بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 64 از 194
حدیث نمبر: 8379 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ الْيَشْكُرِيُّ ، عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَار ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ الْيَشْكُرِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَار ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْإِقَامَةِ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اقامت ہونے کے بعد وقتی فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8379]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 710
الحكم: إسناده صحيح، م: 710
حدیث نمبر: 8380 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، وَرْقَاءُ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سُوقٍ مِنْ أَسْوَاقِ الْمَدِينَةِ، فَانْصَرَفَ وَانْصَرَفْتُ مَعَهُ، فَجَاءَ إِلَى فِنَاءِ فَاطِمَةَ فَنَادَى الْحَسَنَ، فَقَالَ: " أَيْ لُكَعُ، أَيْ لُكَعُ، أَيْ لُكَعُ" قَالَهُ: ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، قَالَ: فَانْصَرَفَ، وَانْصَرَفْتُ مَعَهُ، فَجَاءَ إِلَى فِنَاءِ عَائِشَةَ، فَقَعَدَ، قَالَ: فَجَاءَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: ظَنَنْتُ أَنَّ أُمَّهُ حَبَسَتْهُ لِتَجْعَلَ فِي عُنُقِهِ السِّخَابَ، فَلَمَّا جَاءَ الْتَزَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْتَزَمَ هُوَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ، فَأَحِبَّهُ، وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ کے کسی بازار میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب واپس آئے تو میں بھی ان کے ساتھ آگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے گھر کے صحن میں پہنچ کر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو آوازیں دینے لگے او بچے او بچے لیکن کسی نے کوئی جواب نہ دیا اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہاں سے واپس آگئے اور میں بھی لوٹ آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہاں سے آکر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے صحن میں بیٹھ گئے اتنی دیر میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ بھی آگئے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ ان کی والدہ نے انہیں گلے میں لونگ وغیرہ کا ہار پہنانے کے لئے روک رکھا تھا وہ وہ آتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ چمٹ گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی انہیں اپنے ساتھ چمٹا لیا اور تین مرتبہ فرمایا اے اللہ میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما اور اس سے محبت کرنے والوں سے محبت فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8380]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5884
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5884
حدیث نمبر: 8381 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، وَرْقَاءُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى , قَالَا: ثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ، وَلَا يَصْعَدُ إِلَى اللَّهِ إِلَّا الطَّيِّبُ، فَإِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُهَا بِيَمِينِهِ، ثُمَّ يُرَبِّيهَا لِصَاحِبِهَا كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ، حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بندہ جب حلال مال میں سے ایک کھجور صدقہ کرتا ہے تو اللہ اسے قبول فرما لیتا ہے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتا ہے اور اللہ کی طرف حلال چیز ہی چڑھ کر جاتی ہے اور جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنی بکری کے بچے کی پرورش اور نشو و نما کرتا ہے اسی طرح اللہ اس کی نشو و نما کرتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاتھ میں بڑھتے بڑھتے وہ ایک پہاڑ کے برابر بن جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8381]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1410، م: 1014
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1410، م: 1014
حدیث نمبر: 8382 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، أَبِي ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَقْوَامٌ أَفْئِدَتُهُمْ مِثْلُ أَفْئِدَةِ الطَّيْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایسی اقوام بھی داخل ہوں گی جن کے دل پرندوں کے دلوں کی طرح ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8382]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2840
الحكم: إسناده صحيح، م: 2840
حدیث نمبر: 8383 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، أَبِيهِ ، أَبِي سَلَمَةَ
حَدَّثَنَاه يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَهُوَ الصَّوَابُ، يَعْنِي لَمْ يَذْكُرْ أَبَا هُرَيْرَةَ: " يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَقْوَامٌ أَفْئِدَتُهُمْ مِثْلُ أَفْئِدَةِ الطَّيْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایسی اقوام بھی داخل ہوں گی جن کے دل پرندوں کے دلوں کی طرح ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8383]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد مرسل، وانظر ماقبله، وهو الصواب
