بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 135 از 194
حدیث نمبر: 9800 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، الزُّهْرِيِّ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لِكُلِّ أَهْلِ عَمَلٍ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، يُدْعَوْنَ بِذَلِكَ الْعَمَلِ، وَلِأَهْلِ الصِّيَامِ بَابٌ يُدْعَوْنَ مِنْهُ، يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ"، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ أَحَدٌ يُدْعَى مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ كُلِّهَا؟، قَالَ:" نَعَمْ، وَأَنَا أَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ يَا أَبَا بَكْرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر عمل والوں کے لئے جنت کا ایک دروازہ مقرر ہے جہاں سے انہیں پکارا جائے چنانچہ روزہ داروں کے لئے بھی ایک دروزاہ ہوگا جس کا نام ریان ہے۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا کسی آدمی کو سارے دروازوں سے بھی بلایا جائے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں اور مجھے امید ہے کہ آپ بھی ان لوگوں میں سے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9800]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9801 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " نَزَلَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ، فَأَمَرَ بِجَهَازِهِ، فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَأُحْرِقَتْ بِالنَّارِ، فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ: فَهَلَّا نَمْلَةً وَاحِدَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک نبی نے کسی درخت کے نیچے پڑاؤ کیا انہیں کسی چیونٹی نے کاٹ لیا انہوں نے اپنے سامان کو وہاں سے ہٹانے کا حکم دیا اور چیونٹیوں کے پورے بل کو آگ لگا دی اللہ نے ان کے پاس وحی بھیجی کہ ایک ہی چیونٹی کو کیوں نہ سزا دی؟ (صرف ایک چیونٹی نے کاٹا تھا سب نے تو نہیں) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9801]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3319، م: 2241
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3319، م: 2241
حدیث نمبر: 9802 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ مُعَيْقِيبٍ ، عَمْرِو بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ مُعَيْقِيبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدٍ ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَمْ يُضْبَطْ إِسْنَادُهُ إِنَّمَا هُوَ سُلَيْمَانُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدٍ الْعُتْوَارِيُّ، وَهُوَ صَاحِبُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَبُو الْهَيْثَمِ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ . وَعَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَّخِذُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ، فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ آذَيْتُهُ أَوْ شَتَمْتُهُ أَوْ لَعَنْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ، فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَصَلَاةً وَقُرْبَةً، تُقَرِّبُهُ بِهَا إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ میں تجھ سے یہ وعدہ لیتا ہوں جس کی تو مجھ سے کبھی خلاف ورزی نہیں کرے گا میں نے انسان ہونے کے ناطے جس مسلمان کو کوئی اذیت پہنچائی ہو یا اسے برا بھلا کہا ہو یا اسے کوڑے مارے ہوں یا اسے لعنت کی ہو تو اس شخص کے حق میں اسے باعث رحمت و تزکیہ اور قیامت کے دن اپنی قربت کا سبب بنا دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9802]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، و إسنادان حسنان ، خ: 6361، م: 2601
الحكم: حديث صحيح، و إسنادان حسنان ، خ: 6361، م: 2601
حدیث نمبر: 9803 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ سَجَدَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ، فَقُلْتُ: سَجَدْتَ فِي سُورَةٍ مَا يُسْجَدُ فِيهَا، قَالَ:" إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِيهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے سورت انشقاق کی تلاوت کی اور آیت سجدہ پر پہنچ کر سجدہ تلاوت کیا میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو اس سورت میں سجدہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس میں سجدہ کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی سجدہ نہ کرتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9803]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 768، م: 578
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 768، م: 578
حدیث نمبر: 9804 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِذَا قَالَ الْقَارِئُ: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7، فَقَالَ: مَنْ خَلْفَهُ آمِينَ، فَوَافَقَ ذَلِكَ قَوْلَ أَهْلِ السَّمَاءِ: آمِينَ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب امام غیر المغضوب علیہم و لا الضالین کہہ لے تو مقتدی اس پر آمین کہے کیونکہ جس شخص کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہوجائے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9804]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 782، م: 410
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 782، م: 410
حدیث نمبر: 9805 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مَا أَذِنَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِشَيْءٍ كَإِذْنِهِ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآن، يَجْهَرُ بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے کسی چیز کی ایسی اجازت نہیں دی جیسی اپنے نبی کو قرآن کریم ترنم کے ساتھ پڑھنے کی اجازت دی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9805]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5023، م: 792
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5023، م: 792
