بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 156 از 194
حدیث نمبر: 10220 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، وَأَبُو أَحْمَدَ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، ذَكْوَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ . وَأَبُو أَحْمَدَ , قََالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا حَتَّى يَرِيَهُ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا"
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی آدمی کا پیٹ پیپ سے اتنا بھر جائے کہ وہ سیراب ہوجائے اس سے بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرپور ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10220]
حکم دارالسلام
إسناداه صحيحان، خ: 6155، م: 2257
الحكم: إسناداه صحيحان، خ: 6155، م: 2257
حدیث نمبر: 10221 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، ذَكْوَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانُ ، أَبُو رَزِينٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ، فَلَا يَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ" . " وَإِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ، فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ" ، قَالَ شُعْبَةُ : قَالَ سُلَيْمَانُ , وَحَدَّثَنِي أَبُو رَزِينٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ بِهِ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ عَلَيْهِ بُرْدَانِ، فَقُلْتُ: لِشُعْبَةَ مِثْلَ حَدِيثِهِ؟ فَقَالَ شُعْبَةُ: لَمْ أَسْمَعْهُ يَقُولُ مِثْلَهُ فِي الْكَلْبِ يَلَغُ فِي الْإِنَاءِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کی جوتی کا تسمہ ٹوٹ جائے تو ایک پاؤں میں جوتی اور دوسراپاؤں خالی لے کر نہ چلے (جوتیاں پہنے یا دونوں اتار دے)۔ اور جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ماردے تو چاہئے کہ اس برتن کو سات مرتبہ دھوئے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10221]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4388، م: 52
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4388، م: 52
حدیث نمبر: 10222 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، ذَكْوَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّهُ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جَاءَ أَهْلُ الْيَمَنِ، هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً، وَأَلْيَنُ قُلُوبًا، وَالْفِقْهُ يَمَانٍ، وَالْإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ، وَالْخُيَلَاءُ وَالْكِبْرُ فِي أَصْحَابِ الْإِبِلِ، وَالسَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ فِي أَصْحَابِ الشَّاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں یہ لوگ نرم دل ہیں اور ایمان حکمت اور فقہ اہل یمن میں بہت عمدہ ہے غروروتکبر اونٹوں کے مالکوں میں ہوتا ہے اور سکون و وقار بکریوں کے مالکوں میں ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10222]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4388، م: 52
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4388، م: 52
حدیث نمبر: 10223 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، ذَكْوَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا تَرَكَ غِنًى، أَنْ تَتَصَدَّقَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا أَفْضَلُ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سب سے افضل صدقہ وہ ہے جو کچھ نہ کچھ مالداری چھوڑ دے (سارا مال خرچ نہ کردے) اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے اور تم صدقہ کرنے میں ان لوگوں سے ابتداء کرو جو تمہاری ذمہ داری میں آتے ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10223]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5355
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5355
حدیث نمبر: 10224 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، ذَكْوَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " عَبْدِي عِنْدَ ظَنِّهِ بِي، وَأَنَا مَعَهُ إِذَا دَعَانِي، فَإِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ، ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَإٍ، ذَكَرْتُهُ فِي مَلَإٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ وَأَطْيَبَ، وَإِنْ تَقَرَّبَ مِنِّي شِبْرًا، تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا، وَإِنْ تَقَرَّبَ ذِرَاعًا، تَقَرَّبْتُ بَاعًا، وَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي، أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے میں اپنے بندے کے اپنے متعلق گمان کے مطابق معاملہ کرتا ہوں بندہ جب بھی مجھے یاد کرتا ہے میں اس کے پاس موجود ہوتا ہوں اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اگر وہ مجھے کسی مجلس میں بیٹھ کر یاد کرتا ہے تو میں اس سے بہتر محفل میں اسے یاد کرتا ہوں اگر وہ ایک بالشت کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں ایک گز کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اگر وہ ایک گز کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں پورے ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اور اگر میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10224]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7405، م: 2675
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7405، م: 2675
حدیث نمبر: 10225 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ أَبِي حَازِمٍ , عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ، فَأَبَتْ فَبَاتَ وَهُوَ عَلَيْهَا سَاخِطٌ، لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو عورت (کس ناراضگی کی بنا پر) اپنے شوہر کا بستر چھوڑ کر (دوسرے بستر پر) رات گذارتی ہے اس پر ساری رات فرشتے لعنت کرتے رہتے ہیں تاآنکہ صبح ہوجائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10225]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3237، م: 1436
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3237، م: 1436
حدیث نمبر: 10226 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمْ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ: رَجُلٌ مَنَعَ بْنَ السَّبِيلِ فَضْلَ مَاءٍ عِنْدَهُ، وَرَجُلٌ حَلَفَ عَلَى سِلْعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ يَعْنِي كَاذِبًا، وَرَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا فَإِنْ أَعْطَاهُ وَفَى لَهُ، وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ لَمْ يُوفِ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تین قسم کے آدمیوں سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہم کلام ہوگا نہ ان پر نظر کرم فرمائے گا اور نہ ان کا تزکیہ فرمائے گا بلکہ ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا ایک تو وہ آدمی جس کے پاس صحرائی علاقے میں زائد پانی موجود ہو اور وہ کسی مسافر کو دینے سے انکار کردے دوسرا وہ آدمی جو کسی حکمران سے بیعت کرے اور اس کا مقصد صرف دنیا ہو اگر مل جائے تو وہ اس حکمران کا وفادار رہے اور نہ ملے تو اپنی بیعت کا وعدہ پورا نہ کرے اور تیسرا وہ آدمی جو نماز عصر کے بعد جھوٹی قسم کھا کر کوئی سامان تجارت فروخت کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10226]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2379، م: 108
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2379، م: 108
حدیث نمبر: 10227 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ أَبِي حَازِمٍ , عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمْ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ: شَيْخٌ زَانٍ، وَمَلِكٌ كَذَّابٌ، وَعَائِلٌ مُسْتَكْبِرٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تین قسم کے آدمیوں سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہم کلام ہوگا نہ ان پر نظر کرم فرمائے گا اور نہ ان کا تزکیہ فرمائے گا بلکہ ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا جھوٹا حکمران بڈھا زانی شیخی خورا فقیر۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10227]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 107
الحكم: إسناده صحيح، م: 107
حدیث نمبر: 10228 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَنْ بَيْعِ الْمُنَابَذَةِ وَالْمُلَامَسَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چھو کر یا کنکری پھینک کر خریدوفروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10228]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2146، م: 1511
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2146، م: 1511
حدیث نمبر: 10229 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ الْأَزْدِيِّ ، أَبِي حَازِمٍ الْأَشْجَعِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ الْأَزْدِيِّ ، عَنِ أَبِي حَازِمٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْإِمَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے باندیوں کی جسم فروشی کی کمائی سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10229]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2283
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2283
حدیث نمبر: 10230 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شَرِيكٌ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَشْعَرُ كَلِمَةٍ قَالَتْهَا الْعَرَبُ كَلِمَةُ لَبِيدٍ: أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی شاعر نے جو سب سے زیادہ سچا شعر کہا ہے وہ لبید کا یہ شعر ہے کہ یاد رکھو اللہ کے علاوہ ہر چیز باطل (فانی) ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10230]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3841، م: 2256، وهذا إسناد ضعيف ، شريك سيئ الحفظ
الحكم: حديث صحيح، خ: 3841، م: 2256، وهذا إسناد ضعيف ، شريك سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 10231 مسند احمد
وَكِيعٌ ، جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَظْهَرُ الْفِتَنُ، وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ، وَيُرْفَعُ الْعِلْمُ" ، فَلَمَّا سَمِعَ عُمَرُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ:" يُرْفَعُ الْعِلْمُ"، قَالَ عُمَرُ: أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ يُنْزَعُ مِنْ صُدُورِ الْعُلَمَاءِ، وَلَكِنْ يَذْهَبُ الْعُلَمَاءُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے قریب فتنوں کا دور دورہ ہوگا ہرج (قتل) کی کثرت ہوگی اور علم اٹھالیا جائے گا جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ علماء کے سینوں سے علم کو کھینچ نہیں لیا جائے گا بلکہ علماء کو اٹھا لیا جائے گا [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10231]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7061، م: 2672
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7061، م: 2672
حدیث نمبر: 10232 مسند احمد
وَكِيعٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَيْرُكُمْ فِي الْإِسْلَامِ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا إِذَا فَقُهُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہوں اور وہ فقہیہ ہوں [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10232]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10233 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً، قَالَ: " ارْكَبْهَا"، قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ! قَالَ:" ارْكَبْهَا وَيْحَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ایک اونٹ کو ہانک کر لئے جارہا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اس پر سوار ہوجاؤ اس نے عرض کیا کہ یہ قربانی کا جانور ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اس پر سوار ہوجاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10233]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1689، م: 1322
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1689، م: 1322
حدیث نمبر: 10234 مسند احمد
وَكِيعٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً، لَا يُوَافِقُهَا رَجُلٌ يَدْعُو فِيهَا خَيْرًا، إِلَّا اسْتَجَابَ اللَّهُ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی بھی آتی ہے کہ اگر وہ کسی بندہ مسلم کو اس حال میں میسر آجائے کہ وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہو اور اللہ سے خیر کا سوال کررہاہو تو اللہ اسے وہ چیز ضرور عطا فرما دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10234]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6400، م: 852
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6400، م: 852
حدیث نمبر: 10235 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کوئی شہری کسی دیہاتی کے لئے تجارت نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10235]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2140، م: 1413
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2140، م: 1413
حدیث نمبر: 10236 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي كَثِيرٍ الْغُبَرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ الْغُبَرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا بَاعَ أَحَدُكُمْ الشَّاةَ أَوْ اللِّقْحَةَ، فَلَا يُحَفِّلْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بکری یا اونٹنی کو بیچنا چاہے تو اس کے تھن نہ باندھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10236]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2151، م: 1524
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2151، م: 1524
حدیث نمبر: 10237 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ دعاء کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا رزق اتنا مقرر فرما کہ گذارہ ہوجائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10237]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6460، م: 1055
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6460، م: 1055
حدیث نمبر: 10238 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هِشَامٌ ، وَمِسْعَرٌ ، قَتَادَةَ ، زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ , وَمِسْعَرٌ , عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ هِشَامٌ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَوَقَفَهُ مِسْعَرٌ , قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا، مَا لَمْ تَعْمَلْ بِهِ، أَوْ تَكَلَّمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے میری امت کو یہ چھوٹ دی ہے کہ اس کے ذہن میں جو وسوسے پیدا ہوتے ہیں ان پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا بشرطیکہ وہ اس وسوسے پر عمل نہ کرے یا اپنی زبان سے اس کا اظہار نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10238]
حکم دارالسلام
صحيح، خ: 2528، م: 127، وله هنا إسنادان، الأول: مرفوع والثاني: موقوف
الحكم: صحيح، خ: 2528، م: 127، وله هنا إسنادان، الأول: مرفوع والثاني: موقوف
حدیث نمبر: 10239 مسند احمد
وَكِيعٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً، فَهُوَ بِالْخِيَارِ، إِنْ شَاءَ رَدَّهَا، وَمَعَهَا صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص (دھوکے کا شکار ہو کر) ایسی اونٹنی یا بکری خرید لے جس کے تھن باندھ دیئے گئے ہوں تو یا تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رکھے (اور معاملہ رفع دفع کردے) یا پھر اس جانور کو مالک کے حوالے کردے اور ساتھ میں ایک صاع کھجور بھی دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10239]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2151، م: 1524
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2151، م: 1524