بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 129 از 194
حدیث نمبر: 9680 مسند احمد
أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، شَرِيكٍ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " صِنْفَانِ مِنْ أُمَّتِي مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَمْ أَرَهُمْ بَعْدُ: نِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ مَائِلَاتٌ مُمِيلَاتٌ عَلَى رُءُوسِهِنَّ أَمْثَالُ أَسْنِمَةِ الْإِبِلِ لَا يَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدْنَ رِيحَهَا، وَرِجَالٌ مَعَهُمْ أَسْيَاطٌ كَأَذْنَابِ الْبَقَرِ يَضْرِبُونَ بِهَا النَّاسَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جہنمیوں کے دو گروہ ایسے ہیں جنہیں میں نے اب تک نہیں دیکھا ایک تو وہ عورتیں جو کپڑے پہنیں گی لیکن پھر بھی برہنہ ہوں گی خود بھی مردوں کی طرف مائل ہوں گی اور انہیں اپنی طرف مائل کریں گی ان کے سروں پر بختی اونٹوں کی کوہانوں کی طرح چیزیں ہوں گی یہ عورتیں جنت میں دیکھ سکیں گی اور نہ ہی اس کی خوشبو پاسکیں گی اور دوسرے وہ آدمی جن کے ہاتھوں میں گائے کی دموں کی طرح لمبے ڈنڈے ہوں گے جن سے وہ لوگوں کو مارتے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9680]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2128، وهذا إسناد فيه شريك سیئ الحفظ ، قد توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 2128، وهذا إسناد فيه شريك سیئ الحفظ ، قد توبع
حدیث نمبر: 9681 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا امام کو یاد دلانے کے لئے سبحان اللہ کہنا مردوں کے لئے ہے اور تالی بجانا عورتوں کے لئے ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9681]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1203، م: 422
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1203، م: 422
حدیث نمبر: 9682 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة , قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا أَنْ لَا نُبَادِرَ الْإِمَامَ بِالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، وَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا قَالَ: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 , فَقُولُوا: آمِينَ، فَإِذَا وَافَقَ كَلَامَ الْمَلَائِكَةِ، غُفِرَ لِمَنْ فِي الْمَسْجِدِ، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں اس بات کی تعلیم دیتے تھے کہ ہم رکوع و سجود میں امام سے آگے نہ بڑھیں اور یہ کہ جب وہ تکبیر کہے تم بھی تکبیر کہو، جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، جب وہ غیر المغضوب علیہم و لا الضالین کہے تو تم آمین کہو کیونکہ جس شخص کی آمین ملائکہ کے موافق ہوجائے تو اس کی برکت سے مسجد میں موجود تمام لوگوں کی بخشش ہوجاتی ہے اور جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا لک الحمد کہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9682]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 782، م: 415
الحكم: إسناده صحيح، خ: 782، م: 415
حدیث نمبر: 9683 مسند احمد
يَعْلَى ، وَمُحَمَّدٌ ، الْحَسَنُ بْنُ الْحَكَمِ ، عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، شَيْخٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَعْلَى ، وَمُحَمَّدٌ ابْنَا عُبَيْدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحَكَمِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ شَيْخٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مَنْ بَدَا جَفَا، وَمَنْ تَبِعَ الصَّيْدَ غَفَلَ، وَمَنْ أَتَى أَبْوَابَ السُّلْطَانِ افْتُتِنَ، وَمَا ازْدَادَ عَبْدٌ مِنَ السُّلْطَانِ قُرْبًا إِلَّا ازْدَادَ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بُعْدًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص دیہات میں رہتا ہے وہ اپنے ساتھ زیادتی کرتا ہے جو شخص شکار کے پیچھے پڑتا ہے وہ غافل ہوجاتا ہے جو بادشاہوں کے دروازے پر آتا ہے وہ فتنے میں مبتلا ہوتا ہے اور جو شخص بادشاہ کا جتنا قرب حاصل کرتا جاتا ہے اللہ سے اتنا ہی دور ہوتا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9683]
حکم دارالسلام
حديث ضعيف للاضطراب الذي وقع في إسناد
الحكم: حديث ضعيف للاضطراب الذي وقع في إسناد
حدیث نمبر: 9684 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، دَاوُدُ الْأَوْدِيُّ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ الْأَوْدِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا سورة الإسراء آية 79، قَالَ: " هُوَ الْمَقَامُ الَّذِي أَشْفَعُ لِأُمَّتِي فِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے " مقام محمود " کی تفسیر میں فرمایا یہ وہی مقام ہے جہاں پر کھڑے ہو کر میں اپنی امت کی سفارش کروں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9684]
حکم دارالسلام
حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف داود
الحكم: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف داود
حدیث نمبر: 9685 مسند احمد
أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، أُسَامَةَ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ أُسَامَةَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " كَمْ مِنْ صَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ صِيَامِهِ إِلَّا الْجُوعُ، وَكَمْ مِنْ قَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ قِيَامِهِ إِلَّا السَّهَرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کتنے ہی روزے دار ایسے ہوتے ہیں جن کے حصے میں بھوک پیاس آتی ہے اور کتنے ہی تراویح میں قیام کرنے والے ہیں جن کے حصے میں صرف شب بیداری آتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9685]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 9686 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ كَيْسَانَ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ، فَقَالَ:" ائْتُونِي بِجَرِيدَتَيْنِ"، فَجَعَلَ إِحْدَاهُمَا عِنْدَ رَأْسِهِ، وَالْأُخْرَى عِنْدَ رِجْلَيْهِ، فَقِيلَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَيَنْفَعُهُ ذَلِكَ؟، قَالَ: " لَنْ يَزَالَ أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُ بَعْضُ عَذَابِ الْقَبْرِ، مَا كَانَ فِيهِمَا نُدُوٌّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گذر ایک قبر پر ہوا تو فرمایا کہ میرے پاس دو ٹہنیاں لے کر آؤ ایک ٹہنی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قبر کے سرہانے اور دوسری کو پائنتی کی جانب گاڑ دیا کسی نے پوچھا اے اللہ کے نبی! کیا یہ چیز اسے فائدہ پہنچا سکے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تک اس ٹہنی میں تراوٹ باقی ہے اس کے عذاب میں کچھ تخفیف رہے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9686]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9687 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، يَزِيدَ بن كيْسانِ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بن كيْسانِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم لِعَمِّهِ: " قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدْ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، قَالَ لَوْلَا أَنْ تُعَيِّرَنِي قُرَيْشٌ، لَأَقْرَرْتُ عَيْنَكَ بِهَا، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ سورة القصص آية 56" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے چچا (خواجہ ابوطالب سے ان کی موت کے وقت) فرمایا کہ لاالہ الا اللہ کا اقرار کرلیجئے میں قیامت کے دن اس کے ذریعے آپ کے حق میں گواہی دوں گا انہوں نے کہا کہ اگر مجھے قریش کے لوگ یہ طعنہ نہ دیتے کہ خوف کی وجہ سے انہوں نے یہ کلمہ پڑھا ہے تو میں آپ کی آنکھیں ٹھنڈی کردیتا اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ آپ جسے چاہیں اسے ہدایت نہیں دے سکتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9687]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 25
الحكم: إسناده صحيح، م: 25
حدیث نمبر: 9688 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: زَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّهِ فَبَكَى، وَبَكَى مَنْ حَوْلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي، وَاسْتَأْذَنْتُهُ فِي أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأَذِنَ لِي، فَزُورُوا الْقُبُورَ، فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْمَوْتَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی والدہ کی قبر پر حاضری دی اور رو پڑے آپ کے ہمراہی بھی رونے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کی بخشش طلب کرنے کی اجازت مانگی لیکن مجھے اجازت نہیں ملی میں نے قبر پر حاضری دینے کی اجازت مانگی تو وہ مل گئی اس لئے قبرستان جایا کرو کیونکہ قبرستان موت کو یاد دلاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9688]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 976
الحكم: إسناده صحيح، م: 976
