بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 132 از 194
حدیث نمبر: 9740 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، سُمَيٍّ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ، يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ نَوْمَهُ وَطَعَامَهُ، فَإِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ نَهْمَتَهُ مِنْ سَفَرِهِ، فَلْيُعَجِّلْ إِلَى أَهْلِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سفر بھی عذاب کا ایک ٹکڑا ہے جو تم میں سے کسی کو اس کے کھانے پینے اور نیند سے روک دیتا ہے اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص اپنی ضرورت کو پورا کرچکے تو وہ جلد از جلد اپنے گھر کو لوٹ آئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9740]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1804، م: 1927
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1804، م: 1927
حدیث نمبر: 9741 مسند احمد
وَكِيعٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَا تُسَافِرْ امْرَأَةٌ مَسِيرَةَ يَوْمٍ تَامٍّ، إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی عورت کے لئے حلال نہیں ہے کہ اپنے اہل خانہ میں سے کسی محرم کے بغیر ایک دن کا بھی سفر کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9741]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1088، م: 1339
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1088، م: 1339
حدیث نمبر: 9742 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، السُّدِّيِّ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ السُّدِّيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ سُفْيَانُ يَرْفَعُهُ , قَالَ: " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ، إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے (مرفوعاً) مروی ہے کہ مردہ لوگوں کے جوتوں کی آہٹ تک سنتا ہے جب کہ وہ اسے دفن کر کے واپس جا رہے ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9742]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، والد السدۤي مجهول الحال
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، والد السدۤي مجهول الحال
حدیث نمبر: 9743 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سَعْدَانُ الْجُهَنِيُّ ، أَبِي مُجَاهِدٍ ، أَبِي مُدِلَّةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سَعْدَانُ الْجُهَنِيُّ ، عَنْ أَبِي مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي مُدِلَّةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " ثَلَاثَةٌ لَا يُرَدُّ دُعَاؤُهُمْ: الْإِمَامُ الْعَادِلُ، وَالصَّائِمُ حَتَّى يُفْطِرَ، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ، يَرْفَعُهَا اللَّهُ فَوْقَ الْغَمَامِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَيَفْتَحُ لَهَا أَبْوَابَ السَّمَاءِ، وَيَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ: بِعِزَّتِي لَأَنْصُرَنَّكِ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تین آدمی ایسے ہیں جن کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی عادل حکمران، روزہ دار تاآنکہ روزہ کھول لے اور مظلوم کی بددعا وہ بادلوں پر سوار ہو کر جاتی ہے اور اس کے لئے آسمانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں مجھے اپنی عزت کی قسم میں تیری مدد ضرور کروں گا خواہ کچھ دیر بعد ہی کروں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9743]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه وشواهده دون قوله: « يوم القيامة » ، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبي مُدلۤة
الحكم: حديث صحيح بطرقه وشواهده دون قوله: « يوم القيامة » ، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبي مُدلۤة
حدیث نمبر: 9744 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سَعْدَانُ الْجُهَنِيُّ ، أَبِي مُجَاهِدٍ الطَّائِيِّ ، أَبِي مُدِلَّةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعْدَانُ الْجُهَنِيُّ ، عَنْ أَبِي مُجَاهِدٍ الطَّائِيِّ ، عَنْ أَبِي مُدِلَّةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنَا عَنِ الْجَنَّةِ، مَا بِنَاؤُهَا؟ قَالَ: " لَبِنَةٌ مِنْ ذَهَبٍ، وَلَبِنَةٌ مِنْ فِضَّةٍ، مِلَاطُهَا الْمِسْكُ الْأَذْفَرُ، حَصْبَاؤُهَا الْيَاقُوتُ وَاللُّؤْلُؤُ، وَتُرْبَتُهَا الْوَرْسُ وَالزَّعْفَرَانُ، مَنْ يَدْخُلُهَا يَخْلُدُ لَا يَمُوتُ، وَيَنْعَمُ لَا يَبْأَسُ، لَا يَبْلَى شَبَابُهُمْ، وَلَا تُخَرَّقُ ثِيَابُهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں جنت کے بارے میں کچھ بتائیے کہ اس کی تعمیر کیسی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک اینٹ سونے کی ایک اینٹ چاندی کی اس کا گارا خالص مشک ہے اس کی کنکریاں موتی اور یاقوت ہیں اور اس کی مٹی ورس اور زعفران ہے جو شخص اس میں داخل ہوگا وہ ہمیشہ نازونعم میں رہے گا کبھی تنگ نہ ہوگا ہمیشہ رہے گا اسے کبھی موت نہ آئے گی اس کے کپڑے پرانے نہ ہوں گے اور اس کی جوانی ختم نہ ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9744]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وإسناده ضعيف كسابقه
الحكم: حديث صحيح، وإسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 9745 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدَهُ، إِلَّا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کوئی اولاد اپنے والد کے جرم کا بدلہ بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی (باپ کے جرم کا بدلہ اس کی اولاد سے نہیں لیا جائے گا) البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے باپ کو غلامی کی حالت میں پائے تو اسے خرید کر آزاد کر دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9745]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1510
الحكم: إسناده صحيح، م: 1510
حدیث نمبر: 9746 مسند احمد
وَكِيعٌ ، يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ ، مُجَاهِدٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حضرت جبرائیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت اتنے تسلسل کے ساتھ کرتے رہے کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا کہ عنقریب وہ اسے وارث قرار دے دیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9746]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9747 مسند احمد
وَكِيعٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِالطَّوَّافَ عَلَيْكُمْ، الَّذِي تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ، وَلَكِنَّ الْمِسْكِينَ الْمُتَعَفِّفُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسکین وہ نہیں ہوتا جسے ایک دو کھجوریں یا ایک دو لقمے لوٹا دیں اصل مسکین وہ ہوتا ہے جو سوال کرنے سے بچے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9747]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1479، م: 1039
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1479، م: 1039
حدیث نمبر: 9748 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ بَابًا، فَأَدْنَاهُ إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَأَرْفَعُهَا قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایمان کے ستر سے زائد شعبے ہیں جن میں سے سب سے افضل اور اعلیٰ لا الہ الا اللہ کہنا ہے اور سب سے ہلکا شعبہ راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9748]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 9، م: 35
