بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 187 از 194
حدیث نمبر: 10840 مسند احمد
رَوْحٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، الزُّهْرِيُّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ , حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا , عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ , وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ" . قَالَ: " فَلَمَّا قَامَ أَبُو بَكْرٍ , وَارْتَدَّ مَنْ ارْتَدَّ، أَرَادَ أَبُو بَكْرٍ قِتَالَهُمْ، قَالَ عُمَرُ: كَيْفَ تُقَاتِلُ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ وَهُمْ يُصَلُّونَ؟ قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ قَوْمًا ارْتَدُّوا عَنِ الزَّكَاةِ , وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا مِمَّا فَرَضَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ لَقَاتَلْتُهُمْ , قَالَ عُمَرُ: فَلَمَّا رَأَيْتُ اللَّهَ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِقِتَالِهِمْ , عَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے لوگوں سے اس وقت تک قتال کا حکم دیا گیا ہے جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہ کہہ لیں، جب وہ کلمہ کہہ لیں تو انہوں نے اپنی جان مال کو مجھ سے محفوظ کرلیا الاّ یہ کہ اس کلمہ کا کوئی حق ہو اور ان کا حساب کتاب اللہ کے ذمے ہے جب فتنہ ارتداد پھیلا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ ان سے کیونکر قتال کرسکتے ہیں جبکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بخدا! میں نماز اور زکوٰۃ میں فرق نہیں کروں گا اور ان دونوں کے درمیان فرق کرنے والوں سے ضرورقتال کروں گا حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں نے دیکھا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو قتال پر شرح صدر ہوگیا ہے تو میں سمجھ گیا کہ یہی رائے برحق ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10840]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10841 مسند احمد
رَوْحٌ ، عَوْفٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، وَخِلَاسٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا عَوْفٌ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , وَخِلَاسٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص کھڑے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرے کہ پھر اس سے وضو کرنے لگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10841]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 239، م: 282، خلاس وإن كان لم يسمع من أبى هريرة لكن صح الإسناد بالمتابعة
الحكم: إسناده صحيح، خ: 239، م: 282، خلاس وإن كان لم يسمع من أبى هريرة لكن صح الإسناد بالمتابعة
حدیث نمبر: 10842 مسند احمد
رَوْحٌ ، بْنُ جُرَيْجٍ ، عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ ، نَافِعٌ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا بْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ , أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ مَعَ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ , إِذْ مَرَّ بِهِمْ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ خَتَنُ زَيْدِ بْنِ زَبَّانَ الْجُهَنِيِّ , فَدَعَاهُ نَافِعٌ , فَقَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَاةٌ مَعَ الْإِمَامِ أَفْضَلُ مِنْ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ صَلَاةً يُصَلِّيهَا وَحْدَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اکیلے نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت پچیس درجے زیادہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10842]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 648، م:649
الحكم: إسناده صحيح، خ: 648، م:649
حدیث نمبر: 10843 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، مَالِكٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ بِقِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَ فِيهِ بِعَزِيمَةٍ، وَكَانَ يَقُولُ: " مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قیام رمضان کی ترغیب دیتے تھے لیکن سختی کے ساتھ حکم نہیں دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ جو شخص ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام کرے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10843]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 37، م:759
الحكم: إسناده صحيح، خ: 37، م:759
حدیث نمبر: 10844 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، مَالِكٌ ، أَبِي الزِّنَادِ ، أَبِي الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنْ أَبِي الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا , وَلَا الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع نہ کیا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10844]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5109، م: 1408
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5109، م: 1408
حدیث نمبر: 10845 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، مَالِكٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ سورة الانشقاق آية 1" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سورت انشقاق میں سجدہ تلاوت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10845]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 768،م:578
الحكم: إسناده صحيح، خ: 768،م:578
