بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 70 از 194
حدیث نمبر: 8499 مسند احمد
عَفَّانُ
َحَدَّثَنَا َحَدَّثَنَا عَفَّانُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَلْعَقَنَّ أَصَابِعَهُ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيَّتِهِنَّ الْبَرَكَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھاچکے تو اسے اپنی انگلیاں چاٹ لینی چاہئیں کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ ان میں سے کس حصے میں برکت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8499]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2035
الحكم: إسناده صحيح، م: 2035
حدیث نمبر: 8500 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، سُهَيْلٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَالَ : إِنِّي قَدْ أَحْبَبْتُ فُلَانًا فَأَحِبَّهُ، قَالَ: فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ، قَالَ: ثُمَّ يُنَادِي فِي السَّمَاءِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَبَّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ، قَالَ: فَيُحِبُّونَهُ، قَالَ: ثُمَّ يَضَعُ اللَّهُ لَهُ الْقَبُولَ فِي الْأَرْضِ، فَإِذَا أَبْغَضَ، فَمِثْلُ ذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ جب کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام سے بلا کر کہتا ہے کہ میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو چنانچہ جبرائیل علیہ السلام اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور آسمان والوں سے کہتے ہیں کہ تمہارا پروردگار فلاں شخص سے محبت کرتا ہے اس لئے تم بھی اس سے محبت کرو چنانچہ سارے آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اس کے بعد زمین والوں میں اس کی مقبولیت ڈال دی جاتی ہے اور جب کسی بندے سے نفرت کرتا ہے تب بھی اسی طرح ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8500]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7485، م: 2637
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7485، م: 2637
حدیث نمبر: 8501 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذَا" وَعَقَدَ وُهَيْبٌ تِسْعِينَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک دن فرمایا: آج سد یاجوج ماجوج میں اتنا بڑا سوراخ ہوگیا ہے راوی نے انگوٹھے سے نوے کا عدد بنا کر دکھایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8501]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 3347 ، م : 3881
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 3347 ، م : 3881
حدیث نمبر: 8502 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، مُصْعَبُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِنَّمَا الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَلَا تُكَبِّرُوا حَتَّى يُكَبِّرَ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَلَا تَرْكَعُوا حَتَّى يَرْكَعَ، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَلَا تَسْجُدُوا حَتَّى يَسْجُدَ، وَإِنْ صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: امام کو تو مقررہی اس لئے کیا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے اس لئے جب وہ تکبیرک ہے تو تم بھی تکبیرکہوکہنے سے پہلے تکبیر نہ کہوجب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اس کے رکوع کرنے سے پہلے رکوع نہ کرو جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا و لک الحمد کہو جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور اس کے سجدہ کرنے سے پہلے تم سجدہ نہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8502]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 734 ، م : 414
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 734 ، م : 414
حدیث نمبر: 8503 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، بَيْدَ أَنَّ كُلَّ أُمَّةٍ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا، وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ، فَهَذَا الْيَوْمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ، فَهَدَانَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ، فَغَدًا لِلْيَهُودِ، وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارَى" فَسَكَتَ. فَقَالَ: " حَقُّ اللَّهِ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ أَنْ يَغْتَسِلَ فِي كُلِّ سَبْعَةِ أَيَّامٍ، يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَجَسَدَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہم یوں تو سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے سبقت لے جائیں گے فرق صرف اتنا ہے کہ ہر امت کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی جب کہ ہمیں بعد میں کتاب ملی پھر یہ جمعہ کا دن اللہ نے ان پر مقرر فرمایا: تھا لیکن وہ اس میں اختلاف کا شکار ہوگئے چنانچہ اللہ نے ہماری اس کی طرف رہنمائی فرما دی اب اس میں لوگ ہمارے تابع ہیں اور یہودیوں کا اگلا دن (ہفتہ) ہے اور عیسائیوں کا پرسوں کا دن (اتوار) ہے پھر کچھ دیر خاموش رہ کر فرمایا: ہر مسلمان پر اللہ کا حق ہے کہ ہر سات دن میں تو اپنا سر اور جسم دھو لیا کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8503]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 896 ، م : 849
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 896 ، م : 849
حدیث نمبر: 8504 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، وَلَا تَحَسَّسُوا، وَلَا تَجَسَّسُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا تَنَافَسُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بدگمانی کرنے سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ یہ سب سے زیادہ جھوٹی بات ہوتی ہے کسی کی جاسوسی اور ٹوہ نہ لگاؤ باہم مقابلہ نہ کرو ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو قطع رحمی نہ کرو بغض نہ رکھو اور بندگان اللہ آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8504]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 6724 ، م : 2563
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 6724 ، م : 2563
حدیث نمبر: 8505 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمَنْ أَطَاعَ الْأَمِيرَ فَقَدْ أَطَاعَنِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو میری اطاعت کرتا ہے گویا وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے اور جو شخص میرے امیر کی اطاعت کرتا ہے وہ میری اطاعت کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8505]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 2957 ، م: 1835
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 2957 ، م: 1835
حدیث نمبر: 8506 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، أَبِي ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رُؤْيَا الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمان آدمی کا خواب اجزاء نبوت میں سے سترواں جزو ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8506]
حکم دارالسلام
إسنادہ قوي
الحكم: إسنادہ قوي
حدیث نمبر: 8507 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَن ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَن ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " أَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْمَفْرُوضَةِ صَلَاةٌ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، وَأَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الَّذِي تَدْعُونَهُ الْمُحَرَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ فرض نمازوں کے بعد سب سے زیادہ افضل نماز رات کے درمیان حصے میں پڑھی جانے والی ہے اور ماہ رمضان کے روزوں کے بعد سب سے زیادہ افضل روزہ اللہ کے اس مہینے کا ہے جسے تم محرم کہتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8507]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، م : 1163
الحكم: إسنادہ صحیح ، م : 1163
حدیث نمبر: 8508 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، أَبِي ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّهِ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ بِي" ، قَالَ عَاصِمٌ: قَالَ: أَبِي: فَحَدَّثَنِيهِ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ أَنِّي قَدْ رَأَيْتُهُ، قَالَ: رَأَيْتَهُ؟ قُلْتُ: إِي وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُ، قَالَ: فَذَكَرْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ، قَالَ: إِنِّي وَاللَّهِ قَدْ ذَكَرْتُهُ وَنَعَتُّهُ فِي مِشْيَتِهِ، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّهُ كَانَ يُشْبِهُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جسے خواب میں میری زیارت نصیب ہو جائے اسے یقین کرلینا چاہئے کہ اس نے میری ہی زیارت کی ہے کیونکہ شیطان میری شکل و صورت اختیار کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8508]
حکم دارالسلام
صحیح ، و إسنادہ قوي ، خ : 6993 ، م : 2266
الحكم: صحیح ، و إسنادہ قوي ، خ : 6993 ، م : 2266
حدیث نمبر: 8509 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ أَبِي جَالِسًا وَعِنْدَهُ غُلَامٌ، فَقَامَ الْغُلَامُ فَقَعَدْتُ فِي مَقْعَدِ الْغُلَامِ، فَقَالَ لِي أَبِي : قُمْ عَنْ مَقْعَدِهِ، إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَنْبَأَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَجْلِسِهِ فَرَجَعَ إِلَيْهِ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ" ، غَيْرَ أَنَّ سُهَيْلًا، قَالَ: لَمَّا أَقَامَنِي تَقَاصَرْتُ فِي نَفْسِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سہیل بن ابی صالح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد صاحب کے پاس بیٹھا ہوا تھا ان کے پاس ایک غلام بھی بیٹھا ہوا تھا وہ غلام کھڑا ہوا اور میں اس کی جگہ جا کر بیٹھ گیا والد صاحب نے مجھ سے کہا کہ اس کی جگہ سے اٹھو کیونکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ کر جائے تو واپس آنے کے بعد اس جگہ کا سب سے زیادہ حقدار وہی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8509]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، م : 2179
الحكم: إسنادہ صحیح ، م : 2179
حدیث نمبر: 8510 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَجْلَانَ أَبِي مُحَمَّد ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ عَجْلَانَ أَبِي مُحَمَّد ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لِلْمَمْلُوكِ طَعَامُهُ وَكِسْوَتُهُ، وَلَا يُكَلَّفُ مِنَ الْعَمَلِ مَا لَا يُطِيقُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: غلام کا حق ہے کہ اسے کھانا اور لباس مہیا کیا جائے اور تم انہیں کسی ایسے کام کا مکلف مت بناؤ جس کی وہ طاقت نہ رکھتے ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8510]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد جید ، م : 1662
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد جید ، م : 1662
حدیث نمبر: 8511 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِنَّ السَّنَةَ لَيْسَ بِأَنْ لَا يَكُونَ فِيهَا مَطَرٌ، وَلَكِنَّ السَّنَةَ أَنْ تُمْطِرَ السَّمَاءُ وَلَا تُنْبِتَ الْأَرْضُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قحط سالی یہ نہیں ہے کہ بارشیں نہ ہوں قحط سالی یہ ہے کہ آسمان سے بارشیں تو خوب برسیں لیکن زمین سے پیداوار نہ نکلے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8511]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، م : 2904