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد مرسل، وانظر ماقبله، وهو الصواب
حدیث نمبر: 8384 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، شَيْبَانُ ، عَاصِمٍ ، الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ: " بِنَوْمٍ عَلَى وِتْرٍ، وَالْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَصَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے (میں انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا) (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٢) جمعہ کے دن غسل کرنے کی (٣) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8384]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، خ: 1178، م: 721
الحكم: إسناده حسن، خ: 1178، م: 721
حدیث نمبر: 8385 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أُسَامَةُ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ سَفَرًا لِيُوَدِّعَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" : أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَف" , فَلَمَّا وَلَّى قَالَ:" اللَّهُمَّ اطْوِ لَهُ الْبَعِيدَ، وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا وہ سفر پر جانا چاہ رہا تھا کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے کوئی وصیت فرما دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی اور ہر بلندی پر تکبیر کہنے کی وصیت کرتا ہوں جب اس شخص نے واپسی کے لئے پشت پھیری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ اس کے لئے زمین کو لپیٹ دے اور سفر کو آسان فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8385]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8386 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا لَمْ تَجْتَبُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا؟ فَقِيلَ لَهُ: وَهَلْ تَرَى ذَلِكَ كَائِنًا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ فَقَالَ: وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ، عَنْ قَوْلِ الصَّادِقِ الْمَصْدُوقِ، قَالُوا: وَعَمَّ ذَاكَ؟ قَالَ: " تُنْتَهَكُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ، فَيَشُدُّ اللَّهُ عزّ وجَّل قُلُوبَ أَهْلِ الذِّمَّةِ، فَيَمْنَعُونَ مَا بِأَيْدِيهِم" وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ، لَيَكُونَنَّ مَرَّتَيْنِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے کرتے تھے کہ اس وقت کا کیا عالم ہوگا جب تم دینار اور درہم کے ٹیکس اکھٹے نہ کرسکو گے؟ کسی نے پوچھا کہ اے ابوہریرہ! کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایسا بھی ہوگا؟ انہوں نے فرمایا ہاں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی جان ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی پیشین گوئی فرمائی ہے لوگوں نے پوچھا کہ یہ کیسے ہوگا؟ فرمایا اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ توڑ دیا جائے گا پھر اللہ بھی ذمیوں کا دل سخت کردے گا اور وہ اپنے مال و دولت کو روک لیں گے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی جان ہے ایسا ہو کر رہے گا (یہ جملہ دو مرتبہ فرمایا) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8386]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، علقه البخاري: 3180
الحكم: إسناده صحيح، علقه البخاري: 3180
حدیث نمبر: 8387 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ شَاذَانُ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ شَاذَانُ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " كَانَ رَجُلٌ يُدَايِنُ النَّاسَ، وَكَانَ يَقُولُ لِفَتَاهُ: إِذَا أَتَيْتَ مُعْسِرًا، فَتَجَاوَزْ عَنْهُ، لَعَلَّ اللَّهَ يَتَجَاوَزُ عَنَّا، فَلَقِيَ اللَّهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پہلے زمانے میں ایک آدمی تھا جو لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا اور اپنے نوجوان سے کہہ دیتا تھا کہ جب تم کسی تنگدست سے قرض وصول کرنے جاؤ تو اس سے درگذر کرنا شاید اللہ ہم سے بھی درگذر کرے چنانچہ (موت کے بعد) جب اللہ سے اس کی ملاقات ہوئی تو اللہ نے اس سے درگذر فرمایا (اسے معاف فرمایا) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8387]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3480، م: 1562
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3480، م: 1562
حدیث نمبر: 8388 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، زُهَيْرٌ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَحْسِرُ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَل ِمنْ ذَهَب، أَوْ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَحْسِرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَيَقْتَتِلَ عَلَيْهِ النَّاسُ فَيُقْتَلَ مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ" يَا بُنَيَّ، فَإِنْ أَدْرَكْتَهُ، فَلَا تَكُونَنَّ مِمَّنْ يُقَاتِلُ عَلَيْهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے قریب دریائے فرات کا پانی ہٹ کر اس میں سے سونے کا ایک پہاڑ برآمد ہوگا لوگ اس کی خاطر آپس میں لڑنا شروع کردیں گے حتی کہ ہر سو میں سے ننانوے آدمی مارے جائیں گے بیٹا اگر تم وہ زمانہ پاؤ تو اس کی خاطر لڑنے والوں میں سے نہ ہونا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8388]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2894
الحكم: إسناده صحيح، م: 2894
حدیث نمبر: 8389 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَبِي ، مُعَاوِيَةَ الْمَهْرِيُّ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةَ الْمَهْرِيُّ ، قَالَ: قَالَ لِي أَبُو هُرَيْرَةَ : يَا مَهْرِيُّ،" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَكَسْبِ الْحَجَّامِ، وَكَسْبِ الْمُومِسَةِ، وَعَنْ كَسْبِ عَسْبِ الْفَحْلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سینگی لگانے والے کی اور جسم فروشی کی کمائی اور کتے کی قیمت سے اور سانڈ کی جفتی پر دی جانے والی قیمت سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8389]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2283، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الفضل و معاوية
الحكم: حديث صحيح، خ: 2283، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الفضل و معاوية
حدیث نمبر: 8390 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ عَلِيمًا حَكِيمًا، غَفُورًا رَحِيمًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قرآن سات حرفوں پر نازل ہوا ہے مثلا علیماً حکیماً غفوراً رحیما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8390]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8391 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْكَرِيمَ ابْنَ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ، يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بَنِ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا شریف ابن شریف ابن شریف حضرت یوسف بن یعقوب بن ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام ہیں [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8391]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8392 مسند احمد
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ، ثُمَّ جَاءَنِي الدَّاعِي، لَأَجَبْتُهُ، إِذْ جَاءَهُ الرَّسُولُ، فَقَالَ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ: مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ، إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ. وَرَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى لُوطٍ، إِنْ كَانَ لَيَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ: لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً، أَوْ آوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَمَا بَعَثَ اللَّهُ مِنْ بَعْدِهِ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا فِي ثَرْوَةٍ مِنْ قَوْمِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور فرمایا کہ اگر میں اتنا عرصہ جیل میں رہتا جتنا عرصہ حضرت یوسف علیہ السلام رہے تھے پھر نکلنے کی پیشکش ہوتی تو میں اسی وقت قبول کرلیتا جب کہ ان کے پاس قاصد پہنچا تو انہوں نے فرمایا اپنے آقا کے پاس جا کر اس سے یہ تو پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا معاملہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے میرا رب ان کے مکر سے خوب واقف ہے اور حضرت لوط علیہ السلام پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں وہ کسی مضبوط ستون کا سہارا ڈھونڈ رہے تھے جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کاش کہ میرے پاس تم سے مقابلہ کرنے کی طاقت ہوتی یا میں کسی مضبوط ستون کا سہارا لے لیتا ان کے بعد اللہ نے جو نبی بھی مبعوث فرمایا انہیں اپنی قوم کے صاحب ثروت لوگوں میں سے بنایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8392]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3387، م: 151
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3387، م: 151
حدیث نمبر: 8393 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُحِبُّ الْفَأْلَ الْحَسَنَ، وَيَكْرَهُ الطِّيَرَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اچھی فال کو پسند اور بدشگونی کو ناپسند فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8393]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5755، م: 2223
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5755، م: 2223
حدیث نمبر: 8394 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَمَنْ قَطَعْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ قِطْعَةً، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں بھی تمہاری طرح ایک انسان ہوں ممکن ہے کہ تم میں سے بعض لوگ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ چرب لسان ہوں اس لئے جس شخص کو (اس چرب لسانی میں آکر) میں اس کے بھائی کا کوئی حصہ کاٹ کر دوں تو وہ سمجھ لے کہ میں اسے جہنم کا ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8394]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8395 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ له رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ أَخَذَتْكَ أُمُّ مِلْدَمٍ قَطُّ؟" قَالَ: وَمَا أُمُّ مِلْدَمٍ؟ قَالَ:" حَرٌّ يَكُونُ بَيْنَ الْجِلْدِ وَاللَّحْمِ" قَالَ: مَا وَجَدْتُ هَذَا قَطُّ، قَالَ:" فَهَلْ أَخَذَكَ هَذَا الصُّدَاعُ قَطُّ؟" قَالَ: وَمَا هَذَا الصُّدَاعُ؟ قَالَ:" عِروْقٌ تَضْرِبُ عَلَى الْإِنْسَانِ فِي رَأْسِهِ" قَالَ: مَا وَجَدْتُ هَذَا قَطُّ، قال: فَلَمَّا وَلَّى قَالَ:" مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کبھی تمہیں ام ملدم نے اپنی گرفت میں لیا ہے؟ اس نے کہا کہ ام ملدم کس چیز کا نام ہے؟ فرمایا جسم اور گوشت کے درمیان حرارت کا نام ہے اس نے کہا کہ میں نے تو اپنے جسم میں کبھی یہ چیز محسوس نہیں کی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تمہیں کبھی صداع نے پکڑا ہے؟ اس نے پوچھا کہ صداع سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ رنگیں جو انسان کے سر میں چلتی ہیں (اور ان کی وجہ سے سر میں درد ہوتا ہے) اس نے کہا کہ میں نے اپنے جسم میں کبھی یہ تکلیف محسوس نہیں کی جب وہ چلا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی جہنمی کو دیکھنا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ اس شخص کو دیکھ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8395]
حکم دارالسلام
إسناده حسن وفي متنه نكارة
الحكم: إسناده حسن وفي متنه نكارة
حدیث نمبر: 8396 مسند احمد
أَبِي هُرَيْرَةَ
وَبِإِسْنَادِهِ، وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " افْتَرَقَتْ الْيَهُودُ عَلَى إِحْدَى أَوْ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہودی ٧١ یا ٧٢ فرقوں میں تقسیم ہوگئے تھے اور میری امت ٧٣ فرقوں میں بٹ جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8396]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8397 مسند احمد
أَبِي هُرَيْرَةَ
وَبِإِسْنَادِهِ، وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمْسٌ مِنْ حَقِّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ رَدُّ التَّحِيَّةِ، وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ، وَشُهُودُ الْجِنَازَةِ، وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ إِذَا حَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں سلام کا جواب دینا دعوت کو قبول کرنا جنازے میں شرکت کرنا مریض کی بیمار پرسی کرنا چھینک کا جواب دینا جبکہ چھینکنے والا الحمدللہ کہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8397]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1240، م: 2162
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1240، م: 2162
حدیث نمبر: 8398 مسند احمد
أَبِي هُرَيْرَةَ
وَبِإِسْنَادِهِ، وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ أَرْسَلَ جِبْرِيلَ، قَالَ: انْظُرْ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعْدَدْتُ لِأَهْلِهَا فِيهَا، فَجَاءَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعَدَّ اللَّهُ لِأَهْلِهَا فِيهَا، فَرَجَعَ إِلَيْهِ، فقَال: وَعِزَّتِكَ، لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا، فَأَمَرَ بِهَا فَحُجِبَتْ بِالْمَكَارِهِ، قَالَ: ارْجِعْ إِلَيْهَا، فَانْظُرْ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعْدَدْتُ لِأَهْلِهَا فِيهَا"، قَالَ:" فَرَجَعَ إِلَيْهَا، فَإِذَا هِيَ قَدْ حُجِبَتْ بِالْمَكَارِهِ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ، فقَالَ: وَعِزَّتِكَ، قَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَدْخُلَهَا أَحَد، قَالَ: اذْهَبْ إِلَى النَّارِ، فَانْظُرْ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعْدَدْتُ لِأَهْلِهَا فِيهَا، فجاءَها، فَنَظَر إليها وإلى ما أعَّد لأهلها فيها، فَإِذَا هِيَ يَرْكَبُ بَعْضُهَا بَعْضًا، فَرَجَعَ فقَالَ، وَعِزَّتِك، لَا يَسْمَعَ بِهَا أَحَدٌ فَيَدْخُلَهَا، فَأَمَرَ بِهَا، فَحُفَّتْ بِالشَّهَوَاتِ، فر جع إليه قَالَ: وَعِزَّتِكَ، لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَنْجُوَ مِنْهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب اللہ نے جنت اور جہنم کو پیدا کیا تو حضرت جبرائیل علیہ السلام کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ جا کر اسے دیکھ آؤ اور میں نے اس میں جو چیزیں تیار کی ہیں وہ بھی دیکھ آؤ چنانچہ حضرت جبرائیل علیہ السلام گئے اور جنت اور اس میں مہیا کی گئی نعمتوں کو دیکھا اور واپس آکر بارگاہ الٰہی میں عرض کیا کہ آپ کی عزت کی قسم اس کے متعلق جو بھی سنے گا اس میں داخل ہونا چاہے گا اللہ کے حکم پر اسے ناپسندیدہ اور ناگوار چیزوں کے ساتھ ڈھانپ دیا گیا اللہ نے فرمایا اب جا کر اسے اور اس کی نعمتوں کو دیکھ کر آؤ چنانچہ وہ دوبارہ گئے اس مرتبہ وہ ناگوار امور سے ڈھانپ دی گئی تھی وہ واپس آکر عرض رسا ہوئے کہ آپ کی عزت کی قسم مجھے اندیشہ ہے کہ اب اس میں کوئی داخل ہی نہیں ہوسکے گا۔ اللہ نے فرمایا کہ جا کر جہنم اور اہل جہنم کے لئے تیار کردہ سزائیں دیکھ کر آؤ جب وہ وہاں پہنچے تو اس کا ایک حصہ دوسرے پر چڑھے جا رہا تھا واپس آکر کہنے لگے کہ آپ کی عزت کی قسم کوئی شخص بھی جو اس کے متعلق سنے گا اس میں داخل ہونا نہیں چاہے گا اللہ کے حکم پر اسے خواہشات سے ڈھانپ دیا گیا اس مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کہنے لگے کہ آپ کی عزت کی قسم مجھے تو اندیشہ ہے کہ اب کوئی آدمی اس سے بچ نہیں سکے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 8398]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن