بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 78 از 194
حدیث نمبر: 8660 مسند احمد
حَسَنٌ ، زُهَيْرٌ ، أَبُو بَلْجٍ ، عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَلْجٍ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: قَال لي أَبُو هُرَيْرَةَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ؟" قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، قَالَ:" تَقُولُ: لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابوہریرہ! کیا میں تمہیں ایک ایسا کلمہ نہ سکھاؤں جو جنت کا خزانہ ہے اور عرش کے نیچے سے آیا ہے میں نے کہا ضرور میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یوں کہا کرو لا حول و لا قوۃ الا باللہ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8660]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8661 مسند احمد
حَسَنٌ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا، فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ، مُثِّلَ لَهُ مَالُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ، لَهُ زَبِيبَتَان، يَأْخُذُ بِلِهْزِمَتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا مَالُكَ، أَنَا كَنْزُكَ"، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: لا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ سورة آل عمران آية 180 إِلَى آخِرِ الْآيَةَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو اللہ نے مال و دولت دیا ہو اور وہ اس کا حق ادا نہ کرتا ہو قیامت کے دن اس مال کو گنجا سانپ جس کے منہ میں دو دھاریں ہوں گی " بنادیا جائے گا اور وہ اپنے مالک کا پیچھا کرے گا یہاں تک کہ اس کا ہاتھ اپنے منہ میں لے کر اسے چبانے لگے گا اور اس سے کہے گا کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی وہ لوگ جنہیں اللہ نے اپنا فضل عطاء فرما رکھا ہو اور وہ اس میں بخل کرتے ہیں وہ مت سمجھیں۔۔۔۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8661]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 6958 ، م : 987
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 6958 ، م : 987
حدیث نمبر: 8662 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ ، أَبِي حَصِينٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَعْتَكِفُ فِي كُلِّ رَمَضَانَ عَشْرَةَ أَيَّامٍ، فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، اعْتَكَفَ عِشْرِينَ يَوْمًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر سال رمضان کے آخری دس دنوں کا اعتکاف فرمایا: کرتے تھے اور جس سال آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہوا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیس دن کا اعتکاف کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8662]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 2044
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 2044
حدیث نمبر: 8663 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ الْمَدِينِيُّ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ الْمَدِينِيُّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُصَلُّونَ بِكُمْ، فَإِنْ أَصَابُوا فَلَكُمْ وَلَهُمْ، وَإِنْ أَخْطَئُوا فَلَكُمْ وَعَلَيْهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ تمہیں نماز پڑھاتے ہیں اگر صحیح پڑھاتے ہیں تو تمہیں بھی ثواب ملے گا اور انہیں بھی اور اگر کوئی غلطی کرتے ہیں تو تمہیں ثواب ہوگا اور ان کا گناہ ان کے ذمے ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8663]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 694
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 694
حدیث نمبر: 8664 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا، وَمَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ، فَخُذُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں جس چیز سے روکوں اس سے رک جاؤ اور جس چیز کا حکم دوں اسے اپنی طاقت کے مطابق پورا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8664]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، خ : 7288 ، م : 1337 ، وھذا إسناد فیه شریك ، سیئ الحفظ ، وھو متابع
الحكم: حدیث صحیح ، خ : 7288 ، م : 1337 ، وھذا إسناد فیه شریك ، سیئ الحفظ ، وھو متابع
حدیث نمبر: 8665 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صِنْفَانِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَا أَرَاهُمَا بَعْدُ، نِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ، مَائِلَاتٌ مُمِيلَاتٌ، عَلَى رُءُوسِهِنَّ أمِثاْلُ أَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْمَائِلَةِ، لَا يَرَيْنَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدْنَ رِيحَهَا، وَرِجَالٌ مَعَهُمْ أَسْوَاطٌ كَأَذْنَابِ الْبَقَرِ، يَضْرِبُونَ بِهَا النَّاسَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جہنمیوں کے دو گروہ ایسے ہیں جنہیں میں نے اب تک نہیں دیکھا ایک تو وہ عورتیں جو کپڑے پہنیں گی لیکن پھر بھی برہنہ ہوں گی خود بھی مردوں کی طرف مائل ہوں گی اور انہیں اپنی طرف مائل کریں گی ان کے سروں پر بختی اونٹوں کے کوہانوں کی طرح چیزیں ہوں گی یہ عورتیں جنت میں دیکھ سکیں گی اور نہ ہی اس کی خوشبو پاسکیں گی اور دوسرے وہ آدمی جن کے ہاتھوں میں گائے کی دموں کی طرح لمبے ڈنڈے ہوں گے جن سے وہ لوگوں کو مارتے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8665]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، م : 2128 ، شریك وإن کان سیئ الحفظ ، متابع
