بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 65 از 194
حدیث نمبر: 8399 مسند احمد
أَبِي هُرَيْرَةَ
وَبِإِسْنَادِهِ، وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" كَانَ رَجُلَانِ مِنْ بَلي حي مِنْ قُضَاعَةَ أَسْلَمَا مَعَ رسولِ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، وَاسْتُشْهِدَ أَحَدُهُمَا، وَأُخِّرَ الْآخَرُ سَنَةً، قَالَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ: فَأُرِيتُ الْجَنَّةَ، فَرَأَيْتُ فِيهَا الْمُؤَخَّرَ مِنْهُمَا أُدْخِلَ قَبْلَ الشَّهِيدِ، فَعَجِبْتُ لِذَلِكَ، فَأَصْبَحْتُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ للنبي اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ ذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَيْسَ قَدْ صَامَ بَعْدَهُ رَمَضَانَ وَصَلَّى سِتَّةَ آلَافِ رَكْعَةٍ أَوْ كَذَا وَكَذَا رَكْعَةً صَلَاةَ السَّنَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے قبیلہ قضاعہ کے ایک خاندان " بَلِی " کے دو آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایمان لے آئے ان میں سے ایک صاحب تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ جہاد کرتے ہوئے شہید ہوگئے اور دوسرے صاحب ان کے بعد ایک سال مزید زندہ رہے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ اپنی طبعی موت مرنے والا اپنے دوسرے ساتھی سے کچھ عرصہ قبل ہی جنت میں داخل ہوگیا حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ذکر کی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا اس نے چھ ہزار رکعتیں نہیں پڑھیں اور ماہ رمضان کے روزے نہیں رکھے اور اتنی سنتیں نہیں پڑھیں؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8399]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8400 مسند احمد
يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ : أَنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ بَلِيٍّ وَهُمْ حَيٌّ مِنْ قُضَاعَةَ، فَذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8400]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا الإسناد فيه انقطاع، أبو سلمة لم يدرك طلحة، ولكن الواسطة بينهما أبو هريرة، فيكون الإسناد متصلا ، وانظر ما قبله
الحكم: حديث حسن، وهذا الإسناد فيه انقطاع، أبو سلمة لم يدرك طلحة، ولكن الواسطة بينهما أبو هريرة، فيكون الإسناد متصلا ، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 8401 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، سَلَمَةَ بْنِ الْأَزْرَقِ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَزْرَقِ ، قَالَ: تُوُفِّيَ بَعْضُ كَنَائِنِ مَرْوَانَ، فَشَهِدَهَا النَّاسُ وَشَهِدَهَا أَبُو هُرَيْرَةَ، وَمَعَهَا نِسَاءٌ يَبْكِينَ، فَأَمَرَهُنَّ مَرْوَانُ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : دَعْهُنَّ، فَإِنَّهُ مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَنَازَةٌ مَعَهَا بَوَاكٍ فَنَهَرَهُنَّ عُمَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعْهُنَّ فَإِنَّ النَّفْسَ مُصَابَةٌ، وَالْعَيْنَ دَامِعَةٌ، وَالْعَهْدَ حَدِيثٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمروبن ازرق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مروان کے خاندان میں کوئی خاتون فوت ہوگئی لوگ جنازے میں آئے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تشریف لائے جنازے کے ساتھ روتی ہوئی خواتین بھی تھیں مروان انہیں خاموش کرانے کا حکم دینے ہی لگا تھا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اسے روک دیا اور فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ گذرا جس کے ساتھ کچھ رونے والیاں بھی تھیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ ان پر رحم فرمائے انہیں جھڑکا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انہیں چھوڑ دو کیونکہ دل مصیبت زدہ ہے آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں اور زخم ابھی ہرا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8401]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة ابن الأزرق
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة ابن الأزرق
