بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 192 از 194
حدیث نمبر: 10940 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، وَهَاشِمٌ ، زُهَيْرٌ ، سُهَيْلٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ , وَهَاشِمٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ نَامَ وَفِي يَدِهِ غَمْرٌ , وَلَمْ يَغْسِلْهُ , فَأَصَابَهُ شَيْءٌ , فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے ہاتھ پر چکنائی کے اثرات ہوں اور وہ انہیں دھوئے بغیر ہی سوجائے جس کی وجہ سے اسے کوئی تکلیف پہنچ جائے تو وہ صرف اپنے آپ ہی کو ملامت کرے (کہ کیوں ہاتھ دھوکر نہ سویا) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10940]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10941 مسند احمد
هَاشِمٌ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، زُهَيْرٌ ، سُهَيْلٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , وَأَبُو كَامِلٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ أَوْ جَرَسٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس قافلے کے ساتھ فرشتے نہیں رہتے جس میں کتا یا گھنٹیاں ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10941]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2113 .
الحكم: إسناده صحيح، م: 2113 .
حدیث نمبر: 10942 مسند احمد
هَاشِمٌ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، زُهَيْرٌ ، سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , وَأَبُو كَامِلٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَامَ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسِهِ , ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ , فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ کر جائے تو واپس آنے کے بعد اس جگہ کا سب سے زیادہ حقدار وہی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10942]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح .م2179
الحكم: إسناده صحيح .م2179
حدیث نمبر: 10943 مسند احمد
هَاشِمٌ ، زُهَيْرٌ ، سُهَيْلٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَقَارَبَ الزَّمَانُ , فَتَكُونَ السَّنَةُ كَالشَّهْرِ , وَيَكُونَ الشَّهْرُ كَالْجُمُعَةِ , وَتَكُونَ الْجُمُعَةُ كَالْيَوْمِ , وَيَكُونَ الْيَوْمُ كَالسَّاعَةِ , وَتَكُونَ السَّاعَةُ كَاحْتِرَاقِ السَّعَفَةِ الْخُوصَةُ" , زَعَمَ سُهَيْلٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک زمانہ قریب نہ آجائے چنانچہ سال مہینے کی طرح مہینہ ہفتہ کی طرح ہفتہ دن کی طرح دن گھنٹے کی طرح اور گھنٹہ چنگاری سلگنے کے بقدر رہ جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10943]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح،
الحكم: إسناده صحيح،
حدیث نمبر: 10944 مسند احمد
هَاشِمٌ ، لَيْثٌ ، بْنُ شِهَابٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , حَدَّثَنَا لَيْثٌ , حَدَّثَنَا بْنُ شِهَابٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمْ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا مُقْسِطًا يَكْسِرُ الصَّلِيبَ , وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ , وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ , وَيَفِيضُ الْمَالُ حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے عنقریب تم میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ایک منصف حکمران کے طور پر نزول فرمائیں گے وہ صلیب کو توڑ دیں گے خنزیر کو قتل کردیں گے جزیہ کو موقوف کردیں گے اور مال پانی کی طرح بہائیں گے یہاں تک کہ اسے قبول کرنے والا کوئی نہ رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10944]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2448، م: 155 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2448، م: 155 .