الحكم: حدیث صحیح ، م : 2128 ، شریك وإن کان سیئ الحفظ ، متابع
حدیث نمبر: 8666 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، إِبْرَاهِيمَ أَبُو إِسْحَاقَ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِجِدَارٍ أَوْ حَائِطٍ مَائِلٍ، فَأَسْرَعَ الْمَشْيَ، فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ: " إِنِّي أَكْرَهُ مَوْتَ الْفَوَاتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گذر ایک ایسی دیوار کے پاس سے ہوا جو گرنے کے لئے جھک گئی تھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی رفتار تیز کردی کسی نے وجہ پوچھی تو فرمایا: کہ میں ناگہانی موت نہیں مرنا چاہتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8666]
حکم دارالسلام
إسنادہ ضعیف جدا ، إبراھیم متروك ، منکر الحدیث
الحكم: إسنادہ ضعیف جدا ، إبراھیم متروك ، منکر الحدیث
حدیث نمبر: 8667 مسند احمد
أَسْوَدُ ، إِسْرَائِيلُ ، إِبْرَاهِيمَ أَبُو إِسْحَاقَ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ غَمًّا، أَوْ هَمًّا، أَوْ أَنْ أَمُوتَ غَرَقًا، أَوْ أَنْ يَتَخَبَّطَنِي الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ، أَوْ أَنْ أَمُوتَ لَدِيغًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعا فرماتے تھے کہ اللہ! میں غم یا پریشانی کی موت سے یا دریا میں ڈوب کر مرنے سے یا موت کے وقت شیطان کے حملے سے یا کسی زہریلے جانور کے ڈنک سے مرنے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8667]
حکم دارالسلام
إسنادہ ضعیف جدا کسابقه
الحكم: إسنادہ ضعیف جدا کسابقه
حدیث نمبر: 8668 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَتَادَةَ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " الْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَهِيَ شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ، وَالْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عجوہ کھجور جنت کی کھجور ہے اور وہ زہر کی شفاء ہے اور کھنبی بھی " من " (جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا) کا حصہ ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفاء ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8668]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر
حدیث نمبر: 8669 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الْأَسْوَدِ ، أَبِي الْحَلْبَسِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِي الْحَلْبَسِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " الْمَحْرُومُ مَنْ حُرِمَ غَنِيمَةَ كَلْبٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ وہ شخص محروم ہے جو قبیلہ کلب کے مال غنیمت سے محروم رہ گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8669]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة وجهالة أبى الحلبس
الحكم: إسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لهيعة وجهالة أبى الحلبس
حدیث نمبر: 8670 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَوَّارَاتِ الْقُبُورِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قبرستان جا کر (غیرشرعی حرکتیں کرنے والی) خواتین پر لعنت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8670]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8671 مسند احمد
هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا سَرَقَ عَبْدُ أَحَدِكُمْ، فَلْيَبِعْهُ وَلَوْ بِنَشٍّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا غلام چوری کرے تو اسے چاہئے کہ اسے فروخت کردے خواہ معمولی قیمت پر ہی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8671]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عمر ضعيف فيما تفرد به
الحكم: إسناده ضعيف، عمر ضعيف فيما تفرد به
حدیث نمبر: 8672 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " أَعْفُوا اللِّحَى، وَخُذُوا الشَّوَارِبَ، وَغَيِّرُوا شَيْبَكُمْ، وَلَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ وَالنَّصَارَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مونچھیں خوب تراشا کرو اور داڑھی کو خوب بڑھایا کرو اور اپنے بالوں کا سفید رنگ تبدیل کرلیا کرو البتہ یہود و نصاری کی مشابہت اختیار نہ کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8672]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5893، 5899، م: 2103، 259
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5893، 5899، م: 2103، 259
