بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 125 از 194
حدیث نمبر: 9600 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَغْلِبَنَّكُمْ أَهْلُ الْبَادِيَةِ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دیہاتی لوگ کہیں تمہاری نماز (عشاء) کے نام پر غالب نہ آجائیں (اور تم بھی اسے عتمہ کہنے لگو) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9600]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 9601 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، صَالِحٌ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَالِحٌ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَلْيَغْتَسِلْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میت کو غسل دے اسے چاہئے کہ خود بھی غسل کرلے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9601]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات غير صالح ، وهو صدوق كان قد اختلط ، وقد اختلف في رفعه ووقفه
الحكم: رجاله ثقات غير صالح ، وهو صدوق كان قد اختلط ، وقد اختلف في رفعه ووقفه
حدیث نمبر: 9602 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: " كَانَ جُرَيْجٌ يَتَعَبَّدُ فِي صَوْمَعَتِهِ، قَالَ: فَأَتَتْهُ أُمُّهُ، فَقَالَتْ: يَا جُرَيْجُ، أَنَا أُمُّكَ فَكَلِّمْنِي. قَالَ: وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَصِفُ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصِفُهَا، وَضَعَ يَدَهُ عَلَى حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ، قَالَ: فَصَادَفَتْهُ يُصَلِّي، فَقَالَ: يَا رَبِّ , أُمِّي وَصَلَاتِي! فَاخْتَارَ صَلَاتَهُ، فَرَجَعَتْ ثُمَّ أَتَتْهُ فَصَادَفَتْهُ يُصَلِّي، فَقَالَتْ: يَا جُرَيْجُ، أَنَا أُمُّكَ فَكَلِّمْنِي، فَقَالَ: يَا رَبِّ , أُمِّي وَصَلَاتِي! فَاخْتَارَ صَلَاتَهُ، ثُمَّ أَتَتْهُ فَصَادَفَتْهُ يُصَلِّي، فَقَالَتْ: يَا جُرَيْجُ، أَنَا أُمُّكَ فَكَلِّمْنِي، قَالَ: يَا رَبِّ , أُمِّي وَصَلَاتِي! فَاخْتَارَ صَلَاتَهُ، فَقَالَتْ: اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا جُرَيْجٌ، وَإِنَّهُ ابْنِي، وَإِنِّي كَلَّمْتُهُ فَأَبَى أَنْ يُكَلِّمَنِي، اللَّهُمَّ فَلَا تُمِتْهُ حَتَّى تُرِيَهُ الْمُومِسَاتِ، وَلَوْ دَعَتْ عَلَيْهِ أَنْ يُفْتَتَنَ لَافْتُتِنَ. قَالَ: وَكَانَ رَاعٍ يَأْوِي إِلَى دَيْرِهِ، قَالَ: فَخَرَجَتِ امْرَأَةٌ فَوَقَعَ عَلَيْهَا الرَّاعِي، فَوَلَدَتْ غُلَامًا فَقِيلَ: مِمَّنْ هَذَا؟، فَقَالَتْ: هُوَ مِنْ صَاحِبِ الدَّيْرِ. فَأَقْبَلُوا بِفُؤُوسِهِمْ وَمَسَاحِيهِمْ وَأَقْبَلُوا إِلَى الدَّيْرِ فَنَادَوْهُ، فَلَمْ يُكَلِّمْهُمْ، فَأَخَذُوا يَهْدِمُونَ دَيْرَهُ، فَنَزَلَ إِلَيْهِمْ، فَقَالُوا: سَلْ هَذِهِ الْمَرْأَةَ. قَالَ: أُرَاهُ تَبَسَّمَ. قَالَ: ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَ الصَّبِيِّ، فَقَالَ: مَنْ أَبُوكَ؟، قَالَ: رَاعِي الضَّأْنِ. فَقَالُوا: يَا جُرَيْجُ نَبْنِي مَا هَدَمْنَا مِنْ دَيْرِكَ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ. قَالَ: لَا، وَلَكِنْ أَعِيدُوهُ تُرَابًا كَمَا كَانَ. فَفَعَلُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل میں ایک شخص کا نام جریج تھا یہ ایک مرتبہ نماز پڑھ رہا تھا کہ اس کی ماں نے آ کر آواز دی جریج بیٹا! میری طرف جھانک کر دیکھو میں تمہاری ماں ہوں تم سے بات کرنے کے لئے آئی ہوں یہ اپنے دل میں کہنے لگا کہ والدہ کو جواب دوں یا نماز پڑھوں آخرکار ماں کو جواب نہیں دیا کئی مرتبہ اسی طرح ہوا بالاآخر ماں نے (بددعا دی اور) کہا الٰہی جب تک اس کا بدکار عورتوں سے واسطہ نہ پڑجائے اس پر موت نہ بھیجنا۔ ادھر ایک باندی اپنے آقا کی بکریاں چراتی تھی اور اس کے گرجے کے نیچے آ کر پناہ لیتی تھی اس نے بدکاری کی اور امید سے ہوگئی لوگوں نے اسے پکڑ لیا اس وقت رواج یہ تھا کہ زانی کو قتل کردیا جائے لوگوں نے اس سے پوچھا کہ یہ بچہ کس کا ہے؟ اس نے کہا کہ یہ لڑکا جریج کا ہے لوگ کلہاڑیاں اور رسیاں لے کر جریج کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اے ریاکار جریج! نیچے اتر جریج نے نیچے اترنے سے انکار کردیا اور نماز پڑھنے لگا لوگوں نے اس کا گرجا ڈھانا شروع کردیا جس پر وہ نیچے اتر آیا لوگ جریج اور عورت کی گردن میں رسی ڈال کر انہیں لوگوں میں گھمانے لگے اس نے بچے کے پیٹ پر انگلی رکھ کر اس سے پوچھا اے لڑکے تیرا باپ کون ہے؟ لڑکا بولا فلاں چرواہا لوگ (یہ صداقت دیکھ کر) کہنے لگے ہم تیرا عبادت خانہ سونے چاندی کا بنائے دیتے ہیں جریج نے جواب دیا جیسا تھا ویسا ہی بنادو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9602]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3436، م: 2550، انظر ما بعده
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3436، م: 2550، انظر ما بعده
حدیث نمبر: 9603 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كَانَ رَجُلٌ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ تَاجِرًا، وَكَانَ يَنْقُصُ مَرَّةً، وَيَزِيدُ أُخْرَى، فَقَالَ: مَا فِي هَذِهِ التِّجَارَةِ خَيْرٌ، أَلْتَمِسُ تِجَارَةً هِيَ خَيْرٌ مِنْ هَذِهِ، فَبَنَى صَوْمَعَةً، وَتَرَهَّبَ فِيهَا، وَكَانَ يُقَالُ لَهُ جُرَيْجٌ" , فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل میں ایک آدمی تاجر تھا اسے تجارت میں کبھی نقصان ہوتا اور کبھی نفع اس نے دل میں سوچا کہ یہ کیسی تجارت ہے اس سے بہتر یہ ہے کہ میں کوئی ایسی تجارت تلاش کروں جس میں نفع ہی نفع ہو چنانچہ اس نے ایک گرجا بنا لیا اور اس میں راہبانہ زندگی گذارنے لگا اس کا نام جریج تھا اس کے بعد راوی نے گزشتہ حدیث مکمل ذکر کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9603]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف من أجل عمر، وقد تفرد بمطلع هذا الحديث بهذا السياق، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده ضعيف من أجل عمر، وقد تفرد بمطلع هذا الحديث بهذا السياق، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 9604 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنُ عَجْلَانَ ، سَعِيدٌ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ، وَلَا يَقُلْ: قَبَّحَ اللَّهُ وَجْهَكَ , وَوَجْهَ مَنْ أَشْبَهَ وَجْهَكَ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام عَلَى صُورَتِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی کو مارے تو چہرے پر مارنے سے اجتناب کرے اور یہ نہ کہے کہ اللہ تمہارا اور تم سے مشابہت رکھنے والے کا چہرہ ذلیل کرے کیونکہ اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9604]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، خ: 2559، م: 2612
الحكم: إسناده قوي، خ: 2559، م: 2612
حدیث نمبر: 9605 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، هِشَامٌ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُنْكَحُ الْأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَلَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ" . قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ إِذْنُهَا؟ قَالَ:" أَنْ تَسْكُتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کنواری لڑکی سے نکاح کی اجازت لی جائے اور شوہردیدہ عورت سے مشورہ کیا جائے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کنواری لڑکی شرماتی ہے (تو اس سے اجازت کیسے حاصل کی جائے؟) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کی خاموشی ہی اس کی رضا مندی کی علامت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9605]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6970، م: 1419
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6970، م: 1419
حدیث نمبر: 9606 مسند احمد
يَحْيَى ، هِشَامٍ ، يَحْيَى ، أَبِي جَعْفَرٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ لَا شَكَّ فِيهِنَّ: دَعْوَةُ الْمُسَافِرِ، وَالْمَظْلُومِ، وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تین قسم کے لوگوں کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور ان کی قبولیت میں کوئی شک و شبہ نہیں مظلوم کی دعا مسافر کی دعا اور باپ کی اپنے بیٹے کے متعلق دعا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9606]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وإسناده ضعيف لجهالة أبي جعفر
الحكم: حسن لغيره، وإسناده ضعيف لجهالة أبي جعفر
حدیث نمبر: 9607 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، هِشَامٍ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ سَجَدَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ، قُلْتُ: تَسْجُدُ فِيهَا؟ قَالَ:" إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَجَدَ فِيهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے سورت انشقاق کی تلاوت کی اور آیت سجدہ پر پہنچ کر سجدہ تلاوت کیا میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو اس سورت میں سجدہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا؟ انہوں نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس میں سجدہ فرمایا ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9607]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1074، م: 578
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1074، م: 578
حدیث نمبر: 9608 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدُ بْنُ سَمْعَانَ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ الْمَعْنَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَمْعَانَ ، قَالَ: أَتَانَا أَبُو هُرَيْرَةَ فِي مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ، قَالَ:" ثَلَاثٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ بِهِنَّ، قَدْ تَرَكَهُنَّ النَّاسُ: كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ مَدًّا إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ , وَيُكَبِّرُ كُلَّمَا رَكَعَ وَرَفَعَ، وَالسُّكُوتُ قَبْلَ الْقِرَاءَةِ يَسْأَلُ اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ" . قَالَ يَزِيدُ: يَدْعُو وَيَسْأَلُ اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید بن سمعان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مسجد بنی زریق میں ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ تین چیزیں ایسی ہیں جن پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عمل فرماتے تھے لیکن اب لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز شروع کرتے وقت دونوں ہاتھوں کو پھیلا کر رفع یدین کرتے تھے ہر جھکنے اور اٹھنے کے موقع پر تکبیر کہتے تھے اور قرأت سے کچھ پہلے سکوت فرماتے اور اس میں اللہ سے اس کا فضل مانگتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9608]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 785، 744، م: 392، 598
الحكم: إسناده صحيح، خ: 785، 744، م: 392، 598
حدیث نمبر: 9609 مسند احمد
يَحْيَى ، عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَطَاءٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِلَّهِ مِائَةُ رَحْمَةٍ، أَنْزَلَ مِنْهَا رَحْمَةً وَاحِدَةً بَيْنَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ وَالْهَوَامِّ، فَبِهَا يَتَعَاطَفُونَ، وَبِهَا يَتَرَاحَمُونَ، وَبِهَا تَعْطِفُ الْوَحْشُ عَلَى أَوْلَادِهَا، وَأَخَّرَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ يَرْحَمُ بِهَا عِبَادَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے پاس سو رحمتیں ہیں جن میں سے اللہ نے تمام جن و انس اور جانوروں پر صرف ایک رحمت نازل فرمائی ہے اسی کی برکت سے وہ ایک دوسرے پر مہربانی کرتے اور رحم کھاتے ہیں اور اسی ایک رحمت کے سبب وحشی جانور تک اپنی اولاد پر مہربانی کرتے ہیں اور باقی ننانوے رحمتیں اللہ نے قیامت کے دن کے لئے رکھ چھوڑی ہیں جن کے ذریعے وہ اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9609]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2752
الحكم: إسناده صحيح، م: 2752
حدیث نمبر: 9610 مسند احمد
يَحْيَى ، يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ كَيْسَانَ ، أَبُو حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ كَيْسَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم لِعَمِّهِ: " قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدْ لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ". قَالَ: لَوْلَا أَنْ تُعَيِّرَنِي قُرَيْشٌ، يَقُولُونَ: إِنَّمَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ الْجَزَعُ، لَأَقْرَرْتُ بِهَا عَيْنَكَ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ سورة القصص آية 56 .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے چچا (خواجہ ابو طالب سے ان کی موت کے وقت) فرمایا کہ لاالہ الا اللہ " کا اقرار کرلیجئے میں قیامت کے دن اس کے ذریعے آپ کے حق میں گواہی دوں گا انہوں نے کہا کہ اگر مجھے قریش کے لوگ یہ طعنہ نہ دیتے کہ خوف کی وجہ سے انہوں نے یہ کلمہ پڑھا ہے تو میں آپ کی آنکھیں ٹھنڈی کردیتا اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ آپ جسے چاہیں اسے ہدایت نہیں دے سکتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9610]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 25
