عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْفَأْرَةِ تَقَعُ فِي السَّمْن، فَقَالَ: " إِنْ كَانَ جَامِدًا، فَأَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا، وَإِنْ كَانَ مَائِعًا، فَلَا تَقْرَبُوهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر چوہا گھی میں گر کر مرجائے تو کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا گھی اگر جما ہوا ہو تو اس حصے کو (جہاں چوہا گرا ہو) اور اس کے آس پاس کے گھی کو نکال لو اور پھر باقی گھی استعمال کرلو اور اگر گھی مائع کی شکل میں ہو تو اسے مت استعمال کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7601]
حکم دارالسلام
متن الحديث صحيح، معمر قد أخطأ في إسناده، وأخطأ في متنه، فزاد: وإن كان مائعا فلا تقربوه. انظر، خ: 5538.
الحكم: متن الحديث صحيح، معمر قد أخطأ في إسناده، وأخطأ في متنه، فزاد: وإن كان مائعا فلا تقربوه. انظر، خ: 5538.