بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 80 از 194
حدیث نمبر: 8700 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، أَبِيهِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " لَمَّا قَضَى اللَّهُ الْخَلْقَ، كَتَبَ فِي كِتَابٍ فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ: إِنَّ رَحْمَتِي غَلَبَتْ غَضَبِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے جب مخلوق کو وجود عطاء کرنے کا فیصلہ فرمایا تو اس کتاب میں جو اس کے پاس عرش پر ہے ' لکھا کہ میری رحمت میرے غضب پر سبقت رکھتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8700]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3194، م: 2751
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3194، م: 2751
حدیث نمبر: 8701 مسند احمد
يُونُسُ ، فُلَيْحٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَبِيحَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَبِيحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " خَيْرُ الصَّدَقَةِ الْمَنِيحَةُ، تَغْدُو بِأَجْرٍ وَتَرُوحُ بِأَجْرٍ، وَمَنِيحَةُ النَّاقَةِ كَعِتَاقَةِ الْأَحْمَر، وَمَنِيحَةُ الشَّاةِ كَعِتَاقَةِ الْأَسْوَدِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سب سے بہترین صدقہ وہ دودھ دینے والی بکری ہے جو صبح و شام اجر کا سبب بنتی ہے دودھ دینے والی اونٹنی کا صدقہ کسی سرخ رنگت والے کو آزاد کرنے کی طرح ہے اور دودھ دینے والی بکری کا صدقہ کسی سیاہ فام کو آزاد کرنے کی طرح ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8701]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عبيدالله فى عداد المجهولين، ومحمد بن عبدالله مثله ، وفليح ليس بذاك ، وهذا الحديث تفرد به الإمام أحمد
الحكم: إسناده ضعيف، عبيدالله فى عداد المجهولين، ومحمد بن عبدالله مثله ، وفليح ليس بذاك ، وهذا الحديث تفرد به الإمام أحمد
حدیث نمبر: 8702 مسند احمد
حُجَيْنٌ ، اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " جُهْدُ الْمُقِلِّ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! کون سا صدقہ سب سے افضل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مالی طور پر قلت کے شکار آدمی کا محنت کرکے صدقہ نکالنا (سب سے افضل ہے) اور (یاد رکھو) صدقہ میں ابتداء ان لوگوں سے کرو جو تمہاری ذمہ داری میں ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8702]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8703 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " لَيْسَ السَّنَةُ بِأَنْ لَا تُمْطَرُوا، وَلَكِنَّ السَّنَةَ أَنْ تُمْطَرُوا ثُمَّ تُمْطَرُوا فَلَا تُنْبِتُ الْأَرْضُ شَيْئًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قحط سالی یہ نہیں ہے کہ بارشیں نہ ہوں قحط سالی یہ ہے کہ آسمان سے بارشیں تو خوب برسیں لیکن زمین سے پیداوار نہ نکلے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8703]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2904
الحكم: إسناده صحيح، م: 2904
حدیث نمبر: 8704 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَلَائِكَةً فُضُلًا، يَتَّبِعُونَ مَجَالِسَ الذِّكْرِ، يَجْتَمِعُونَ عِنْدَ الذِّكْرِ، فَإِذَا مَرُّوا بِمَجْلِسٍ عَلَا بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ حَتَّى يَبْلُغُوا الْعَرْشَ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمْ، وَهُوَ أَعْلَمُ: مِنْ أَيْنَ جِئْتُم؟ فَيَقُولُونَ: مِنْ عِنْدِ عَبِيدٍ لَكَ، يَسْأَلُونَكَ الْجَنَّةَ، وَيَتَعَوَّذُونَ بِكَ مِنَ النَّارِ، وَيَسْتَغْفِرُونَكَ، فَيَقُولُ عزََّ وجلَّ: يَسْأَلُونِي جَنَّتِي، هَلْ رَأَوْهَا، فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا؟ وَيَتَعَوَّذُونَ مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ، فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا؟ فَإِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ، فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا، إِنَّ فِيهِمْ عَبْدَكَ الْخَطَّاءَ فُلَانًا، مَرَّ بِهِمْ لِحَاجَةٍ لَهُ، فَجَلَسَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أُولَئِكَ الْجُلَسَاءُ لَا يَشْقَى بِهِمْ جَلِيسُهُم" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے جو لوگوں کا نامہ اعمال لکھنے والے فرشتوں کے علاوہ ہوتے ہیں اس کام پر مقرر ہیں کہ وہ زمین میں گھومتے پھریں یہ فرشتے جہاں کچھ لوگوں کو ذکر کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو وہ سب اکھٹے ہو کر آجاتے ہیں اور ان لوگوں کو آسمان دنیا تک ڈھانپ لیتے ہیں۔ (پھر جب وہ آسمان پر جاتے ہیں تو) اللہ ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ ان سے زیادہ جانتا ہے کہ تم کہاں سے آئے ہو وہ کہتے ہیں کہ ہم آپ کے بندوں کے پاس سے آئے ہیں وہ لوگ جنت کی طلب کر رہے تھے جہنم سے آپ کی پناہ مانگ رہے تھے اور آپ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہے تھے اللہ پوچھتا ہے کہ کیا انہوں نے جنت کو دیکھا ہے؟ اگر وہ جنت کو دیکھ لیتے تو کیا ہوتا؟ جہنم سے وہ پناہ مانگ رہے تھے اگر وہ جہنم کو دیکھ لیتے تو کیا ہوتا؟ میں نے ان سب کے گناہوں کو معاف فرما دیا فرشتے کہتے ہیں کہ ان میں تو فلاں گنہگار آدمی بھی شامل تھا جو ان کے پاس خود نہیں آیا تھا بلکہ کوئی ضرورت اور مجبوری اسے لے آئی تھی اللہ فرماتا ہے کہ یہ ایسی جماعت ہے جن کے ساتھ بیٹھنے والا کبھی محروم نہیں رہتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8704]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6408، م: 2689
