بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 106 از 194
حدیث نمبر: 9220 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، الزُّبَيْرُ بْنُ سَعِيدٍ ، صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ سَعِيدٍ ، فَذَكَرَ حَدِيثًا، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، قَالَ: وَحَدَّثَ صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ أَيْضًا، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ، يُضْحِكُ بِهَا جُلَسَاءَهُ، يَهْوِي بِهَا مِنْ أَبْعَدِ مِنَ الثُّرَيَّا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بعض اوقات آدمی اپنے دوستوں کو ہنسانے کے لئے کوئی بات کرتا ہے لیکن اس کے نتیجے میں ثریا ستارے سے بھی دور کے فاصلے سے گرپڑتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9220]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف الزبير ، وانظر، خ: 6477
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف الزبير ، وانظر، خ: 6477
حدیث نمبر: 9221 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، مَعْمَرٌ ، سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پانچ وسق سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے پانچ اوقیہ چاندی سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9221]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9222 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ نَهَى عَنْ التَّلَقِّي، وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے باہر باہر ہی تاجروں سے ملنے اور کسی شہری کو دیہاتی کا سامان (مال تجارت) فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9222]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2162، م: 1520
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2162، م: 1520
حدیث نمبر: 9223 مسند احمد
يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اصل میں صدقہ تو دل کا غناء کے ساتھ ہوتا ہے اور تم صدقات و خیرات میں ان لوگوں سے ابتداء کرو جو تمہاری ذمہ داری میں آتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9223]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1426
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1426
حدیث نمبر: 9224 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الطَّالْقَانِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ ، يُونُسَ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الطَّالْقَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِلْعَبْدِ الْمَمْلُوكِ الْمُصْلِحِ أَجْرَانِ" ، وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ، لَوْلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالْحَجُّ، وَبِرُّ أُمِّي، لَأَحْبَبْتُ أَنْ أَمُوتَ وَأَنَا مَمْلُوكٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نیک عبد مملوک کے لئے دہرا اجر ہے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی جان ہے اگر جہاد فی سبیل اللہ، حج بیت اللہ اور والدہ کی خدمت نہ ہوتی تو میں غلامی کی حالت میں مرنا پسند کرتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9224]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2548، م: 1665
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2548، م: 1665
حدیث نمبر: 9225 مسند احمد
عَتَّابٌ ، عَبْدُ اللَّهِ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو يُونُسَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الصِّيَامُ جُنَّةٌ، وَحِصْنٌ حَصِينٌ مِنَ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا روزہ جہنم کی آگ سے بچاؤ کے لئے ڈھال اور ایک مضبوط قلعہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9225]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9226 مسند احمد
عَتَّابٌ ، عَبْدُ اللَّهِ ، عِيسَى بْنُ يَزِيدَ ، جَرِيرُ بْنُ يَزِيدَ ، أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَرِيرُ بْنُ يَزِيدَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ يُحَدِّثُ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " حَدٌّ يُعْمَلُ فِي الْأَرْضِ، خَيْرٌ لِأَهْلِ الْأَرْضِ مِنْ أَنْ يُمْطَرُوا ثَلَاثِينَ صَبَاحًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا زمین میں نافذ کی جانے والی ایک سزا لوگوں کے حق میں تیس دن تک مسلسل بارش ہونے سے بہتر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9226]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف جرير
الحكم: إسناده ضعيف لضعف جرير
حدیث نمبر: 9227 مسند احمد
عَتَّابٌ ، عَبْدُ اللَّهِ ، دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، أَبُو ثِفَالٍ الْمُرِّيُّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو ثِفَالٍ الْمُرِّيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ خَيْرٌ مِنَ السَّيِّدِ مِنَ الْمَعْزِ" . قَالَ دَاوُدُ: السَّيِّدُ: الْجَلِيلُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ بکری کے بڑے بچے سے بہتر ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9227]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف أبي ثفال
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أبي ثفال
حدیث نمبر: 9228 مسند احمد
عَتَّابٌ ، عَبْدُ اللَّهِ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَافِعٍ ، أَخْبَرَهُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ نَهَى عَنِ الرَّمِيَّةِ، أَنْ تُرْمَى الدَّابَّةُ ثُمَّ تُؤْكَلَ، وَلَكِنْ تُذْبَحُ، ثُمَّ يَرْمُوا إِنْ شَاءُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ جانور کو پتھر یا تیر مار کر ختم کردیا جائے اور پھر اسے کھالیا جائے اس لئے پہلے اسے ذبح کرنا چاہئے بعد میں اگر اس پر تیر ماریں تو ان کی مرضی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9228]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ
الحكم: إسناده ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 9229 مسند احمد
عَتَّابٌ ، عَبْدُ اللَّهِ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أبا هريرة
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أن أبا هريرة ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " قَرَصَتْ نَمْلَةٌ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، فَأَمَرَ بِقَرْيَةِ النَّمْلِ، فَأُحْرِقَتْ، فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ: فِي أَنْ قَرَصَتْكَ نَمْلَةٌ، أَهْلَكْتَ أُمَّةً مِنَ الْأُمَمِ تُسَبِّحُ؟!" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک نبی نے کسی درخت کے نیچے پڑاؤ کیا انہیں کسی چیونٹی نے کاٹ لیا انہوں نے چیونٹیوں کے پورے بل کو آگ لگا دی اللہ نے ان کے پاس وحی بھیجی کہ ایک چیونٹی نے آپ کو کاٹا اور آپ نے تسبیح کرنے والی ایک پوری امت کو ختم کردیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9229]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3019، م: 2241
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3019، م: 2241
حدیث نمبر: 9230 مسند احمد
عَتَّابٌ ، عَبْدُ اللَّهِ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، الْحَسَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، أُرَاهُ عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لِرَجُلٍ: أُوَدِّعْكَ كَمَا وَدَّعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ كَمَا وَدَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْتَوْدَعْتُكَ اللَّهَ الَّذِي لَا يُضَيِّعُ وَدَائِعَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
موسیٰ بن وردان سے غالباً منقول ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی سے فرمایا میں تمہیں اس طرح رخصت کروں گا جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رخصت فرمایا تھا میں تمہیں اس اللہ کے سپرد کرتا ہوں جو اپنی امانتوں کو ضائع نہیں فرماتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9230]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد جيد
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد جيد
حدیث نمبر: 9231 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ وَاقِدٍ الْحَرَّانِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، مُجَاهِدٍ ، وَالْمُغِيرَةِ بْنِ حَكِيمٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ وَاقِدٍ الْحَرَّانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، وَالْمُغِيرَةِ بْنِ حَكِيمٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَا: سَمِعْنَاهُ يَقُولُ: " مَا كَانَ أَحَدٌ أَعْلَمَ بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي إِلَّا مَا كَانَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، فَإِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ بِيَدِهِ، وَيَعِيهِ بِقَلْبِهِ، وَكُنْتُ أَعِيهِ بِقَلْبِي، وَلَا أَكْتُبُ بِيَدِي، وَاسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكِتَابِ عَنْهُ، فَأَذِنَ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی احادیث مجھ سے زیادہ بکثرت جاننے والا کوئی نہیں سوائے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے کیونکہ وہ ہاتھ سے لکھتے تھے اور دل میں محفوظ کرتے تھے جبکہ میں صرف دل میں محفوظ کرتا تھا ہاتھ سے لکھتا نہیں تھا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے لکھنے کی اجازت مانگی تھی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں دے دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9231]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 113
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 113
حدیث نمبر: 9232 مسند احمد
عَتَّابٌ ، عَبْدُ اللَّهِ ، مَعْمَرٌ ، سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پانچ وسق سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے پانچ اوقیہ چاندی سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9232]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9233 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، زُهَيْرٌ ، أَبُو بَلْجٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَلْجٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ قَالَ: قَالَ لِي أَبُو هُرَيْرَةَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَةً مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ؟". قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي. قَالَ:" قُلْ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں ایک ایسا کلمہ نہ سکھاؤں جو جنت کا خزانہ ہے میں نے عرض کیا ضرور آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یوں کہا کرو لا حول و لا قوۃ الا باللہ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9233]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9234 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، شَرِيكٌ ، ابْنِ مَوْهَبٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ ابْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مَا أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَى عَبْدٍ نِعْمَةً، إِلَّا وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَرَى أَثَرَهَا عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند فرماتا ہے کہ اپنی نعمتوں کے آثار اپنے بندے پر دیکھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9234]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جداً، شريك سيئ الحفظ، وابن موهب متروك
الحكم: إسناده ضعيف جداً، شريك سيئ الحفظ، وابن موهب متروك
حدیث نمبر: 9235 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخِيَارِكُمْ؟"، قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " خِيَارُكُمْ أَطْوَلُكُمْ أَعْمَارًا، وَأَحْسَنُكُمْ أَخْلَاقًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ تم میں سب سے بہتر کون ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جی یا رسول اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جن کی عمر طویل ہو اور اخلاق بہترین ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9235]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، وقد صرح ابن إسحاق بالتحديث عند ابن حبان: 2981
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، وقد صرح ابن إسحاق بالتحديث عند ابن حبان: 2981
حدیث نمبر: 9236 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، أَيُّوبَ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَلَقَّى الْجَلَبُ، فَإِنْ ابْتَاعَ مُبْتَاعٌ، فَصَاحِبُ السِّلْعَةِ بِالْخِيَارِ إِذَا وَرَدَتِ السُّوقَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آنے والے تاجروں سے باہر باہر ہی مل کر خریداری کرنے سے منع فرمایا ہے جو شخص اس طرح کوئی چیز خریدے تو بیچنے والے کو بازار اور منڈی میں پہنچنے کے بعد اختیار ہوگا (کہ وہ اس بیع کو قائم رکھے یا فسخ کردے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9236]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1519
الحكم: إسناده صحيح، م: 1519
حدیث نمبر: 9237 مسند احمد
سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ اللُّؤْلُئِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ اللُّؤْلُئِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ سُرَيْجٌ فِي حَدِيثِهِ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَيَخْرُجَنَّ رِجَالٌ مِنَ الْمَدِينَةِ رَغْبَةً عَنْهَا، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کچھ لوگ مدینہ منورہ سے بےرغبتی کے ساتھ نکل جائیں گے حالانکہ اگر انہیں پتہ ہوتا تو مدینہ ہی ان کے لئے زیادہ بہتر تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9237]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1381
الحكم: إسناده صحيح، م: 1381
حدیث نمبر: 9238 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٌ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَابِرٌ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ، فَلْيُفْرِغْ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا فِي الْإِنَاءِ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِيمَ بَاتَتْ يَدُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ کسی برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک اسے تین مرتبہ دھو نہ لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9238]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 162، م: 278، ابن لهيعة - وإن کان سيئ الحفظ - قد توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 162، م: 278، ابن لهيعة - وإن کان سيئ الحفظ - قد توبع
حدیث نمبر: 9239 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ: وَقَدْ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ سَاعَةٌ، لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ إِلَّا اسْتُجِيبَ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی بھی آتی ہے کہ بندہ مسلم اللہ سے جو دعاء کرتا ہے اللہ اسے وہ چیز ضرور عطاء فرما دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9239]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6400، م: 852، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
الحكم: حديث صحيح، خ: 6400، م: 852، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة