يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " نَزَلَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ، فَأَمَرَ بِجَهَازِهِ، فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَأُحْرِقَتْ بِالنَّارِ، فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ: فَهَلَّا نَمْلَةً وَاحِدَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک نبی نے کسی درخت کے نیچے پڑاؤ کیا انہیں کسی چیونٹی نے کاٹ لیا انہوں نے اپنے سامان کو وہاں سے ہٹانے کا حکم دیا اور چیونٹیوں کے پورے بل کو آگ لگا دی اللہ نے ان کے پاس وحی بھیجی کہ ایک ہی چیونٹی کو کیوں نہ سزا دی؟ (صرف ایک چیونٹی نے کاٹا تھا سب نے تو نہیں) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9801]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3319، م: 2241
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3319، م: 2241