حدیث نمبر: 8402 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، مِسْعَرٌ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال: لَمَّا نَزَلَتْ: وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214، جَعَلَ يَدْعُو بُطُونَ قُرَيْشٍ بَطْنًا بَطْنًا" يَا بَنِي فُلَانٍ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّار" حَتَّى انْتَهَى إِلَى فَاطِمَةَ، فَقَالَ:" يَا فَاطِمَةُ ابْنَةَ مُحَمَّدٍ، أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ، لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، غَيْرَ أَنَّ لَكُمْ رَحِمًا سَأَبُلُّهَا بِبَلَالِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ حکم نازل ہوا کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک ایک کر کے قریش کے ہر بطن کو بلایا اور فرمایا اے بنو فلاں اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ حتی کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ تک پہنچے تو ان سے بھی فرمایا فاطمہ اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ میں تمہارے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں البتہ قرابت داری کا جو تعلق ہے اس کی تری میں تم تک پہنچاتا رہوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8402]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2753، م: 204
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2753، م: 204
حدیث نمبر: 8403 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، أَبُو حَيَّانَ ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ لِبِلَالٍ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ" يَا بِلَالُ، خَبِّرْنِي بِأَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهُ مَنْفَعَةً فِي الْإِسْلَامِ، فَإِنِّي قَدْ سَمِعْتُ اللَّيْلَةَ خَشْفَ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الْجَنَّةِ" قَالَ: مَا عَمِلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي الْإِسْلَامِ عَمَلًا أَرْجَى عِنْدِي مَنْفَعَةً مِنْ أَنِّي لَمْ أَتَطَهَّرْ طُهُورًا تَامًّا قَطُّ فِي سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ، إِلَّا صَلَّيْتُ بِذَلِكَ الطُّهُورِ لِرَبِّي مَا كُتِبَ لِي أَنْ أُصَلِّيَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز فجر کے وقت حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا بلال مجھے اپنا کوئی ایسا عمل بتاؤ جو زمانہ اسلام میں کیا ہو اور تمہیں اس کا ثواب ملنے کی سب سے زیادہ امید ہو؟ کیونکہ میں نے آج رات جنت میں تمہارے قدموں کی چاپ اپنے آگے سنی ہے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے زمانہ اسلام میں اس کے علاوہ کوئی ایسا عمل نہیں کیا جس کا ثواب ملنے کی مجھے سب سے زیادہ امید ہو کہ میں نے دن یا رات کے جس حصے میں بھی وضو کیا اس وضو سے حسب توفیق نماز ضرور پڑھی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8403]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1149، م: 2458
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1149، م: 2458
حدیث نمبر: 8404 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ يَعْنِي النَّوْفَلِيَّ ، أَبِيهِ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ يَعْنِي النَّوْفَلِيَّ ، عَنْ أَبِيهِ ذَكَرَهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَفْضَى بِيَدِهِ إِلَى ذَكَرِهِ لَيْسَ دُونَهُ سِتْرٌ، فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْوُضُوء" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنا ہاتھ اپنی شرمگاہ کی طرف لے جائے اور درمیان میں کوئی کپڑا نہ ہو تو اس پر وضواز سر نو واجب ہوگیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8404]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، يحيي ابن يزيد وأبوه ضعيفان، وهما متابعان
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، يحيي ابن يزيد وأبوه ضعيفان، وهما متابعان
حدیث نمبر: 8405 مسند احمد
الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، يَحْيَى بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، أَبِيهِ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8405]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 8406 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، أَبِيهِ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" أَكْثِرُوا مِنْ قَوْلِ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، فَإِنَّهَا كَنْزٌ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لا حول و لا قوۃ الا باللہ کی کثرت کیا کرو کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں ایک اہم خزانہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8406]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