حدیث نمبر: 10846 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، مَالِكٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ، وَعَنْ لِبْسَتَيْنِ، وَعَنْ صَلَاتَيْنِ، وَعَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ: وَعَنِ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ، وَاشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ , وَعَنِ الِاحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ كَاشِفًا عَنْ فَرْجِهِ , وَعَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ , وَعَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَعَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْأَضْحَى , وَعَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْفِطْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو قسم کے لباس، دو وقت کی نماز اور دو دن کے روزوں سے منع فرمایا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چھو کر یا کنکریاں پھینک کر خریدوفروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10846]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2145، م: 825، 1511
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2145، م: 825، 1511
حدیث نمبر: 10847 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، مَالِكٌ ، الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ , فَلَا تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ , وَأْتُوهَا وَعَلَيْكُمْ السَّكِينَةُ , فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا , وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا , فَإِنَّ أَحَدَكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا كَانَ يَعْمِدُ إِلَى الصَّلَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نماز کے لئے دوڑتے ہوئے مت آیا کرو بلکہ اطمینان اور سکون کے ساتھ آیا کرو جتنی نماز مل جائے وہ پڑھ لیا کرو اور جو رہ جائے اسے مکمل کرلیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10847]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 908، م: 602
الحكم: إسناده صحيح، خ: 908، م: 602
حدیث نمبر: 10848 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، الْحُسَيْنُ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ ، يَحْيَى ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو ، الْمُطَّلِبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ الْمَخْزُومِيَّ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا أَبِي , حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ , عَنْ يَحْيَى , حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو , أَنَّهُ سَمِعَ الْمُطَّلِبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ الْمَخْزُومِيَّ , يَقُولُ: قَالَ بْنُ عَبَّاسٍ أَتَوَضَّأُ مِنْ طَعَامٍ أَجِدُهُ حَلَالًا فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لِأَنَّ النَّارَ مَسَّتْهُ , قَالَ: فَجَمَعَ أَبُو هُرَيْرَةَ حَصًا بَيْنَ يَدَيْهِ , فَقَالَ: أَشْهَدُ عَدَدَ هَذَا الْحَصَى لَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مطلب بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ مجھے قرآن کریم میں جو چیزیں حلال ملتی ہیں کیا انہیں کھانے کے بعد میں نیا وضو کروں؟ اس پر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے سامنے پڑی ہوئی کنکریاں جمع کیں اور فرمایا میں ان کنکریوں کی گنتی کے برابر اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10848]
حکم دارالسلام
صحيح، م: 352، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، فإن المطلب لم يسمع من أبى هريرة
الحكم: صحيح، م: 352، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، فإن المطلب لم يسمع من أبى هريرة
حدیث نمبر: 10849 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، شُعْبَةُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَسْتَامُ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ , وَلَا يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح نہ بھیجے اور اپنے بھائی کی بیع پر اپنی بیع نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10849]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1413
الحكم: إسناده صحيح، م: 1413
حدیث نمبر: 10850 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، شُعْبَةُ ، الْعَلَاءُ ، وَسُهَيْلٌ ، عَنْ ، أَبَيْهِمَا ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ , وَسُهَيْلٌ , عَنْ أَبَيْهِمَا , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَخْطُبْ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ , وَلَا يَسْتَمْ عَلَى سِيمَةِ أَخِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح نہ بھیجے اور اپنے بھائی کی بیع پر اپنی بیع نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10850]
حکم دارالسلام
إسناداه صحيحان، م: 1413
الحكم: إسناداه صحيحان، م: 1413
حدیث نمبر: 10851 مسند احمد
رَوْحٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَأبي سَلَمَةَ بنِ عبد الرحمن ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , وَأبي سَلَمَةَ بنِ عبد الرحمن , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ , وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا امام کو یاد دلانے کے لئے سبحان اللہ کہنا مردوں کے لئے ہے اور تالی بجانا عورتوں کے لئے ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10851]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1203، م: 422
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1203، م: 422
حدیث نمبر: 10852 مسند احمد
رَوْحٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وأَبي سَلَمةَ بنِ عبد الرحمن ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , وأَبي سَلَمةَ بنِ عبد الرحمن , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم " نَعَى النَّجَاشِيَّ لِأَصْحَابِهِ , ثُمَّ قَالَ: اسْتَغْفِرُوا لَهُ , ثُمَّ خَرَجَ بِأَصْحَابِهِ إِلَى الْمُصَلَّى , فَقَامَ فَصَلَّى بِهِمْ كَمَا يُصَلِّي عَلَى الْجَنَائِز" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رضی اللہ عنہ کو نجاشی کی موت کی اطلاع دے کر فرمایا اس کے لئے استغفار کرو پھر اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عیدگاہ کی طرف گئے اور انہیں اس طرح نماز جنازہ پڑھائی جیسے عام طور پر پڑھاتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10852]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1245، م: 951
