بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 177 از 194
حدیث نمبر: 10640 مسند احمد
أَبُو دَاوُدَ ، عِمْرَانُ ، قَتَادَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ , حَدَّثَنَا عِمْرَانُ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا: طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَالدَّجَّالَ، وَالدُّخَانَ، وَدَابَّةَ الْأَرْضِ، وَخُوَيْصَّةَ أَحَدِكُمْ، وَأَمْرَ الْعَامَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا چھ واقعات رونما ہونے سے قبل اعمال صالحہ میں سبقت کرلو سورج کا مغرب سے طلوع ہونا دجال کا خروج دھواں چھاجانا دابۃ الارض کا خروج تم میں سے کسی خاص آدمی کی موت یا سب کی عمومی موت۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10640]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2947
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2947
حدیث نمبر: 10641 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي أَسِيدٍ ، جَدِّهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي أَسِيدٍ , عَنْ جَدِّهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ لَدَخَلْتُمُوهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ تم لوگ گزشتہ امتوں والے اعمال میں بالشت بالشت بھر اور گز گز بھر مبتلا ہو جاؤ گے حتیٰ کہ اگر وہ کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تم بھی داخل ہو جاؤ گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10641]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 7319، وهذا إسناد ضعيف، جذ إبراهيم لا يعرف
الحكم: حديث صحيح، خ: 7319، وهذا إسناد ضعيف، جذ إبراهيم لا يعرف
حدیث نمبر: 10642 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، فُلَيْحٌ ، هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ , عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمًا وَهُوَ يُحَدِّثُ وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ:" إِنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الزَّرْعِ , فَقَالَ لَهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَلَسْتَ فِيمَا شِئْتَ؟ قَالَ: بَلَى , وَلَكِنْ أُحِبُّ أَنْ أَزْرَعَ , قَالَ: فَبَذَرَ فَبَادَرَ الطَّرْفَ نَبَاتُهُ وَاسْتِوَاؤُهُ وَاسْتِحْصَادُهُ , فَكَانَ أَمْثَالَ الْجِبَالِ , قَالَ: فَيَقُولُ لَهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ: دُونَكَ يَا ابْنَ آدَمَ , فَإِنَّهُ لَا يُشْبِعُكَ شَيْءٌ" , قَالَ: فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: وَاللَّهِ لَا تَجِدُهُ إِلَّا قُرَشِيًّا أَوْ أَنْصَارِيًّا , فَإِنَّهُمْ أَصْحَابُ زَرْعٍ , وَأَمَّا نَحْنُ , فَلَسْنَا بِأَصْحَابِهِ , قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی گفتگو کے دوران فرمایا اس وقت ایک دیہاتی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا " کہ ایک جنتی نے اللہ سے درخواست کی اسے کھیتی باڑی کی اجازت دی جائے پروردگار عالم نے اس سے فرمایا کیا تو اپنی خواہشات پوری نہیں کرپارہا؟ اس نے عرض کیا کہ کیوں نہیں لیکن یہ بھی میری خواہش ہے چنانچہ اس نے بیج بویا اور پلک جھپکتے ہی وہ اگ آیا برابر ہوگیا اور کٹ کر پہاڑوں کے برابر اس کے ڈھیر لگ گئے اللہ نے اس سے فرمایا اے ابن آدم یہ لے تیرا پیٹ کوئی چیز نہیں بھر سکتی یہ سن کر وہ دیہاتی کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ اسے دیکھیں گے تو وہ کوئی قریشی یا انصاری ہی ہوگا کیونکہ یہی لوگ کھیتی باڑی کرتے ہیں ہم تو یہ کام نہیں کرتے اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہنس پڑے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10642]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3348
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3348
حدیث نمبر: 10643 مسند احمد
رَوْحٌ ، سَعِيدٌ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ آدَمَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , وَعَبْدُ الْوَهَّابِ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ آدَمَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الْجُمُعَةَ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَنَا , فَاخْتَلَفَ النَّاسُ فِيهَا وَهَدَانَا اللَّهُ لَهَا فَالنَّاسُ لَنَا فِيهَا تَبَعٌ , فَالْيَوْمُ لَنَا , وَلِلْيَهُودِ غَدًا , وَلِلنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ , لِلْيَهُودِ يَوْمُ السَّبْتِ , وَلِلنَّصَارَى يَوْمُ الْأَحَدِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہم سے پہلے لوگوں پر بھی جمعہ فرض کیا گیا تھا لیکن وہ اس میں اختلاف کرنے لگے جب کہ اللہ نے ہمیں اس معاملے میں رہنمائی عطاء فرمائی چنانچہ اب لوگ اس دن کے متعلق ہمارے تابع ہیں کل کا دن (ہفتہ) یہودیوں کا ہے اور پرسوں کا دن (اتوار) عیسائیوں کا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10643]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 876، م: 856
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 876، م: 856
حدیث نمبر: 10644 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى أُمِّ بُرْثُنٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَذَكَرَ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ:" الْيَوْمُ لَنَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10644]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10645 مسند احمد
رَوْحٌ ، صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ، وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوتا ہے جمعہ کا دن ہے اسی میں حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق ہوئی اسی دن وہ جنت میں داخل ہوئے اور اسی دن جنت سے باہر نکالے گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10645]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 854، وهذا إسناد ضعيف لضعف صالح، لكنه متابع
الحكم: حديث صحيح، م: 854، وهذا إسناد ضعيف لضعف صالح، لكنه متابع
حدیث نمبر: 10646 مسند احمد
رَوْحٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، ابْنُ شِهَابٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَأَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ , حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , وَأَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَى كُلِّ بَابِ مَسْجِدٍ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مَلَائِكَةٌ يَكْتُبُونَ مَجِيءَ الرَّجُلِ , فَإِذَا جَلَسَ الْإِمَامُ طُوِيَتْ الصُّحُفُ , فَالْمُهَجِّرُ كَالْمُهْدِي جَزُورًا , وَالَّذِي يَلِيهِ كَمُهْدِي الْبَقَرَةَ , وَالَّذِي يَلِيهِ كَمُهْدِي الشَّاةَ , وَالَّذِي يَلِيهِ كَمُهْدِي الدَّجَاجَةَ , وَالَّذِي يَلِيهِ كَمُهْدِي الْبَيْضَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب جمعہ کا دن آتا ہے تو مسجد کے ہر دروازے پر فرشتے آجاتے ہیں اور پہلے دوسرے نمبر پر آنے والے نمازی کا ثواب لکھتے رہتے ہیں چنانچہ جمعہ کی نماز میں سب سے پہلے آنے والا اونٹ قربان کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے دوسرے نمبر پر آنے والاگائے ذبح کرنے والے کی طرح تیسرے نمبر پر آنے والا مینڈھا قربان کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے پھر مرغی پھر انڈہ صدقہ کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے اور جب امام نکل آتا ہے اور منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو وہ اپنے صحیفے لپیٹ کر ذکر سننے کے لئے بیٹھ جاتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10646]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3211، م: 850
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3211، م: 850
حدیث نمبر: 10647 مسند احمد
رَوْحٌ ، صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ ، ابْنُ شِهَابٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ , حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي , أُتِيتُ بِقَدَحَيْنِ قَدَحِ لَبَنٍ، وَقَدَحِ خَمْرٍ , فَنَظَرْتُ إِلَيْهِمَا فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ , فَقَالَ جِبْرِيلُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَاكَ لِلْفِطْرَةِ , لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا شب معراج کے موقع پر میرے پاس دو برتن لائے گئے جن میں سے ایک میں دودھ اور دوسرے میں شراب تھی مجھ سے کہا گیا کہ ان میں جسے چاہیں منتخب کرلیں میں نے دودھ اٹھالیا حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے مجھ سے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ فطرت صحیحہ کی طرف آپ کی رہنمائی ہوئی اگر آپ شراب اٹھالیتے تو آپ کی امت گمراہ ہوجاتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10647]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3394، م: 168، وهذا إسناد ضعيف لضعف صالح، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 3394، م: 168، وهذا إسناد ضعيف لضعف صالح، لكنه توبع
حدیث نمبر: 10648 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، بْنُ شِهَابٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنَا بْنُ شِهَابٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ لَمْ يَرْفَعْهُ , قَالَ: " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ , حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ الشُّحُومَ , فَبَاعُوهَا وَأَكَلُوا ثَمَنَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہودیوں پر اللہ کی لعنت ہو ان پر چربی کو حرام قرار دیا گیا لیکن وہ اسے بیچ کر اس کی قیمت کھانے لگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10648]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وهو هنا موقوف لكن صح مرفوعا، خ: 2224، م: 1583
الحكم: إسناده صحيح، وهو هنا موقوف لكن صح مرفوعا، خ: 2224، م: 1583
حدیث نمبر: 10649 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرٍ ، عَاصِمٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَنَاجَشُوا , وَلَا تَدَابَرُوا , وَلَا تَنَافَسُوا , وَلَا تَحَاسَدُوا , وَلَا تَبَاغَضُوا , وَلَا يَسْتَامُ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ , وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ , دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقُ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ , وَلَا تَشْتَرِطْ امْرَأَةٌ طَلَاقَ أُخْتِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا خریدوفروخت میں ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو قطع رحمی نہ کرو دنیا میں ایک دوسرے سے ریس نہ کرو ایک دوسرے سے حسد اور بغض نہ رکھو کوئی آدمی اپنے بھائی کے بھاؤ پر اپنا بھاؤ نہ کرے کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان نہ بیچے لوگوں کو چھوڑ دو تاکہ اللہ انہیں ایک دوسرے کے ذریعے رزق عطاء فرمائے اور کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کی شرط نہ لگائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10649]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2140، م: 2563
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2140، م: 2563
حدیث نمبر: 10650 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرٍ ، عَاصِمٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَاللَّهِ لَا تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا , وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا , قَالَ: إِنْ شِئْتُمْ دَلَلْتُكُمْ عَلَى مَا إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ , أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہوسکتے جب تک کامل مومن نہ ہوجاؤ اور کامل مومن نہیں ہوسکتے جب تک آپس میں محبت نہ کرنے لگو کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتادوں جس پر عمل کرنے کے بعد تم ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو؟ آپس میں سلام کو پھیلاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10650]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 54
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 54
حدیث نمبر: 10651 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَأَلَكُمْ بِاللَّهِ فَأَعْطُوهُ، وَمَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ، وَلَوْ أُهْدِيَ إِلَيَّ كُرَاعٌ لَقَبِلْتُ، وَلَوْ دُعِيتُ إِلَى كُرَاعٍ لَأَجَبْتُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص تم سے اللہ کے نام پر مانگے اسے دے دیا کرو اور جو تمہاری دعوت کرے اسے قبول کرلیا کرو اگر مجھے صرف ایک دستی کی دعوت دی جائے تو میں قبول کرلوں گا اور اگر ایک پائے کی دعوت دی جائے تب قبول کرلوں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10651]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5178
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5178
حدیث نمبر: 10652 مسند احمد
أَسْوَدُ ، أَبُو بَكْرٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ , أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ أَهْلِ النَّارِ يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ , فَيَقُولُ: لَوْ أَنَّ اللَّهَ هَدَانِي , فَيَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً" , قَالَ" وَكُلُّ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ، فَيَقُولُ: لَوْلَا أَنَّ اللَّهَ هَدَانِي، قَالَ: فَيَكُونُ لَهُ شُكْرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر جہنمی کو جنت میں اس کا متوقع ٹھکانہ دکھایا جاتا ہے اور وہ تمنا کرتا ہے کہ کاش مجھے بھی اللہ نے ہدایت سے سرفراز کیا ہوتا اور وہ اس کے لئے باعث حسرت بن جاتا ہے اسی طرح ہر جنتی کو جہنم میں اس کا متوقع ٹھکانہ دکھایا جاتا ہے اور وہ سوچتا ہے کہ اگر اللہ نے مجھے ہدایت نہ دی ہوتی تو میں یہاں ہوتا اور پھر وہ اس پر شکر کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10652]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6569
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6569
حدیث نمبر: 10653 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، شَرِيكٍ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَيْئَتِهِ , لَوْنُهُ لَوْنُ الدَّمِ , وَرِيحُهُ رِيحُ الْمِسْكِ" , قَالَ أَبِي , وَحَدَّثَنَاه عَنْ شَرِيكٍ أَيْضًا يَعْنِي أَسْوَدَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ کے راستے میں جس کسی شخص کو کوئی زخم لگتا ہے وہ قیامت کے دن اسی طرح تروتازہ ہوگا جیسے زخم لگنے کے دن تھا اس کا رنگ تو خون کی طرح ہوگا لیکن اس کی بو مشک کی طرح عمدہ ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10653]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2803، م: 1876، إسناده الأول: صحيح، والثاني: ضعيف، شريك سيئ الحفظ، لكنه متابع
الحكم: حديث صحيح، خ: 2803، م: 1876، إسناده الأول: صحيح، والثاني: ضعيف، شريك سيئ الحفظ، لكنه متابع
حدیث نمبر: 10654 مسند احمد
أَسْوَدُ ، أَبُو بَكْرٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَدْخُلُ الْفُقَرَاءُ الْجَنَّةَ قَبْلَ الْأَغْنِيَاءِ بِنِصْفِ يَوْمٍ، وَهُوَ خَمْسُ مِائَةِ عَامٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا فقراء مومنین مالدار مسلمانوں کی نسبت پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10654]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10655 مسند احمد
أَسْوَدُ ، أَبُو بَكْرٍ ، دَاوُدَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , عَنْ دَاوُدَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: أَقْبَلَ سَعْدٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَآهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ فِي وَجْهِ سَعْدٍ لَخَبَرًا" , قَالَ: قُتِلَ كِسْرَى، قَالَ: يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَنَ اللَّهُ كِسْرَى، إِنَّ أَوَّلَ النَّاسِ هَلَاكًا الْعَرَبُ، ثُمَّ أَهْلُ فَارِسَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں دیکھ کر فرمایا کہ سعد کے چہرے میں خیروبرکت کے آثار ہیں پھر فرمایا کسریٰ قتل ہوگیا اللہ کسریٰ پر اپنی لعنت نازل فرمائے جو عرب کو پھر اہل فارس کو ہلاک کرنے والوں میں سب سے پہلا شخص ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10655]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف داود
الحكم: إسناده ضعيف لضعف داود
حدیث نمبر: 10656 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرٍ ، عَاصِمٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُؤْتَى بِالْمَوْتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَبْشًا، فَيُقَالُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، تَعْرِفُونَ هَذَا؟ فَيَطَّلِعُونَ خَائِفِينَ، قَالَ: فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، قَالَ: ثُمَّ يُنَادَ أَهْلُ النَّارِ: تَعْرِفُونَ هَذَا؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، فَيُذْبَحُ , ثُمَّ يُقَالُ: خُلُودٌ فِي الْجَنَّةِ , وَخُلُودٌ فِي النَّارِ" , حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , مِثْلَهُ , أَنَّهُ زَادَ فِيهِ:" يُؤْتَى عَلَى الصِّرَاطِ فَيُذْبَحُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن موت کو مینڈھے کی شکل میں لا کر پل صراط پر کھڑا کردیا جائے گا اور اہل جنت کو پکار کر بلایا جائے گا وہ خوفزدہ ہو کر جھانکیں گے کہ کہیں انہیں جنت سے نکال تو نہیں دیا جائے گا پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ وہ کہیں گے کہ جی ہاں! پھر اہل جہنم کو پکار کر آواز دی جائے گی کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ وہ کہیں گے جی ہاں چنانچہ اللہ کے حکم پر اسے پل صراط پر ذبح کر دیا جائے گا اور دونوں گروہوں سے کہا جائے گا کہ تم جن حالات میں رہ رہے ہو۔ اس میں تم ہمیشہ ہمیش رہو گے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10656]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10657 مسند احمد
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ: أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ زَادَ فِيهِ: يُؤْتَى عَلَى الْصِّرَاطِ فَيُذْبَحُ»
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10658 مسند احمد
ابْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرٍ ، هِشَامٍ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ عَامِرٍ , أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ , عَنْ هِشَامٍ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى أَهْلِهِ , فَلَمَّا رَأَى مَا بِهِمْ مِنَ الْحَاجَةِ , خَرَجَ إِلَى الْبَرِّيَّةِ , فَلَمَّا رَأَتْ امْرَأَتُهُ قَامَتْ إِلَى الرَّحَى، فَوَضَعَتْهَا، وَإِلَى التَّنُّورِ فَسَجَرَتْهُ، ثُمَّ قَالَتْ: اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا فَنَظَرَتْ، فَإِذَا الْجَفْنَةُ قَدْ امْتَلَأَتْ، قََالَ: وَذَهَبَتْ إِلَى التَّنُّورِ فَوَجَدَتْهُ مُمْتَلِئًا، قََالَ: فَرَجَعَ الزَّوْجُ , قََالَ: أَصَبْتُمْ بَعْدِي شَيْئًا؟ قَالَتْ امْرَأَتُهُ: نَعَمْ مِنْ رَبِّنَا , قَامَ إِلَى الرَّحَى , فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَمَا إِنَّهُ لَوْ لَمْ يَرْفَعْهَا , لَمْ تَزَلْ تَدُورُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" ." شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: " وَاللَّهِ، لَأَنْ يَأْتِيَ أَحَدُكُمْ صَبِيرًا , ثُمَّ يَحْمِلَهُ يَبِيعَهُ فَيَسْتَعِفَّ مِنْهُ , خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْتِيَ رَجُلًا يَسْأَلُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک آدمی اپنی بیوی کے پاس آیا اس نے اس پر پریشانی کے حالات دیکھے تو وہ جنگل کی طرف نکل گیا یہ دیکھ کر اس کی بیوی چکی کی طرف بڑھی اور اسے لا کر رکھا اور تنور کو دہکایا اور کہنے لگی کہ اے اللہ ہمیں رزق عطاء فرما اس نے دیکھا تو ہنڈیا بھر چکی تھی تنور کے پاس گئی تو وہ بھی بھرا ہوا تھا تھوڑی دیر میں اس کا شوہر واپس آگیا اور کہنے لگا کیا میرے بعد تمہیں کچھ حاصل ہوا ہے؟ اس کی بیوی نے کہا ہاں ہمارے رب کی طرف سے چنانچہ وہ اٹھ کرچکی کے پاس گیا اور اسے اٹھالیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر وہ چکی اس کی جگہ سے نہ اٹھاتا تو وہ قیامت تک گھومتی ہی رہتی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میری موجودگی میں فرمایا بخدا! یہ بات بہت بہتر ہے کہ تم میں سے کوئی آدمی پہاڑ پر جائے لکڑیاں باندھے اور اپنی پیٹھ پر لاد کر اسے بیچے اور اس سے عفت حاصل کرے بہ نسبت اس کے کہ کسی آدمی کے پاس جا کر سوال کرے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10658]
حکم دارالسلام
صحيح، أنظر، خ: 1470، م: 1042
الحكم: صحيح، أنظر، خ: 1470، م: 1042
حدیث نمبر: 10659 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، كَامِلٌ ، وَأَبُو الْمُنْذِرِ ، كَامِلٌ أَبُو الْعَلَاءِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , حَدَّثَنَا كَامِلٌ , وَأَبُو الْمُنْذِرِ , حَدَّثَنَا كَامِلٌ أَبُو الْعَلَاءِ ، قََالَ أَسْوَدُ: قََالَ: أَخْبَرَنَا الْمَعْنَى , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، " فَإِذَا سَجَدَ وَثَبَ الْحَسَنُ , وَالْحُسَيْنُ عَلَى ظَهْرِهِ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ، أَخَذَهُمَا بِيَدِهِ مِنْ خَلْفِهِ أَخْذًا رَفِيقًا، وَيَضَعُهُمَا عَلَى الْأَرْضِ، فَإِذَا عَادَ عَادَا , حَتَّى إِذَا قَضَى صَلَاتَهُ، أَقْعَدَهُمَا عَلَى فَخِذَيْهِ، قَالَ: فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَرُدُّهُمَا , فَبَرَقَتْ بَرْقَةٌ , فَقَالَ لَهُمَا:" الْحَقَا بِأُمِّكُمَا"، قَالَ: فَمَكَثَ ضَوْءُهَا حَتَّى دَخَلَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز عشاء پڑھ رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب سجدے میں گئے تو حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہ کود کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پشت مبارک پر چڑھ گئے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سجدے سے سر اٹھایا تو انہیں اپنا ہاتھ پیچھے کرکے آہستہ سے پکڑ لیا اور انہیں زمین پر اتار دیا اور ساری نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بھی سجدے میں جاتے تو یہ دنوں ایساہی کرتے، یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز سے فارغ ہوگئے اور انہیں اپنی ران پر بٹھالیا میں کھڑا ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں ان دونوں کو چھوڑ آؤں؟ اسی لمحے ایک روشنی کو ندی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا اپنی امی کے پاس چلے جاؤ او وہ روشنی اس وقت تک رہی جب تک وہ اپنے گھر میں داخل نہ ہو گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10659]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن