بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 82 از 194
حدیث نمبر: 8740 مسند احمد
رَجُلٌ قَدْ سَمَّاهُ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَجُلٌ قَدْ سَمَّاهُ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص کھڑے پانی میں پیشاب نہ کرے کہ پھر اس سے غسل کرنے لگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8740]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 239، م: 282
الحكم: إسناده صحيح، خ: 239، م: 282
حدیث نمبر: 8741 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، لَيْثٍ ، كَعْبٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ كَعْبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّكُمْ الْغُرُّ الْمُحَجَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ آثَارِ الطُّهُورِ" ، فَمَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يُطِيلَ غُرَّتَهُ فَلْيَفْعَلْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت کے دن تم لوگ وضو کے نشانات سے روشن اور چمکدار پیشانی والے ہوگے اس لئے تم میں سے جو شخص اپنی چمک بڑھا سکتا ہو اسے ایسا کرلینا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8741]
حکم دارالسلام
صحيح، م: 246، وهذا إسناد ضعيف، ليث ضعيف، وكعب مجهول
الحكم: صحيح، م: 246، وهذا إسناد ضعيف، ليث ضعيف، وكعب مجهول
حدیث نمبر: 8742 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ ، الْحَسَنُ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، إِذْ ذَاكَ وَنَحْنُ بِالْمَدِينَة، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَجِيءُ الْأَعْمَالُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَتَجِيءُ الصَّلَاةُ، فَتَقُولُ: يَا رَبِّ، أَنَا الصَّلَاةُ، فَيَقُولُ: إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ، فَتَجِيءُ الصَّدَقَةُ، فَتَقُولُ: يَا رَبِّ، أَنَا الصَّدَقَةُ، فَيَقُولُ: إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ، ثُمَّ يَجِيءُ الصِّيَامُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أَنَا الصِّيَامُ، فَيَقُولُ: إِنَّكَ عَلَى خَيْرٍ، ثُمَّ تَجِيءُ الْأَعْمَالُ عَلَى ذَلِكَ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّكَ عَلَى خَيْرٍ، ثُمَّ يَجِيءُ الْإِسْلَامُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَأَنَا الْإِسْلَامُ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّكَ عَلَى خَيْرٍ، بِكَ الْيَوْمَ آخُذُ، وَبِكَ أُعْطِي" ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي كِتَابِهِ: وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ سورة آل عمران آية 85، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّ الْحَسَنَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں یہ حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اعمال صالحہ بارگاہ الٰہی میں پیش ہوں گے چنانچہ نماز آکر کہے گی کہ پروردگار میں نماز ہوں ارشاد ہوگا کہ تو بھلائی پر ہے پھر زکوٰۃ آئے گی اور کہے گی کہ پروردگار میں زکوٰۃ ہوں ارشاد ہوگا کہ تو بھلائی پر ہے پھر روزہ آکر کہے گا کہ پروردگار میں روزہ ہوں ارشاد ہوگا کہ تو بھی بھلائی پر ہے اسی طرح سارے اعمال آتے جائیں گے اور اللہ فرماتے جائیں گے کہ تو بھلائی پر ہے پھر اسلام آئے گا اور کہے گا کہ پروردگار تو سلام ہے اور میں اسلام ہوں اللہ فرمائے گا کہ تو بھی بھلائی پر ہے آج میں تیری ہی وجہ سے مواخذہ کروں گا اور تیری ہی وجہ سے عطاء کروں گا ارشاد ربانی ہے جو شخص اسلام کے علاوہ کسی اور دین کو تلاش کرتا ہے تو وہ اس کی جانب سے قبول نہ ہوگا اور وہ شخص آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8742]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عباد ضعيف، والحسن لم يسمع من أبى هريرة
الحكم: إسناده ضعيف، عباد ضعيف، والحسن لم يسمع من أبى هريرة
حدیث نمبر: 8743 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ يَحْيَى الدِّمَشْقِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ ، الْقَاسِمَ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ مَوْلَى يَزِيدَ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يقوَلَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ إِنْ تُعْطِ الْفَضْلَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ، وَإِنْ تُمْسِكْهُ فَهُوَ شَرٌّ لَكَ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ، وَلَا يَلُومُ اللَّهُ عَلَى الْكَفَافِ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ لَكَ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ ارشاد نبوی منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے آدم اگر تو اپنی ضرورت سے زائد چیز کسی کو دے دے تو وہ تیرے حق میں بہتر ہے اور اگر اپنے پاس روک کر رکھے تو تیرے حق میں ہی برا ہے اور ان لوگوں سے ابتداء کر جو تیری ذمہ داری میں ہیں اور اللہ بقدر کفایت روکنے پر ملامت نہیں کرتا اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8743]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8744 مسند احمد