حدیث نمبر: 8673 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي حَصِينٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِأَنْفُسِهِمْ، مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِمَوَالِي عَصَبَتِهِ، وَمَنْ تَرَكَ ضِيَاعًا أَوْ كَلًّا، فَأَنَا وَلِيُّهُ فَلَا دَاعِيَ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں مومنین پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتا ہوں اس لئے جو شخص قرض یا بچے چھوڑ کر جائے وہ میرے ذمے ہے اور جو شخص مال چھوڑ کر جائے وہ اس کے ورثاء کا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8673]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6745، م: 1619
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6745، م: 1619
حدیث نمبر: 8674 مسند احمد
أَسْوَدُ
وقَالَ وقَالَ أَسْوَدُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: وقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ، فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَفْسُقْ، وَلَا يَجْهَلْ، فَإِنْ جُهِلَ عَلَيْهِ، فَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم سے کسی شخص کا کسی دن روزہ ہو تو اسے چاہئے کہ بےتکلف نہ ہو اور جہالت کا مظاہرہ بھی نہ کرے اگر کوئی شخص اس کے سامنے جہالت دکھائے اسے کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8674]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1894، م: 1151
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1894، م: 1151
حدیث نمبر: 8675 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ كُلُّهُمْ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ: عِيَادَةُ الْمَرِيضِ، وَشُهُودُ الْجِنَازَةِ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ إِذَا حَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تین چیزیں ایسی ہیں جو ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا حق ہیں مریض کی بیمار پرسی کرنا نماز جنازہ میں شرکت کرنا اور چھینکنے والے کو جبکہ وہ الحمدللہ کہے چھینک کا جواب (یرحمک اللہ کہہ کر) دینا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8675]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1240، م: 2162
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1240، م: 2162
حدیث نمبر: 8676 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، لَهِيعَةَ بْنِ عُقْبَةَ ، أَبِي الْوَرْدِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ لَهِيعَةَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي الْوَرْدِ ، قَالَ إِسْحَاقُ: الْمَدِيني، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يقوَلَ: " إِيَّاكُمْ وَالْخَيْلَ الْمُنَفِّلَةَ، فَإِنَّهَا إِنْ تَلْقَ تَفِرَّ، وَإِنْ تَغْنَمْ تَغُلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے خوشبو دار گھاس کھا کر موٹے ہونے والے گھوڑوں کے استعمال سے بچو کیونکہ اگر ان کا دشمن سے سامنا ہو تو وہ بھاگ جاتے ہیں اور اگر مال غنیمت مل جائے تو خیانت کرتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8676]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ ، وأبوه مستور
الحكم: إسناده ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ ، وأبوه مستور
حدیث نمبر: 8677 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي يُونُسَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اكْتَحَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَكْتَحِلْ وِتْرًا، وَإِذَا اسْتَجْمَرَ فَلْيَسْتَجْمِرْ وِتْرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص سرمہ لگائے تو طاق عدد میں سلائی اپنی آنکھوں میں پھیرے اور جب پتھروں سے استنجاء کرے تب بھی طاق عدد میں پتھر استعمال کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8677]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 8678 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي يُونُسَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ :" أَنَّ أَعْرَابِيًّا غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، فَأَصَابَهُ مِنْ سَهْمِهَا دِينَارَانِ، فَأَخَذَهُمَا الْأَعْرَابِيُّ فَجَعَلَهُمَا فِي عَبَاءَتِهِ، وَخَيَّطَ عَلَيْهِمَا، وَلَفَّ عَلَيْهِمَا، فَمَاتَ الْأَعْرَابِيُّ، فَوَجَدُوا الدِّينَارَيْنِ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" كَيَّتَان" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نے غزوہ خیبر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ شرکت کی اسے دو دینار اپنے حصے میں سے ملے اس نے انہیں لے کر اپنی عباء میں رکھ کر سی لیاجب وہ فوت ہوا تو لوگوں کو وہ دو دینار ملے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ جہنم کے دو انگارے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8678]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 8679 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، الْأَعْرَجُ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْرَجُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " التَّكْبِيرُ فِي الْعِيدَيْنِ سَبْعًا قَبْلَ الْقِرَاءَةِ، وَخَمْسًا بَعْدَ الْقِرَاءَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عیدین میں سات تکبیرات قرأت سے پہلے (پہلی رکعت میں) ہیں اور پانچ تکبیرات قرأت کے بعد دوسری رکعت میں ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8679]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه