بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 97 از 194
حدیث نمبر: 9040 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، سُهَيْلٌ ، رَجُلٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ صَوْتًا فَأَعْجَبَهُ، فَقَالَ: " قَدْ أَخَذْنَا فَألَكَ مِنْ فِيكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کوئی آواز سنی جو آپ کو اچھی لگی تو فرمایا کہ ہم نے تمہارے منہ سے اچھی فال لی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9040]
حکم دارالسلام
صحيح بلفظ آخر، خ: 5755، م: 2223، وإسناده ضعيف لإبھام الراوي عن أبي ھریرۃ
الحكم: صحيح بلفظ آخر، خ: 5755، م: 2223، وإسناده ضعيف لإبھام الراوي عن أبي ھریرۃ
حدیث نمبر: 9041 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ مَوْلَى أُمِّ بُرْثُنٍ حَدَّثَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " كَتَبَ اللَّهُ الْجُمُعَةَ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَنَا فَاخْتَلَفُوا فيها، وَهَدَانَا اللَّهُ لَهَا، فَالنَّاسُ لَنَا فِيهَا تَبَعٌ، فَلِلْيَهُودِ غَدًا، وَلِلنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے ہم سے پہلے لوگوں پر بھی جمعہ فرض کیا تھا لیکن وہ اس میں اختلاف کرنے لگے جب کہ اللہ نے ہمیں اس معاملے میں رہنمائی عطاء فرمائی چنانچہ اب لوگ اس دن کے متعلق ہمارے تابع ہیں کل کا دن (ہفتہ) یہودیوں کا ہے اور پرسوں کا دن (اتو ار) عیسائیوں کا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9041]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 876، م: 856
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 876، م: 856
حدیث نمبر: 9042 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، سُهَيْلٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَفِرُّ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي تُقْرَأُ فِيهِ الْبَقَرَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنے گھروں کو قبرستان مت بناؤ کیونکہ شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں سورت بقرہ کی تلاوت کی جاتی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9042]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 780
الحكم: إسناده صحيح، م: 780
حدیث نمبر: 9043 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، سُهَيْلٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِذَا تَكَلَّمْتَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَدْ لَغَوْتَ، وَأَلْغَيْتَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا امام جس وقت جمعہ کا خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے ساتھی سے بات کرو تو تم نے لغو کام کیا اور اسے بیکار کردیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9043]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 934، م: 851
الحكم: إسناده صحيح، خ: 934، م: 851
حدیث نمبر: 9044 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، سُهَيْلٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ بِغَيْرِ حَقِّهِ، طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کی زمین پر ناحق قبضہ کرتا ہے قیامت کے دن سات زمینوں سے اس ٹکڑے کا طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈالا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9044]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1611
الحكم: إسناده صحيح، م: 1611
حدیث نمبر: 9045 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، سُهَيْلٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَسْتُرُ عَبْدٌ عَبْدًا فِي الدُّنْيَا، إِلَّا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان کے عیوب پر پردہ ڈالتا ہے اللہ قیامت کے دن میں اس کے عیوب پر پردہ ڈالے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9045]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2590
الحكم: إسناده صحيح، م: 2590
حدیث نمبر: 9046 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، سُهَيْلٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" . قال عبد الله بن أحمد: قَالَ فِيهَا كُلِّهَا: حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، هَكَذَا قَالَهَا أَبِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایڑیوں کے لئے جہنم کی آگ سے قیامت کے دن ہلاکت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9046]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 165، م: 242
الحكم: إسناده صحيح، خ: 165، م: 242
حدیث نمبر: 9047 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ووهيب ، سُهَيْلٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ووهيب , قَالَا: حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَجْلِسِهِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ کر جائے تو واپس آنے کے بعد اس جگہ کا سب سے زیادہ حقدار وہی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9047]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2179
الحكم: إسناده صحيح، م: 2179
حدیث نمبر: 9048 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، سُهَيْلٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَأَنْ يَجْلِسَ أَحَدُكُمْ عَلَى جَمْرَةٍ , فَتُحْرِقَ ثِيَابَهُ حَتَّى تَخْلُصَ إِلَيْهِ، خَيْرٌ له مِنْ أَنْ يَطَأَ عَلَى قَبْرِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص چنگاری پر بیٹھ جائے اور اس کے کپڑے جل جائیں اور آگ کا اثر اس کی کھال تک پہنچ جائے یہ کسی مسلمان کی قبر پر بیٹھنے سے بہت بہتر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9048]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 971
الحكم: إسناده صحيح، م: 971
حدیث نمبر: 9049 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، سُهَيْلٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَكَلَ كَتِفَ شَاةٍ، فَمَضْمَضَ وَغَسَلَ يَدَهُ، وَصَلَّى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور گزشتہ سند سے ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بکری کے شانے کا گوشت تناول فرمایا اور کلی کرکے ہاتھ دھو کر نماز پڑھا دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9049]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9050 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، سُهَيْلٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَكَلَ ثَوْرَ أَقِطٍ، فَتَوَضَّأَ مِنْهُ، وَصَلَّى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور گزشتہ سند سے ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پنیر کے کچھ ٹکڑے تناول فرمائے اور وضو کرکے عشاء پڑھائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9050]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9051 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، سُهَيْلٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا تَنَافَسُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک دوسرے سے بغض، قطع رحمی اور مقابلہ نہ کر اور اے اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن کر رہا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9051]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2563
الحكم: إسناده صحيح، م: 2563
حدیث نمبر: 9052 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، سُهَيْلٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فَتَفَرَّقُوا عَنْ غَيْرِ ذِكْرِ اللَّهِ، إِلَّا كَأَنَّمَا تَفَرَّقُوا عَنْ جِيفَةِ حِمَارٍ، وَكَانَ ذَلِكَ الْمَجْلِسُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گذشۃ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب کچھ لوگ کسی جگہ اکٹھے ہوں اور اللہ کا ذکر کئے بغیر ہی جدا ہوجائیں تو یہ ایسے ہی ہے جیسے مردار گدھے کی لاش سے جدا ہوئے اور وہ مجلس ان کے لئے قیامت کے دن باعث حسرت ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9052]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9053 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، سُهَيْلٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تُفْتَحُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ كُلَّ يَوْمِ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ، فَيُغْفَرُ ذَلِكَ الْيَوْمَ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، إِلَّا امْرَأً كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالَ: أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر اس بندے کو بخش دیتے ہیں جو ان کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو سوائے ان دو آدمیوں کے جن کے درمیان آپس میں لڑائی جھگڑا ہو کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ان دونوں کو چھوڑے رکھو یہاں تک کہ یہ آپس میں صلح کرلیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9053]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2565
الحكم: إسناده صحيح، م: 2565
حدیث نمبر: 9054 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الْعَلَاءُ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الدِّينَ بَدَأَ غَرِيبًا، وَسَيَعُودُ غَرِيبًا كَمَا بَدَأَ، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دین کی ابتداء اجنبیت میں ہوئی اور عنقریب یہ اپنی ابتدائی حالت پر لوٹ جائے گا سو خوشخبری ہے غرباء کے لئے (جو دین سے چمٹے رہیں گے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9054]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 145
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 145
حدیث نمبر: 9055 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الْعَلَاءُ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ، وَجَنَّةُ الْكَافِرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دنیا مومن کے لئے قیدخانہ اور کافر کے لئے جنت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9055]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2956
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2956
حدیث نمبر: 9056 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَاصُّ ، الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَاصُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ دَاءٍ إِلَّا فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ مِنْهُ شِفَاءٌ، إِلَّا السَّامُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کلونجی میں موت کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9056]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5688، م: 2215
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5688، م: 2215
حدیث نمبر: 9057 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ مَثَلُ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ، قَدْ اضْطُرَّتْ أَيْدِيهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا، فَكُلَّمَا هَمَّ الْمُتَصَدِّقُ بِصَدَقَةٍ، اتَّسَعَتْ عَلَيْهِ حَتَّى تُعَفِّيَ أَثَرَهُ، وَكُلَّمَا هَمَّ الْبَخِيلُ بِصَدَقَةٍ، انْقَبَضَتْ عَلَيْهِ كُلُّ حَلْقَةٍ مِنْهَا إِلَى صَاحِبَتِهَا , وَتَقَلَّصَتْ عَلَيْهِ"، قَالَ: فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَعْنِي يَقُولُ:" فَيَجْهَدُ أَنْ يُوَسِّعَهَا فَلَا تَتَّسِعُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کنجوس اور خرچ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی سی ہے جن کے جسم پر چھاتی سے لے کر ہنسلی کی ہڈی تک لوہے کے دو جبے ہوں خرچ کرنے والا جب بھی کچھ خرچ کرتا ہے اسی کے بقدر اس جبے میں کشادگی ہوتی جاتی ہے اور وہ اس کے لئے کھلتا جاتا ہے اور کنجوس آدمی کی جکڑ بندی ہی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مزید یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ وہ اسے کشادہ کرنے کے لئے زور آزمائی کرتا ہے لیکن وہ کشادہ ہو نہیں پاتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9057]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1443، م: 1021
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1443، م: 1021
حدیث نمبر: 9058 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، مُصْعَبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَرَى رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟، قَالَ:" هَلْ تَرَوْنَ الشَّمْسَ بِنِصْفِ النَّهَارِ لَيْسَ فِي السَّمَاءِ سَحَابَةٌ؟". قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ:" هَلْ تَرَوْنَ الْقَمَرَ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ فِي السَّمَاءِ سَحَابَةٌ؟". قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ:" فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَرَوُنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ، كَمَا لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِمَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا ہم قیامت کے دن اپنے پروردگار کو دیکھیں گے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا نصف النہار کے وقت جبکہ کوئی بادل بھی نہ ہو سورج کو دیکھ سکتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا تم رات کے وقت جبکہ کوئی بادل بھی نہ ہو " چودھویں کا چاند دیکھ سکتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم اپنے پروردگار کا دیدار ضرور کروگے اور تمہیں اسے دیکھنے میں کسی قسم کی مشقت نہیں ہوگی جیسے چاند اور سورج کو دیکھنے میں نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9058]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، خ: 6573، م: 182
الحكم: إسناده قوي، خ: 6573، م: 182
حدیث نمبر: 9059 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ أَكْثَرَ عَذَابِ الْقَبْرِ فِي الْبَوْل" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اکثر عذاب قبر پیشاب کی چھینٹوں سے نہ بچنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9059]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح