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7797]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح لكنه موقوف، وانظر ماقبله.
الحكم: إسناده صحيح لكنه موقوف، وانظر ماقبله.
حدیث نمبر: 7798 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، رَبَاحٌ ، مَعْمَرٍ ، ابْنِ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْعَصْرِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَهَا" . يُرْوَى ذَلِكَ عَنْ يُرْوَى ذَلِكَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَمَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْفَجْرِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَدْرَكَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بحوالہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص غروب آفتاب سے قبل نماز عصر کی ایک رکعت پالے اس نے وہ نماز پا لی اور جو شخص طلوع آفتاب سے قبل فجر کی نماز کی ایک رکعت پالے اس نے وہ نماز پا لی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7798]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 556، م: 608.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 556، م: 608.