حدیث نمبر: 10945 مسند احمد
هَاشِمٌ ، لَيْثٌ ، سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , حَدَّثَنَا لَيْثٌ , حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَخِي أَبِي مَرْثَدٍ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا تَصَدَّقَ أَحَدٌ بِصَدَقَةٍ مِنْ طَيِّبٍ , وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا الطَّيِّبَ، إِلَّا أَخَذَهَا الرَّحْمَنُ عَزَّ وَجَلَّ بِيَمِينِهِ، وَإِنْ كَانَتْ تَمْرَةً , فَتَرْبُو لَهُ فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ , حَتَّى تَكُونَ أَعْظَمَ مِنَ الْجَبَلِ , كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بندہ جب حلال مال میں سے ایک کھجور صدقہ کرتا ہے تو اللہ اسے قبول فرمالیتا ہے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتا ہے اور اللہ کی طرف حلال چیز ہی چڑھ کر جاتی ہے اور جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنی بکری کے بچے کی پرورش اور نشو و نما کرتا ہے اسی طرح اللہ اس کی نشو و نما کرتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاتھ میں بڑھتے بڑھتے وہ ایک پہاڑ کے برابر بن جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10945]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1410، م: 1014
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1410، م: 1014
حدیث نمبر: 10946 مسند احمد
هَاشِمٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةُ ، زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى الْعَامِرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى الْعَامِرِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا بَاتَتْ الْمَرْأَةُ هَاجِرَةً لِفِرَاشِ زَوْجِهَا , لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تَرْجِعَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو عورت (کسی ناراضگی کی بنا پر) اپنے شوہر کا بستر چھوڑ کر (دوسرے بستر پر) رات گذارتی ہے اس پر ساری رات فرشتے لعنت کرتے رہتے ہیں (تا آنکہ وہ واپس آجائے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10946]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5194، م: 1436
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5194، م: 1436
حدیث نمبر: 10947 مسند احمد
هَاشِمٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةُ ، هِلَالَ بْنَ يَزِيْدٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قََالَ: قَتَادَةُ أَنْبَأَنِي , قََالَ: سَمِعْتُ هِلَالَ بْنَ يَزِيْدٍ رَجُلًا مِنْ بَنِي مَازِنِ بْنِ شَيْبَانَ , قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ هَذِهِ الْحَبَّةَ السَّوْدَاءَ يَعْنِي الشُّونِيزَ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ , لَيْسَ السَّامَ" , قَالَ قَتَادَةُ:" وَالسَّامُ: الْمَوْتُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کلونجی میں موت کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10947]
حکم دارالسلام
إسناد حسن، خ: 5688، م: 2215
الحكم: إسناد حسن، خ: 5688، م: 2215
حدیث نمبر: 10948 مسند احمد
بَهْزٌ ، وَهَاشِمٌ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، ثَابِتٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , وَهَاشِمٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ , عَنْ ثَابِتٍ , قََالَ: هَاشِمٌ , قََالَ: حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ , قََالَ: وَفَدَتْ وُفُودٌ إِلَى مُعَاوِيَةَ , أَنَا فِيهِمْ , وَأَبُو هُرَيْرَةَ فِي رَمَضَانَ , فَجَعَلَ بَعْضُنَا يَصْنَعُ لِبَعْضٍ الطَّعَامَ , قََالَ: وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ مَا يَدْعُونَا , قََالَ: هَاشِمٌ يُكْثِرُ أَنْ يَدْعُوَنَا إِلَى رَحْلِهِ، قََالَ: فَقُلْتُ: أَلَا أَصْنَعُ طَعَامًا فَأَدْعُوَهُمْ إِلَى رَحْلِي , قََالَ: فَأَمَرْتُ بِطَعَامٍ يُصْنَعُ , وَلَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ مِنَ الْعِشَاءِ , قََالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ , الدَّعْوَةُ عِنْدِي اللَّيْلَةَ , قََالَ: أَسَبَقْتَنِي , قََالَ هَاشِمٌ: قُلْتُ: نَعَمْ , قََالَ: فَدَعَوْتُهُمْ فَهُمْ عِنْدِي , قََالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَلَا أُعْلِمُكُمْ بِحَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِكُمْ يَا مَعَاشِرَ الْأَنْصَارِ؟ , قَالَ: فَذَكَرَ فَتْحَ مَكَّةَ , قَالَ: أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَدَخَلَ مَكَّةَ، قَالَ: فَبَعَثَ الزُّبَيْرَ عَلَى إِحْدَى الْمُجَنِّبَتَيْنِ , وَبَعَثَ خَالِدًا عَلَى الْمُجَنِّبَةِ الْأُخْرَى , وَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَى الْحُسَّرِ , فَأَخَذُوا بَطْنَ الْوَادِي , وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كَتِيبَتِهِ , قَالَ: وَقَدْ وَبَّشَتْ قُرَيْشٌ أَوْبَاشَهَا , قَالَ: فَقَالُوا: نُقَدِّمُ هَؤُلَاءِ , فَإِنْ كَانَ لَهُمْ شَيْءٌ كُنَّا مَعَهُمْ , وَإِنْ أُصِيبُوا أَعْطَيْنَا الَّذِي سُئِلْنَا , قَالَ: فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَنَظَرَ فَرَآنِي , فَقَالَ:" يَا أَبَا هُرَيْرَةَ" , فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اهْتِفْ لِي بِالْأَنْصَارِ , وَلَا يَأْتِينِي إِلَّا أَنْصَارِيٌّ" , فَهَتَفْتُ بِهِمْ , فَجَاءُوا , فَأَطَافُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: فَقَالَ:" تَرَوْنَ إِلَى أَوْبَاشِ قُرَيْشٍ وَأَتْبَاعِهِمْ , ثُمَّ قَالَ بِيَدَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى: احْصُدُوهم حَصْدًا حَتَّى تُوَافُونِي بِالصَّفَا" , قَالَ: فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَانْطَلَقْنَا، فَمَا يَشَاءُ أَحَدٌ مِنَّا أَنْ يَقْتُلَ مِنْهُمْ مَا شَاءَ , وَمَا أَحَدٌ يُوَجِّهُ إِلَيْنَا مِنْهُمْ شَيْئًا , قَالَ: فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أُبِيحَتْ خَضْرَاءُ قُرَيْشٍ , لَا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ , قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ , وَمَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ" , قَالَ: فَغَلَّقَ النَّاسُ أَبْوَابَهُمْ , قَالَ: فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحَجَرِ , فَاسْتَلَمَهُ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ , قَالَ: وَفِي يَدِهِ قَوْسٌ أَخَذَ بِسِيَةِ الْقَوْسِ , قَالَ: فَأَتَى فِي طَوَافِهِ عَلَى صَنَمٍ إِلَى جَنْبٍ الْبَيْتِ يَعْبُدُونَهُ , قَالَ: فَجَعَلَ يَطْعَنُ بِهَا فِي عَيْنِهِ , وَيَقُولُ:" جَاءَ الْحَقُّ , وَزَهَقَ الْبَاطِلُ" , قَالَ: ثُمَّ أَتَى الصَّفَا , فَعَلَاهُ حَيْثُ يُنْظَرُ إِلَى الْبَيْتِ , فَرَفَعَ يَدَيْهِ , فَجَعَلَ يَذْكُرُ اللَّهَ بِمَا شَاءَ أَنْ يَذْكُرَهُ وَيَدْعُوهُ , قَالَ وَالْأَنْصَارُ تَحْتَهُ , قَالَ: يَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَكَتْهُ رَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ , وَرَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ , قَالَ: أَبُو هُرَيْرَةَ وَجَاءَ الْوَحْيُ , وَكَانَ إِذَا جَاءَ لَمْ يَخْفَ عَلَيْنَا , فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يَرْفَعُ طَرْفَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يُقْضَى , قَالَ هَاشِمٌ: فَلَمَّا قَضِيَ الْوَحْيُ رَفَعَ رَأْسَهُ , ثُمَّ قَالَ:" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ , أَقُلْتُمْ أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَكَتْهُ رَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ , وَرَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ؟" , قَالُوا: قُلْنَا ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" فَمَا اسْمِي إِذًا؟ كَلَّا إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ , هَاجَرْتُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَيْكُمْ , فَالْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ , وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ" , قَالَ: فَأَقْبَلُوا إِلَيْهِ يَبْكُونَ , وَيَقُولُونَ: وَاللَّهِ مَا قُلْنَا الَّذِي قُلْنَا إِلَّا الضِّنَّ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُصَدِّقَانِكُمْ وَيَعْذُرَانِكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن رباح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رمضان المبارک میں کئی وفد " جن میں میں اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے " حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور ہم ایک دوسرے کے لئے کھانا تیار کرتے تھے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہمیں اکثر اپنے یہاں کھانے پر بلاتے تھے میں نے کہا کیا میں کھانا نہ پکاؤں اور پھر انہیں اپنے مکان پر آنے کی دعوت دوں تو میں نے کھانا تیار کرنے کا حکم دیا پھر شام کے وقت میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے کہا اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آج رات میرے ہاں دعوت ہے انہوں نے کہا تم نے مجھ پر سبقت حاصل کرلی ہے میں نے کہا جی ہاں میں نے سب کو دعوت دی ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا اے انصار کی جماعت کیا میں تمہیں تمہارے بارے میں ایک حدیث کی خبر نہ دوں؟ پھر فتح مکہ کا ذکر کیا اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (مدینہ سے) چل کر مکہ پہنچے اور دو اطراف میں سے ایک جانب آپ نے زبیر رضی اللہ عنہ کو اور دوسری جانب خالد رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بےزرہ لوگوں پر امیر بنا کر بھیجا وہ وادی کے اندر سے گزرے اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم الگ ایک فوجی دستہ میں رہ گئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نظر اٹھا کر مجھے دیکھا تو فرمایا ابوہریرہ! میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں حاضر ہوں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے پاس انصار کے علاوہ کوئی نہ آئے انصار کو میرے پاس (آنے کی) آواز دو پس وہ سب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اردگرد جمع ہوگئے اور قریش نے بھی اپنے حمایتی اور متبعین کو اکٹھا کرلیا اور کہا ہم ان کو آگے بھیج دیتے ہیں اگر انہیں کوئی فائدہ حاصل ہوا تو ہم بھی ان کے ساتھ شریک ہوجائیں گے اور اگر انہیں کچھ ہوگیا تو ہم سے جو کچھ مانگا جائے گا دے دیں گے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (صحابہ رضی اللہ عنہ سے) فرمایا تم قریش کے حمایتیوں اور متبعین کو دیکھ رہے ہو پھر اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مار کر فرمایا (تم چلو) اور تم مجھ سے کوہ صفا پر ملاقات کرنا ہم چل دیئے اور ہم میں سے جو کسی کو قتل کرنا چاہتا تو کردیتا اور ان میں سے کوئی بھی ہمارا مقابلہ نہ کرسکتا حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے آکر عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قریش کی سرداری ختم ہوگئی آج کے بعد کوئی قریشی نہ رہے گا پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے گھر کا دروازہ بند کرلے وہ محفوظ ہے اور جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوجائے وہ امن میں رہے گا چنانچہ لوگوں نے اپنے دروازے بند کرلیے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حجر اسود کا استلام کیا، بیت اللہ کا طواف کیا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ میں کمانی تھی اس کی نوک نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بت کی آنکھ میں چھبو دی جس کی مشرکین عبادت کرتے تھے اور وہ خانہ کعبہ کے ایک کونے میں رکھا ہوا تھا اور یہ آیت پڑھتے حق آگیا اور باطل چلا گیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صفا پہاڑی پر چڑھے جہاں سے بیت اللہ نظر آسکے اور اپنے ہاتھ اٹھا کر جب تک اللہ کو منظور ہوا ذکر اور دعاء کرتے رہے انصار اس کے نیچے تھے اور ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے شہر کی محبت اور اپنے قرابت داروں کے ساتھ نرمی غالب آگئی ہے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر وحی آئی اور جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی تو کوئی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ نہ سکتا تھا یہاں تک کہ وحی ختم ہوجاتی پس جب وحی پوری ہوگئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے انصار کی جماعت کیا تم نے کہا ہے کہ اس شخص کو اپنے شہر کی محبت غالب آگئی ہے انہوں نے عرض کیا واقعہ تو یہی ہوا تھا آپ نے فرمایا ہرگز نہیں میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہوں میں نے اللہ اور تمہاری طرف ہجرت کی ہے اب میری زندگی تمہاری زندگی کے ساتھ اور موت تمہاری موت کے ساتھ ہے پس (انصار) روتے ہوئے آپ کی طرف بڑھے اور عرض کرنے لگے اللہ کی قسم ہم نے جو کچھ کہا وہ صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت کی حرص میں کہا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بیشک اللہ اور اس کا رسول تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تمہارا عذر قبول کرتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10948]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م:1780
الحكم: إسناده صحيح، م:1780
حدیث نمبر: 10949 مسند احمد
هَاشِمٌ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، لَيْثٍ ، طَاوُسٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ , عَنْ لَيْثٍ , عَنْ طَاوُسٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ , فَإِنَّهُ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ , وَلَا تَحَسَّسُوا , وَلَا تَجَسَّسُوا , وَلَا تَحَاسَدُوا , وَلَا تَبَاغَضُوا , وَلَا تَنَافَسُوا , وَلَا تَدَابَرُوا , وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا كَمَا أَمَرَكُمْ اللَّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بدگمانی کرنے سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ یہ سب سے زیادہ جھوٹی بات ہوتی ہے کسی کی جاسوسی اور ٹوہ نہ لگاؤ باہم مقابلہ نہ کرو ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو قطع رحمی نہ کرو بغض نہ رکھو اور بندگان خدا! آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔ جیسا کہ اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10949]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6724، م: 2563
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6724، م: 2563
حدیث نمبر: 10950 مسند احمد
هَاشِمٌ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ وَهُوَ شَيْبَانُ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَهُوَ شَيْبَانُ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ يَغَارُ , وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَغَارُ , وَغَيْرَةُ اللَّهِ أَنْ يَأْتِيَ الْمُؤْمِنُ مَا حَرَّمَ عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مومن غیرت مند ہوتا ہے اور اللہ اس سے بھی زیادہ غیور ہے۔ اور غیرت الٰہی کا یہ حصہ ہے کہ انسان ایسی چیزوں سے اجتناب کرے جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10950]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5223، م: 2761
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5223، م: 2761
حدیث نمبر: 10951 مسند احمد
هَاشِمٌ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، مَنْصُورٍ ، أَبِي عُثْمَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ مَوْلَى آلِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: قََالَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاحِبُ هَذِهِ الْحُجْرَةِ: " لَا تُنْزَعُ الرَّحْمَةُ إِلَّا مِنْ شَقِيٍّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صاحب الحجرۃ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رحمت اسی شخص سے کھینچتی جاتی ہے جو خود شقی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10951]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 10952 مسند احمد
هَاشِمٌ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، أَبِي ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ , حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ: أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی بندے کے لئے مناسب نہیں ہے کہ یوں کہتا پھرے میں حضرت یونس (علیہ السلام) سے بہتر ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10952]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3416، م: 2376
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3416، م: 2376
حدیث نمبر: 10953 مسند احمد
هَاشِمٌ ، لَيْثٌ ، بْنُ شِهَابٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، إِسْحَاق بْنُ عِيسَى ، لَيْثٌ ، بْنُ شِهَابٍ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , حَدَّثَنَا لَيْثٌ , حَدَّثَنِي بْنُ شِهَابٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّهُ قَالَ:" قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي لِحْيَانَ مِنْ هُذَيْلٍ , سَقَطَ مَيِّتًا , بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ , ثُمَّ إِنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا بِالْغُرَّةِ تُوُفِّيَتْ , فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنَّ مِيرَاثَهَا لِبَنِيهَا وَزَوْجِهَا، وَأَنَّ الْعَقْلَ عَلَى عَصَبَتِهَا" , حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ عِيسَى , حَدَّثَنَا لَيْثٌ , حَدَّثَنِي بْنُ شِهَابٍ , فَذَكَرَ مِثْلَهُ , إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: ثُمَّ إِنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا بِالْغُرَّةِ تُوُفِّيَتْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بنوہذیل کی دو عورتوں کے درمیان جھگڑا ہوگیا ان میں سے ایک نے دوسری کو جو امید سے تھی پتھر دے مارا اور اس عورت کو قتل کردیا اس کے پیٹ کا بچہ بھی مرا ہوا پیدا ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس مسئلے میں ایک غرہ یعنی غلام یا باندی کا فیصلہ فرمایا پھر وہ عورت جس کے خلاف غرہ کا فیصلہ ہوا تھا وہ فوت ہوگئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ اس کی وراثت اس کے بیٹوں اور شوہر کو ملے گی اور دیت اس کے عصبہ پر ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10953]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5758، م: 1681
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5758، م: 1681
حدیث نمبر: 10954 مسند احمد
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ عِيسَى: حَدَّثَنَا لَيْثُ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: ثُمَّ إِنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي قُضِيَ عَلَيْهَا بِالْغُرَّةِ تُوُفِّيَت
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5758، م: 1681
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5758، م: 1681
حدیث نمبر: 10955 مسند احمد
كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، جَعْفَرٌ ، يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ , حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ , قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قََالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَظْهَرُ الْفِتَنُ , وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ" , قُلْنَا: وَمَا الْهَرْجُ؟ قَالَ:" الْقَتْلُ الْقَتْلُ" , وَقَالَ:" وَيُقْبَضُ الْعِلْمُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے قریب فتنوں کا دور دورہ ہوگا ہرج کی کثرت ہوگی اور علم اٹھالیا جائے گا ہم نے " ہرج " کا معنی پوچھا تو فرمایا قتل قتل۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10955]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7061، م: 2672
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7061، م: 2672
حدیث نمبر: 10956 مسند احمد
كَثِيرٌ ، جَعْفَرٌ ، يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا كَثِيرٌ , حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَقَالَ كَثِيرٌ مَرَّةً حَدِيثٌ رَفَعَهُ , قَالَ: " النَّاسُ مَعَادِنُ كَمَعَادِنِ الْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ , خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا . " وَالْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ مَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ , وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگ سونے اور چاندی کے چھپے ہوئے دفینوں (کان) کی طرح ہیں تم محسوس کروگے کہ ان میں سے جو لوگ زمانہ جاہلیت میں بہترین تھے وہ زمانہ اسلام میں بھی بہترین ہیں بشرطیکہ وہ فقیہہ بن جائیں۔ اور انسانوں کی روحیں لشکروں کی شکل میں رہتی ہیں سو جس روح کا دوسری کے ساتھ تعارف ہوجاتا ہے ان میں الفت پیدا ہوجاتی ہے اور جن میں تعارف نہیں ہوتا ان میں اختلاف پیدا ہوجاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10956]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ:3496،م:2526،2638
الحكم: إسناده صحيح، خ:3496،م:2526،2638
حدیث نمبر: 10957 مسند احمد