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1245، م: 951
حدیث نمبر: 10853 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، وُهَيْبٌ ، بْنُ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ , أَخْبَرَنِي وُهَيْبٌ , أَخْبَرَنِي بْنُ طَاوُسٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فُتِحَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ ذَلِكَ وَحَلَّقَ تِسْعِينَ وَضَمَّهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک دن فرمایا آج سد یاجوج ماجوج میں اتنا بڑا سوارخ ہوگیا ہے روای نے انگوٹھے سے نوے کا عدد بنا کر دکھایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10853]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3347، م: 3881
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3347، م: 3881
حدیث نمبر: 10854 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، وَرْقَاءُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ , أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , مَا يَسُرُّنِي أَنَّ أُحُدًا ذَاكُمْ ذَهَبًا عِنْدِي , يَأْتِي عَلَيْهِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ , إِلَّا شَيْئًا أَرْصُدُهُ فِي دَيْنٍ عَلَيَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر میرے پاس احد پہاڑ بھی سونے کا بن کر آجائے تو مجھے اس میں خوشی ہوگی کہ اسے اللہ کے راستہ میں خرچ کردوں اور تین دن بھی مجھ پر نہ گذرنے پائیں کہ ایک دینار یا درہم بھی میرے پاس باقی نہ بچا رہے سوائے اس چیز کے جو میں اپنے اوپر واجب الاداء قرض کی ادائیگی کے لئے روک لوں [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10854]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2389، م: 991
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2389، م: 991
حدیث نمبر: 10855 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، وَرْقَاءُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ , أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَكُونُ كَنْزُ أَحَدِكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ , يَفِرُّ مِنْهُ صَاحِبُهُ , وَهُوَ يَطْلُبُهُ حَتَّى يُلْقِمَهُ أَصَابِعَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن خزانے والے کا خزانہ ایک گنجا سانپ بن جائے گا مالک اس سے بھاگے گا اور وہ اس کے پیچھے پیچھے ہوگا یہاں تک کہ اس کی انگلیاں اپنے منہ میں لقمہ بنا لے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10855]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4659، م: 987
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4659، م: 987
حدیث نمبر: 10856 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، وَرْقَاءُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ , حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَسْتَقِيمُ لَكَ الْمَرْأَةُ عَلَى خَلِيقَةٍ وَاحِدَةٍ , وَإِنَّمَا هِيَ كَالضِّلَعِ , إِنْ تُقِمْهَا تَكْسِرْهَا , وَإِنْ تَتْرُكْهَا تَسْتَمْتِعْ بِهَا وَفِيهَا عِوَجٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عورت ایک عادت پر کبھی قائم نہیں رہ سکتی وہ ِپسلی کی طرح ہوتی ہے اگر تم سیدھا کرنے کی کوشش کروگے تو اسے توڑ ڈالوگے اور اگر اسے اس کے حال پر چھوڑ دوگے تو اس کے اس ٹیڑھے پن کے ساتھ ہی اس سے فائدہ اٹھا لوگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10856]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ:3331،م:1468
الحكم: إسناده صحيح، خ:3331،م:1468
حدیث نمبر: 10857 مسند احمد
عَلِيٌّ ، وَرْقَاءُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ , أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا الْيَهُودَ , حَتَّى يَخْتَبِئَ الْيَهُودِيُّ وَرَاءَ الْحَجَرِ , فَيَقُولُ الْحَجَرُ: يَا مُسْلِمُ , هَذَا يَهُودِيٌّ مُخْتَبِئٌ وَرَائِي , تَعَالَ فَاقْتُلْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم یہودیوں سے قتال نہ کرلو اس وقت اگر کوئی یہودی بھاگ کر کسی پتھر کے پیچھے چھپ جائے گا تو وہ پتھر کہے گا اے بندہ اللہ اے مسلمان یہ میرے پیچھے ایک یہودیوں چھپا ہوا ہے آکر اسے قتل کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10857]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2929، م: 2912
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2929، م: 2912
حدیث نمبر: 10858 مسند احمد
عَلِيٌّ ، وَرْقَاءُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ , أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَطَاوَلَ النَّاسُ بِالْبُنْيَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک لوگ بڑی بڑی عمارتوں میں ایک دوسرے پر فخر نہ کرنے لگیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10858]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7121، م: 9
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7121، م: 9
حدیث نمبر: 10859 مسند احمد
عَلِيٌّ ، وَرْقَاءُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ , أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا , فَإِذَا طَلَعَتْ وَرَآهَا النَّاسُ , آمَنُوا أَجْمَعُونَ , فَذَاكَ حِينَ لا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا سورة الأنعام آية 158" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہوجائے جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا تو اللہ پر ایمان لے آئیں گے لیکن اس وقت کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا جو پہلے سے ایمان نہ لایا ہو یا اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کمائی ہو [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10859]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4636، م: 157
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4636، م: 157