بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 175 از 194
حدیث نمبر: 10600 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ , عَنْ أَبِي رَافِعٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَرَجَ رَجُلٌ يَزُورُ أَخًا لَهُ فِي قَرْيَةٍ أُخْرَى , فَأَرْصَدَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى مَدْرَجَتِهِ مَلَكًا , فَلَمَّا مَرَّ بِهِ , قَالَ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قَالَ: أُرِيدُ فُلَانًا , قَالَ لِلْقَرَابَةِ، قَالَ: لَا، قَالَ: فَلِنِعْمَةٍ لَهُ عِنْدَكَ تَرُبُّهَا؟ قَالَ: لَا , قَالَ: فَلِمَ تَأْتِيهِ , قَالَ: إِنِّي أُحِبُّهُ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: فَإِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكَ , أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّكَ بِحُبِّكَ إِيَّاهُ فِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی اپنے دینی بھائی سے ملاقات کے لئے جو دوسری بستی میں رہتا تھا روانہ ہوا اللہ نے اس کے راستے میں ایک فرشتے کو بٹھا دیا جب وہ فرشتے کے پاس سے گذرا تو فرشتے نے اس سے پوچھا کہ تم کہاں جا رہے ہو؟ اس نے کہا کہ فلاں آدمی سے ملاقات کے لئے جارہاہوں فرشتے نے پوچھا کیا تم دونوں کے درمیان کوئی رشتہ داری ہے؟ اس نے کہا نہیں فرشتے نے پوچھا کہ کیا اس کا تم پر کوئی احسان ہے جسے تم پال رہے ہو؟ اس نے کہا نہیں فرشتے نے پوچھا پھر تم اس کے پاس کیوں جا رہے ہو؟ اس نے کہا کہ میں اس سے اللہ کی رضا کے لئے محبت کرتا ہوں فرشتے نے کہا کہ میں اللہ کے پاس سے تیری طرف قاصد بن کر آیا ہوں کہ اس کے ساتھ محبت کرنے کی وجہ سے اللہ تجھ سے محبت کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10600]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2567
الحكم: إسناده صحيح، م: 2567
حدیث نمبر: 10601 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ , عَنْ أَبِي رَافِعٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَهُ , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10601]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 10602 مسند احمد
حَسَنٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ , عَنْ أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10602]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 10603 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، هِشَامٌ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: عَبْدِي أَمَتِي , وَلْيَقُلْ: فَتَايَ وَفَتَاتِي" , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے غلام کے متعلق یہ نہ کہے " عبدی، امتی " بلکہ یوں کہے میرا جوان میری جوان۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10603]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2552، م: 2249
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2552، م: 2249
حدیث نمبر: 10604 مسند احمد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10604]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 10605 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ , وَلَا يَسُومُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ , وَلَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا , وَلَا عَلَى خَالَتِهَا , وَلَا تَسْأَلُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي صَحْفَتِهَا، وَلْتَنْكِحْ , فَإِنَّمَا لَهَا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کوئی شہری کسی دیہاتی کے مال کو فروخت نہ کرے یا بیع میں دھوکہ نہ دے یا کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح نہ بھیج دے یا اپنے بھائی کی بیع پر اپنی بیع نہ کرے اور کوئی عورت اپنی بہن (خواہ حقیقی ہو یا دینی) کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے۔ کہ جو کچھ اس کے پیالے یا برتن میں ہے وہ بھی اپنے لئے سمیٹ لے بلکہ نکاح کرلے کیونکہ اس کا رزق بھی اللہ کے ذمے ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10605]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5110، م: 1408
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5110، م: 1408
حدیث نمبر: 10606 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَثَلُ الَّذِي يَسْمَعُ الْحِكْمَةَ، ثُمَّ لَا يُخْبِرُ عَنْ صَاحِبِهِ إِلَّا بِشَرِّ مَا سَمِعَ، كَمَثَلِ رَجُلٍ أَتَى رَاعِيَ غَنَمٍ , فَقَالَ: أَجْزِرْنِي شَاةً مِنْ غَنَمِكَ , فَقَالَ: اخْتَرْ , فَأَخَذَ بِأُذُنِ كَلْبِ الْغَنَمِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس شخص کی مثال جو کسی مجلس میں شریک ہو اور وہاں حکمت کی باتیں سنے لیکن اپنے ساتھی کو اس میں سے چن چن کر غلط باتیں ہی سنائے اس شخص کی سی ہے جو کسی چرواہے کے پاس آئے اور اس سے کہا کہ اے چرواہے! اپنے ریوڑ میں سے ایک بکری میرے لئے ذبح کردے وہ اسے جواب دے کہ جا کر ان میں سے جو سب سے بہتر ہو اس کا کان پکڑ کرلے آؤ اور وہ جا کر ریوڑ کے کتے کا کان پکڑ کرلے آئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10606]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف على ولجهالة أوس
الحكم: إسناده ضعيف لضعف على ولجهالة أوس
حدیث نمبر: 10607 مسند احمد
يَزِيدُ ، الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيُّ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيُّ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: خَطَبَنَا , وَقَالَ مَرَّةً: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ , " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ فَرَضَ عَلَيْكُمْ الْحَجَّ فَحُجُّوا" , فَقَالَ رَجُلٌ: أَكُلَّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَسَكَتَ، حَتَّى قَالَهَا: ثَلَاثًا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ قُلْتُ: نَعَمْ لَوَجَبَتْ , وَلَمَا اسْتَطَعْتُمْ" . ثُمَّ قَالَ: " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ , فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ , فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ , فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ , وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ , فَدَعُوهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا لوگو اللہ نے تم پر بیت اللہ کا حج فرض قرار دیا ہے لہٰذا اس کا حج کیا کرو ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا ہر سال؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پر سکوت فرمایا سائل نے اپنا سوال تین مرتبہ دہرایا اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر میں " ہاں " کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج کرنا فرض ہوجاتا اور تم میں اس کی ہمت نہ ہوتی پھر فرمایا جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں اس وقت تک تم بھی مجھے چھوڑے رکھو اس لئے کیونکہ تم سے پہلی امتیں بکثرت سوال کرنے اور اپنے انبیاء (علیہم السلام) سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہی ہلاک ہوئی تھیں میں تمہیں جس چیز سے روکوں اس سے رک جاو اور جس چیز کا حکم دوں اسے اپنی طاقت کے مطابق پورا کرو۔ اور جب کسی چیز سے روکوں تو اسے چھوڑ دیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10607]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7288، م:1737
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7288، م:1737
حدیث نمبر: 10608 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ وَرَاحَ , أَعَدَّ اللَّهُ لَهُ الْجَنَّةَ نُزُلًا كُلَّمَا غَدَا وَرَاحَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص صبح یا شام جس وقت بھی مسجد جاتا ہے اللہ اس کے لئے جنت میں مہمان نوازی کی تیاری کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10608]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7288، م: 1337
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7288، م: 1337
حدیث نمبر: 10609 مسند احمد
يَزِيدُ ، سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ , عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَقْرَضَ مِنْ رَجُلٍ بَعِيرًا , فَجَاءَ يَتَقَاضَاهُ بَعِيرَهُ، فَقَالَ: " اطْلُبُوا لَهُ بَعِيرًا فَادْفَعُوهُ إِلَيْهِ"، فَلَمْ يَجِدُوا إِلَّا سِنًّا فَوْقَ سِنِّهِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ نَجِدْ إِلَّا سِنًّا فَوْقَ سِنِّ بَعِيرِهِ، فَقَالَ:" أَعْطُوهُ , فَإِنَّ خِيَارَكُمْ أَحَاسِنُكُمْ قَضَاءً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہ ایک دیہاتی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں اپنے اونٹ کا تقاضا کرنے کے لئے آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اس کے اونٹ جتنی عمر کا ایک اونٹ تلاش کرکے لے آؤ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تلاش کیا لیکن مطلوبہ عمر کا اونٹ نہ مل سکا ہر اونٹ اس سے بڑی عمر کا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اسے بڑی عمر کا ہی اونٹ دے دو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے سب سے بہترین وہ ہے جو اداء قرض میں سب سے بہتر ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10609]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2305، م: 1601
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2305، م: 1601
حدیث نمبر: 10610 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَرْفَعُ الدَّرَجَةَ لِلْعَبْدِ الصَّالِحِ فِي الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ , أَنَّى لِي هَذِهِ، فَيَقُولُ: بِاسْتِغْفَارِ وَلَدِكَ لَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ جنت میں ایک نیک آدمی کے درجات کو بلند کرتا ہے تو وہ پوچھتا ہے کہ پروردگار! میرے یہ درجات کہاں سے؟ اللہ فرمائے گا کہ تیرے حق میں تیری اولاد کے استغفار کی برکت سے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10610]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 10611 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " صَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ , وَلَا تُصَلُّوا فِي مَعَاطِنِ الْإِبِلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لینا اونٹوں کے باڑے میں مت پڑھنا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10611]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10612 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ , عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ :" لَا تَقُولُوا لِلْعِنَبِ: الْكَرْمَ , فَإِنَّ الْكَرْمَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ الصَّالِحُ" , حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , بِنَحْوِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انگور کے باغ کو " کرم " نہ کہا کرو، کیونکہ اصل کرم تو مرد مومن ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10612]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6182، م: 2247، وهذا الإسناد فيه محمد بن إسحاق مدلس وقد عنعن
الحكم: حديث صحيح، خ: 6182، م: 2247، وهذا الإسناد فيه محمد بن إسحاق مدلس وقد عنعن
حدیث نمبر: 10613 مسند احمد
حَدَّثَنَا يَزِيدُ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه و آله وسلم بِنَحْوِهِ
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10613]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4182، م:2247
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4182، م:2247
حدیث نمبر: 10614 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَهِشَامٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو , عَنِ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَهِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُدْخِلُ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ" , قِيلَ: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" وَلَا أَنَا , إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ" , وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلاسکتا ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کہہ کر اپنے سر پر اپنا ہاتھ رکھ لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10614]
حکم دارالسلام
ھذا الحدیث لہ إسنادان : الأول: حسن، والثانی : صحيح، خ: 5673، م: 2816
الحكم: ھذا الحدیث لہ إسنادان : الأول: حسن، والثانی : صحيح، خ: 5673، م: 2816
حدیث نمبر: 10615 مسند احمد
يَزِيدُ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، أَبَاهُ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ , حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ , سَمِعَ أَبَاهُ , قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا، قَالَ: " يَا جِبْرِيلُ، إِنِّي أُحِبُّ فُلَانًا , فَأَحِبُّوهُ , فَيُنَادِي جِبْرِيلُ فِي السَّمَاوَاتِ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ فُلَانًا , فَأَحِبُّوهُ، فَيُلْقَى حُبُّهُ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ فَيُحَبُّ , وَإِذَا أَبْغَضَ عَبْدًا , قَالَ: يَا جِبْرِيلُ، إِنِّي أُبْغِضُ فُلَانًا , فَأَبْغِضُوهُ , فَيُنَادِي جِبْرِيلُ فِي السَّمَاوَاتِ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبْغِضُ فُلَانًا , فَأَبْغِضُوهُ , فَيُوضَعُ لَهُ الْبُغْضُ لِأَهْلِ الْأَرْضِ , فَيُبْغَضُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ جب کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو جبرائیل (علیہ السلام) سے کہتا ہے کہ میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو چنانچہ جبرائیل اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور جبرائیل (علیہ السلام) آسمان والوں سے کہتے ہیں کہ تمہارا پروردگار فلاں شخص سے محبت کرتا ہے اس لئے تم بھی اس سے محبت کرو۔ چنانچہ سارے آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اس کے بعد زمین والوں میں اس کی مقبولیت ڈال دی جاتی ہے۔ اور جب کسی بندے سے نفرت کرتا ہے تب بھی جبرائیل (علیہ السلام) کو بلا کر فرماتا ہے کہ اے جبریل! میں فلاں بندے سے نفرت کرتا ہوں تم بھی اس سے نفرت کرو اور جبرائیل (علیہ السلام) آسمان والوں سے کہتے ہیں کہ تمہارا پروردگار فلاں شخص سے نفرت کرتا ہے اس لئے تم بھی اس سے نفرت کرو۔ چنانچہ سارے آسمان والے اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں پھر یہ نفرت زمین والوں کے دل میں ڈال دی جاتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10615]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح،خ: 7485، م:2637
الحكم: إسناده صحيح،خ: 7485، م:2637
حدیث نمبر: 10616 مسند احمد