الحكم: إسنادہ صحیح ، م : 2904
حدیث نمبر: 8512 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، صَفْوَانَ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمٍ ، الْقَعْقَاعِ بْنِ اللَّجْلَاجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَسُهَيْلٍ ، صفوان بن سليم ، الْقَعْقَاعِ بْنِ اللَّجْلَاجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ صَفْوَانَ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمٍ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ اللَّجْلَاجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَسُهَيْلٍ ، عن صفوان بن سليم عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ اللَّجْلَاجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَا يَجْتَمِعُ شُحٌّ وَإِيمَانٌ فِي قَلْبِ رَجُلٍ، وَلَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي وَجْهِ عَبْدٍ" ، قَالَ حَمَّادٌ: وَقَالَ أَحَدُهُمَا: الْقَعْقَاعُ بْنُ اللَّجْلَاجِ، وَقَالَ الْآخَرُ: اللَّجْلَاجُ بْنُ الْقَعْقَاعِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک مسلمان کے دل میں ایمان اور بخل اکٹھے نہیں ہوسکتے اسی طرح ایک مسلمان کے نتھنوں میں جہاد فی سبیل اللہ کا گرد و غبار اور جہنم کا دھواں اکٹھے نہیں ہوسکتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8512]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح بطرقه وشواھدہ ، وھذا إسناد فیه القعقاع ، وقد اختلف في اسمه ، وھو مقبول ، یعني عند المتابعة
الحكم: حدیث صحیح بطرقه وشواھدہ ، وھذا إسناد فیه القعقاع ، وقد اختلف في اسمه ، وھو مقبول ، یعني عند المتابعة
حدیث نمبر: 8513 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِمَّا تَدَاوَوْنَ بِهِ خَيْرٌ، فَفِي الْحِجَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جن چیزوں کے ذریعے تم علاج کرتے ہو اگر ان میں سے کسی چیز میں کوئی خیر ہے تو وہ سینگی لگوانے میں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8513]
حکم دارالسلام
صحیح لغیرہ ، وھذا إسناد حسن
الحكم: صحیح لغیرہ ، وھذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8514 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِذَا قَالَ الرَّجُلُ: قَدْ هَلَكَ النَّاسُ، فَهُوَ أَهْلَكُهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ لوگ تباہ ہوگئے تو سمجھ لو کہ وہ ان میں سب سے زیادہ تباہ ہونے والا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8514]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، م : 2623
الحكم: إسنادہ صحیح ، م : 2623
حدیث نمبر: 8515 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَهُوَ أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَهُوَ أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ إِذَا عَمِلْتُهُ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ! قَالَ: " تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ"، قَالَ: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا شَيْئًا أَبَدًا، وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُ، فَلَمَّا وَلَّى قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے ایسا عمل بتائیے جس پر عمل پیرا ہونے کے بعد میں جنت میں داخل ہوجاؤں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی عبادت کرو شرک مت کرو فرض نماز قائم کرو فرض زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو وہ دیہاتی کہنے لگا واللہ میں اس میں اپنی طرف سے کبھی کمی بیشی نہیں کروں گا جب وہ چلا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی جنتی آدمی کو دیکھنا چاہتا ہے وہ اسے دیکھ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8515]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 1397 ، م : 14
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 1397 ، م : 14
حدیث نمبر: 8516 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، هِشَامٌ ، صَالِحِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَا يَصْبِرُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَاءِ الْمَدِينَةِ وَجَهْدِهَا، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا، أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَة" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بھی مدینہ منورہ کی مشقتوں اور سختیوں پر صبر کرے گا میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی بھی دوں گا اور سفارش بھی کروں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8516]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، م : 1378
الحكم: إسنادہ صحیح ، م : 1378
حدیث نمبر: 8517 مسند احمد
عَفَّانُ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ، فَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ شَيْءٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کلونجی کا استعمال اپنے اوپر لازم کرلو کیونکہ اس میں (موت کے علاوہ) ہر بیماری کی شفاء ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8517]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 5688 ، م : 2215
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 5688 ، م : 2215
حدیث نمبر: 8518 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، أَبِي ، أَبَا هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ خُطْبَةٍ لَيْسَ فِيهَا شَهَادَةٌ، كَالْيَدِ الْجَذْمَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس خطبے میں توحید و رسالت کی گواہی نہ ہو وہ جذام کے مارے ہوئے ہاتھ کی طرح ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8518]
حکم دارالسلام
إسنادہ قوي
الحكم: إسنادہ قوي