حدیث نمبر: 9806 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ، فَسَمِعَ قِرَاءَةَ رَجُلٍ، فَقَالَ:" مَنْ هَذَا؟"، قِيلَ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ، فَقَالَ: " لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو ایک آدمی کی تلاوت کی آواز سنی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا یہ کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ عبداللہ بن قیس (ابو موسیٰ اشعری) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انہیں حضرت داؤدعلیہ السلام جیسا سر عطاء کیا گیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9806]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9807 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں دن میں روزانہ سو مرتبہ توبہ استغفار کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9807]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6307
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6307
حدیث نمبر: 9808 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " الْمَدِينَةُ مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا، أَوْ آوَى مُحْدِثًا، أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوْلَاهُ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مدینہ منورہ حرم ہے جو شخص اس میں کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے یا اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کو اپنا آقا کہے اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے قیامت کے دن اللہ اس سے کوئی فرض یا نفلی عبادت قبول نہ کرے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9808]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 1371
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 1371
حدیث نمبر: 9809 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ الْأَسْلَمِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ. فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ جَاءَ مِنْ شِقِّهِ الْأَيْمَنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ. فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ جَاءَهُ مِنْ شِقِّهِ الْأَيْسَرِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ. فَقَالَ لَهُ ذَلِكَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ: " انْطَلِقُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ"، وَقَالَ: فَانْطَلَقُوا بِهِ، فَلَمَّا مَسَّتْهُ الْحِجَارَةُ أَدْبَرَ وَاشْتَدَّ، فَاسْتَقْبَلَهُ رَجُلٌ فِي يَدِهِ لَحْيُ جَمَلٍ، فَضَرَبَهُ بِهِ، فَذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِرَارُهُ حِينَ مَسَّتْهُ الْحِجَارَةُ , قَالَ:" فَهَلَّا تَرَكْتُمُوهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے ہی سے مروی ہے کہ حضرت ماعز بن مالک اسلمی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھ سے بدکاری کا گناہ سرزد ہوگیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ سن کر منہ پھیرلیا انہوں نے دائیں جانب سے آ کر یہی کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر منہ پھیرلیا پھر بائیں جانب سے آ کر یہی عرض کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر اعراض فرمایا لیکن جب چوتھی مرتبہ بھی انہوں نے اقرار کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں لے جا کر ان پر حد رجم جاری کرو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ انہیں لے گئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ذکر کیا کہ جب انہیں پتھر لگے تو وہ بھاگ رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تو پھر تم نے انہیں چھوڑ کیوں نہ دیا؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9809]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6815، م: 1691
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6815، م: 1691
حدیث نمبر: 9810 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَا يَزَالُ الدِّينُ ظَاهِرًا مَا عَجَّلَ النَّاسُ الْفِطْرَ، إِنَّ الْيَهُودَ , وَالنَّصَارَى يُؤَخِّرُونَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دین اس وقت تک غالب رہے گا جب تک لوگ روزہ افطار کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے کیونکہ یہودونصاری اسے وقت مقررہ سے بہت مؤخر کردیتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9810]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: « إن اليهود والنصارى يؤخرون » ، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح دون قوله: « إن اليهود والنصارى يؤخرون » ، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9811 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْمُؤْمِنِ أَوْ الْمُؤْمِنَةِ فِي جَسَدِهِ وَمَالِهِ وَوَلَدِهِ، حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا عَلَيْهِ مِنْ خَطِيئَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسلمان مرد و عورت پر جسمانی یا مالی یا اولاد کی طرف سے مستقل پریشانیاں آتی رہتی ہیں یہاں تک کہ جب وہ اللہ سے ملتا ہے تو اس کا گناہ بھی باقی نہیں ہوتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9811]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 9812 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مِنْبَرِي هَذَا عَلَى تُرْعَةٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرا یہ منبر جنت کے دروازوں میں سے کسی دروازے پر ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9812]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1196، م: 1391
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1196، م: 1391
حدیث نمبر: 9813 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ يَعْنِي ابنَ عَمْرو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ يَعْنِي ابنَ عَمْرو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " غِفَارُ , وَأَسْلَمُ , وَمُزَيْنَةُ , وَمَنْ كَانَ مِنْ جُهَيْنَةَ، خَيْرٌ مِنَ الْحَيَّيْنِ الْحَلِيفَيْنِ أَسَدٍ وَغَطَفَانَ , وَهَوَازِنَ وَتَمِيمٍ، فَإِنَّهُمْ أَهْلُ الْخَيْلِ وَالْوَبَرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن قبیلہ اسلم، غفار اور مزینہ و جہینہ کا کچھ حصہ اللہ کے نزدیک بنو اسد، بنو غطفان و ہوازن اور تمیم سے بہتر ہوگا کیونکہ یہ لوگ گھوڑوں اور اونٹوں والے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9813]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3523، م: 2521
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3523، م: 2521
حدیث نمبر: 9814 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنِ عَمْرو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنِ عَمْرو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ ضِيَاعًا فَإِلَيَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص مال چھوڑ کر جائے وہ اس کے ورثاء کا ہے اور جو شخص بچے چھوڑ کر جائے ان کی پرورش میرے ذمے ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9814]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6731، م: 1619
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6731، م: 1619
حدیث نمبر: 9815 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة ، أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً مَنْ يَتَمَنَّى عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , فَيُقَالُ: لَكَ ذَلِكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ إِلَّا أَنَّهُ يُلَقيَّ، فَيُقَالُ لَهُ: كَذَا وَكَذَا، فَيُقَالُ: لَكَ ذَلِكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ" . فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" فَيُقَالُ: لَكَ ذَلِكَ , وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت میں سب سے کم درجے کا آدمی وہ ہوگا جو اللہ کے سامنے اپنی تمناؤں کا اظہار کرے گا تو اس سے کہا جائے گا کہ یہ اور اتنا ہی مزید تجھے دیا جاتا ہے اور اس کے دل میں ڈالا جائے گا کہ فلاں فلاں چیز بھی مانگ اور پھر یہ جملہ کہا جائے گا جبکہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے متعلق فرمایا کہ یہ اور اس سے دس گنا مزید تجھے دیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9815]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6573، م: 182
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6573، م: 182
حدیث نمبر: 9816 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " احْتَجَّتِ النَّارُ وَالْجَنَّةُ، فَقَالَتِ النَّارُ: يَدْخُلُنِي الْجَبَّارُونَ وَالْمُتَكَبِّرُونَ. وَقَالَتِ الْجَنَّةُ: يَدْخُلُنِي الضُّعَفَاءُ وَالْمَسَاكِينُ. فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلنَّارِ: أَنْتِ عَذَابِي أَنْتَقِمُ بِكِ مِمَّنْ شِئْتُ. وَقَالَ لِلْجَنَّةِ: أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ شِئْتُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ جنت اور جہنم میں باہمی مباحثہ ہوا جنت کہنے لگی کہ مجھ میں صرف فقراء اور کم تر حیثیت کے لوگ داخل ہوں گے؟ اور جہنم کہنے لگی کہ مجھ میں صرف جابر اور متکبر لوگ داخل ہوں گے؟ اللہ نے جہنم سے فرمایا کہ تو میرا عذاب ہے میں جسے چاہوں گا تیرے ذریعے اسے سزا دوں گا اور جنت سے فرمایا کہ تو میری رحمت ہے میں جس پر چاہوں گا تیرے ذریعے رحم کروں گا [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9816]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 4849، م: 2846
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 4849، م: 2846
حدیث نمبر: 9817 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي أُحُدًا ذَهَبًا، يَمُرُّ عَلَيَّ ثَالِثَةٌ وَعِنْدِي مِنْهُ، فَأَجِدُ مَنْ يتَقْبَلُهُ مِنِّي، إِلَّا أَنْ أَرْصُدَهُ فِي دَيْنٍ يَكُونُ عَلَيَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر میرے پاس احد پہاڑ سونے کا بن کر آجائے تو مجھے اس میں خوشی ہوگی کہ اسے اللہ کے راستہ میں خرچ کردوں اور تین دن بھی مجھ پر نہ گذرنے پائیں کہ ایک دینار یا درہم بھی میرے پاس باقی نہ بچے سوائے اس چیز کے جو میں اپنے اوپر واجب الاداء قرض کی ادائیگی کے لئے روک لوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9817]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2389، م: 991
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2389، م: 991
حدیث نمبر: 9818 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلَاثُونَ كَذَّابًا دَجَّالًا، كُلُّهُمْ يَكْذِبُ عَلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تیس کذاب و دجال لوگ ظاہر ہوجائیں۔ جن میں سے ہر ایک اللہ اور اس کے رسول پر جھوٹ باندھے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9818]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3609، م: 157
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3609، م: 157
حدیث نمبر: 9819 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بَاعًا بِبَاعٍ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، وَشِبْرًا بِشِبْرٍ، حَتَّى لَوْ دَخَلُوا فِي جُحْرِ ضَبٍّ لَدَخَلْتُمْ مَعَهُمْ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْيَهُودُ , وَالنَّصَارَى؟، قَالَ:" فَمَنْ إِذًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم گزشتہ امتوں کی پورے پورے ہاتھ گز اور بالشت کے تناسب سے ضرور پیروی کروگے حتیٰ کہ اگر وہ لوگ کسی گوہ کے سوراخ اور بل میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم بھی ایسا ہی کروگے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا اس سے یہودونصاریٰ مراد ہیں؟ فرمایا تو پھر اور کون؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9819]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7319
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7319