بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 140 از 194
حدیث نمبر: 9900 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَر ، شُعْبَة ، الْعَلاء ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَر ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَة ، قََالَ: سَمِعْتُ الْعَلاء يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلَا يَقُولَنَّ اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ، وَلَكِنْ لِيُعْظِمْ رَغْبَتَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَتَعَاظَمُ عَلَيْهِ شَيْءٌ أَعْطَاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص جب دعاء کرے تو یوں نہ کہا کرے کہ اے اللہ اگر تو چاہے تو مجھے معاف فرما دے بلکہ پختگی اور یقین کے ساتھ دعاء کرے کیونکہ اللہ پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9900]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7477، م: 2679
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7477، م: 2679
حدیث نمبر: 9901 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْعَلَاءَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قََالَ: سَمِعْتُ الْعَلَاءَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ تَدْرُونَ مَا الْغِيَابَةُ؟" , قَال: قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا لَيْسَ فِيهِ"، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ لَه؟ قَالَ:" إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ، فَقَدْ اغْتَبْتَهُ , وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَا تَقُولُ، فَقَدْ بَهَتَّه" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ تم لوگ جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا ذکر ایک ایسے عیب کے ساتھ کرو جو اس میں نہ ہو کسی نے پوچھا کہ یہ بتائیے اگر میرے بھائی میں وہ عیب موجود ہو جو میں اس کی غیر موجودگی میں بیان کروں تو کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تمہارا بیان کیا ہوا عیب اس میں موجود ہو تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر تمہارا بیان کیا ہوا عیب اس میں موجود نہ ہو تو تم نے اس پر بہتان باندھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9901]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2589
الحكم: إسناده صحيح، م: 2589
حدیث نمبر: 9902 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، رَجُلٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: مَا أَنَا أَنْهَاكُمْ أَنْ تَصُومُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَلَكِنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تَصُومُوا يَوْمَ الْجُمُعَة، إِلَّا أَنْ تَصُومُوا قَبْلَهُ" . وَمَا أَنَا أُصَلِّي فِي نَعْلَيْنِ، وَلَكِنْ" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جمعہ کا روزہ رکھنے سے میں تم کو منع نہیں کرتا بلکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھا کرو الاّ یہ کہ اس سے پہلے کا بھی روزہ رکھو اور میں جوتوں میں نماز نہیں پڑھتا بلکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جوتوں میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9902]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، خ: 1985، م: 1144، وهذا إسناد ضعيف لجهالة زياد الحارثي
الحكم: صحيح لغيره، خ: 1985، م: 1144، وهذا إسناد ضعيف لجهالة زياد الحارثي
حدیث نمبر: 9903 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شَرِيكٌ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، زِيَادٍ الْحَارِثِيِّ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ زِيَادٍ الْحَارِثِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا يَسْأَلُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9903]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ، أنظر ما قبله
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ، أنظر ما قبله
حدیث نمبر: 9904 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، سَالِمًا الْبَرَّادَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ سَالِمًا الْبَرَّادَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قََالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَصَلَّى عَلَيْهَا أَوْ قَالَ: مَنْ صَلَّى عَلَيْهَا، شُعْبَةُ شَكَّ فَلَهُ قِيرَاط، فَإِنْ شَهِدَ دَفْنَهَا، فَلَهُ قِيرَاطَانِ، الْقِيرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کی نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص دفن سے فراغت ہونے تک انتظار کرتا رہا اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور ہر قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9904]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1325، م: 945
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1325، م: 945
حدیث نمبر: 9905 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ أَصْدَقَ بَيْتٍ قَالَتْهُ الشُّعَرَاءُ: أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی شاعر نے جو سب سے زیادہ سچا شعر کہا ہے وہ یہ ہے کہ یاد رکھو! اللہ کے علاوہ ہر چیز باطل (فانی) ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9905]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6489، م: 2256
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6489، م: 2256
حدیث نمبر: 9906 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، أَبَا يَحْيَى ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا يَحْيَى ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " الْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ مَدَّ صَوْتِهِ، وَيَشْهَدُ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ، وَشَاهِدُ الصَّلَاةِ يُكْتَبُ لَهُ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ حَسَنَةً، وَيُكَفَّرُ عَنْهُ مَا بَيْنَهُمَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مؤذن کی آواز جہاں تک پہنچتی ہے ان کی برکت سے اس کی بخشش کردی جاتی ہے کیونکہ ہر تر اور خشک چیز اس کے حق میں گواہی دیتی ہے اور نماز میں باجماعت شریک ہونے والے کے لئے پچیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور دو نمازوں کے درمیانی وقفے کے لئے کفارہ بنادیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9906]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد جید
الحكم: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد جید
حدیث نمبر: 9907 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ، الْأَغَرَّ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ الْأَغَرَّ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَال: " تَوَضَّئُوا مِمَّا أَنْضَجَتْ النَّارُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9907]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 352
الحكم: إسناده صحيح، م: 352
حدیث نمبر: 9908 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَر ، وَبَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عُمَارَةَ بْنَ عُمَيْرٍ ، أَبِي الْمُطَوِّسِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَر , وَبَهْزٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، قََالَ: بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ، قََالَ: أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، قََالَ: سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي الْمُطَوِّسِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ: عَنِ ابْنِ الْمُطَوِّسِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا فِي رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ رُخْصَةٍ رَخَّصَهَا اللَّهُ، لَمْ يَقْضِ عَنْهُ صِيَامُ الدَّهْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص بغیر کسی عذر کے رمضان کا ایک روزہ چھوڑ دے یا توڑ دے ساری عمر کے روزے بھی اس کے ایک روزے کا بدلہ نہیں بن سکتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9908]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة المطوس، وأبيه
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة المطوس، وأبيه
حدیث نمبر: 9909 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، مَوْلًى لِقُرَيْشٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، قََالَ: أَخْبَرَنِي مَوْلًى لِقُرَيْشٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ" نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمَغَانِمِ حَتَّى تُقْسَمَ، ثُمَّ قَالَ بَعْدَ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ: وَيَعْلَمُ مَا هِيَ، قَالَهَا يَزِيدُ: آخِرَ مَرَّة، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يُحْرَزَ مِنْ كُلِّ عَارِضٍ، وَأَنْ لَا يُصَلِّيَ الرَّجُلُ إِلَّا وَهُوَ مُحْتَزِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تقسیم سے قبل مال غنیمت اور ہر آفت سے محفوظ ہونے سے قبل پھل کی خریدوفروخت سے منع فرمایا ہے نیز کمر کسنے سے قبل نماز پڑھنے سے بھی منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9909]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الراوي عن أبي هريرة
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الراوي عن أبي هريرة
حدیث نمبر: 9910 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " أَوْصَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ يُوَرِّثُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حضرت جبرائیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت اتنے تسلسل کے ساتھ کرتے رہے کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا کہ عنقریب وہ اسے وارث قرار دے دیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9910]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9911 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ " مَا كَانَ لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامٌ إِلَّا الْأَسْوَدَانِ: التَّمْرُ وَالْمَاءُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ہمارے پاس سوائے دو کالی چیزوں " کھجور اور پانی سوا کھانے کی کوئی چیز نہ ہوتی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9911]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9912 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: يَعْنِي اللَّهَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " الصَّوْمُ هُوَ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9912]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7492، م: 1151
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 9913 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْجُلَاسِ ، عُثْمَانَ بْنَ شَمَّاسٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْجُلَاسِ ، قََالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ شَمَّاسٍ ، قََالَ: كَانَ مَرْوَانُ يَمُرُّ عَلَى الْمَدِينَةِ، قََالَ: فَيَمُرُّ بِأَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ يُحَدِّثُ، فَقَالَ: بَعْضَ حَدِيثِكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، قََالَ: ثُمَّ مَضَى، قََالَ: ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْجِنَازَةِ؟ قَالَ: قَالَ: " خَلَقْتَهَا أَوْ قَالَ: أَنْتَ خَلَقْتَهَا، شُعْبَةُ الَّذِي شَكَّ , وَهَدَيْتَهَا إِلَى الْإِسْلاِِم، وَأَنْتَ قَبَضْتَ رُوحَهَا، تَعْلَمُ سِرَّهَا وَعَلَانِيَتَهَا , جِئْنَا شُفَعَاءَ فَاغْفِرْ لَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عثمان بن شماس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مروان کا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذر ہوا تو وہ کہنے لگا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے اپنی کچھ حدیثیں سنبھال کر رکھو تھوڑی دیر بعد وہ واپس آگیا ہم لوگوں نے اپنے دل میں سوچا کہ اب یہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی کرے گا (کیونکہ ان کے درمیان کچھ ناراضگی تھی) مروان کہنے لگا کہ آپ نے نماز جنازہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کون سی دعا پڑھتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ آپ ہی نے اسے پیدا کیا آپ ہی نے اسے رزق دیا آپ ہی نے اسلام کی طرف اس کی رہنمائی فرمائی اور آپ ہی نے اس کی روح قبض فرمائی آپ اس کے پوشیدہ اور ظاہر سب کو جانتے ہیں ہم آپ کے پاس اس کے سفارشی بن کر آئے ہیں آپ اسے معاف فرما دیجئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9913]
حکم دارالسلام
حديث ضعيف، فيه ثلاث علل: اضطراب إسناده، وجهالة بعض رواته، ورواية بعضهم له موقوفاً
الحكم: حديث ضعيف، فيه ثلاث علل: اضطراب إسناده، وجهالة بعض رواته، ورواية بعضهم له موقوفاً
حدیث نمبر: 9914 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، أَبَا رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا رَافِعٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ " زَيْنَبَ كَانَ اسْمُهَا بَرَّةَ، فَقِيلَ تُزَكِّي نَفْسَهَا، فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت زینب رضی اللہ عنہ کا نام پہلے برہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بدل کر ان کا نام " زینب " رکھ دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9914]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6192، م: 2141
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6192، م: 2141
حدیث نمبر: 9915 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قََالَ: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ " يَسْجُدُ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ سورة الانشقاق آية 1، فَقُلْتُ: أَتَسْجُدُ فِيهَا؟ فَقَالَ: نَعَمْ، رَأَيْتُ خَلِيلِي " يَسْجُدُ فِيهَا، وَلَا أَزَالُ أَسْجُدُ فِيهَا حَتَّى أَلْقَاهُ" ، قَالَ: شُعْبَةُ قُلْتُ: النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابورافع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سورت انشقاق میں سجدہ تلاوت کرتے ہوئے دیکھا میں نے ان سے پوچھا انہوں نے فرمایا کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس آیت پر سجدہ کیا ہے اس لئے میں اس آیت پر پہنچ کر ہمیشہ سجدہ کرتا رہوں گا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جا ملوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9915]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 768، م: 578
الحكم: إسناده صحيح، خ: 768، م: 578
حدیث نمبر: 9916 مسند احمد
مُحَمَّدٌ بْنُ جَعَفْرٍ ، شُعْبَةُ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، عَبَّاسٍ يَعْنِي الْجُرَيْرِيَّ ، أَبَا عُثْمَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ بْنُ جَعَفْرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَأَبُو دَاوُدَ , قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبَّاسٍ يَعْنِي الْجُرَيْرِيَّ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قََالَ:" أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ: الْوَتْرِ قَبْلَ النَّوْم، وَرَكْعَتَيْ الضُّحَى، وَصَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے میں نے انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا۔ (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٢) چاشت کی نماز کی (٣) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9916]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1178، م: 721
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1178، م: 721
حدیث نمبر: 9917 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي شِمْرٍ الضُّبَعِيِّ ، أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي شِمْرٍ الضُّبَعِيِّ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قََالَ:" أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ: الْوَتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ، وَرَكْعَتَيْ الضُّحَى، وَصَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے میں نے انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا۔ (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٢) چاشت کی نماز کی (٣) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9917]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبي شمر، انظر ما قبله
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبي شمر، انظر ما قبله
حدیث نمبر: 9918 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، شُعْبَةُ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَأَبُو النَّضْرِ , قَالاَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ، وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَتَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص طلوع آفتاب سے قبل فجر کی نماز کی ایک رکعت پالے اس نے وہ نماز پا لی اور جو شخص غروب آفتاب سے قبل نماز عصر کی ایک رکعت پالے اسے نے وہ نماز پا لی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9918]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، دون قوله: « ركعتين من العصر » فهي رواية شاذة، وقد اختلف على أبي صالح فى هذا الحديث فى متنه وإسناده ، خ: 556، م: 608
الحكم: حديث صحيح، دون قوله: « ركعتين من العصر » فهي رواية شاذة، وقد اختلف على أبي صالح فى هذا الحديث فى متنه وإسناده ، خ: 556، م: 608
حدیث نمبر: 9919 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي أَهْلِ الْكِتَابِ: " لاَ تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلاَمِ، وَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فِي طَرِيقٍ، فَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اہل کتاب کے متعلق فرمایا جب تم ان لوگوں سے راستے میں ملو تو سلام کرنے میں پہل نہ کرو اور انہیں تنگ راستے کی طرف مجبور کردو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9919]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2167
الحكم: إسناده صحيح، م: 2167