بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 90 از 194
حدیث نمبر: 8900 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرٍ ، عَاصِمٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبْرِدُوا بِالظُّهْرِ، فَإِنَّ حَرَّهَا مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ظہر کی نماز ٹھنڈی کرکے پڑھا کرو کیونکہ گرمی کی شدت جن ہم کی تپش کا اثر ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8900]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 533، م: 615
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 533، م: 615
حدیث نمبر: 8901 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرٍ ، عَاصِمٍ ، رَجُلٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي غاضرةٍ، قال: قَيل لِمَرْوَانَ: هَذَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَلَى الْبَابِ، قَالَ: ائْذَنُوا لَهُ، قَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " أَوْشَكَ الرَّجُلُ أَنْ يَتَمَنَّى أَنَّهُ خَرَّ مِنَ الثُّرَيَّا وَأَنَّهُ لَمْ يَتَوَلَّ أَوْ يَلِ، شَكَّ أَبُو بَكْرٍ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ شَيْئًا" . قَالَ: قَالَ: وَسَمِعْتُهُ , يَقُولُ: " إِنَّ هَلَاكَ الْعَرَبِ بِيَدَيْ فِتْيَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ" ، قَالَ: قَالَ مَرْوَانُ: بِئْسَ وَاللَّهِ الْفِتْيَةُ هَؤُلَاءِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ مروان کو بتایا گیا کہ اس کے دروازے پر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہیں اس نے کہا کہ انہیں اندر بلاؤ جب وہ اندر آگئے تو مروان نے کہا کہ اے ابوہریرہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہو انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ انسان یہ تمنا کرے گا کاش وہ ثریا ستارے کی بلندی سے گر جاتا لیکن کاروبار حکومت میں سے کوئی ذمہ داری اس کے حوالے نہ کی جاتی۔ اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عرب کی ہلاکت قریش کے چند نوجوانوں کے ہاتھوں ہوگی مروان کہنے لگا واللہ وہ تو بدترین نوجوان ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8901]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، الرجل المبهم هو يزيد بن شريك، لم نقف له على ترجمة
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، الرجل المبهم هو يزيد بن شريك، لم نقف له على ترجمة
حدیث نمبر: 8902 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرٍ ، عَاصِمٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ"، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ تُوَاصِلُ! قَالَ: " إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ، إِنِّي أَظَلُّ عِنْدَ رَبِّي يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو بچاؤ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس معاملے میں میں تمہاری طرح نہیں ہوں میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8902]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1965، م: 1103
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1965، م: 1103
حدیث نمبر: 8903 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرٍ ، عَاصِمٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَرَآهُمْ عِزِينَ مُتَفَرِّقِينَ، قَالَ: فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا، مَا رَأَيْنَاهُ غَضِبَ غَضَبًا أَشَدَّ مِنْهُ، قَالَ:" وَاللَّهِ، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا يَؤُمُّ النَّاسَ، ثُمَّ أَتَتَبَّعَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي دُورِهِمْ، فَأُحَرِّقَهَا عَلَيْهِمْ" وَرُبَّمَا قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد میں تشریف لائے تو لوگوں کو متفرق گروہوں میں دیکھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایسا شدید غصہ آیا کہ ہم نے اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایسے شدید غصے میں کبھی نہ دیکھا تھا اور فرمایا واللہ میں نے یہ ارادہ کرلیا تھا کہ ایک آدمی کو لوگوں کی امامت کا حکم دوں اور جو لوگ نماز سے ہٹ کر اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں ان کی تلاش میں نکلوں اور ان کے گھروں کو آگ لگا دوں (بعض اوقات راوی نماز عشاء کی قید بھی لگاتے تھے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8903]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2420، م: 651
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2420، م: 651
حدیث نمبر: 8904 مسند احمد
