بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 68 از 194
حدیث نمبر: 8459 مسند احمد
يُونُسُ ، وَسُرَيْجٌ ، فُلَيْحٌ ، سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَسُرَيْجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَبْلَ السَّاعَةِ سِنُونَ خَدَّاعَةٌ، يُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ، وَيُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ، وَيُخَوَّنُ فِيهَا الْأَمِين، وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ، وَيَنْطِقُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ" ، قَالَ سُرَيْجٌ:" وَيَنْظُرُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت سے پہلے لوگوں پر ایسے سال آئیں گے جو دھوکے کے سال ہوں گے ان میں جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا سمجھا جائے گا خائن کو امانت دار اور امانت دار کو خائن سمجھا جائے گا اور اس میں رویبضہ کلام کرے گا (کسی نے پوچھا کہ رویبضہ سے کیا مراد ہے؟ فرمایا بیوقوف آدمی بھی عوام کے معاملات میں بولنا شروع کردے گا) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8459]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8460 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنَّ فِي يَدَيَّ سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ، فَنَفَخْتُهُمَا فَرُفِعَا، فَأَوَّلْتُ أَنَّ أَحَدَهُمَا مُسَيْلِمَة، وَالْآخَرَ الْعَنْسِيُّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے دونوں ہاتھوں پر سونے کے دو کنگن رکھ دئیے گئے میں نے انہیں پھونک مار دی اور وہ غائب ہوگئے میں نے اس کی تعبیر دو کذابوں سے کی یعنی اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8460]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وإسناده حسن، خ: 4375، م: 2274
الحكم: حديث صحيح، وإسناده حسن، خ: 4375، م: 2274
حدیث نمبر: 8461 مسند احمد
يُونُسُ ، لَيْثٌ ، بُكَيْرٌ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي بُكَيْرٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْثٍ، فَقَالَ:" إِنْ وَجَدْتُمْ فُلَانًا وَفُلَانًا لِرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ فَأَحْرِقُوهُمَا بِالنَّارِ"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَرَدْنَا الْخُرُوجَ: " إِنِّي كُنْتُ أَمَرْتُكُمْ أَنْ تُحْرِقُوا فُلَانًا وَفُلَانًا بِالنَّارِ، وَإِنَّ النَّارَ لَا يُعَذِّبُ بِهَا إِلَّا اللَّهُ تَعَالَى، فَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمَا فَاقْتُلُوهُمَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ ہمیں ایک لشکر کے ساتھ بھیجا اور قریش کے دو آدمیوں کا نام لے کر فرمایا اگر تم ان دونوں کو پاؤ تو انہیں آگ میں جلا دینا پھر جب ہم لوگ روانہ ہونے کے ارادے سے نکلنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے فلاں فلاں آدمیوں کے متعلق یہ حکم دیا تھا کہ انہیں آگ میں جلا دینا لیکن آگ کا عذاب صرف اللہ ہی دے سکتا ہے اس لئے اگر تم انہیں پاؤ تو انہیں قتل کردینا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8461]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3016
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3016
حدیث نمبر: 8462 مسند احمد
يُونُسُ ، فُلَيْحٌ ، أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ، وَلَكِنْ افْسَحُوا يَفْسَحْ اللَّهُ لَكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص دوسرے کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے بلکہ کشادگی پیدا کرلیا کرو اللہ تمہارے لئے کشادگی فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8462]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8463 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبِي الْمُهَزِّمِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعَةِ أَضُبٍّ عَلَيْهَا تَمْرٌ وَسَمْنٌ، فَقَالَ: " كُلُوا فَإِنِّي أَعَافُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ سات عدد گوہ پیش کی گئیں جن پر کجھوریں اور گھی بھی تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم لوگ اسے کھالو میں اس سے پرہیز کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8463]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، أبو المهزم ضعيف
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، أبو المهزم ضعيف