حدیث نمبر: 9689 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا لَمَمٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَشْفِيَنِي، قَالَ: " إِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يَشْفِيَكِ، وَإِنْ شِئْتِ فَاصْبِرِي، وَلَا حِسَابَ عَلَيْكِ"، قَالَتْ: بَلْ أَصْبِرُ، وَلَا حِسَابَ عَلَيَّ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی اسے مرگی کا دورہ پڑتا تھا وہ کہنے لگی یا رسول اللہ! میرے لئے دعاء کیجئے کہ وہ مجھے شفاء عطاء فرمائے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم چاہو کہ میں اللہ سے تمہارے لئے شفاء کی دعا کر دوں تو میں دعاء کردیتا ہوں اور اگر چاہو تو دنیا میں اس تکلیف پر صبر کرلو آخرت میں تمہارا کوئی حساب نہ ہوگا اس عورت نے کہا کہ پھر تو میں صبر ہی کرلوں گی تاکہ میرا حساب نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9689]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 9690 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثِنْتَانِ هُمَا بِالنَّاسِ كُفْرٌ: نِيَاحَةٌ عَلَى الْمَيِّتِ، وَطَعْنٌ فِي النَّسَبِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا کرتے تھے دو چیزیں کفر ہیں ایک تو نوحہ کرنا اور دوسرا کسی کے نسب پر طعنہ مارنا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9690]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 67
الحكم: إسناده صحيح، م: 67
حدیث نمبر: 9691 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ الْأَعْمَشُ: لَا أُرَاهُ إِلَّا قَدْ رَفَعَهُ، قَالَ: " وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ أَمْرٍ قَدْ اقْتَرَبَ، أَفْلَحَ مَنْ كَفَّ يَدَهُ" ، وَوَافَقَهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ عرب کی ہلاکت قریب آ لگی ہے اس شر سے جو قریب آگیا ہے اس میں کامیاب وہی گا جو اپنا ہاتھ روک لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9691]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9692 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا مَثَلُ هَؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، مَثَلُ نَهْرٍ جَارٍ عَلَى بَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ، فَمَاذَا يُبْقِينَ مِنْ دَرَنِهِ؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پانچ نمازوں کی مثال ایسے ہے جسے تم میں سے کسی کے دروازے پر نہر بہہ رہی ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو۔ کیا خیال ہے کہ اس کے جسم پر کوئی میل کچیل باقی رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9692]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 667
الحكم: إسناده صحيح، م: 667
حدیث نمبر: 9693 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، حُصَيْنِ بْنِ اللَّجْلَاجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ اللَّجْلَاجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَجْتَمِعُ الشُّحُّ وَالْإِيمَانُ، فِي جَوْفِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ، وَلَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَدُخَانُ جَهَنَّمَ، فِي جَوْفِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک مسلمان کے دل میں ایمان اور بخل اکٹھے نہیں ہوسکتے اسی طرح ایک مسلمان کے نتھنوں میں جہاد فی سبیل اللہ کا گردوغبار اور جہنم کا دھواں اکٹھے نہیں ہوسکتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9693]
حکم دارالسلام
صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد فيه حُصين، وقد اختلف في أسمه، وهو مقبول، يعني إذا توبع
الحكم: صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد فيه حُصين، وقد اختلف في أسمه، وهو مقبول، يعني إذا توبع
حدیث نمبر: 9694 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، وَيَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، وَيَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَجِدُ فِي أَنْفُسِنَا مَا يَسُرُّنَا نَتَكَلَّمُ بِهِ، وَإِنَّ لَنَا مَا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ، قَالَ: " أَوَجَدْتُمْ ذَلِكَ"، قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ:" ذَاكَ صَرِيحُ الْإِيمَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے دلوں میں بعض اوقات ایسے خیالات آتے ہیں جنہیں ہم زبان پر لانا پسند نہیں کرتے اگرچہ اس کے بدلے میں ہمیں ساری دنیا مل جائے نبی کریم صلی اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا واقعی ایسا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جی ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ تو خالص ایمان ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9694]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 132
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 132