يَزِيدُ ، هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَتَادَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى أُمِّ بُرْثُنٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الْجُمُعَةَ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَنَا , فَاخْتَلَفُوا فِيهَا , وَهَدَانَا اللَّهُ لَهَا , فَالنَّاسُ لَنَا فِيهَا تَبَعٌ , فَالْيَوْمُ لَنَا , ولِلْيَهُودِ غَدًا , وَلِلنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے ہم سے پہلے لوگوں پر بھی جمعہ فرض کیا تھا لیکن وہ اس میں اختلاف کرنے لگے جب کہ اللہ نے ہمیں اس معاملے میں رہنمائی عطاء فرمائی چنانچہ اب لوگ اس دن کے متعلق ہمارے تابع ہیں کل کا دن (ہفتہ) کا ہے اور پر سوں کا دن (اتوار) عیسائیوں کا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10616]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 876، م:856
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 876، م:856
حدیث نمبر: 10617 مسند احمد
يَزِيدُ ، جُهَيْرُ بْنُ يَزِيدَ الْعَبْدِيُّ ، خِدَاشِ بْنِ عَيَّاشٍ ، رَجُلٌ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا جُهَيْرُ بْنُ يَزِيدَ الْعَبْدِيُّ , عَنْ خِدَاشِ بْنِ عَيَّاشٍ , قََالَ: كُنْتُ فِي حَلْقَةٍ بِالْكُوفَةِ , فَإِذَا رَجُلٌ يُحَدِّثُ , قََالَ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ , فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ شَهِدَ عَلَى مُسْلِمٍ شَهَادَةً لَيْسَ لَهَا بِأَهْلٍ , فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
خداش بن عیاش رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ کوفہ کے ایک حلقہ درس میں بیٹھے ہوئے تھے جہاں ایک آدمی احادیث بیان کررہا تھا اس نے کہا کہ ہم لوگ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کے متعلق ایسی گواہی دے جس کا وہ اہل نہ ہو تو اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنالینا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10617]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن أبى هريرة، ولضعف خداش
الحكم: إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن أبى هريرة، ولضعف خداش
حدیث نمبر: 10618 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَطَاءٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى أُمِّ صَفِيَّةَ , وَقَالَ يَعْقُوبُ: صُبَيَّةَ , وَهُوَ الصَّوَابُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي , لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ , وَلَأَخَّرْتُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ , فَإِنَّهُ إِذَا مَضَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ , هَبَطَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا إِلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ , يَقُولُ قَائِلٌ: أَلَا دَاعٍ يُجَابُ؟ أَلَا سَائِلٌ يُعْطِيهِ؟ أَلَا مُذْنِبٌ يَسْتَغْفِرُ فَيُغْفَرَ لَهُ؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے اور نماز عشاء کو تہائی یا نصف رات تک مؤخر کرنے کا حکم دیتا۔ کیونکہ تہائی یا نصف رات گذرنے کے بعد اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہے کوئی مانگنے والا کہ میں اسے عطاء کروں؟ ہے کوئی گناہوں کی معافی مانگنے والا کہ میں اسے معاف کروں؟ ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ میں اس کی توبہ قبول کروں؟ ہے کوئی پکارنے والا کہ اس کی پکار کو قبول کروں؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10618]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1145، م: 758، وهذا إسناد ضعيف، عطاء المدني، ومحمد بن إسحاق مدلسان وقد عنعنا
الحكم: حديث صحيح، خ: 1145، م: 758، وهذا إسناد ضعيف، عطاء المدني، ومحمد بن إسحاق مدلسان وقد عنعنا
حدیث نمبر: 10619 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ ، أَنَسٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ , عَنْ أَنَسٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَال: يَعْنِي الرَّبَّ عَزَّ وَجَلَّ: " إِذَا تَقَرَّبَ الْعَبْدُ مِنِّي شِبْرًا , تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا , وَإِذَا تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا , تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بُوعًا أَوْ بَاعًا , وَإِذَا تَقَرَّبَ مِنِّي بُوعًا أَوْ بَاعًا أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے فرمایا بندہ جب بھی ایک بالشت کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں ایک گز کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اگر وہ ایک گز کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں پورے ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اور اگر میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10619]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7537، م:2675
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7537، م:2675