بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 25 از 194
حدیث نمبر: 7599 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ، وَيُبْغِضُ أَوْ يَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ، فَإِذَا قَالَ أَحَدُهُمْ: هَا، هَا، فَإِنَّمَا ذَلِكَ الشَّيْطَانُ يَضْحَكُ مِنْ جَوْفِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی سے نفرت کرتا ہے۔ جب کوئی آدمی جمائی لینے کے لئے منہ کھول کر ہاہا کرتا ہے تو وہ شیطان ہوتا ہے جو اس کے پیٹ میں سے ہنس رہا ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7599]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وإسناده قوي، خ: 3289، م: 2995.
الحكم: حديث صحيح، وإسناده قوي، خ: 3289، م: 2995.
حدیث نمبر: 7600 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ، فَلَا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي إِنَائِهِ أَوْ قَالَ: فِي وَضُوئِهِ، حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ کسی برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک اسے تین مرتبہ دھو نہ لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7600]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 162، م: 278.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 162، م: 278.
حدیث نمبر: 7601 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْفَأْرَةِ تَقَعُ فِي السَّمْن، فَقَالَ: " إِنْ كَانَ جَامِدًا، فَأَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا، وَإِنْ كَانَ مَائِعًا، فَلَا تَقْرَبُوهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر چوہا گھی میں گر کر مرجائے تو کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا گھی اگر جما ہوا ہو تو اس حصے کو (جہاں چوہا گرا ہو) اور اس کے آس پاس کے گھی کو نکال لو اور پھر باقی گھی استعمال کرلو اور اگر گھی مائع کی شکل میں ہو تو اسے مت استعمال کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7601]
حکم دارالسلام
متن الحديث صحيح، معمر قد أخطأ في إسناده، وأخطأ في متنه، فزاد: وإن كان مائعا فلا تقربوه. انظر، خ: 5538.
الحكم: متن الحديث صحيح، معمر قد أخطأ في إسناده، وأخطأ في متنه، فزاد: وإن كان مائعا فلا تقربوه. انظر، خ: 5538.
حدیث نمبر: 7602 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُوذَوَيْهِ ، مَعْمَرًا ، عبيد الله
قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : وأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُوذَوَيْهِ أَنَّ مَعْمَرًا كَانَ يَذْكُرُهُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، ويذكره عن عبيد الله .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7602]
حکم دارالسلام
هذا إسناد لا باس به، انظر ماقبله.
الحكم: هذا إسناد لا باس به، انظر ماقبله.
حدیث نمبر: 7603 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص کھڑے پانی میں پیشاب نہ کرے کہ پھر اس سے وضو کرنے لگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7603]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 239، م: 282.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 239، م: 282.
حدیث نمبر: 7604 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وقَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الْإِنَاءِ، فَاغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب کسی برتن میں کتا منہ مار دے تو اس برتن کو سات مرتبہ دھو لیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7604]
حکم دارالسلام
إسناده صحيحان، خ: 172، م: 279.
الحكم: إسناده صحيحان، خ: 172، م: 279.
حدیث نمبر: 7605 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ ، بِأَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ ، قَالَ: مَرَرْتُ بِأَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، فَقَالَ: أَتَدْرِي مِمَّا أَتَوَضَّأُ؟ مِنْ أَثْوَارِ أَقِطٍ أَكَلْتُهَا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " تَوَضئُوا مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابراہیم بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرا تو وہ وضو کررہے تھے مجھے دیکھ کر فرمانے لگے کہ تم جانتے ہو کہ میں کس چیز سے وضو کر رہا ہوں؟ میں نے پینر کے کچھ ٹکڑے کھائے تھے اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7605]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 352.
الحكم: إسناده صحيح، م: 352.
حدیث نمبر: 7606 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، وابن جريج ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، ابْنُ شِهَابٍ ، أَبِي سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، وابن جريج ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ يُصَلِّي الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوَلِكُلِّكُمْ ثَوْبَانِ؟!" . قَالَ فِي حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایک شخص نے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے ہر ایک کو دو دو کپڑے میسر ہیں؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7606]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 365، م: 515.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 365، م: 515.
حدیث نمبر: 7607 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، ذَكْوَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ حَسَنَةٍ يَعْمَلُهَا ابْنُ آدَمَ تُضَاعَفُ عَشْرًا، إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ، إِلَّا الصِّيَامَ، فَهُوَ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، يَدَعُ شَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي، وَيَدَعُ طَعَامَهُ مِنْ أَجْلِي، فَرْحَتَانِ لِلصَّائِمِ: فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ، وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ابن آدم کی ہر نیکی کو اس کے لئے دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے سوائے روزے کے (جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا اور جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا تب بھی وہ خوش ہوگا روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7607]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151.
حدیث نمبر: 7608 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عِكْرِمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي ثَوْبٍ، فَلْيُخَالِفْ بَيْنَ طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو اسے کپڑے کے دونوں کنارے مخالف سمت سے اپنے کندھوں پر ڈال لینے چاہئیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7608]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2528، م: 127.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2528، م: 127.