الحكم: إسناده صحيح، خ: 9، م: 35
حدیث نمبر: 9749 مسند احمد
وَكِيعٌ ، جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، وَأَنَا مَعَهُ إِذَا دَعَانِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں اپنے بندے کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق معاملہ کرتا ہوں اور جب وہ مجھے پکارتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9749]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2675
الحكم: إسناده صحيح، م: 2675
حدیث نمبر: 9750 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، أَبِي كَثِيرٍ الْحَنَفِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الزَّبِيبِ، وَالتَّمْرِ، وَالْبُسْرِ، وَالتَّمْرِ، وَقَالَ: " يُنْبَذُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى حِدَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کشمش اور کھجور کچی اور پکی کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے اور فرمایا کہ ان میں سے ہر ایک کی الگ الگ نبیذ بنائی جاسکتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9750]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، م: 1989
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، م: 1989
حدیث نمبر: 9751 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أَبَانُ بْنُ صَمْعَةَ ، زُبَيْبَةِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ صَمْعَةَ ، عَنْ زُبَيْبَةِ ، ابْنَةِ النُّعْمَانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْأَوْعِيَةِ، إِلَّا وِعَاءً يُوكَأُ رَأْسُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا ہے سوائے ان برتنوں کے جن کا منہ دھاگے وغیرہ سے باندھا گیا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9751]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1993، وهذا إسناد ضعيف لجهالة زيينة
الحكم: حديث صحيح، م: 1993، وهذا إسناد ضعيف لجهالة زيينة
حدیث نمبر: 9752 مسند احمد
وَكِيعٌ ، فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ الضَّبِّيُّ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ الضَّبِّيُّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " ثَلَاثٌ إِذَا خَرَجْنَ لَمْ يَنْفَعْ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ، أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا: طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَالدُّخَانُ، وَدَابَّةُ الْأَرْضِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تین چیزیں ایسی ہیں کہ جب ان کا خروج ہوجائے تو پہلے سے ایمان نہ لانے والے یا اپنے ایمان میں نیکی نہ کمانے والے کسی نفس کو اس کا اس وقت ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔ (١) مغرب کی جانب سے طلوع آفتاب (٢) دھواں (٣) دابۃ الارض۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9752]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 158
الحكم: إسناده صحيح، م: 158
حدیث نمبر: 9753 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ دعاء کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا رزق اتنا مقرر فرما کہ گذارا ہوجائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9753]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6460، م: 1055
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6460، م: 1055
حدیث نمبر: 9754 مسند احمد
وَكِيعٌ ، جَرِيرِ بْنِ أَيُّوبَ ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَرِيضًا كَذَا قَالَ كَمَا أُنْزِلَ، فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص قرآن کو مضبوطی کے ساتھ اسی طرح پڑھنا چاہتا ہے جیسے وہ نازل ہوا ہے تو اسے چاہئے کہ اس کی تلاوت ابن ام عبد (حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے طرز پر کیا کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9754]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف جرير
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف جرير
حدیث نمبر: 9755 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " هُوَ أَحَقُّ بِمَجْلِسِهِ إِذَا رَجَعَ إِلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ کر جائے تو واپس آنے کے بعد وہی اس کا زیادہ حقدار ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9755]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2179
الحكم: إسناده صحيح، م: 2179
حدیث نمبر: 9756 مسند احمد
وَكِيعٌ ، يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، مُجَاهِدٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّوَاءِ الْخَبِيثِ، يَعْنِي السُّمَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حرام ادویات (زہر) کے استعمال سے منع فرمایا ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9756]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 9757 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، زِيَادِ بْنِ ثُوَيْبٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ , عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ ثُوَيْبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَشْتَكِي، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي حَدِيثِهِ: يَعُودُنِي، فَقَالَ:" أَلَا أُعَلِّمُكَ"، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ:" أَلَا أَرْقِيكَ بِرُقْيَةٍ رَقَانِي بِهَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام؟"، قُلْتُ: بَلَى، بِأَبِي وَأُمِّي. قَالَ: " بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ، وَاللَّهُ يَشْفِيكَ مِنْ كُلِّ دَاءٍ يُؤْذِيكَ، وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ، وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ" . وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ:" مِنْ كُلِّ دَاءٍ فِيكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بیمار ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میری عیادت کے لئے تشریف لائے اور فرمایا کیا میں تمہیں جھاڑ پھونک کے ایسے کلمات نہ سکھا دوں جن سے جبرائیل علیہ السلام نے مجھے دم کیا تھا؟ میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کیوں نہیں فرمایا وہ کلمات یہ ہیں اللہ کے نام سے میں تمہیں جھاڑتا ہوں اللہ تمہیں ہر اس بیماری سے جو تمہیں تکلیف پہنچائے گرہوں میں پھونکیں مارنے والیوں کے شر سے اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرنے پر آجائے شفاء عطاء فرمائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9757]
حکم دارالسلام
المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم ولجهالة زیاد
الحكم: المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم ولجهالة زیاد
حدیث نمبر: 9758 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيِّ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الضُّحَى قَطُّ، إِلَّا مَرَّةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سوائے ایک مرتبہ کے کبھی چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9758]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 9759 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، أَبِي الْجَحَّافِ ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا اے اللہ میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9759]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي