بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 79 از 194
حدیث نمبر: 8680 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي يُونُسَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " أَهْلُ الْجَنَّةِ رَشْحُهُمْ الْمِسْكُ وَوُقُودُهُمْ الْأَلُوَّةُ" ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ لَهِيعَةَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَا الْأَلُوَّةُ؟ قَالَ: الْعُودُ الْهِنْدِيُّ الْجَيِّدُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اہل جنت کا پسینہ مشک کی طرح خوشبو دار ہوگا اور ان کی انگیٹھیوں میں عود ہندی ڈالا جائے گا (جس سے ہر چارسو فضا معطر ہوجائے گی) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8680]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3254، م: 2834، وهذا إسناد ضعيف لأجل ابن لهيعة
الحكم: حديث صحيح، خ: 3254، م: 2834، وهذا إسناد ضعيف لأجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 8681 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبَانُ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ الْعَطَّارَ ، قَتَادَةَ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ الْعَطَّارَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَذَاكَرُوا الْكَمَأَةَ، فَقَالُوا: هِيَ جُدَرِيُّ الْأَرْضِ، وَمَا نَرَى أَكْلَهَا يَصْلُح، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " الْكَمَأَةُ مِنَ الْمَنِّ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ، وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَهِيَ شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے تو وہ اس درخت کے بارے میں اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے تھے جو سطح زمین سے ابھرتا ہے اور اسے قرار نہیں ہوتا چنانچہ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ ہمارے خیال میں وہ کھنبی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کھنبی تو من (جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا) کا حصہ ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفا ہے اور عجوہ کھجور جنت کی کھجور ہے اور زہر کی شفا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8681]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر
حدیث نمبر: 8682 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، الْعَلَاء وهو ابنُ عبد الرحمنُ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْعَلَاء وهو ابنُ عبد الرحمنُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَقَرَأَ عَلَيْهِ أُبَيٌّ أُمَّ الْقُرْآنِ، فَقَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا أُنْزِلَ فِي التَّوْرَاةِ، وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ، وَلَا فِي الزَّبُورِ، وَلَا فِي الْفُرْقَانِ مِثْلُهَا، إِنَّهَا السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُعْطِيتُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے سورت فاتحہ کی تلاوت کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تورات انجیل اور زبور بلکہ خود قرآن میں بھی اس جیسی دوسری سورت نازل نہیں ہوئی یہ وہی سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے جو مجھے عطاء ہوا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8682]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4704
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4704
حدیث نمبر: 8683 مسند احمد
سُلَيْمَانُ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ : أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُصُّ عَلَى الْمِنْبَرِ: وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ سورة الرحمن آية 46، فَقُلْتُ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ النبي اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّانِيَةَ: وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ سورة الرحمن آية 46، فَقُلْتُ في الثَّانِيَةَ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّالِثَةَ: وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَان سورة الرحمن آية 46، فَقُلْتُ الثَّالِثَةَ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ:" نَعَمْ، وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِي الدَّرْدَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے دوران وعظ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرتا ہے اس کے لئے دو جنتیں ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! خواہ وہ زنا اور چوری ہی کرتا پھرے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر وہی آیت پڑھی کہ جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرتا ہے اس کے لئے دو جنتیں ہیں تین مرتبہ اسی طرح سوال و جواب ہوئے تیسری مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں اگرچہ ابو درداء کی ناک خاک آلودہ ہوجائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8683]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8684 مسند احمد
سُلَيْمَانُ ، إِسْمَاعِيلُ ، أَبُو سُهَيْلٍ نَافِعُ بْنُ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سُهَيْلٍ نَافِعُ بْنُ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ، فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ، وَصُفِّدَتْ الشَّيَاطِينُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب ماہ رمضان شروع ہوتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8684]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1898، م: 1079
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1898، م: 1079
حدیث نمبر: 8685 مسند احمد
سُلَيْمَانُ ، إِسْمَاعِيلُ ، أَبُو سُهَيْلٍ نَافِعُ بْنُ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سُهَيْلٍ نَافِعُ بْنُ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا منافق کی تین نشانیاں ہیں جب بات کرے تو جھوٹ بولے جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب امانت رکھوائی جائے تو خیانت کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8685]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 33، م: 59
الحكم: إسناده صحيح، خ: 33، م: 59
حدیث نمبر: 8686 مسند احمد
سُلَيْمَانُ ، إِسْمَاعِيلُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا عُمْرَى، فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عمر بھر کے لئے کسی چیز کو وقف کرنے کی کوئی حیثیت نہیں جس شخص کو ایسی چیز دی گئی ہو وہ اس کی ہوگئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8686]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8687 مسند احمد
سُلَيْمَانُ ، إِسْمَاعِيلُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظَ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظَ يَصِيحُ فِي الْمَسْجِدِ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِسُوءٍ، أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اہل مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا اللہ اسے اس طرح پگھلا دے گا جیسے نمک پانی میں پگھل جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8687]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 1386
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 1386
حدیث نمبر: 8688 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَبُو عَوَانَةَ ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثٌ كُلُّهُنَّ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ: عِيَادَةُ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ إِذَا حَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تین چیزیں ایسی ہیں جو ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا حق ہیں مریض کی بیمار پرسی کرنا نماز جنازہ میں شرکت کرنا اور چھینکنے والے کو جبکہ وہ الحمدللہ کہے چھینک کا جواب (یرحمک اللہ کہہ کر) دینا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8688]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1240، م: 2162
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1240، م: 2162
حدیث نمبر: 8689 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا تَمَنَّى أَحَدُكُمْ، فَلْيَنْظُرْ مَا يَتَمَنَّى، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا يُكْتَبُ لَهُ مِنْ أُمْنِيَّتِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص تمنا کرے تو دیکھ لے کہ کس چیز کی تمنا کر رہا ہے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کی تمنا میں کیا لکھا گیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8689]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عمر عند التفرد
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عمر عند التفرد
حدیث نمبر: 8690 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، بَاعَدَهُ اللَّهُ مِنْ جَهَنَّمَ سَبْعِينَ خَرِيفًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ کی رضا کے لئے ایک دن روزہ رکھتا ہے اللہ اسے جہنم سے ستر سال کے فاصلے پر دور کردیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8690]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالرحمن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالرحمن
حدیث نمبر: 8691 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ ، سَعِيدًا الْمَقْبُرِيَّ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ مُؤَذِّنُ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدًا الْمَقْبُرِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ خَيْرَ الْكَسْبِ كَسْبُ يَدَيْ عَامِلٍ إِذَا نَصَحَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بہترین کمائی مزدور کے ہاتھ کی کمائی ہوتی ہے جبکہ وہ خیرخواہی سے کام کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8691]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8692 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، إِسْمَاعِيلَ بْنَ أُمَيَّةَ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، سَمِعْتُ إِسْمَاعِيلَ بْنَ أُمَيَّةَ يُحَدِّثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: ثَلَاثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ كُنْتُ خَصْمَهُ خَصَمْتُهُ رَجُلٌ أَعْطَى بِي ثُمَّ غَدَرَ، وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهُ، وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ وَلَمْ يُوَفِّهِ أَجْرَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تین قسم کے آدمی ایسے ہیں قیامت کے دن جن کا خصم میں ہوں گا اور جس کا خصم میں ہوں میں اس پر غالب آجاؤں گا ایک تو وہ آدمی جو میرے ساتھ کوئی وعدہ کرے پھر مجھے دھوکہ دے (وعدہ خلافی کرے) دوسرا وہ آدمی جو کسی آزاد آدمی کو بیچ ڈالے اور اس کی قیمت کھاجائے اور تیسرا وہ آدمی جو کسی شخص سے مزدوری کروائے مزدوری تو پوری لے لیکن اس کی اجرت پوری نہ دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8692]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2227
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2227