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6408، م: 2689
حدیث نمبر: 8705 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سُهَيْلٌ بن أبى صالح ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ بن أبى صالح ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَلَائِكَةً سَيَّارَةً فُضُلًا، يَلْتَمِسُونَ مَجَالِسَ الذِّكْرِ"، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8705]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 8706 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُرَى عَضَلَةُ سَاقِهِ مِنْ تَحْتِ إِزَارِهِ إِذَا اتَّزَرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب تہبند باندھتے تو تہبند کے ورے سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پنڈلی کی مچھلی نظر آتی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8706]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لرواية زهير عن صالح بعد الاختلاط
الحكم: إسناده ضعيف لرواية زهير عن صالح بعد الاختلاط
حدیث نمبر: 8707 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَوَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةِ الْبَدْرِ، فَاسْتَزَدْتُ، فَزَادَنِي مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعِينَ أَلْفًا، فَقُلْتُ: أَيْ رَبِّ، إِنْ لَمْ يَكُنْ هَؤُلَاءِ مُهَاجِرِي أُمَّتِي؟! قَالَ: إِذَنْ أُكْمِلَهُمْ لَكَ مِنَ الْأَعْرَابِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے رب سے درخواست کی تو اس نے مجھ سے وعدہ کرلیا کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار آدمیوں کو چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتا دمکتاجنت میں داخل کرے گا میں نے اپنے پروردگار سے اس میں مزید اضافہ کی درخواست کی تو اس نے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار کا اضافہ کردیا میں نے پوچھا پروردگار اگر یہ لوگ میری امت کے مہاجر نہ ہوئے تو؟ (اگر مہاجرین کی تعداد کم ہوئی تو؟) اللہ نے فرمایا کہ پھر میں یہ تعداد دیہاتیوں سے پوری کروں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8707]
حکم دارالسلام
صحيح دون قوله: فأستزدت فزادني .... الخ فإنه من مناكير زهير
الحكم: صحيح دون قوله: فأستزدت فزادني .... الخ فإنه من مناكير زهير
حدیث نمبر: 8708 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ يَعْنِي الطَّيَالِسِيَّ ، صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى السُّلَمِيُّ الدَّقِيقِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ ، شُتَيْرِ بْنِ نَهَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ يَعْنِي الطَّيَالِسِيَّ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى السُّلَمِيُّ الدَّقِيقِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ نَهَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ: لَوْ أَنَّ عِبَادِي أَطَاعُونِي، لَأَسْقَيْتُهُمْ الْمَطَرَ بِاللَّيْلِ، وَأَطْلَعْتُ عَلَيْهِمْ الشَّمْسَ بِالنَّهَارِ، وَلَمَا أَسْمَعْتُهُمْ صَوْتَ الرَّعْدِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ ارشاد نبوی مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر میرے بندے میری اطاعت کرنے لگیں تو میں رات کو انہیں بارش سے سیراب کروں دن میں ان پر سورج کو روشن کروں اور انہیں بادلوں کی گرج نہ سناؤں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8708]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف صدقة، ولجهالة سمير
الحكم: إسناده ضعيف لضعف صدقة، ولجهالة سمير
حدیث نمبر: 8709 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ حُسْنَ الظَّنِّ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ حُسْنِ عِبَادَةِ اللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حسن ظن بھی حسن عبادت کا ایک حصہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8709]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، وهو بإسناد سابقه
الحكم: إسناده ضعيف، وهو بإسناد سابقه
حدیث نمبر: 8710 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جَدِّدُوا إِيمَانَكُم"، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ نُجَدِّدُ إِيمَانَنَا؟ قَالَ:" أَكْثِرُوا مِنْ قَوْلِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنے ایمان کی تجدید کرتے رہا کرو کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! ہم اپنے ایمان کی تجدید کیسے کرسکتے ہیں؟ لا الہ الا اللہ کی کثرت کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8710]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، وهو بإسناد سابقه