الحكم: إسناده صحيح، م: 25
حدیث نمبر: 9611 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، أَبُو حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبِي هُرَيْرَةَ يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ مِرَارًا: وَالَّذِي نَفْسُ أَبَا هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ، " مَا شَبِعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَهْلُهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ تِبَاعًا مِنْ خُبْزِ حِنْطَةٍ، حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوحازم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی انگلیوں سے اشارے کرتے جا رہے ہیں اور فرماتے جا رہے ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی جان ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے اہل خانہ نے کبھی بھی مسلسل تین دن گندم کی روٹی سے پیٹ نہیں بھرا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9611]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2976
الحكم: إسناده صحيح، م: 2976
حدیث نمبر: 9612 مسند احمد
يَحْيَى ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُورِدُ الْمُمْرِضُ عَلَى الْمُصِحِّ" . وَقَالَ: وَقَالَ: " لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ، فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ؟!" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بیمار جانوروں کو تندرست جانوروں کے پاس نہ لایا کرو نیز فرمایا بیماری متعدی ہونے، بدشگونی اور الو کے منحوس ہونے کی کوئی اصلیت نہیں، ورنہ پہلے آدمی کو اس بیماری میں کس نے مبتلا کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9612]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5717، م: 2220
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5717، م: 2220
حدیث نمبر: 9613 مسند احمد
يَحْيَى ، عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَطَاءٌ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ" ، وَقَالَ يَحْيَى مَرَّةً:" لَا صَدَقَةَ إِلَّا مِنْ ظَهْرِ غِنًى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اصل صدقہ تو دل کے غناء کے ساتھ ہوتا ہے اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے اور تم صدقات و خیرات میں ان لوگوں سے ابتداء کرو جو تمہاری ذمہ داری میں آتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9613]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1426
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1426
حدیث نمبر: 9614 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا وُضُوءَ إِلَّا مِنْ حَدَثٍ أَوْ رِيحٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وضو اسی وقت واجب ہوتا ہے جب حدث لاحق ہو یا خروج ریح ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9614]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9615 مسند احمد
يَحْيَى ، مَالِكٍ ، سَعِيدٌ ، وَحَجَّاجٌ يعني الأعور ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مَالِكٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ . ح وَحدَّثَنَا وَحَجَّاجٌ يعني الأعور , قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَعْنَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ كَانَتْ يَعْنِي عِنْدَهُ مَظْلَمَةٌ فِي مَالِهِ أَوْ عِرْضِهِ، فَلْيَأْتِهِ فَلْيَسْتَحِلَّهَا مِنْهُ قَبْلَ أَنْ يُؤْخَذَ أَوْ تُؤْخَذَ، وَلَيْسَ عِنْدَهُ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ، فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ حَسَنَاتِهِ فَأُعْطِيَهَا هَذَا، وَإِلَّا أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ هَذَا فَأُلْقِيَ عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے کسی پر مال یا آبرو کے حوالے سے ظلم کیا ہو تو ابھی جا کر اس سے معافی مانگ لے اس سے پہلے کہ وہ دن آجائے جہاں کوئی درہم اور دینار نہ ہوگا اگر اس کی نیکیاں ہوئیں تو اس کی نیکیاں دے کر ان کا بدلہ دلوایا جائے گا اگر اس کے گناہوں کا فیصلہ مکمل ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں تو حقداروں کے گناہ لے کر اس پر لاد دئیے جائیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9615]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6534
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6534
حدیث نمبر: 9616 مسند احمد
يَحْيَى ، حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَطَاءٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " كُلُّ الصَّلَاةِ يُقْرَأُ فِيهَا , فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ، وَمَا أَخْفَى عَلَيْنَا أَخْفَيْنَا عَلَيْكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہر نماز میں ہی قرأت کی جاتی ہے البتہ جس نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں (جہر کے ذریعے) قرأت سنائی ہے اس میں ہم بھی تمہیں سنائیں گے اور جس میں سراً قراءت فرمائی ہے اس میں ہم بھی سراً قرأت کریں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9616]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 772، م: 396
الحكم: إسناده صحيح، خ: 772، م: 396
حدیث نمبر: 9617 مسند احمد
يَحْيَى ، سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، أَنَسٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ يَحْيَى: وَرُبَّمَا ذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَا يَتَقَرَّبُ الْعَبْدُ إِلَيَّ شِبْرًا إِلَّا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا، وَلَا يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ ذِرَاعًا إِلَّا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا، أَوْ بُوعًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے بندہ اگر ایک بالشت کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں ایک گز کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اگر وہ ایک گز کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں پورے ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9617]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7537، م: 2675
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7537، م: 2675
حدیث نمبر: 9618 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الَّذِي يَطْعَنُ نَفْسَهُ إِنَّمَا يَطْعَنُهَا فِي النَّارِ، وَالَّذِي يَتَقَحَّمُ فِيهَا يَتَقَحَّمُ فِي النَّارِ، وَالَّذِي يَخْنُقُ نَفْسَهُ يَخْنُقُهَا فِي النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے آپ کو کسی تیز دھار آلے سے قتل کرلے (خودکشی کرلے) اس کا وہ تیز دھار آلہ اس کے ہاتھ میں ہوگا جسے وہ جہنم کے اندر اپنے پیٹ میں گھونپتا ہوگا اور وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا جو شخص زہر پی کر خودکشی کرلے اس کا وہ زہر اس کے ہاتھ میں ہوگا جسے وہ جہنم کے اندر پھانکتا ہوگا اور وہاں ہمیشہ ہمیش رہے گا اور جو شخص اپنا گلا گھونٹ کر خودکشی کرلے وہ جہنم میں بھی اپنا گلا گھونٹتا رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9618]
حدیث نمبر: 9619 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَعْنِي:" قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنَا خَيْرُ الشُّرَكَاءِ، مَنْ عَمِلَ لِي عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ غَيْرِي، فَأَنَا مِنْهُ بَرِيءٌ، وَهُوَ لِلَّذِي أَشْرَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے پروردگار کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ میں تمام شرکاء میں سب سے بہتر ہوں جو شخص کوئی عمل سر انجام دے اور اس میں میرے ساتھ کسی کو شریک کرے تو میں اس سے بیزار ہوں اور وہ عمل اسی کا ہوگا جسے اس نے میرا شریک قرار دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9619]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2985
الحكم: إسناده صحيح، م: 2985