وَبِإِسْنَادِهِ، وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: مُرْنِي بِأَمْرٍ، وَلَا تُكْثِرْ عَلَيَّ حَتَّى أَعْقِلَهُ، قَالَ: " لَا تَغْضَبْ" فَأَعَادَ عَلَيْهِ، قَالَ:" لَا تَغْضَبْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ مجھے کسی ایک بات پر عمل کرنے کا حکم دے دیجئے زیادہ باتوں کا نہیں تاکہ میں اسے اچھی طرح سمجھ جاؤں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا غصہ نہ کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8744]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6116
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6116
حدیث نمبر: 8745 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي حَصِينٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ، حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ الشُّحُومُ فَبَاعُوهَا، وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہودیوں پر اللہ کی لعنت ہو ان پر چربی کو حرام قرار دیا گیا لیکن وہ اسے بیچ کر اس کی قیمت کھانے لگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8745]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2224، م: 1583
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2224، م: 1583
حدیث نمبر: 8746 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، عِمْرَانُ ، قَتَادَةَ ، أَبِي مِرَايَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي مِرَايَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تُصَلِّي الْمَلَائِكَةُ عَلَى نَائِحَةٍ، وَلَا عَلَى مُرِنَّةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی نوحہ کرنے والی یا آہ بکاء کرنے والی عورت کے لئے فرشتے دعاء مغفرت نہیں کرتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8746]
حکم دارالسلام
إسناده قابل للتحسين
الحكم: إسناده قابل للتحسين
حدیث نمبر: 8747 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ وَهُوَ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، عِمْرَانُ ، قَتَادَةَ ، الْعَلَاءِ بْنِ زِيَادٍ الْعَدَوِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ وَهُوَ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ زِيَادٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " بِنَاءُ الْجَنَّةِ لَبِنَةٌ مِنْ ذَهَبٍ، وَلَبِنَةٌ مِنْ فِضَّةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت کی عمارت میں ایک اینٹ سونے کی اور ایک اینٹ چاندی کی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8747]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، عمران متابع
الحكم: حديث صحيح، عمران متابع
حدیث نمبر: 8748 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، عِمْرَانُ ، قَتَادَةَ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَمَ عَلَى اللَّهِ مِنَ الدُّعَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ کے نزدیک دعاء سے زیادہ کوئی چیز معزز نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8748]
حکم دارالسلام
إسناده قابل للتحسين
الحكم: إسناده قابل للتحسين
حدیث نمبر: 8749 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، ضَمْضَمُ بْنُ جَوْسٍ الْهِفَّانِيُّ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ضَمْضَمُ بْنُ جَوْسٍ الْهِفَّانِيُّ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُول: ُسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ رَجُلَانِ، أَحَدُهُمَا مُجْتَهِدٌ فِي الْعِبَادَةِ، وَالْآخَرُ مُسْرِفٌ عَلَى نَفْسِهِ، وَكَانَا مُتَآخِيَيْنِ، فَكَانَ الْمُجْتَهِدُ لَا يَزَالُ يَرَى عَلَى الْآخَرِ ذَنْبًا، فَيَقُولُ: وَيْحَكَ أَقْصِرْ، فَيَقُولُ: الْمُذْنِب خَلِّنِي وَرَبِّي" فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي عَامِرٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بنی اسرائیل میں دو آدمی تھے ان میں سے ایک بڑا عبادت گذار اور دوسرا بہت گناہ گار تھا دونوں میں بھائی چارہ تھا عبادت گذار جب بھی دوسرے شخص کو گناہ کرتے ہوئے دیکھتا تو اس سے کہتا کہ اس سے باز آجا لیکن وہ جواب دیتا کہ تو مجھے اور میرے رب کو چھوڑ دے۔۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8749]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، عكرمة صدوق لكن قد روى أحاديث غرائب
الحكم: إسناده حسن، عكرمة صدوق لكن قد روى أحاديث غرائب
حدیث نمبر: 8750 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبُو هِلَالٍ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَوْ آمَنَ عَشَرَةٌ مِنْ أَحْبَارِ الْيَهُودِ، آمَنُوا بِي كُلُّهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر مجھ پر یہودیوں کے دس بڑے عالم ایمان لے آئیں تو روئے زمین کا ہر یہودی مجھ پر ایمان لے آئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8750]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3941، م: 2793، أبو هلال وإن كان فيه ضعف، متابع
الحكم: حديث صحيح، خ: 3941، م: 2793، أبو هلال وإن كان فيه ضعف، متابع
حدیث نمبر: 8751 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، أَبُو الْجُلَاسِ عُقْبَةُ بْنُ سَيَّارٍ ، عَلِيُّ بْنُ شَمَّاخٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنِي أَبُو الْجُلَاسِ عُقْبَةُ بْنُ سَيَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ شَمَّاخٍ ، قَالَ: شَهِدْتُ مَرْوَانَ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ : كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْجِنَازَةِ؟ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: " اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبُّهَا، وَأَنْتَ خَلَقْتَهَا، وَأَنْتَ هَدَيْتَهَا لِلْإِسْلَامِ، وَأَنْتَ قَبَضْتَ رُوحَهَا، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِسِرِّهَا وَعَلَانِيَتِهَا، جِئْنَا شُفَعَاءَ فَاغْفِرْ لَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عثمان بن شماخ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مروان نے میری موجودگی میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے نماز جنازہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کون سی دعاء پڑھتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ آپ ہی اس کے رب ہیں آپ ہی نے اسے پیدا کیا آپ ہی نے اسلام کی طرف اس کی رہنمائی فرمائی اور آپ ہی نے اس کی روح قبض فرمائی آپ اس کے پوشیدہ اور ظاہر سب کو جانتے ہیں ہم آپ کے پاس اس کے سفارشی بن کر آئے ہیں آپ اسے معاف فرما دیجئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8751]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، فيه ثلاث علل: اضطراب إسناده ، وجهالة بعض رواته ورواية بعضهم له موقوفا
الحكم: إسناده ضعيف، فيه ثلاث علل: اضطراب إسناده ، وجهالة بعض رواته ورواية بعضهم له موقوفا
حدیث نمبر: 8752 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، يُونُسُ ، الْحَسَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَطْفِئُوا السُّرُجَ، وَأَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ، وَخَمِّرُوا الطَّعَامَ وَالشَّرَابَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا رات کو سوتے وقت چراغ بجھا دیا کرو دروازے بند کردیا کرو اور کھانے پینے کی چیزیں ڈھانپ دیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8752]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبى هريرة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبى هريرة
حدیث نمبر: 8753 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، أَبِي بَلْجٍ ، عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کیا میں تمہیں جنت کا ایک خزانہ نہ بتاؤں؟ یوں کہا کرو لا قوۃ الا باللہ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8753]
حکم دارالسلام
صحيح دون قوله: تحت العرش ، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح دون قوله: تحت العرش ، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8754 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، سُهَيْلٍ ، أبيه ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ , عن أبيه ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيْسَ السَّنَةُ أَنْ لَا يَكُونَ مَطَرٌ، وَلَكِنَّ السَّنَةَ أَنْ تُمْطِرَ السَّمَاءُ وَلَا تُنْبِتُ الْأَرْضُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قحط سالی یہ نہیں ہے کہ بارشیں نہ ہوں قحط سالی یہ ہے کہ آسمان سے بارشیں تو خوب برسیں لیکن زمین سے پیداوار نہ نکلے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8754]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2904
الحكم: إسناده صحيح، م: 2904
حدیث نمبر: 8755 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يُحْشَرُ النَّاسُ ثَلَاثَةَ أَصْنَافٍ صِنْفًا مُشَاةً، وَصِنْفًا رُكْبَانًا، وَصِنْفًا عَلَى وُجُوهِهِمْ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ يَمْشُونَ عَلَى وُجُوهِهِمْ؟ فَقَالَ:" إِنَّ الَّذِي أَمْشَاهُمْ عَلَى أَقْدَامِهِمْ، قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُمْ عَلَى وُجُوهِهِمْ، أَمَا إِنَّهُ يَتَّقُونَ بِكُلِّ حَدَبٍ وَشَوْكٍ" ، قَالَ عَفَّانُ:" يَتَّقُونَ بِوُجُوهِهِمْ كُلَّ حَدَبٍ وَشَوْكٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن تین اصناف کی صورت میں جمع ہوں گے ایک قسم پیدل چلنے والوں کی ہوگی ایک قسم سواروں کی ہوگی اور ایک قسم چہروں کے بل چلنے والوں کی ہوگی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ! لوگ اپنے چہروں کے بل کیسے چلیں گے؟ فرمایا جو ذات انہیں پاؤں پر چلاتی ہے وہ انہیں چہروں کے بل چلانے پر بھی قاد رہے اس لئے انہیں ہر پھسلن اور کانٹے سے اپنے چہروں کو بچانا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8755]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على وجهالة أوس
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على وجهالة أوس
حدیث نمبر: 8756 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، وَاصِلٍ ، يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ وَاصِلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَقْتَصُّ الْخَلْقُ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ، حَتَّى الْجَمَّاءُ مِنَ الْقَرْنَاءِ، وَحَتَّى للذَّرَّةُ مِنَ الذَّرَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن مخلوقات کو ایک دوسرے سے قصاص دلایا جائے گا حتیٰ کہ بےسینگ بکری کو سینگ والی بکری سے اور چیونٹی کو چیونٹی سے بھی قصاص دلوایا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8756]
حکم دارالسلام
صحيح دون قوله: و حتى للذرة من الذرة ، وهذا إسناد حسن، م: 2582
الحكم: صحيح دون قوله: و حتى للذرة من الذرة ، وهذا إسناد حسن، م: 2582
حدیث نمبر: 8757 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَمَّادٌ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، أَبِي الصَّلْتِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الصَّلْتِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " انْتَهَيْتُ إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ فَنَظَرْتُ، فَإِذَا أَنَا فَوْقِي بِرَعْدٍ وَصَوَاعِقَ، ثُمَّ أَتَيْتُ عَلَى قَوْمٍ بُطُونُهُمْ كَالْبُيُوتِ، فِيهَا الْحَيَّاتُ، تُرَى مِنْ خَارِجِ بُطُونِهِمْ، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ أَكَلَةُ الرِّبَا، فَلَمَّا نَزَلْتُ وَانْتَهَيْتُ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا، فَإِذَا أَنَا بِرَهْجٍ وَدُخَانٍ وَأَصْوَاتٍ، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: الشَّيَاطِينُ يَحْرِفُونَ عَلَى أَعْيُنِ بَنِي آدَمَ أَنْ لَا يَتَفَكَّرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَوْلَا ذَلِكَ لَرَأَتْ الْعَجَائِبَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا شب معراج کے موقع پر جب ہم ساتویں آسمان پر پہنچے تو میری نگاہ اوپر کو اٹھ گئی وہاں بادل کی گرج چمک اور کڑک تھی پھر میں ایسی قوم کے پاس پہنچا جن کے پیٹ کمروں کی طرح تھے جن میں سانپ وغیرہ ان کے پیٹ کے باہر سے نظر آرہے تھے میں نے پوچھا جبرائیل علیہ السلام یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ سود خور ہیں۔ پھر جب میں آسمان دنیا پر واپس آیا تو میری نگاہیں نیچے پڑگئیں وہاں چیخ و پکار، دھواں اور آوازیں سنائی دیں میں نے پوچھا جبرائیل یہ کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ شیاطین ہیں جو بنی آدم کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں تاکہ وہ آسمان اور زمین کی شہنشاہی میں غور فکر نہ کرسکیں اگر ایسا نہ ہوتا تو لوگوں کو بڑے عجائبات نظر آتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8757]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف على وجهالة الصلت
الحكم: إسناده ضعيف لضعف على وجهالة الصلت
حدیث نمبر: 8758 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَاصِمٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْقِنْطَارُ اثْنَا عَشَرَ أَلْفَ أُوقِيَّةٍ، كُلُّ أُوقِيَّةٍ خَيْرٌ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک قنطار میں بارہ ہزار اوقیہ ہوتے ہیں اور ہر اوقیہ زمین و آسمان کے درمیان کی تمام چیزوں سے بہتر ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8758]
حکم دارالسلام
حديث مضطرب سندا ومتنا، فقد اختلف فى رفعه، ووقفه
الحكم: حديث مضطرب سندا ومتنا، فقد اختلف فى رفعه، ووقفه
حدیث نمبر: 8759 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ ، أَبُو كَثِيرٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: نَهَى أَنْ تُبَاعَ الثَّمَرَةُ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پکنے سے پہلے پھل کی خریدو فروخت سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8759]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1538، وهذا إسناد ضعيف لضعف عمر بن راشد
الحكم: حديث صحيح، م: 1538، وهذا إسناد ضعيف لضعف عمر بن راشد