حدیث نمبر: 8693 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الْأَسْوَدِ ، سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، أَبُو صَالِحٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، قَالَ: سَأَلْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، عَنْ السَّبْقِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " لَا سَبْقَ إِلَّا فِي خُفٍّ أَوْ حَافِرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ صرف اونٹ یا گھوڑے میں ریس لگائی جاسکتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8693]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا سند ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ
الحكم: حديث صحيح، وهذا سند ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 8694 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، الْحَسَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا وَدَّعَ أَحَدًا، قَالَ: " أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكَ، وَأَمَانَتَكَ، وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی کو رخصت کرتے تو یوں فرماتے کہ میں تمہارا دین، امانت اور اعمال کا خاتمہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8694]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأجل ابن لهيعة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 8695 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَبَانُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيَّ ، مَوْلًى ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيَّ ، حَدَّثَنِي مَوْلًى لِأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَضِّئْنِي، فَأَتَيْتُهُ بِوَضُوءٍ فَاسْتَنْجَى، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي التُّرَابِ فَمَسَحَهَا، ثُمَّ غَسَلَهَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رِجْلَاكَ لَمْ تَغْسِلْهُمَا! قَالَ:" إِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھ سے فرمایا کہ مجھے وضو کراؤ چنانچہ میں وضو کا پانی لایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پہلے استنجاء کیا پھر اپنے ہاتھ مٹی میں ڈال کر ان پر مٹی ملی پھر انہیں دھویا پھر مکمل وضو کیا آخر میں موزوں پر بھی مسح فرمایا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ نے پاؤں نہیں دھوئے؟ فرمایا میں نے وضو کی حالت میں یہ موزے پہنے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8695]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، أبان فى حفظه لين، والراوي عن أبى هريرة مبهم، ويشهد لمسح الخفين بنحو هذا اللفظ حديث المغيرة عند البخاري: 5799، ومسلم: 274
الحكم: إسناده ضعيف، أبان فى حفظه لين، والراوي عن أبى هريرة مبهم، ويشهد لمسح الخفين بنحو هذا اللفظ حديث المغيرة عند البخاري: 5799، ومسلم: 274
حدیث نمبر: 8696 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عِمْرَانُ يَعْنِي ابْنَ زَائِدَةَ بْنِ نَشِيطٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي خَالِدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ يَعْنِي ابْنَ زَائِدَةَ بْنِ نَشِيطٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يعنى" قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَا ابْنَ آدَمَ، تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِي أَمْلَأْ صَدْرَكَ غِنًى، وَأَسُدَّ فَقْرَكَ، وَإِلَّا تَفْعَلْ مَلَأْتُ صَدْرَكَ شُغْلًا، وَلَمْ أَسُدَّ فَقْرَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے اے ابن آدم میری عبادت کے لئے اپنے آپ کو فارغ کرلے میں تیرے سینے کو مالداری سے بھر دوں گا اور تیرے فقر کے آگے بند باندھ دوں گا اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے سینے میں مصروفیات بھر دوں گا اور تیرا فقر زائل نہ کروں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8696]
حکم دارالسلام
إسناده محتمل للتحسين
الحكم: إسناده محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 8697 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، كَامِلٌ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا كَامِلٌ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى تَصِيرَ لِلُكَعِ ابْنِ لُكَعٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دنیا اس وقت تک فناء نہ ہوگی جب تک کہ زمام حکومت کمینہ ابن کمینہ کے ہاتھ میں نہ آجائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8697]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى صالح
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى صالح
حدیث نمبر: 8698 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، كَامِلٌ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا كَامِلٌ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْمُكْثِرِينَ يَعْنِي هُمْ الْأَقَلُّونَ، إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مال و دولت کی ریل پیل والے لوگ ہی قلت کا شکار ہوں گے سوائے ان لوگوں کے جو اپنے ہاتھوں سے بھر بھر کر دائیں بائیں اور آگے تقسیم کریں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8698]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى صالح
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى صالح
حدیث نمبر: 8699 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، أَبِيهِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " قَلْبُ الشَّيْخِ شَابٌّ عَلَى حُبِّ اثْنَتَيْنِ طُولِ الْحَيَاةِ، وَكَثْرَةِ الْمَالِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بوڑھے آدمی میں دو چیزوں کی محبت جوان ہوجاتی ہے لمبی زندگانی اور مال و دولت کی فراوانی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8699]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 9420، م: 1046
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 9420، م: 1046