حدیث نمبر: 8464 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ ، أَبُو الْمُهَزِّمِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُهَزِّمِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِسَخْلَةٍ جَرْبَاءَ قَدْ أَخْرَجَهَا أَهْلُهَا، فَقَالَ: " أَتَرَوْنَ هَذِهِ هَيِّنَةً عَلَى أَهْلِهَا؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک بکری کے پاس سے گذرے جس کی کھال اتری ہوئی تھی اور وہ خارش زدہ تھی اسے اس کے مالکوں نے نکال پھینکا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارا خیال ہے کہ یہ اپنے مالکوں کی نظر میں حقیر ہوگئی ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جی ہاں فرمایا اللہ کی نگاہوں میں دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے جتنی یہ بکری اپنے مالکوں کی نگاہ میں حقیر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8464]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 8465 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِ يسَأَلَ عَنْهُ، فَإِنْ قِيلَ لَهُ: هَدِيَّةٌ، أَكَلَ، وَإِنْ قِيلَ: صَدَقَةٌ، قَالَ:" كُلُوا" وَلَمْ يَأْكُلْ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں جب آپ کے گھر کے علاوہ کہیں اور سے کھانا آتا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے متعلق دریافت فرماتے اگر بتایا جاتا کہ یہ ہدیہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے تناول فرما لیتے اور اگر بتایا جاتا کہ یہ صدقہ ہے تو لوگوں سے فرما دیتے کہ تم کھالو اور خود نہ کھاتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8465]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2576، م: 1077
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2576، م: 1077
حدیث نمبر: 8466 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، وَعُدِّلَتْ الصُّفُوفُ، حَتَّى إِذَا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ وَانْتَظَرْنَا أَنْ يُكَبِّرَ انْصَرَفَ، فَقَالَ:" عَلَى مَكَانِكُمْ" فَدَخَلَ بَيْتَهُ، وَمَكَثْنَا عَلَى هَيْئَتِنَا حَتَّى خَرَجَ إِلَيْنَا وَرَأْسُهُ يَنْطِفُ وَقَدْ اغْتَسَلَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کی اقامت ہونے لگی اور لوگ صفیں درست کرنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور اپنے مقام پر کھڑے ہوگئے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تکبیر کے منتظر تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ یہیں ٹھہرو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے گئے ہم لوگ اسی طرح کھڑے رہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب واپس آئے تو غسل فرما رکھا تھا اور سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8466]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 639، م: 605
الحكم: إسناده صحيح، خ: 639، م: 605
حدیث نمبر: 8467 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " كَانَ رَجُلٌ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَكَانَ يَقُولُ لِفَتَاهُ: إِذَا أَتَيْتَ مُعْسِرًا، فَتَجَاوَزْ عَنْهُ، لَعَلَّ اللَّهَ يَتَجَاوَزُ عَنَّا، فَلَقِيَ اللَّهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پہلے زمانے میں ایک آدمی تھا جو لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا اور اپنے نوجوانوں سے کہہ دیتا تھا کہ جب تم کسی تنگدست سے قرض وصول کرنے جاؤ تو اس سے درگذر کرنا شاید اللہ ہم سے بھی درگذر کرے چنانچہ (موت کے بعد) جب اللہ سے اس کی ملاقات ہوئی تو اللہ نے اس سے درگذر فرمایا (اسے معاف فرمایا) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8467]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3480، م: 1562
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3480، م: 1562
حدیث نمبر: 8468 مسند احمد
فَزَارَةُ بْنُ عَمْرٍو ، إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا فَزَارَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُ قَدْ كَانَ فِيمَا مَضَى قَبْلَكُمْ مِنَ الْأُمَمِ نَاسٌ يُحَدَّثُونَ، وَإِنَّهُ إِنْ كَانَ فِي أُمَّتِي هَذِهِ مِنْهُمْ أَحَدٌ، فَإِنَّهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا گزشتہ امتوں میں سے کچھ لوگ محدث (ملہم من اللہ) ہوتے تھے اگر میری امت میں کوئی شخص ایسا ہے تو وہ عمر بن خطاب ہیں۔ رضی اللہ عنہ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8468]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3689، وهذا إسناد فيه فزارة مجهول، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 3689، وهذا إسناد فيه فزارة مجهول، وقد توبع
حدیث نمبر: 8469 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، أَبِيهِ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ
وحَدَّثَنَاه يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَهُ مُرْسَلًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے مرسلاً بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8469]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، لكنه مرسل، وانظر ما قبله