الحكم: إسناده ضعيف، وهو بإسناد سابقه
حدیث نمبر: 8711 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا، أَوْ وَضَعَ لَهُ، أَظَلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّ عَرْشِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی تنگدست مقروض کو مہلت دے دے یا معاف کردے اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطاء فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8711]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8712 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ابْنُ مُبَارَكٍ ، الْأَوْزَاعِيِّ ، قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ كَلَامٍ أَوْ أَمْرٍ ذِي بَالٍ لَا يُفْتَحُ بِذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَهُوَ أَبْتَرُ أَوْ قَالَ أَقْطَعُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر وہ کام یا کلام جس کا آغاز اللہ کے ذکر سے نہ کیا جائے وہ دم بریدہ رہتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8712]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف قرة
الحكم: إسناده ضعيف لضعف قرة
حدیث نمبر: 8713 مسند احمد
أَبُو جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ ، عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَبِيبٍ الْأَزْدِيُّ ، حَبِيبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، شُبَيْلِ بْنِ عَوْفٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَبِيبٍ الْأَزْدِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ حَبِيبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ شُبَيْلِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ لِثَوْبَانَ: " كَيْفَ أَنْتَ يَا ثَوْبَانُ إِذْ تَدَاعَتْ عَلَيْكُمْ الْأُمَمُ كَتَدَاعِيكُمْ عَلَى قَصْعَةِ الطَّعَامِ يُصِيبُونَ مِنْهُ؟!" قَالَ ثَوْبَانُ: بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمِنْ قِلَّةٍ بِنَا؟ قَالَ:" لَا، بل أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ، وَلَكِنْ يُلْقَى فِي قُلُوبِكُمْ الْوَهَنُ"، قَالُوا: وَمَا الْوَهَنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" حُبُّكُمْ الدُّنْيا، وَكَرَاهِيَتُكُمْ الْقِتَالَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ثوبان رضی اللہ عنہ سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ثوبان! اس وقت تمہاری کیا کیفیت ہوگی جب تمہارے خلاف دنیا کی قومیں ایک دوسرے کو ایسے دعوت دیں گی جیسے کھانے کی میز پر دعوت دی جاتی ہے؟ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کیا اس وقت ہماری تعداد کم ہونے کی بنا پر ایسا ہوگا؟ فرمایا نہیں بلکہ اس وقت تمہاری تعداد بہت زیادہ ہوگی لیکن تمہارے دلوں میں وہن " ڈال دیا جائے گا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہن کیا چیز ہے؟ فرمایا دنیا سے محبت اور جہاد سے نفرت۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8713]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عبدالصمد ضعيف وأبوه مجهول
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عبدالصمد ضعيف وأبوه مجهول
حدیث نمبر: 8714 مسند احمد
أَبُو جَعْفَرٍ ، عَبَّادٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا عَبَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ كَانَ يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ، وَلَا يَقْبَلُ الصَّدَقَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہدیہ قبول فرما لیتے تھے اپنی ذات کے لئے صدقہ قبول نہ فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8714]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8715 مسند احمد
أَبُو جَعْفَرٍ ، عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ، كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَا اجْتُنِبَتْ الْكَبَائِرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پانچ نمازیں اور ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک درمیان میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہے بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8715]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 233
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 233
حدیث نمبر: 8716 مسند احمد
أَبُو جَعْفَرٍ ، عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَبِيبٍ الْأَزْدِيُّ ، حَبِيبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، شُبَيْلٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَبِيبٍ الْأَزْدِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ حَبِيبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ شُبَيْلٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَائِمًا يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: " مَنْ كَانَ أَصْبَحَ مِنْكُمْ صَائِمًا، فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، وَمَنْ كَانَ أَصَابَ مِنْ غَدَاءِ أَهْلِهِ، فَلْيُتِمَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ یوم عاشورہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روزہ رکھا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم میں سے جس نے روزہ رکھا ہو اسے اپنا روزہ مکمل کرنا چاہئے اور جس نے صبح کے وقت کچھ ناشتہ کرلیا ہو تو بقیہ دن کچھ نہ کھائے پئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8716]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالصمد، وجهالة أبيه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالصمد، وجهالة أبيه
حدیث نمبر: 8717 مسند احمد
أَبُو جَعْفَرٍ ، عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِيهِ ، شُبَيْلٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ شُبَيْلٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُنَاسٍ مِنْ الْيَهُودِ قَدْ صَامُوا يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: " مَا هَذَا مِنَ الصَّوْمِ؟"، قَالُوا: هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي نَجَّى اللَّهُ مُوسَى وَبَنِي إِسْرَائِيلَ مِنَ الْغَرَقِ وَغَرَّقَ فِيهِ فِرْعَوْنَ، وَهَذَا يَوْمُ اسْتَوَتْ فِيهِ السَّفِينَةُ عَلَى الْجُودِيِّ، فَصَامَهُ نُوحٌ وَمُوسَى شُكْرًا لِلَّهِ تَعَالَى، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَا أَحَقُّ بِمُوسَى وَأَحَقُّ بِصَوْمِ هَذَا الْيَوْمِ فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِالصَّوْمِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گذر کچھ یہودیوں کے پاس سے ہوا ان لوگوں نے یوم عاشورہ کا روزہ رکھا ہوا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ یہ کیسا روزہ ہے؟ انہوں نے بتایا کہ اللہ نے اس دن حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو غرق ہونے سے بچایا تھا اور فرعون کو غرق فرمایا تھا اسی دن حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پہاڑ پر جا کر رکی تھی۔ تو حضرت نوح اور موسیٰ (علیہم السلام) نے اللہ کا شکرادا کرنے کے لئے روزہ رکھا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرا موسیٰ پر زیادہ حق بنتا ہے اور میں اس دن کا روزہ رکھنے کا زیادہ حقدار ہوں چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ کرام کو اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8717]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه، ويشهد لقصة موسى منه حديث ابن عباس عند البخاري: 2004، و مسلم: 1130
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه، ويشهد لقصة موسى منه حديث ابن عباس عند البخاري: 2004، و مسلم: 1130
حدیث نمبر: 8718 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ رَضِيَ لَكُمْ ثَلَاثًا، وَكَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا: رَضِيَ لَكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَأَنْ تَنْصَحُوا لِمَنْ وَلَّاهُ اللَّهُ أَمْرَكُمْ، وَأَنْ تَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا، وَكَرِهَ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے تمہارے لئے تین باتوں کو ناپسند اور تین باتوں کو پسند کیا ہے پسند تو اس بات کو کیا ہے کہ تم صرف اس ہی کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو تفرقہ بازی مت کرو اور حکمرانوں کے خیرخواہ رہو اور ناپسند اس بات کو کیا ہے کہ زیادہ قیل و قال کی جائے مال کو ضائع کیا جائے اور کثرت سے سوال کئے جائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8718]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1715
الحكم: إسناده صحيح، م: 1715
حدیث نمبر: 8719 مسند احمد
مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، سُمَيٍّ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ، لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، مَنْ قَالَهَا عَشْرَ مَرَّاتٍ حِينَ يُصْبِحُ، كُتِبَ لَهُ بِهَا مِائَةُ حَسَنَةٍ، وَمُحِيَ عَنْهُ بِهَا مِائَةُ سَيِّئَةٍ، وَكَانَتْ لَهُ عَدْلَ رَقَبَةٍ، وَحُفِظَ بِهَا يَوْمَئِذٍ حَتَّى يُمْسِيَ، وَمَنْ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ حِينَ يُمْسِي، كَانَ لَهُ مِثْلُ ذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص صبح کے وقت دس مرتبہ یہ کلمات کہہ لے۔ لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک و لہ الحمد و ہو علی کل شیء قدیر تو یہ ایک غلام کو آزاد کرنے کے برابر ہوگا اور اس شخص کے لئے سو نیکیاں لکھی جائیں گی سو گناہ مٹا دئیے جائیں گے اور شام تک وہ شیطان سے اس کی حفاظت کا سبب ہوں گے اور جو شخص شام کو یہ عمل کرے تو اس کا بھی یہی حکم ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8719]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3293، م: 2691
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3293، م: 2691