بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 73 از 194
حدیث نمبر: 8559 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " يُوشِكُ أَنْ يَحْسِرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ، يَقْتَتِلُ عَلَيْهِ النَّاسُ حَتَّى يُقْتَلَ مِنْ كُلِّ عَشْرَةٍ تِسْعَةٌ، وَيَبْقَى وَاحِدٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب دریائے فرات کا پانی ہٹ کر اس میں سے سونے کا ایک پہاڑ برآمد ہوگا لوگ اس کی خاطر آپس میں لڑنا شروع کردیں گے حتی کہ ہر دس میں سے نو آدمی مارے جائیں گے اور صرف ایک آدمی بچے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8559]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 1719 ، م : 2894
الحكم: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 1719 ، م : 2894
حدیث نمبر: 8560 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أَتَى أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْنَبٍ قَدْ شَوَاهَا، وَمَعَهَا صِنَابُهَا وَأُدُمُهَا، فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَأَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَأْكُلْ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَأْكُلُوا، فَأَمْسَكَ الْأَعْرَابِيُّ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَأْكُلَ؟" قَالَ: إِنِّي أَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ، قَالَ:" إِنْ كُنْتَ صَائِمًا فَصُمْ أَيَّامَ الْغُرِّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک بھنا ہوا خرگوش لے کر آیا اس کے ساتھ چٹنی اور سالن بھی تھا اس نے یہ سب چیزیں لا کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے رکھ دیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ہاتھ روکے رکھا اور اس میں سے کچھ بھی نہ کھایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو کھانے کا حکم دے دیا اس دیہاتی نے بھی ہاتھ روکے رکھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تم کیوں نہیں کھا رہے؟ اس نے کہا کہ میں ہر مہینے تین روزے رکھتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم روزے رکھنا ہی چاہتے ہو تو پھر ایام بیض کے روزے رکھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8560]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح
الحكم: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 8561 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ أَبِي إِلَى الشَّامِ، فَكَانَ أَهْلُ الشَّام، يَمُرُّونَ بِأَهْلِ الصَّوَامِعِ فَيُسَلِّمُونَ عَلَيْهِمْ، فَسَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ، وَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سہل بن ابی صالح رحمتہ اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ شام کی طرف روانہ ہوا (میں نے دیکھا کہ) شام کے لوگ جب کسی گرجے کے لوگوں پر گذرتے تو انہیں سلام کرتے میں نے اس موقع پر اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ فرمان سنا ہے کہ انہیں سلام کرنے میں پہل نہ کرو اور انہیں تنگ راستے کی طرف مجبور کردو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8561]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، م : 2167
الحكم: إسنادہ صحیح ، م : 2167
حدیث نمبر: 8562 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَيْسٍ ، طَاوُسٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا عَلَى الْفِطْرَةِ، حَتَّى يَكُونَ أَبَوَاهُ اللَّذَانِ يُهَوِّدَانِهِ أو َيُنَصِّرَانِهِ، كَمَا تُنْتِجُونَ أَنْعَامَكُمْ، هَلْ تَكُونُ فِيهَا جَدْعَاءُ؟ حَتَّى تَكُونُوا أَنْتُمْ تَجْدَعُونَهَا"، قَالَ رَجُلٌ: فَأَيْنَ هُمْ؟ قَالَ:" اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ" ، قَالَ قَيْسٌ: مَا أَرَى ذَلِكَ الرَّجُلَ إِلَّا كَانَ قَدَرِيًّا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہر بچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے بعد میں اس کے والدین اسے یہودی یا عیسائی بنا دیتے ہیں اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے تمہارے یہاں جانور پیدا ہوتا ہے کیا تم اس میں کوئی نکٹا محسوس کرتے ہو؟ بعد میں تم خود ہی اس کی ناک کاٹ دیتے ہو ایک آدمی نے پوچھا کہ یہ بچے کہاں ہوں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ زیادہ جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا کرتے؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8562]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 1358 ، م : 2658
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 1358 ، م : 2658
حدیث نمبر: 8563 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ إِذَا وَلَّوْا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مردہ لوگوں کی جوتیوں کی آہٹ تک سنتا ہے جب وہ واپس جا رہے ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8563]