حدیث نمبر: 7609 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَحَتَّهَا بِمَرْوَةٍ أَوْ بِشَيْءٍ، ثُمَّ قَالَ:" إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ، فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ أَمَامَهُ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، فَإِنَّ عَنْ يَمِينِهِ مَلَكًا، وَلَكِنْ لِيَتَنَخَّمْ عَنْ يَسَارِهِ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی جانب بلغم لگا ہوا دیکھا تو اسے کسی پتھر وغیرہ سے صاف کرکے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے کھڑا ہو تو اپنے سامنے یا دائیں جانب نہ تھوکے کیونکہ اس کی دائیں جانب فرشتہ ہوتا ہے بلکہ اسے بائیں جانب یا پاؤں کی طرف تھوکنا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7609]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 416، م: 550.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 416، م: 550.
حدیث نمبر: 7610 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ يَعْنِي الثُّومَ، فَلَا يُؤْذِينَا فِي مَسْجِدِنَا" وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَر:" فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا، وَلَا يُؤْذِينَا بِرِيحِ الثُّومِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس درخت (لہسن) میں سے کچھ کھا کر آئے وہ ہمیں ہماری مسجد میں تکلیف نہ پہنچائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7610]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 563.
الحكم: إسناده صحيح، م: 563.
حدیث نمبر: 7611 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، مَنْصُورٍ ، عَبَّادِ بْنِ أُنَيْسٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ أُنَيْسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمُؤَذِّنَ يُغْفَرُ لَهُ مَدَى صَوْتِهِ، وَيُصَدِّقُهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ سَمِعَهُ، وللشَّاهِدُ عَلَيْهِ خَمْسَةً وَعِشْرِينَ دَرَجَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مؤذن کی اذان کی آواز جہاں جہاں تک جاتی (ان سب کی گواہی کی برکت سے) اس کی بخشش کردی جاتی ہے اور ہر خشک اور تر چیز جس نے اذان کی آواز سنی ہو مؤذن کی تصدیق کرتی ہے اور اس پر شہادت دینے والے کو پچیس درجات ملتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7611]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد قابل للتحسين.
الحكم: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد قابل للتحسين.
حدیث نمبر: 7612 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَضْلُ صَلَاةِ الْجَمْعِ عَلَى صَلَاةِ الْوَاحِدِ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ، وَتَجْتَمِعُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَمَلَائِكَةُ النَّهَارِ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ" . قَال: ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا سورة الإسراء آية 78.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اکیلے نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت پچیس درجے ہے اور رات اور دن کے فرشتے نماز فجر کے وقت جمع ہوتے ہیں پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے اگر تم چاہو تو اس کی تصدیق میں یہ آیت پڑھ لو کہ فجر کے وقت قرآن پڑھنا مشہود ہے (اس پر فرشتے گواہ بن جاتے ہیں کیونکہ وہ اس وقت حاضر ہوتے ہیں) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7612]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 648، م: 649.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 648، م: 649.
حدیث نمبر: 7613 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، وابن جريج ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَأبي سَلَمة ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، وابن جريج ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَأبي سَلَمة ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ، فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے لہٰذا جب گرمی زیادہ ہو تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7613]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 533، م: 615.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 533، م: 615.
حدیث نمبر: 7614 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا كَانَ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ، وَلَا تَزَالُ الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا كَانَ فِي مَسْجِدٍ، تَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو شخص جب تک نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے اسے نماز ہی میں شمار کیا جاتا ہے اور فرشتے اس کے لئے اس وقت تک دعاء کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہتا ہے اور کہتے رہتے ہیں کہ اے اللہ اس کی بخشش فرما اے اللہ اس پر رحم فرما [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7614]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 477، م: 649.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 477، م: 649.
حدیث نمبر: 7615 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، وَالثَّوْرِيُّ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، أَبِي عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، وَالثَّوْرِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، رَفَعَهُ، قَالَ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ، فَلْيُصَلِّ إِلَى شَيْءٍ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ فَعَصًا، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ عَصًا، فَلْيَخْطُطْ خَطًّا، ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوعاً مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے کا ارادہ کرے تو اپنے سامنے کوئی چیز (بطور سترہ کے) رکھ لے اگر کوئی چیز نہ ملے تو لاٹھی ہی کھڑی کرلے اور اگر لاٹھی بھی نہ ہو تو ایک لکیر ہی کھینچ لے اس کے بعد اس کے سامنے سے کچھ بھی گذرے اسے کوئی حرج نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7615]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، أبو عمرو وحريث جده، كلاهما مجهولان.
الحكم: إسناده ضعيف، أبو عمرو وحريث جده، كلاهما مجهولان.
حدیث نمبر: 7616 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ اطَّلَعَ عَلَى قَوْمٍ فِي بَيْتِهِمْ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ، فَقَدْ حَلَّ لَهُمْ أَنْ يَفْقَؤُوا عَيْنَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی آدمی کسی کی اجازت کے بغیر اس کے گھر میں جھانک کر دیکھے اور وہ اسے کنکری دے مارے جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7616]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6902، م: 2158.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6902، م: 2158.
حدیث نمبر: 7617 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَبْتَدِءُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى بِالسَّلَامِ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فِي طَرِيقٍ، فَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم یہود و نصاریٰ سے راستے میں ملو تو سلام کرنے میں پہل نہ کرو اور انہیں تنگ راستے کی طرف مجبور کردو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7617]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2167.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2167.
حدیث نمبر: 7618 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَقُولُ: " لَا طِيَرَةَ، وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ"، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْفَأْلُ؟ قَالَ:" الْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بد شگونی کی کوئی حیثیت نہیں ہے البتہ فال سب سے بہتر ہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فال سے کیا مراد ہے؟ فرمایا اچھا کلمہ جو تم میں سے کوئی سنے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 7618]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5755، م: 2223.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5755، م: 2223.