كَثِيرٌ ، جَعْفَرٌ ، يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَزِيدُ ، نَجَبَةُ بْنُ صَبِيغٍ السُّلَمِيُّ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا كَثِيرٌ , حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَيَسْأَلَنَّكُمْ النَّاسُ عَنْ كُلِّ شَيْءٍ , حَتَّى يَقُولُوا: اللَّهُ خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَمَنْ خَلَقَهُ؟" . قَالَ قَالَ يَزِيدُ : فَحَدَّثَنِي نَجَبَةُ بْنُ صَبِيغٍ السُّلَمِيُّ ، أَنَّهُ رَأَى رَكْبًا أَتَوْا أَبَا هُرَيْرَةَ , فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ , فَقَالَ: " اللَّهُ أَكْبَرُ , مَا حَدَّثَنِي خَلِيلِي بِشَيْءٍ إِلَّا وَقَدْ رَأَيْتُهُ , وَأَنَا أَنْتَظِرُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے لوگ تم سے یقینا ہر چیز کے متعلق سوال کریں گے حتیٰ کہ وہ یہ بھی کہیں گے کہ ہر چیز کو تو اللہ نے پیدا کیا ہے لیکن اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے؟ راوی حدیث یزید کہتے ہیں کہ مجھ سے نجبہ بن صبیغ سلمی نے بیان کیا کہ ان کی آنکھوں کے سامنے کچھ سوار حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہوں نے ان سے یہی سوال پوچھا جس پر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اللہ اکبر کہا اور فرمایا کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے جو بھی چیزبیان فرمائی تھی یا تو میں اسے دیکھ چکا ہوں یا اس کا انتظار کر رہاہوں۔ راوی حدیث جعفر کہتے ہیں کہ مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب لوگ تم سے یہ سوال پوچھیں تو تم یہ جواب دو کہ اللہ ہر چیز سے پہلے تھا اللہ نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اللہ ہی ہر چیز کے بعد ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10957]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3276، م: 135، وأما الثانية وهى الأثر، فإسنادها ضعيف لجهالة نجبة، وأما الثالثة: فإسنادها منقطع
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3276، م: 135، وأما الثانية وهى الأثر، فإسنادها ضعيف لجهالة نجبة، وأما الثالثة: فإسنادها منقطع
حدیث نمبر: 10958 مسند احمد
كَثِيرٌ ، جَعْفَرٌ ، يَزِيدَ بْنَ الْأَصَمِّ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا كَثِيرٌ , حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ , قََالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ الْأَصَمِّ , يَقُولُ , قََالَ: أَبُو هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ لَا أَحْسِبُهُ إِلَّا رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ , وَاللَّهِ مَا أَخْشَى عَلَيْكُمْ الْفَقْرَ , وَلَكِنْ أَخْشَى عَلَيْكُمْ التَّكَاثُرَ , وَمَا أَخْشَى عَلَيْكُمْ الْخَطَأَ، وَلَكِنْ أَخْشَى عَلَيْكُمْ الْعَمْدَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مالداری سازوسامان کی کثرت سے نہیں ہوتی اصل میں مالداری تو دل کی مالداری ہوتی ہے۔ بخدا! مجھے تم پر فقروفاقہ کا اندیشہ نہیں بلکہ مجھے تم پر مال کی کثرت کا اندیشہ ہے اور مجھے تم پر غلطی کا اندیشہ نہیں بلکہ مجھے تم پر جان بوجھ کر (گناہوں میں ملوث ہونے کا) اندیشہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10958]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6446، م: 1051
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6446، م: 1051
حدیث نمبر: 10959 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، جَعْفَرٌ ، يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، لِأَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ , حَدَّثَنِي جَعْفَرٌ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ , قََالَ: قِيلَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ : أَكْثَرْتَ أَكْثَرْتَ , قََالَ: " فَلَوْ حَدَّثْتُكُمْ بِكُلِّ مَا سَمِعْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , لَرَمَيْتُمُونِي بِالْقَشْعِ , وَلَمَا نَاظَرْتُمُونِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یزید بن اصم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی نے حضرت ابویرہرہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ بڑی کثرت سے حدیثیں بیان کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہوئی ہر حدیث بیان کرنا شروع کردوں تو تم مجھ پر چھلکے پھینکنے لگو اور مجھے دیکھنے تک کے روادار نہ رہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10959]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح