بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 158 از 194
حدیث نمبر: 10260 مسند احمد
سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، فُلَيْحٌ ، هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قََالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَابُ قَوْسٍ، أَوْ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ، خَيْرٌ مِمَّا تَطْلُعُ عَلَيْهِ الشَّمْسُ وَتَغْرُبُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی کی کمان یا کوڑا رکھنے کی جنت میں جو جگہ ہوگی وہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہوگی جن پر سورج طلوع و غروب ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10260]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2793
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2793
حدیث نمبر: 10261 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، فُلَيْحٌ ، الْحَارِثِ بْنِ فُضَيْلٍ الْأَنْصَارِيِّ ، زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ فُضَيْلٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ إِمَامًا عَادِلًا، وَحَكَمًا مُقْسِطًا، فَيَكْسِرُ الصَّلِيبَ، وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ، وَيُرْجِعُ السَّلْمَ، وَيَتَّخِذُ السُّيُوفَ مَنَاجِلَ، وَتَذْهَبُ حُمَةُ كُلِّ ذَاتِ حُمَةٍ، وَتُنْزِلُ السَّمَاءُ رِزْقَهَا، وَتُخْرِجُ الْأَرْضُ بَرَكَتَهَا، حَتَّى يَلْعَبَ الصَّبِيُّ بِالثُّعْبَانِ فَلَا يَضُرُّهُ، وَيُرَاعِي الْغَنَمَ الذِّئْبُ فَلَا يَضُرُّهَا، وَيُرَاعِي الْأَسَدُ الْبَقَرَ فَلَا يَضُرُّهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) عادل امام اور منصف حکمران بن کر نزول فرمائیں گے وہ صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کردیں گے جزیہ موقوف کردیں گے اور تلواریں درانتیاں بنالی جائیں گی ہر ڈنک والی چیز کا ڈنک ختم ہوجائے گا آسمان اپنارزق اتارے گا زمین اپنی برکت اگلے گی حتیٰ کے بچے سانپوں سے کھلیتے ہوں گے اور وہ سانپ انہیں نقصان نہ پہنچائیں گے بھیڑ یا بکری کی حفاظت کرے گا اور اسے نقصان نہ پہنچائے گا اور شیر گائے کی دیکھ بھال کرے گا اور اسے نقصان نہ پہنچائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10261]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين، خ: 2476، م: 155
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين، خ: 2476، م: 155
حدیث نمبر: 10262 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، فُلَيْحٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُصَيْنٍ الْأَسْلَمِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَبِيحَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُصَيْنٍ الْأَسْلَمِيِّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَبِيحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَيْرُ الصَّدَقَةِ الْمَنِيحَةُ تَغْدُو بِأَجْرٍ، وَتَرُوحُ بِأَجْرٍ، مَنِيحَةُ النَّاقَةِ كَعِتَاقَةِ الْأَحْمَرِ، وَمَنِيحَةُ الشَّاةِ كَعِتَاقَةِ الْأَسْوَدِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سب سے بہترین صدقہ وہ دودھ دینے والی بکری ہے جو صبح و شام اجر کا سبب بنتی ہے دودھ دینے والی اونٹنی کا صدقہ کسی رنگت والے کو آزاد کرنے کی طرح ہے اور دودھ دینے والی بکری کا صدقہ کسی سیاہ فام کو آزاد کرنے کی طرح ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10262]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، محمد بن عبدالله مجهول، وعبيد الله مثله، وفليح يضعف فى التفرد، وهذا الحديث تفرد به الإمام أحمد
الحكم: إسناده ضعيف، محمد بن عبدالله مجهول، وعبيد الله مثله، وفليح يضعف فى التفرد، وهذا الحديث تفرد به الإمام أحمد
حدیث نمبر: 10263 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، فُلَيْحٌ ، سَلَمَةَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ سَلَمَةَ الزُّرَقِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ سَلَمَةَ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ وَلَّى وَلَهُ حُصَاصٌ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ، أَقْبَلَ حَتَّى يَخْطِرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ لِيُنْسِيَهُ صَلَاتَهُ، فَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيُسَلِّمْ، ثُمَّ لِيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لئے اذان دی جاتی ہے تو شیطان زور زور سے ہوا خارج کرتے ہوئے بھاگ جاتا ہے تاکہ اذان نہ سن سکے جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو پھر واپس آجاتا ہے اور انسان کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے تاکہ وہ بھول جائے اس لئے جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہوجائے تو سلام پھیر کر بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10263]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، فليح قد خالف فيه من هو أوثق منه، انظر، خ: 608، م: 389
الحكم: إسناده ضعيف، فليح قد خالف فيه من هو أوثق منه، انظر، خ: 608، م: 389
حدیث نمبر: 10264 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، أَبُو عَوَانَةَ ، سُهَيْلٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُهَيْلٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ رَجَعَ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ کر جائے تو واپس آنے کے بعد اس جگہ کا سب سے زیادہ حقدار وہی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10264]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2179
الحكم: إسناده صحيح، م: 2179
حدیث نمبر: 10265 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، فُلَيْحٌ ، عُمَرَ بْنِ الْعَلَاءِ الثَّقَفِيِّ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْعَلَاءِ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَدِينَةُ , وَمَكَّةُ مَحْفُوفَتَانِ بِالْمَلَائِكَةِ، عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَكٌ، لَا يَدْخُلُهَا الدَّجَّالُ وَلَا الطَّاعُونُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ فرشتوں کی حفاظت میں ہیں اور ان کے تمام سوراخوں پر فرشتوں کا پہرہ ہے اس لئے یہاں دجال یا طاعون داخل نہیں ہوسکتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10265]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1880، م: 1379، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمر بن العلاء الثقفي وأبيه
الحكم: حديث صحيح، خ: 1880، م: 1379، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمر بن العلاء الثقفي وأبيه
حدیث نمبر: 10266 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، فُلَيْحٌ ، أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَعْصَعَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَعْصَعَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقُومُ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ مِنْ مَجْلِسِهِ، وَلَكِنْ أَفْسِحُوا يَفْسَحْ اللَّهُ لَكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص دوسرے کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے بلکہ کشادگی پیدا کرلیا کرو اللہ تمہارے لئے کشادگی فرمائے گا۔ اور جو جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا پکانے میں اس کی گرمی اور مشقت سے اس کی کفایت کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائے اگر ایسا نہیں کرسکتا تو ایک لقمہ ہی اسے دے دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10266]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10267 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، فُلَيْحٌ ، سُهَيْلٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي عُبَيْدٍ ، عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَبَّحَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبَّرَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَحَمِدَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، خَلْفَ الصَّلَاةِ، غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ وَلَوْ كَانَ أَكْثَرَ مِنْ زَبَدِ الْبَحْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص ہر نماز کے بعد ٣٣ مرتبہ اللہ اکبر ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ ٣٣ مرتبہ الحمد اللہ پڑھ لیا کرے اور آخر میں یہ کہہ لیا کرے لاالہ اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وہو علی کل شیء قدیر۔ تو اس کے سارے گناہ معاف ہوجائیں گے اگرچہ سمندر کی جھاگ سے بھی زیادہ ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10267]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 597
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 597
حدیث نمبر: 10268 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ ثُمَامَةَ بْنَ أُثَالٍ الْحَنَفِيَّ أَسْلَمَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنْ يُنْطَلَقَ بِهِ إِلَى حَائِطِ أَبِي طَلْحَةَ فَيَغْتَسِلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ حَسُنَ إِسْلَامُ صَاحِبِكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ثمامہ بن اثال حنفی نے اسلام قبول کرلیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر انہیں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے باغ میں غسل کے لئے لے جایا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارے ساتھی کا اسلام خوب عمدہ ہوگیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10268]
حکم دارالسلام
حديث قوي، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله
الحكم: حديث قوي، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله
حدیث نمبر: 10269 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، أَبُو مَعْشَرٍ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَعْرِفَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ أَتَاهُ عَنِّي حَدِيثٌ وَهُوَ مُتَّكِئٌ فِي أَرِيكَتِهِ , فَيَقُولُ: اتْلُوا بِهِ عَلَيَّ قُرْآنًا، مَا جَاءَكُمْ عَنِّي مِنْ خَيْرٍ قُلْتُهُ أَوْ لَمْ أَقُلْهُ، فَأَنَا أَقُوله، وَمَا أَتَاكُمْ مِنْ شَرٍّ، فَإِنِّي لَا أَقُولُ الشَّرَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں تم میں سے کسی ایسے آدمی کے متعلق نہ سنوں کہ اس کے سامنے میری کوئی حدیث بیان کی جائے اور وہ مسہری پر ٹیک لگا کر بیٹھا ہو اور کہے کہ میرے سامنے تو قرآن پڑھو (حدیث نہ پڑھو) تمہارے پاس میرے حوالے سے خیر کی جو بات بھی پہنچے خواہ میں نے کہی ہو یا نہ کہی ہو وہ میری ہی کہی ہوئی ہے اور میرے حوالے سے جو غلط بات تم تک پہنچے تو یاد رکھو کہ میں غلط بات نہیں کہتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10269]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف أبى معشر
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أبى معشر
حدیث نمبر: 10270 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، الْخَزْرَجُ بْنُ عُثْمَانَ السَّعْدِيُّ ، أَبُو أَيُّوبَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا الْخَزْرَجُ بْنُ عُثْمَانَ السَّعْدِيُّ ، قََالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أَيُّوبَ مَوْلًى لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قِيدُ سَوْطِ أَحَدِكُمْ فِي الْجَنَّةِ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمِثْلِهَا مَعَهَا، وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمِثْلِهَا مَعَهَا، وَلَنَصِيفُ امْرَأَةٍ مِنَ الْجَنَّةِ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمِثْلِهَا مَعَهَا" ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ , مَا النَّصِيفُ؟ قَالَ: الْخِمَارُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی کے کمان یا کوڑا رکھنے کی جنت میں جو جگہ ہوگی وہ دنیا اور اس جیسی تمام چیزوں سے بہتر ہوگی اس طرح جنتی عورت کا دوپٹہ دنیا اور اس جیسی تمام چیزوں سے بہتر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10270]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، خ: 2793
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، خ: 2793
حدیث نمبر: 10271 مسند احمد
يُونُسُ ، الْخَزْرَجُ ، أَبِي أَيُّوبَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قََالَ: حَدَّثَنَا الْخَزْرَجُ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: دَخَلْتُ مَعَهُ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَرَأَى غُلَامًا , فَقَالَ لَهُ: يَا غُلَامُ , اذْهَبْ الْعَبْ، قََالَ: إِنَّمَا جِئْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ، قََالَ: يَا غُلَامُ , اذْهَبْ الْعَبْ، قََالَ: إِنَّمَا جِئْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ، قََالَ: فَتَقْعُدُ حَتَّى يَخْرُجَ الْإِمَامُ؟ قََالَ: نَعَمْ، قََالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَجِيءُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَتَقْعُدُ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ، فَيَكْتُبُونَ السَّابِقَ وَالثَّانِيَ وَالثَّالِثَ وَالنَّاسَ عَلَى مَنَازِلِهِمْ، حَتَّى يَخْرُجَ الْإِمَامُ، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ طُوِيَتْ الصُّحُفُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن مسجد کے دروازے پر فرشتے لوگوں کے مراتب لکھتے ہیں فلاں پہلے، دوسرے اور تیسرے، نمبر پر آیا، ابوایوب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا انہوں نے ایک لڑکے کو دیکھا تو فرمایا اے لڑکے! باہر جا کر کھیلو وہ کہنے لگا کہ میں تو مسجد میں آیا ہوں دو مرتبہ یہی سوال جواب ہوئے پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کہ امام کے آنے تک بیٹھے رہو اس نے کہا بہت اچھا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہاں تک کہ امام نکل آئے اس کے بعد صحیفے لپیٹ دیئے جاتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10271]
حکم دارالسلام
المرفوع منه صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3211، م: 850
الحكم: المرفوع منه صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3211، م: 850
حدیث نمبر: 10272 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، الْخَزْرَجُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ السَّعْدِيَّ ، أَبِي أَيُّوبَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قََالَ: حَدَّثَنِي الْخَزْرَجُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ السَّعْدِيَّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ يَعْنِي مَوْلَى عُثْمَانَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ أَعْمَالَ بَنِي آدَمَ تُعْرَضُ كُلَّ خَمِيسٍ , لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، فَلَا يُقْبَلُ عَمَلُ قَاطِعِ رَحِمٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے بنی آدم کے اعمال ہر جمعرات کو پیش کئے جاتے ہیں اور کسی قطع رحمی کرنے والے کے اعمال قبول نہیں کئے جاتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10272]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 10273 مسند احمد
يُونُسُ ، الْخَزْرَجُ ، أَبِي أَيُّوبَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا الْخَزْرَجُ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ:" أَوْصَانِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلِيلِي بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ: الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَصَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَالْوَتْرُ قَبْلَ النَّوْمِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے میں انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا (١) جمعہ کے دن غسل کرنے کی (٢) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٣) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10273]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، خ: 1178، م: 721
الحكم: إسناده حسن، خ: 1178، م: 721
حدیث نمبر: 10274 مسند احمد
وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ , قََالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَجَّ الْبَيْتَ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ" ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ، أَوْ كَمَا خَرَجَ مِنْ بَطْنِ أُمِّهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس طرح حج کرے کہ اس میں اپنی عورتوں سے بےحجاب بھی نہ ہو اور کوئی گناہ کا کام بھی نہ کرے وہ اس دن کی کیفیت لے کر اپنے گھر لوٹے گا جس دن اس کی ماں نے اسے دیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10274]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1819، م: 1350
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1819، م: 1350
حدیث نمبر: 10275 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، صَالِحٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا خَيْرٌ أَوْ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری تمام مسجدوں سے سوائے مسجد حرام کے ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10275]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1190، م: 1394
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1190، م: 1394
حدیث نمبر: 10276 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانُ ، صَالِحٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ , وَأَبُو نُعَيْمٍ , قََالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ صَالِحٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَشْتَرِيَ حَاضِرٌ لِبَادٍ" ، وَقَالَ أَبُو نُعَيْمٍ:" لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے لئے تجارت نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10276]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2140، م: 1413
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2140، م: 1413
حدیث نمبر: 10277 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا لَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ رَبَّهُمْ، وَيُصَلُّوا فِيهِ عَلَى نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِمْ تِرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنْ شَاءَ آخَذَهُمْ بِهِ، وَإِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو لوگ کسی جگہ پر مجلس کریں لیکن اس میں اللہ کا ذکر اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر دورد نہ بھیجیں اور جدا ہوجائیں وہ ان کے لئے قیامت کے دن باعث حسرت ہو گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10277]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10278 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، سُفْيَانُ ، صَالِحِ بْنِ نَبْهَانَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ نَبْهَانَ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ"، فَذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10278]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل سيئ الحفظ، لكنه متابع، أنظر ما قبله
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، مؤمل سيئ الحفظ، لكنه متابع، أنظر ما قبله
حدیث نمبر: 10279 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ" ، وَالْمُحَاقَلَةُ , الْبُرُّ بِالْبُرِّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ کی بیع سے منع فرمایا ہے۔ (وضاحت گذر چکی ہے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10279]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 1511
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 1511