حکم دارالسلام
صحیح لغیرہ ، وھذا إسناد حسن
الحكم: صحیح لغیرہ ، وھذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8564 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَا تُسَافِرْ امْرَأَةٌ مَسِيرَةَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إِلَّا مَعَ ذِي رَحِمٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کوئی عورت اپنے اہل خانہ میں سے کسی محرم کے بغیر تین دن کا سفر نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8564]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 1088 ، م : 1339
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 1088 ، م : 1339
حدیث نمبر: 8565 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّام ، قَتَادَةُ ، النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّام ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ شِقْصًا مِنْ مَمْلُوكٍ، فَأَجَازَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِتْقَهُ، وَغَرَّمَهُ بَقِيَّةَ ثَمَنِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کسی غلام کو اپنے حصے کے بقدر آزاد کردیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس آزادی کو نافذ فرما دیا اور اسے بقیہ قیمت کا ضامن مقرر فرما دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8565]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح
الحكم: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 8566 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَنْ وَجَدَ مَتَاعَهُ عِنْدَ مُفْلِسٍ بِعَيْنِهِ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس آدمی کو مفلس قرار دے دیا گیا ہو اور کسی شخص کو اس کے پاس بعینہ اپنا مال مل جائے تو دوسروں کی نسبت وہ اس مال کا زیادہ حقدار ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8566]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 2402 ، م : 1559
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 2402 ، م : 1559
حدیث نمبر: 8567 مسند احمد
بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، النَّضْرُ بْنُ أَنَسٍ ، بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ لِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ: مَا تَقُولُ فِي الْعُمْرَى؟ قُلْتُ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عمر بھر کے لئے کسی چیز کو وقف کردینا صحیح ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8567]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 2626 ، م : 1626
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 2626 ، م : 1626
حدیث نمبر: 8568 مسند احمد
بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قالَ: " مَنْ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ يَمِيلُ لِإِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَة، وَأَحَدُ شِقَّيْهِ سَاقِطٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ ایک کو دوسری پر ترجیح دیتا ہو (ناانصافی کرتا ہو) وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کے جسم کا ایک حصہ گر چکا ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8568]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح
الحكم: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 8569 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " أُمْطِرَ أَوْ تَسَاقَطَ عَلَى أَيُّوبَ فَرَاشٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ يَلْتَقِطُ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: يَا أَيُّوبُ، أَفَلَمْ أُوَسِّعْ عَلَيْكَ؟ قَالَ: بَلَى! وَلَكِنِّي لَا غِنَى بِي عَنْ فَضْلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام پر سونے کی ٹڈیاں برسائیں حضرت ایوب علیہ السلام انہیں اپنے کپڑے میں سمیٹنے لگے اتنی دیر میں آواز آئی کہ اے ایوب! کیا ہم نے تمہیں جتنا دے رکھا ہے وہ تمہارے لئے کافی نہیں ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ پروردگار! آپ کے فضل یا رحمت سے کون مستغنی رہ سکتا ہے؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8569]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 279
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 279
حدیث نمبر: 8570 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَنْ صَلَّى يَعْنِي مِنَ الصُّبْحِ رَكْعَةً، ثُمَّ طَلَعَتْ الشَّمْسُ، فَلْيُصَلِّ إِلَيْهَا أُخْرَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو طلوع آفتاب سے قبل نماز فجر کی ایک رکعت مل جائے تو اس کے ساتھ دوسری رکعت بھی شامل کرلے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8570]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 556 ، م : 608
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 556 ، م : 608