الحكم: صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 8407 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ يَزِيدَ ، أَبِيهِ ، جُبَيْرِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، وَكَانَ يُقَالُ لَهُ: ابْنُ نُفَيْلَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، وَكَانَ يُقَالُ لَهُ: ابْنُ نُفَيْلَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " ثَمَنُ الْجَرِيسَةِ حَرَامٌ، وَأَكْلُهَا حَرَامٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا چوری کی ہوئی بکری کی قیمت حرام ہے اور اسے کھانا بھی حرام ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8407]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف يحيي وأبيه ، ولجهالة بشر
الحكم: إسناده ضعيف لضعف يحيي وأبيه ، ولجهالة بشر
حدیث نمبر: 8408 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، الْمُبَارَكُ ، الْحَسَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: وَأُرَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ فِي الصَّلَاةِ، أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگ دوران نماز آسمان کی طرف آنکھیں اٹھا کر دیکھنے سے باز آجائیں ورنہ ان کی بصارتیں سلب کرلی جائیں گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8408]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 429، وهذا إسناد ضعيف، المبارك والحسن مدلسان، وقد عنعنا
الحكم: حديث صحيح، م: 429، وهذا إسناد ضعيف، المبارك والحسن مدلسان، وقد عنعنا
حدیث نمبر: 8409 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، الْمُبَارَكُ ، الْحَسَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " أَلَا مِنْ رَجُلٍ يَأْخُذُ بِمَا فَرَضَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ كَلِمَةً، أَوْ كَلِمَتَيْنِ، أَوْ ثَلَاثًا، أَوْ أَرْبَعًا، أَوْ خَمْسًا، فَيَجْعَلُهُنَّ فِي طَرَفِ رِدَائِهِ، فَيَتَعَلَّمُهُنَّ وَيُعَلِّمُهُنَّ؟" قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُلْتُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" فَابْسُطْ ثَوْبَكَ"، قَالَ: فَبَسَطْتُ ثَوْبِي، فَحَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ قَالَ:" ضُمَّ إِلَيْكَ"، فَضَمَمْتُ ثَوْبِي إِلَى صَدْرِي، فَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا أَكُونَ نَسِيتُ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْهُ بَعْدُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہے کوئی آدمی جو اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے فرض کیا ہوا ایک کلمہ یا دو تین چار پانچ کلمات حاصل کرے انہیں اپنی چادر کے کونے میں رکھے انہیں سیکھے اور دوسروں کو سکھائے؟ میں نے اپنے آپ کو پیش کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر اپنا کپڑا بچھاؤ چنانچہ میں نے اپنا کپڑا بچھا دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حدیث بیان کی اور فرمایا کہ اسے اپنے جسم کے ساتھ لگا لو میں نے اسے اپنے سینے کے ساتھ لگا لیا اسی وجہ سے میں امید رکھتا ہوں کہ اس کے بعد میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جو حدیث بھی سنی ہے اسے کبھی نہیں بھولوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8409]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 118، م: 2492، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
الحكم: حديث صحيح، خ: 118، م: 2492، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 8410 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ضِرْسُ الْكَافِرِ مِثْلُ أُحُدٍ، وَفَخِذُهُ مِثْلُ الْبَيْضَاءِ، وَمَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ كَمَا بَيْنَ قُدَيْدٍ وَمَكَّةَ، وَكَثَافَةُ جِلْدِهِ اثْنَانِ وَأَرْبَعُونَ ذِرَاعًا بِذِرَاعِ الْجَبَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن کافر کی ایک داڑھ احد پہاڑ کے برابر ہوگی اور اس کی کھال کی چوڑائی ستر گز ہوگی اور اس کی ران ورقان پہاڑ کے برابر ہوگی اور جہنم میں اس کے بیٹھنے کی جگہ قدید اور مکہ کے درمیانی فاصلے جتنی ہوگی اور اس کی کھال موٹائی جبار کے حساب سے بیالیس گز ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8410]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف محتمل للتحسين، عبدالرحمن فيه كلام من جهة حفظه، وأوله في، م: 2851
الحكم: إسناده ضعيف محتمل للتحسين، عبدالرحمن فيه كلام من جهة حفظه، وأوله في، م: 2851
