بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 22 از 194
حدیث نمبر: 7539 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ، وَالتَّمْرَتَانِ، وَالْأُكْلَةُ، وَالْأُكْلَتَانِ"، قَالُوا: فَمَنْ الْمِسْكِينُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًى، وَلَا يَعْلَمُ النَّاسُ بِحَاجَتِهِ، فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ". قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَذَلِكَ هُوَ الْمَحْرُومُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسکین وہ نہیں ہوتا جسے ایک دو کھجوریں یا ایک دو لقمے لوٹا دیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ پھر مسکین کون ہوتا ہے؟ فرمایا جس کے پاس خود بھی مالی کشادگی نہ ہو اور دوسری کو بھی اس کی ضروریات کا علم نہ ہو کہ لوگ اس پر خرچ ہی کر دیں۔ امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ شخص محروم ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7539]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1479، م: 1039.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1479، م: 1039.
حدیث نمبر: 7540 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَنْ الْمِسْكِينُ؟ قَالَ:" الَّذِي لَيْسَ لَهُ غِنًى، وَلَا يَسْأَلُ النَّاسَ إِلْحَافًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! پھر مسکین کون ہوتا ہے؟ فرمایا جس کے پاس خود بھی مالی کشادگی نہ ہو اور وہ لوگوں سے لگ لپٹ کر سوال بھی نہ کرتا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7540]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ماقبله.
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ماقبله.
حدیث نمبر: 7541 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، أَخِي وَهْبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قرض کی ادائیگی میں مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7541]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2400، م: 1564.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2400، م: 1564.
حدیث نمبر: 7542 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى لَا يَصْبُغُونَ، فَخَالِفُوا عَلَيْهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہود و نصاریٰ اپنے بالوں کو مہندی وغیرہ سے نہیں رنگتے سو تم ان کی مخالفت کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7542]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5899، م: 2103.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5899، م: 2103.
حدیث نمبر: 7543 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" النَّاسُ مَعَادِنُ، خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ، إِذَا فَقِهُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگ چھپے ہوئے دفینوں (کان) کی طرح ہیں ان میں سے جو لوگ زمانہ جاہلیت میں بہترین تھے وہ زمانہ اسلام میں بھی بہترین ہیں بشرطیکہ وہ فقیہہ بن جائیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7543]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3496، م: 2526.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3496، م: 2526.
حدیث نمبر: 7544 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَيَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَيَزِيدُ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فُجِّرَتْ أَرْبَعَةُ أَنْهَارٍ مِنَ الْجَنَّةِ: الْفُرَاتُ، وَالنِّيلُ، وَسَيْحَانُ، وَجَيْحَانُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت کی چار نہریں دنیا میں بہتی ہیں دریائے فرات دریائے نیل دریائے جیحون دریائے سیحون۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7544]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2839.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2839.
حدیث نمبر: 7545 مسند احمد
يَزِيدُ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" غَيِّرُوا الشَّيْبَ وَلَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ، وَلَا بِالنَّصَارَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بالوں کی سفیدی کو بدل لیا کرو اور یہود و نصاری کی مشابہت اختیار نہ کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7545]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5899، م: 2103
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5899، م: 2103
حدیث نمبر: 7546 مسند احمد
يَزِيدُ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُؤْتَى بِالْمَوْتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُوقَفُ عَلَى الصِّرَاطِ، فَيُقَالُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، فَيَطَّلِعُونَ خَائِفِينَ وَجِلِينَ أَنْ يُخْرَجُوا، وَقَالَ يَزِيدُ: أَنْ يُخْرَجُوا مِنْ مَكَانِهِمْ الَّذِي هُمْ فِيهِ، فَيُقَالُ: هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا؟ قَالُوا: نَعَمْ رَبَّنَا، هَذَا الْمَوْتُ، ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَهْلَ النَّارِ، فَيَطَّلِعُونَ فَرِحِينَ مُسْتَبْشِرِينَ أَنْ يُخْرَجُوا مِنْ مَكَانِهِمْ الَّذِي هُمْ فِيهِ، فَيُقَالُ: هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا؟ قَالُوا: نَعَمْ، هَذَا الْمَوْتُ، فَيَأْمُرُ بِهِ، فَيُذْبَحُ عَلَى الصِّرَاطِ، ثُمَّ يُقَالُ لِلْفَرِيقَيْنِ كِلَاهُمَا: خُلُودٌ فِيمَا تَجِدُونَ، لَا مَوْتَ فِيهِ أَبَدًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن موت کو لا کر پل صراط پر کھڑا کردیا جائے گا اور اہل جنت کو پکار کر بلایا جائے گا وہ خوفزدہ ہو کر جھانکیں گے کہ کہیں انہیں جنت سے نکال تو نہیں دیا جائے گا پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ وہ کہیں گے کہ جی پروردگار! یہ موت ہے پھر اہل جہنم کو پکار کر آواز دی جائے گی وہ اس خوشی سے جھانک کر دیکھیں گے کہ شاید انہیں اس جگہ سے نکلنا نصیب ہوجائے پھر ان سے بھی پوچھا جائے گا کہ کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ وہ کہیں گے جی ہاں یہ موت ہے چنانچہ اللہ کے حکم پر اسے پل صراط پر ذبح کردیا جائے گا اور دونوں گروہوں سے کہا جائے گا کہ تم جن حالات میں رہ رہے ہو۔ اس میں تم ہمیشہ ہمیش رہوگے اس میں کبھی موت نہ آئے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7546]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن.
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 7547 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ . وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَخَلَتْ امْرَأَةٌ النَّارَ فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا، فَلَمْ تُطْعِمْهَا، وَلَمْ تَسْقِهَا، وَلَمْ تُرْسِلْهَا، فَتَأْكُلَ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک عورت جہنم میں صرف ایک بلی کی وجہ سے داخل ہوگئی جسے اس نے باندھ دیا تھا خود اسے کھلایا پلایا اور نہ ہی اسے کھلا چھوڑا کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7547]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3318، م: 2242.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3318، م: 2242.
حدیث نمبر: 7548 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَيَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَيَزِيدُ ، قَالَا: أخبرنا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الوِصَالِ، قَالُوا: إِنَّكَ تُوَاصِلُ! قَالَ:" إِنَّكُمْ لَسْتُمْ كَهَيْئَتِي، إِنَّ اللَّهَ حِبِّي يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِ". وَقَالَ يَزِيدُ:" إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو بچاؤ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس معاملے میں تم میری طرح نہیں ہو میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7548]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ، 1966، م: 1103.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ، 1966، م: 1103.
حدیث نمبر: 7549 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَنْظَلَةَ ، سَالِمًا ، أَبَا هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ حَنْظَلَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمًا ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُقْبَضُ الْعِلْمُ، وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ، وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ"، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْهَرْجُ؟ قَالَ:" الْقَتْلُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا علم اٹھا لیا جائے گا فتنوں کا ظہور ہوگا اور ہرج کی کثرت ہوگی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہرج سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قتل قتل۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7549]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7061، م: 2672.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7061، م: 2672.
حدیث نمبر: 7550 مسند احمد
يَعْلَى ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا امام کو یاد دلانے کے لئے سبحان اللہ کہنا مردوں کے لئے ہے اور تالی بجانا عورتوں کے لئے ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7550]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1203، م: 422.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1203، م: 422.
حدیث نمبر: 7551 مسند احمد
يَعْلَى ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ، ثُمَّ جَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ، لَمْ تَزَلْ الْمَلَائِكَةُ تَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، مَا لَمْ يُحْدِثْ، أَوْ يَقُومْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھتا ہے پھر اپنے مصلی پر ہی بیٹھتا رہتا ہے تو فرشتے مسلسل کہتے رہتے ہیں کہ اے اللہ اس کی بخشش فرما اے اللہ! اس پر رحم فرما بشرطیکہ وہ بےوضو نہ ہوجائے یا وہاں سے اٹھ نہ جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7551]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 477، م: 649، محمد بن إسحاق، وإن كان مدلسا وقد عنعن، توبع.
الحكم: حديث صحيح، خ: 477، م: 649، محمد بن إسحاق، وإن كان مدلسا وقد عنعن، توبع.
حدیث نمبر: 7552 مسند احمد
يَعْلَى ، وَيَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، وَيَزِيدُ ، قَالَا: أخبرنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: مَرَّتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ يَزِيدُ: مَرُّوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا فِي مَنَاقِبِ الْخَيْرِ، فَقَالَ:" وَجَبَتْ"، ثُمَّ مَرَّتْ عَلَيْهِ جَنَازَةٌ أُخْرَى، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا فِي مَنَاقِبِ الشَّرِّ، فَقَالَ:" وَجَبَتْ" ثُمَّ قَالَ:" إِنَّكُمْ شُهَدَاءُ فِي الْأَرْضِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گذرا لوگ اس کے عمدہ خصائل اور اس کی تعریف بیان کرنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی اسی اثناء میں ایک اور جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کے برے خصائل اور اس کی مذمت بیان کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی پھر فرمایا کہ تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7552]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 7553 مسند احمد
يَعْلَى ، وَيَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، وَيَزِيدُ ، قَالَا: أخبرنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ، فَقَدْ رَأَى الْحَقَّ، إِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَشَبَّهُ بِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جسے خواب میں میری زیارت نصیب ہوجائے اسے یقین کرلینا چاہئے کہ اس نے میری ہی زیارت کی ہے کیونکہ شیطان میری شکل و صورت اختیار کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7553]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6993، م: 2266.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6993، م: 2266.
حدیث نمبر: 7554 مسند احمد
يَعْلَى ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَحْسِرُ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَيَقْتَتِلُ النَّاسُ عَلَيْهِ، فَيُقْتَلُ مِنْ كُلِّ عَشَرَةٍ تِسْعَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے قریب دریائے فرات کا پانی ہٹ کر اس میں سے سونے کا ایک پہاڑ برآمد ہوگا لوگ اس کی خاطر آپس میں لڑنا شروع کردیں گے حتی کہ ہر دس میں سے نو آدمی مارے جائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7554]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7119، م: 2894.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7119، م: 2894.
حدیث نمبر: 7555 مسند احمد
يَعْلَى ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مالداری ساز و سامان کی کثرت سے نہیں ہوتی اصل مالداری تو دل کی مالداری ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7555]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6446، م: 1051.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6446، م: 1051.
حدیث نمبر: 7556 مسند احمد
يَعْلَى ، وَيَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، وَيَزِيدُ ، قَالَا: أَخبرنا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هَذَا الْأَمْرِ، خِيَارُهُمْ تَبَعٌ لِخِيَارِهِمْ، وَشِرَارُهُمْ تَبَعٌ لِشِرَارِهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس دین کے معاملے میں لوگ قریش کے تابع ہیں اچھے لوگ اچھے لوگوں کے اور برے لوگ برے لوگوں کے تابع ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7556]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3495، م: 1818.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3495، م: 1818.
حدیث نمبر: 7557 مسند احمد
يَزِيدُ ، وَيَعْلَى ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، وَيَعْلَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ، إِلَّا السَّامَ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا السَّامُ؟ قَالَ:" الْمَوْتُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کلونجی میں سام کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سام سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا موت۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7557]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5688، م: 2215.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5688، م: 2215.
حدیث نمبر: 7558 مسند احمد
يَعْلَى ، فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ غَزْوَانَ ، ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ غَزْوَانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَزْنًا بِوَزْنٍ، وَالذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ، مِثْلًا بِمِثْلٍ، فَمَنْ زَادَ فَهُوَ رِبًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا چاندی کو چاندی کے بدلے اور سونے کو سونے کے بدلے برابر سرابر وزن کرکے بیچا جائے جو شخص اس میں اضافہ کرے گویا اس نے سودی معاملہ کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7558]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1588.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1588.