حدیث نمبر: 8572 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ ، رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ: مَعْرُوفٌ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ: مَعْرُوفٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وَتْرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وصیت فرمائی ہے کہ وتر پڑھے بغیر نہ سوؤں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8572]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، خ : 1178 ، م : 721 ، وھذا إسناد ضعیف ، معروف الأزدي مجھول
الحكم: حدیث صحیح ، خ : 1178 ، م : 721 ، وھذا إسناد ضعیف ، معروف الأزدي مجھول
حدیث نمبر: 8573 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَبِي أَيُّوبَ الْعَتَكِيِّ وَهُوَ يَحْيَى بْنُ مَالِكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْعَتَكِيِّ وَهُوَ يَحْيَى بْنُ مَالِكٍ وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً: قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَجْتَنِبْ الْوَجْهَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کسی کو مارے تو چہرے پر مارنے سے اجتناب کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8573]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 2559 ، م : 2612
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 2559 ، م : 2612
حدیث نمبر: 8574 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، وَأَبَانُ ، قَتَادَةُ ، الْحَسَنِ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، وَأَبَانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ، وَأَجْهَدَ نَفْسَهُ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ، أَنْزَلَ أَوْ لَمْ يُنْزِلْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب مرد اپنی بیوی کے چاروں کونوں کے درمیان بیٹھ جائے اور کوشش کرلے تو اس پر غسل واجب ہوگیا خواہ انزال ہو یا نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8574]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 291 ، م : 348
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 291 ، م : 348
حدیث نمبر: 8575 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقَدَّمُوا بَيْنَ يَدَيْ رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ وَلَا يَوْمَيْنِ، إِلَّا رَجُلٌ كَانَ صِيَامَهُ، فَلْيَصُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے نہ رکھا کرو البتہ اس شخص کو اجازت ہے جس کا معمول پہلے سے روزہ رکھنے کا ہو کہ اسے روزہ رکھ لینا چاہئے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8575]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 1914 ، م : 1082
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 1914 ، م : 1082
حدیث نمبر: 8576 مسند احمد
قَالَ: قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" ، قَالَ عَفَّانُ: وَحَدَّثَنَا أَبَانُ L18 فِي هَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8576]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 35 ، م : 760
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 35 ، م : 760
حدیث نمبر: 8577 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، عَامِرٌ يَعْنِي الْأَحْوَلَ ، عَطَاءٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ يَعْنِي الْأَحْوَلَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ، فَمَضْمَضَ ثَلَاثًا، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، وَوَضَّأَ قَدَمَيْه" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک مرتبہ وضو کیا تو اس میں تین مرتبہ کلی کی تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا تین مرتبہ چہرہ دھویا تین مرتبہ ہاتھ دھوئے سر کا مسح کیا اور دونوں پاؤں دھوئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8577]
حکم دارالسلام
صحیح لغیرہ ، وھذا إسناد حسن
الحكم: صحیح لغیرہ ، وھذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8578 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٍ ، عُثْمَانَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عُثْمَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8578]
حکم دارالسلام
حدیث صحیح ، وإسنادہ منقطع ، فإن عطاء لم یدرك عثمان ، و انظر ما قبله
الحكم: حدیث صحیح ، وإسنادہ منقطع ، فإن عطاء لم یدرك عثمان ، و انظر ما قبله
حدیث نمبر: 8579 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَا تَهْجُرُ امْرَأَةٌ فِرَاشَ زَوْجِهَا، إِلَّا لَعَنَتْهَا مَلَائِكَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو عورت (کسی ناراضگی کی بنا پر) اپنے شوہر کا بستر چھوڑ کر (دوسرے بستر پر) رات گذارتی ہے اس پر ساری رات فرشتے لعنت کرتے رہتے ہیں (تاآنکہ وہ واپس آجائے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8579]
حکم دارالسلام
إسنادہ صحیح ، خ : 5194 ، م : 1436
الحكم: إسنادہ صحیح ، خ : 5194 ، م : 1436