حدیث نمبر: 9695 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، أَبِي مَالِكِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ الْقُرَظِيِّ ، عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي مَالِكِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا تَعُدُّونَ الشَّهِيدَ؟"، قَالُوا الَّذِي يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يُقْتَلَ، قَالَ: " إِنَّ الشَّهِيدَ فِي أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ الْقَتِيلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ، وَالطَّعِينُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ، وَالْغَرِيقُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ، وَالْخَارُّ عَنْ دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ، وَالْمَجْنُوبُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ" ، قَالَ مُحَمَّدٌ: الْمَجْنُوبُ: صَاحِبُ الْجَنْبِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تم لوگ اپنے درمیان " شہید " کسے سمجھتے ہو؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہوا مارا جائے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس طرح تو میری امت میں شہدا کی تعداد بہت کم ہوگی، جہاد فی سبیل اللہ میں مارا جانا بھی شہادت ہے پیٹ کی بیماری میں مرنا بھی شہادت ہے، دریا میں غرق ہو کر مرنا بھی شہادت ہے، سواری سے گر کر مرنا بھی شہادت ہے اور ذات الجنب کی بیماری میں مبتلا ہو کر مرنا بھی شہادت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9695]
حکم دارالسلام
صحيح، خ: 653، م: 1915، وهذا إسناد ضعيف، أبو مالك مجهول، وابن إسحاق مدلس وقد عنعن
الحكم: صحيح، خ: 653، م: 1915، وهذا إسناد ضعيف، أبو مالك مجهول، وابن إسحاق مدلس وقد عنعن
حدیث نمبر: 9696 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، دَاوُدُ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ أَكْثَرَ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ، الْأَجْوَفَانِ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْأَجْوَفَانِ؟، قَالَ" الْفَرْجُ، وَالْفَمُ". قَالَ:" أَتَدْرُونَ أَكْثَرَ مَا يُدْخِلُ الْجَنَّةَ؟ تَقْوَى اللَّهِ، وَحُسْنُ الْخُلُقِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دو جوف دار چیزیں یعنی منہ اور شرمگاہ انسان کو سب سے زیادہ جہنم میں لے کر جائیں گی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ! دو جوف دار چیزوں سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا منہ اور شرم گاہ کیا تم جانتے ہو کہ لوگوں کو سب سے زیادہ کثرت کے ساتھ جنت میں تقویٰ اور حسن اخلاق لے کر جائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9696]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، داود ضعيف لكنه قد توبع
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، داود ضعيف لكنه قد توبع
حدیث نمبر: 9697 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، دَاوُدُ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقُومَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ وَبِهِ أَذًى، يَعْنِي الْبَوْلَ وَالْغَائِطَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو پیشاب پاخانہ کی ضرورت ہو تو وہ نماز کے لئے کھڑا نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9697]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف داود
الحكم: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف داود
حدیث نمبر: 9698 مسند احمد
تَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَبُو الْحَجَّافِ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا تَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْحَجَّافِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: نَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَلِيٍّ، وَالْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ، وَفَاطِمَةَ، فَقَالَ: " أَنَا حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَكُمْ، وَسِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ حسن رضی اللہ عنہ حسین رضی اللہ عنہ اور فاطمہ رضی اللہ عنہ پر ایک نظر ڈالی اور فرمایا میں اس کے لئے جنگ کا اعلان کرتا ہوں جو تم سے جنگ کرے اور اس کے لئے سلامتی کا اعلان کرتا ہوں جو تمہارے ساتھ سلامتی کا معاملہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9698]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا، تليد بن سليمان متهم بالكذب
الحكم: إسناده ضعيف جدا، تليد بن سليمان متهم بالكذب
حدیث نمبر: 9699 مسند احمد
ابْنُ إِدْرِيسَ ، سُهَيْلَ بْنَ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سُهَيْلَ بْنَ أَبِي صَالِحٍ يَذْكُرُ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صَلَّيْتُمْ بَعْدَ الْجُمُعَةِ فَصَلُّوا أَرْبَعًا، فَإِنْ عَجِلَ بِكَ شَيْءٌ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَرَكْعَتَيْنِ إِذَا رَجَعْتَ" . قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ: وَلَا أَدْرِي هَذَا مِنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمْ لَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم جمعہ کے بعد نوافل پڑھنا چاہو تو پہلے چار رکعتیں پڑھو اگر تمہیں کسی وجہ سے جلدی ہو تو دو رکعتیں مسجد میں پڑھ لو اور دو رکعتیں واپس آ کر پڑھ لینا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9699]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 881
الحكم: إسناده صحيح، م: 881