حدیث نمبر: 8411 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رُضْوَانِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُلْقِي لَهَا بَالًا يَرْفَعُهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَاتٍ، وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللَّهِ لَا يُلْقِي لَهَا بَالًا يَهْوِي بِهَا فِي جَهَنَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بعض اوقات انسان اللہ کی رضامندی والی کوئی بات کرتا ہے وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا لیکن قیامت کے دن اسی ایک کلمہ کے نتیجے میں اللہ اس کے درجات بلند کر دے گا اور بعض اوقات انسان اللہ کی ناراضگی والا کوئی کلمہ بولتا ہے جس کی وہ کوئی پروا بھی نہیں کرتا لیکن قیامت کے دن وہ اسی ایک کلمے کے نتیجے میں جہنم میں لڑھکتا رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8411]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6478، فى هذا الإسناد عبدالرحمن، فيه كلام ينزله عن رتبة الصحيح
الحكم: حديث صحيح، خ: 6478، فى هذا الإسناد عبدالرحمن، فيه كلام ينزله عن رتبة الصحيح
حدیث نمبر: 8412 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارٍ كَشَاكِشٍ ، سَعِيدًا الْمَقْبُرِيَّ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارٍ كَشَاكِشٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدًا الْمَقْبُرِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " خَيْرُ الْكَسْبِ، كَسْبُ يَدِ الْعَامِلِ إِذَا نَصَحَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بہترین کمائی مزدور کے ہاتھ کی کمائی ہوتی ہے جبکہ وہ خیر خواہی سے کام کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8412]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8413 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ ، أَنَّهُ رَقِيَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ عَلَى ظَهْرِ الْمَسْجِدِ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، فَرَفَعَ فِي عَضُدَيْهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ هُمْ الْغُرُّ الْمُحَجَّلُونَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ" فَمَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يُطِيلَ غُرَّتَهُ فَلْيَفْعَلْ، فَقَالَ نُعَيْمٌ: لَا أَدْرِي قَوْلُهُ:" فمَنْ اسْتَطَاعَ أَنْ يُطِيلَ غُرَّتَهُ فَلْيَفْعَلْ" مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ مِنْ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ؟!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نعیم بن عبداللہ ایک مرتبہ مسجد کی چھت پر چڑھ کر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے جو کہ وضو کر رہے تھے انہوں نے اپنے بازوؤں کو کہنیوں سے بھی اوپر تک دھویا ہوا تھا پھر وہ میری طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت کے دن میری امت کے لوگ وضو کے نشانات سے روشن اور چمکدار پیشانی والے ہوں گے (اس لئے تم میں سے جو شخص اپنی چمک بڑھا سکتا ہو اسے ایسا کرلینا چاہئے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8413]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 246
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 246
حدیث نمبر: 8414 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، زُهَيْرٌ ، الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أتَدْرُونَ مَنْ الْمُفْلِسُ؟" قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ لَا لَهُ دِرْهَمَ وَلَا دِينَارَ وَلَا مَتَاعَ، قَالَ: " الْمُفْلِسُ مِنْ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ يَأْتِي بِصَلَاةٍ وَصِيَامٍ وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ عِرْضَ هَذَا، وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذا، وَضَرَبَ هَذَا، فَيُقْعَدُ، فَيَقْتَصُّ هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ، أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَ عَلَيْهِ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ" ، وقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ:" فَيَقْتَصُّ"، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ" قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْه".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرما کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہوتا ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے درمیان تو مفلس وہ ہوتا ہے جس کے پاس کوئی روپیہ پیسہ اور ساز و سامان نہ ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری امت کا مفلس وہ آدمی ہوگا جو قیامت کے دن نماز روزہ اور زکوٰۃ لے آئے گا لیکن کسی کو گالی دی ہوگی اور کسی پر تہمت لگائی ہوگی اور کسی کا مال کھایا ہوگا اسے بٹھا لیا جائے گا اور ہر ایک کو اس کی نیکیاں دے کر ان کا بدلہ دلوایا جائے گا اگر اس کے گناہوں کا فیصلہ مکمل ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں تو حقداروں کے گناہ لے کر اس پر لاد دئیے جائیں گے پھر اسے جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8414]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2581
الحكم: إسناده صحيح، م: 2581
حدیث نمبر: 8415 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، زُهَيْرٌ ، الْعَلَاءِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْعُقُوبَةِ مَا طَمِعَ فِي الْجَنَّةِ أَحَدٌ، وَلَوْ يَعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الرَّحْمَةِ مَا قَنَطَ مِنَ الْجَنَّةِ أَحَدٌ، خَلَقَ اللَّهُ مِائَةَ رَحْمَةٍ، فَوَضَعَ رَحْمَةً وَاحِدَةً بَيْنَ خَلْقِهِ يَتَرَاحَمُونَ بِهَا، وَعِنْدَ اللَّهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ رَحْمَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر بندہ مومن کو وہ سزائیں معلوم ہوجائیں جو اللہ نے تیار کر رکھی ہیں تو کوئی بھی جنت کی طمع نہ کرے (صرف جہنم سے بچنے کی دعا کرتے رہیں) اور اگر کافر کو اللہ کی رحمت کا اندازہ ہوجائے تو کوئی بھی جنت سے ناامید نہ ہو اللہ نے سو رحمتیں پیدا فرمائی ہیں ایک رحمت اپنے بندوں کے دل میں ڈال دی ہے جس سے وہ ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں اور باقی ننانوے رحمتیں اللہ کے پاس ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8415]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2752
الحكم: إسناده صحيح، م: 2752
حدیث نمبر: 8416 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، زُهَيْرٌ ، أَسِيدِ بْنِ أَبِي أَسِيدٍ ، نَافِعِ بْنِ عَيَّاشٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ أَبِي أَسِيدٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عَيَّاشٍ مَوْلَى عَقِيلَةَ بِنْتِ طَلْقٍ الْغِفَارِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُطَوِّقَ حَبِيبَهُ طَوْقًا مِنْ نَارٍ، فَلْيُطَوِّقْهُ طَوْقًا مِنْ ذَهَبٍ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُسَوِّرَ حَبِيبَهُ سِوَارًا مِنْ نَارٍ، فَلْيُسَوِّرْهُ بِسِوَارٍ مِنْ ذَهَبٍ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُحَلِّقَ حَبِيبَهُ حَلْقَةً مِنْ نَارٍ، فَلْيُحَلِّقْهُ حَلْقَةً مِنْ ذَهَبٍ، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِالْفِضَّةِ، الْعَبُوا بِهَا لَعِبًا، الْعَبُوا بِهَا لَعِبًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے کسی دوست کو جہنم کی آگ کا طوق پہنانا چاہئے اسے سونے کا ہار پہنا دے اور جو اسے آگ کے کنگن پہنانا چاہے وہ اسے سونے کے کنگن پہنا دے اور جو اسے آگ کا چھلا پہنانا چاہے وہ اسے سونے کا چھلا پہنا دے البتہ چاندی استعمال کرلیا کرو اور اس کے ذریعے ہی دل بہلا لیا کرو (یہ جملہ دو مرتبہ فرمایا) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8416]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات
الحكم: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 8417 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، زُهَيْرٌ ، مُوسَى بْنُ وَرْدَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ وَرْدَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَال: " الْمَرْءُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ، فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے اس لئے تمہیں غور کرلینا چاہئے کہ تم کسے اپنا دوست بنا رہے ہو؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8417]
حکم دارالسلام
إسناده جيد
الحكم: إسناده جيد
حدیث نمبر: 8418 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، وَسُرَيْجٌ ، فُلَيْحٌ ، هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، وَسُرَيْجٌ , قَالَا: ثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ " مَا مِنْ مُؤْمِنٍ إِلَّا وَأَنَا أَوْلَى بِهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ سورة الأحزاب آية 6 فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ هَلَكَ وَتَرَكَ مَالًا، فَلْيَرِثْهُ عَصَبَتُهُ مَنْ كَانُوا، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَلْيَأْتِنِي، فَإِنِّي مَوْلَاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں دنیا و آخرت میں مومنین پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتا ہوں اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو النبی اولی بالمومنین من انفسہم اس لئے جو شخص قرض چھوڑ کر جائے اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے اور جو شخص مال چھوڑ کر جائے وہ اس کے ورثاء کا ہے خواہ وہ کوئی بھی ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8418]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2399، م: 1619
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2399، م: 1619