أَسْوَد بن عامر ، أَبُو بَكْرٍ ، عَاصِمٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَد بن عامر ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ، إِلَّا مِن أَمْرِ حَقَّ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے برابر اس وقت تک قتال کرتا رہوں جب تک وہ لاالہ الا اللہ کا اقرار نہ کرلیں جب وہ یہ کلمہ پڑھ لیں تو سمجھ لیں کہ انہوں نے مجھ سے اپنی جان مال کو محفوظ کرلیا سوائے اس کے حق کے اور ان کا حساب کتاب اللہ کے ذمے ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8904]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 21
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 21
حدیث نمبر: 8905 مسند احمد
أَسْوَد بن عامر ، أَبُو بَكْرٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَد بن عامر ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " اثْنَانِ هُمَا كُفْرٌ النِّيَاحَةُ، وَالطَّعْنُ فِي النَّسَبِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کرتے تھے دو چیزیں کفر ہیں ایک تو نوحہ کرنا اور دوسرا کسی کے نسب پر طعنہ مارنا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8905]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 67
الحكم: إسناده صحيح، م: 67
حدیث نمبر: 8906 مسند احمد
أَسْوَدُ ، أَبُو بَكْرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُؤْتَ بِالْمَوْتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَبْشًا أَمْلَحَ، فَيُقَالُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، تَعْرِفُونَ هَذَا؟ قال: فَيَطَّلِعُونَ خَائِفِينَ مُشْفِقِينَ، قَالَ: يَقُولُونَ: نَعَمْ، قَالَ: ثُمَّ يُنَادَى أَهْلُ النَّارِ تَعْرِفُونَ هَذَا؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، قَالَ: فَيُذْبَحُ، ثُمَّ يُقَالُ: خُلُودٌ فِي الْجَنَّةِ، وَخُلُودٌ فِي النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن موت کو ایک مینڈھے کی شکل میں لا کر پل صراط پر کھڑا کردیا جائے گا اور اہل جنت کو پکار کر بلایا جائے گا وہ خوفزدہ ہو کر جھانکیں گے کہیں انہیں جنت سے نکال تو نہیں دیا جائے گا پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم اسے پہنچانتے ہو؟ وہ کہیں گے کہ جی (پروردگار) یہ موت ہے) پھر اہل جہنم کو پکار کر آوازدی جائے گی کہ کیا تم اسے پہنچانتے ہو؟ وہ کہیں گے جی ہاں (یہ موت ہے) چنانچہ اللہ کے حکم پر اسے پل صراط پر ذبح کردیا جائے اور دونوں گروہوں سے کہا جائے گا کہ تم جن حالات میں رہ رہے ہو۔ اس میں تم ہمیشہ ہمیش رہوگے؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8906]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8907 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرٍ ، عَاصِمٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ زَادَ فِيهِ:" فيُؤْتَى بِهِ عَلَى الصِّرَاطِ فَيُذْبَحُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8907]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8908 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، أَبُو حَصِينٍ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، أَنْبَأَنَا أَبُو حَصِينٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِغَنِيٍّ، وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی مالدار یا ہٹے کٹے صحیح سالم آدمی کے لئے زکوٰۃ کا پیسہ حلال نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8908]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد فيه سالم كثير الإرسال عن الصحابة، لكنه قد توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه سالم كثير الإرسال عن الصحابة، لكنه قد توبع
حدیث نمبر: 8909 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، زُهَيْرٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ، وَالْإِمَامُ ضَامِنٌ، اللَّهُمَّ أَرْشِدْ الْأَئِمَّةَ، وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا امام ضامن ہوتا ہے اور مؤذن امانت دار اے اللہ اماموں کی رہنمائی فرما اور موذنین کی مغفرت فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8909]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8910 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَسِيدِ بْنِ أَبِي أَسِيدٍ ، نَافِعِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ أَبِي أَسِيدٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عَبَّاسٍ مَوْلَى عَقِيلَةَ بِنْتِ طَلْقٍ الْغِفَارِيَّةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُحَلِّقَ حَبِيبَهُ حَلْقَةً مِنْ نَارٍ، فَلْيَجْعَلْ لَهُ حَلْقَةً مِنْ ذَهَبٍ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُطَوِّقَ حَبِيبَهُ طَوْقًا مِنْ نَارٍ، فَلْيُطَوِّقْهُ طَوْقًا مِنْ ذَهَبٍ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُسَوِّرَ حَبِيبَهُ سِوَارًا مِنْ نَارٍ، فَلْيُسَوِّرْهُ سِوَارًا مِنْ ذَهَبٍ، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِالْفِضَّةِ، فَالْعَبُوا بِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے دوست کو آگ کا چھلا پہنانا چاہے وہ اسے سونے کا چھلا پہنا دے البتہ چاندی استعمال کرلیا کرو اور اس کے ذریعے ہی دل بہلا لیا کرو اور جو شخص اپنے دوست کو جہنم کی آگ کا طوق پہنانا چاہے وہ اسے سونے کا ہار پہنا دے اور جو اسے آگ کے کنگن پہنانا چاہے وہ اسے سونے کے کنگن پہنا دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8910]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات
الحكم: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 8911 مسند احمد
قُتَيْبَةُ ، لَيْثٌ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ، نَادَى مُنَادٍ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، خُلُودٌ لَا مَوْتَ فِيهِ، وَيَا أَهْلَ النَّارِ، خُلُودٌ لَا مَوْتَ فِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے تو ایک منادی آواز لگائے گا کہ اے اہل جنت تم ہمیشہ اس میں رہوگے یہاں موت نہیں آئے گی اور اے اہل جہنم تم بھی ہمیشہ اس میں رہوگے یہاں موت نہیں آئے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8911]
حکم دارالسلام
صحيح، وإسناده قوي، خ: 6545
الحكم: صحيح، وإسناده قوي، خ: 6545
حدیث نمبر: 8912 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٍ ، الْجُلَاحِ أَبِي كَثِيرٍ ، الْمُغِيرَةَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ الْجُلَاحِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ نَاسًا أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِنَّا نَبْعُدُ فِي الْبَحْرِ، وَلَا نَحْمِلُ مِنَ الْمَاءِ إِلَّا الْإِدَاوَةَ وَالْإِدَاوَتَيْنِ، لِأَنَّا لَا نَجِدُ الصَّيْدَ حَتَّى نَبْعُدَ، أَفَنَتَوَضَّأُ بِمَاءِ الْبَحْرِ؟ قَالَ: " نَعَمْ، فَإِنَّهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ، الطَّهُورُ مَاؤُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگوں نے بارگاہ نبوت میں حاضر ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ ہم لوگ سمندری سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ پینے کے لئے تھوڑا سا پانی رکھتے ہیں اگر اس میں وضو کرنے لگیں تو ہم پیاسے رہ جائیں کیا سمندر کے پانی سے ہم وضو کرسکتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سمندر کا پانی پاکیزگی بخش ہے اور اس کا مردار (مچھلی) حلال ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8912]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وإسناده مختلف فيه
الحكم: حديث صحيح، وإسناده مختلف فيه
حدیث نمبر: 8913 مسند احمد
قُتَيْبَة بن سعيد ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثَوْرٍ ، أَبِي الْغَيْثِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَة بن سعيد ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَوَّلُ مَنْ يُدْعَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُقَالُ: هَذَا أَبُوكُمْ آدَمُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، فَيَقُولُ لَهُ رَبُّنَا: أَخْرِجْ نَصِيبَ جَهَنَّمَ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ وَكَمْ؟ فَيَقُولُ: مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ" فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِذَا أُخِذَ مِنَّا مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُينَ، فَمَاذَا يَبْقَى مِنَّا؟ قَالَ:" إِنَّ أُمَّتِي فِي الْأُمَمِ كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن سب سے پہلے جس شخص کو بلایا جائے گا اس کے متعلق کہا جائے گا کہ یہ تمہارے باپ آدم علیہ السلام ہیں حضرت آدم علیہ السلام عرض کریں گے کہ پروردگار میں حاضر ہوں پروردگار کا ارشاد ہوگا کہ جہنم کا حصہ اپنی اولاد میں سے نکالو وہ پوچھیں گے پروردگار کتنا؟ ارشاد ہوگا ہر سو میں سے ننانوے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ بتائیے کہ جب ہر سو میں سے ہمارے ننانوے آدمی لے لئے جائیں گے تو پیچھے کیا بچے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دوسری امتوں کے مقابلے میں میری امت کی مثال کالے بیل میں سفید بال کی سی ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8913]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 6529
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 6529
حدیث نمبر: 8914 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِيه ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيه ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اسْتَهَلَّ رَمَضَانُ، غُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ، وَفُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَصُفِّدَتْ الشَّيَاطِينُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب ماہ رمضان شروع ہوتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8914]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 1899 م: 1079
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 1899 م: 1079
حدیث نمبر: 8915 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بن سعيد ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بن سعيد ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ، وَإِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي يُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ، لَا يَدْخُلُهُ الشَّيْطَانُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنے گھروں کو قبرستان مت بناؤ کیونکہ شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں سورت بقرہ کی تلاوت کی جاتی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8915]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 780
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 780
حدیث نمبر: 8916 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بن سعيد ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بن محمد ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بن سعيد ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بن محمد ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي قَالَ لِنِسْوَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ: " لَا يَمُوتُ لِإِحْدَاكُنَّ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَتَحْتَسِبُهُ، إِلَّا دَخَلَتْ الْجَنَّةَ"، فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ: أَوْ اثْنَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" أَوْ اثْنَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ انصاری خواتین سے فرمایا تم میں سے جو عورت اپنے تین بچے آگے بھیجے (فوت ہوجائیں) اور وہ ان پر صبر کرے وہ جنت میں داخل ہوگی کسی عورت نے پوچھا اگر دو ہوں تو کیا حکم ہے؟ فرمایا دو ہوں تب بھی یہی حکم ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8916]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 2632
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 2632
حدیث نمبر: 8917 مسند احمد
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " عَلَى أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ مَلَائِكَةٌ، لَا يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ وَلَا الدَّجَّالُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مدینہ منورہ کے دروازوں پر فرشتوں کا پہرہ ہے اس لئے یہاں دجال طاعون داخل نہیں ہو سکتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8917]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 1880، م: 1379
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 1880، م: 1379
حدیث نمبر: 8918 مسند احمد
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْخَصِيبِ، فَأَعْطُوا الْإِبِلَ حَظَّهَا مِنَ الْأَرْضِ، وَإِذَا سَافَرْتُمْ فِي السَّنَةِ، فَبَادِرُوا بها نِقْيَهَا، وَإِذَا عَرَّسْتُمْ، فَاجْتَنِبُوا الطُّرُقَ، فَإِنَّهَا طُرُقُ الدَّوَابِّ، وَمَأْوَى الْهَوَامِّ بِاللَّيْلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم کسی سرسبز و شاداب علاقے میں سفر کرو تو اونٹوں کو ان کا حق دیا کرو (اور انہیں اطمینان سے چرنے دیا کرو) اور اگر خشک زمین میں سے سفر کرو تو تیز رفتاری سے اس علاقے سے گذر جایا کرو اور جب رات کو پڑاؤ کرنا چاہو تو راستے سے ہٹ کر پڑاو کیا کرو کیونکہ وہ رات کے وقت چوپاؤں کا راستہ اور کیڑے مکوڑوں کا ٹھکانہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8918]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 1926
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 1926
حدیث نمبر: 8919 مسند احمد
قُتَيْبَةُ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا هِجْرَةَ بَعْدَ ثَلَاثٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تین دن کے بعد بھی قطع تعلقی رکھنا صحیح نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8919]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 2562
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 2562