الحكم: حديث صحيح، لكنه مرسل، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 8470 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ، فَإِذَا امْرَأَةٌ تَوَضَّأُ إِلَى جَنْبِ قَصْرٍ، فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟ قَالُوا: لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَذَكَرْتُ غَيْرَتَكَ فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا"، وَعُمَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ حِينَ يَقُولُ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ عِنْدَهُ مَعَ الْقَوْمِ، فَبَكَى عُمَرُ حِينَ سَمِعَ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: أَعَلَيْكَ بِأَبِي أَنْتَ أَغَارُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک دن میں نے خواب میں اپنے آپ کو جنت میں دیکھا وہاں ایک عورت ایک محل کی جانب وضو کر رہی تھی میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہے مجھے تمہاری غیرت یاد آگئی اور میں واپس پلٹ آیا جس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ بات فرما رہے تھے اس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی اللہ ان پر رحمتیں نازل فرمائے لوگوں میں بیٹھے ہوئے تھے وہ یہ سن کر رو پڑے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کیا میں آپ پر غیرت کھاؤں گا؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8470]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3242، م: 2395
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3242، م: 2395
حدیث نمبر: 8471 مسند احمد
فَزَارَةُ ، فُلَيْحٌ ، هِلَالٍ يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ ، عَطَاءٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا فَزَارَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالٍ يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَتَرَاءَوْنَ فِي الْجَنَّةِ كَمَا تَرَاءَوْنَ أَوْ تَرَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ الْغَارِبَ فِي الْأُفُقِ وَالطَّالِعَ، فِي تَفَاضُلِ الدَّرَجَاتِ" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُولَئِكَ النَّبِيُّونَ! قَالَ:" بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، وَأَقْوَامٌ آمَنُوا بِاللَّهِ وَصَدَّقُوا الْمُرْسَلِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اہل جنت ایک دوسرے کو جنت میں اسی طرح دیکھیں گے جیسے تم لوگ روشن ستارے کو مختلف درجات میں کم و بیش دیکھتے ہو صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا یہ لوگ انبیاء کرام (علیہم السلام) ہوں گے؟ فرمایا نہیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے یہ وہ لوگ ہوں گے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور دیگر انبیاء (علیہم السلام) کی تصدیق کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8471]
حکم دارالسلام
متن الحديث صحيح لكن من حديث أبي سعید، ولعل فليحا أخطأ فجعله من حديث أبي هريرة، خ: 3256، م: 2831 ، وفي هذا الإسناد أيضاً فزراة، لا يعرف، وقد توبع
الحكم: متن الحديث صحيح لكن من حديث أبي سعید، ولعل فليحا أخطأ فجعله من حديث أبي هريرة، خ: 3256، م: 2831 ، وفي هذا الإسناد أيضاً فزراة، لا يعرف، وقد توبع
حدیث نمبر: 8472 مسند احمد
فَزَارَةُ ، فُلَيْحٌ ، وَسُرَيْجٌ ، هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا فَزَارَةُ ، أَخْبَرَنَا فُلَيْحٌ ، وَسُرَيْجٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الشَّيْخُ يَكْبَرُ وَيَضْعُفُ جِسْمُهُ، وَقَلْبُهُ شَابٌّ عَلَى حُبِّ اثْنَتَيْنِ طُولِ الْحَيَاةِ، وَحُبِّ الْمَالِ" ، َقَالَ سُرَيْجٌ:" حُبِّ الْحَيَاةِ، وَحُبِّ الْمَالِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انسان بوڑھا ہوتا جاتا ہے اس کا جسم کمزور ہوتا جاتا ہے لیکن اس میں دو چیزوں کی محبت جوان ہوجاتی ہے لمبی زندگانی اور مال و دولت کی فراوانی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8472]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6420، م: 1046، فليح- وإن كان فيه كلام- متابع
الحكم: حديث صحيح، خ: 6420، م: 1046، فليح- وإن كان فيه كلام- متابع
حدیث نمبر: 8473 مسند احمد
يُونُسُ ، فُلَيْحٌ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ، وَالْمُسْتَوْصِلَةَ، وَالْوَاشِمَةَ، وَالْمُسْتَوْشِمَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بال ملانے والی اور ملوانے والی پر جسم گودنے والی اور گدوانے والی عورتوں پر اللہ کی لعنت ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8473]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8474 مسند احمد
فَزَارَةُ بْنُ عَمْرٍ ، فُلَيْحٌ ، هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا فَزَارَةُ بْنُ عَمْرٍ ، أَخْبَرَنِي فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَأَقَامَ الصَّلَاةَ، وَصَامَ رَمَضَانَ، فَإِنَّ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، هَاجَرَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ جَلَسَ فِي أَرْضِهِ الَّتِي وُلِدَ فِيهَا" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا نُنَبِّئُ النَّاسَ بِذَلِكَ؟ قَالَ:" إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ أَعَدَّهَا لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِهِ، مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَإِذَا سَأَلْتُمْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فاَسأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ، فَإِنَّهَا أَوْسَطُ الْجَنَّةِ، وَأَعْلَى الْجَنَّةِ، وَفَوْقَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ، وَمِنْهُ تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے نماز قائم کرے اور رمضان کے روزے رکھے اللہ پر اس کا حق ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے خواہ وہ اللہ کے راستہ میں ہجرت کرے یا اپنے وطن مولود میں ہی بیٹھا رہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا ہم لوگوں کو یہ بات نہ بتادیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی گفتگو جاری رکھی اور فرمایا کہ جنت میں سو درجے ہیں جنہیں اللہ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لئے تیار کر رکھا ہے دو درجوں کے درمیان زمین و آسمان کے درمیان جتنا فاصلہ ہے جب تم اللہ سے جنت مانگا کرو تو جنت الفردوس کا سوال کیا کرو۔ کیونکہ وہ جنت کا مرکز اور سب سے اعلیٰ ترین حصہ ہے اس کے اوپر رحمان کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8474]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة فزارة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة فزارة
حدیث نمبر: 8475 مسند احمد
يُونُسُ ، لَيْثٌ ، يَزِيدَ يعنى ابن الهاد ، عَمْرٍو بْنِ قُهَيْدِ بْنِ مُطَرِّفٍ الْغِفَارِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ يعنى ابن الهاد ، عَنْ عَمْرٍو بْنِ قُهَيْدِ بْنِ مُطَرِّفٍ الْغِفَارِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ عُدِيَ عَلَى مَالِي؟ قَالَ: " فانْشُدْ اللَّهَ"، قَالَ: فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ؟ قَالَ:" انْشُدْ اللَّهَ"، قَالَ: فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ؟ قَالَ:" فَانْشُدْ اللَّهَ"، قَالَ: فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ؟ قَالَ:" فَقَاتِلْ، فَإِنْ قُتِلْتَ فَفِي الْجَنَّةِ، وَإِنْ قَتَلْتَ فَفِي النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ بتائیے کہ اگر کوئی شخص میرے مال پر دست درازی کرے تو میں کیا کروں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے اللہ کا واسطہ دو اس نے پوچھا اگر وہ نہ مانے تو؟ فرمایا پھر اللہ کا واسطہ دو چوتھی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے قتال کرو اگر تم مارے گئے تو جنت میں اور اگر تم نے اسے مار دیا تو جہنم میں جاؤ گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8475]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 140، وهذا إسناد قد وهم فيه يونس
الحكم: حديث صحيح، م: 140، وهذا إسناد قد وهم فيه يونس
حدیث نمبر: 8476 مسند احمد
قُتَيْبَةُ ، لَيْثٌ ، يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَمْرِو بْنِ قُهَيْدٍ الْغِفَارِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قُهَيْدٍ الْغِفَارِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8476]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 140، ووقع لقتيبة في إسناده من الوهم، وانظر ما قبله
الحكم: حديث صحيح، م: 140، ووقع لقتيبة في إسناده من الوهم، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 8477 مسند احمد
يُونُسُ ، لَيْثٌ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، سُمَيٍّ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال: شَكَا أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ مَشَقَّةَ السُّجُودِ عَلَيْهِمْ إِذَا تَفَرَّجُوا، فقَالَ: " اسْتَعِينُوا بِالرُّكَبِ" ، قَالَ ابْنُ عَجْلَانَ: وَذَلِكَ أَنْ يَضَعَ مِرْفَقَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ إِذَا أَطَالَ السُّجُودَ وَأَعْيَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں یہ شکایت کی کہ جب وہ کشادہ ہوتے ہیں تو سجدہ کرنے میں مشقت ہوتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے گھٹنوں سے مدد لیا کرو۔ راوی حدیث ابن عجلان کہتے ہیں کہ جب سجدہ طویل ہوجائے اور آدمی تھک جائے تو اپنی کہنیاں گھٹنوں پر رکھ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8477]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 8478 مسند احمد
يُونُسُ ، لَيْثٌ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " أَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ يَصْرِفُ اللَّهُ عَنِّي لَعْنَ قُرَيْشٍ وَشَتْمَهُمْ! يَسُبُّونَ مُذَمَّمًا، وَأَنَا مُحَمَّدٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں اس بات پر تعجب نہیں ہوتا کہ کس عجیب طریقے سے اللہ قریش کی دشنام طرازیوں کو مجھ سے دور کردیتا ہے؟ وہ کس طرح مذمم پر لعنت اور سب و شتم کرتے ہیں جبکہ میرا نام تو محمد ہے (مذمم نہیں) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8478]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد جيد، خ: 3533
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد جيد، خ: 3533