بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 167 از 194
حدیث نمبر: 10440 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الْإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ، كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے قریب ایمان مدینہ منورہ کی طرف ایسے سمٹ آئے گا جیسے سانپ اپنے بل میں سمٹ آتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10440]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1876، م: 147
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1876، م: 147
حدیث نمبر: 10441 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ , قََالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ صَلَاتَيْنِ وَلِبْسَتَيْنِ وَبَيْعَتَيْنِ: نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَعَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، وَعَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وَعَنِ الِاحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَتُفْضِي بِفَرْجِكَ إِلَى السَّمَاءِ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ: وَعَنِ الْمُنَابَذَةِ وَالْمُلَامَسَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو قسم کی نماز، دو قسم کی خریدوفروخت اور دو قسم کے لباس سے منع فرمایا ہے لباس تو یہ ہے کہ انسان ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھے اور اس کی شرمگاہ پر ذرہ سا بھی کپڑا نہ ہو اور یہ کہ نماز پڑھتے وقت انسان اپنے ازار میں لپٹ کر نماز پڑھے اور بیع ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10441]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 584، 2145، م: 825، 1511
الحكم: إسناده صحيح، خ: 584، 2145، م: 825، 1511
حدیث نمبر: 10442 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، يَحْيَى ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي أَوْ عَلَى النَّاسِ، لَأَحْبَبْتُ أَنْ لَا أَتَخَلَّفَ خَلْفَ سَرِيَّةٍ تَخْرُجُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَلَكِنْ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ، وَلَا يَجِدُونَ مَا يَتَحَمَّلُونَ عَلَيْهِ، فَيَخْرُجُونَ فَوَدِدْتُ أَنْ أُقَاتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّه، فَأُقْتَلَ ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلَ ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر میں سمجھتا کہ مسلمان مشقت میں نہیں پڑیں تو میں اللہ کے راستہ میں نکلنے والے کسی سریہ سے کبھی پیچھے نہ رہتا لیکن میں اتنی وسعت نہیں پاتا کہ میں انہیں سواری مہیا کروں اور وہ خود بھی سواری نہیں رکھتے کہ نکل پڑیں مجھے اس بات کی تمنا ہے کہ اللہ کے راستہ میں جہاد کروں اور جام شہادت نوش کرلوں پھر زندگی عطا ہو اور جہاد میں شرکت کروں اور شہید ہوجاؤں پھر جہاد میں شرکت کروں اور شہید ہوجاؤں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10442]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 36، م: 1876
الحكم: إسناده صحيح، خ: 36، م: 1876
حدیث نمبر: 10443 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، أَبِيهِ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ , عَنْ أَبِيهِ ، قََالَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ " يُصَلِّي بِالْمَدِينَةِ نَحْوًا مِنْ صَلَاةِ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي؟ قَالَ: وَمَا أَنْكَرْتَ مِنْ صَلَاتِي؟ قُلْتُ: لَا وَاللَّهِ إِلَّا خَيْرًا، إِنِّي أَحْبَبْتُ أَنْ أَسْأَلَكَ، قَالَ: نَعَمْ , وَأَجْوَزُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوخالد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مدینہ منورہ میں قیس بن ابی حازم کی طرح نماز پڑھاتے تھے ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اسی طرح نماز پڑھایا کرتے تھے؟ (جیسے آپ ہمیں پڑھاتے ہیں) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تمہیں میری نماز میں کیا چیز اوپری اور اجنبی محسوس ہوتی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں اسی کے متعلق آپ سے پوچھنا چاہ رہا تھا فرمایا ہاں بلکہ اس سے بھی مختصر۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10443]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10444 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، أَبُو كَثِيرٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو كَثِيرٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ النَّخْلَةِ وَالْعِنَبَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے شراب ان دو درختوں سے بنتی ہے۔ ایک کھجور اور ایک انگور۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10444]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1985
الحكم: إسناده صحيح، م: 1985
حدیث نمبر: 10445 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبَكْرِيُّ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبَكْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ، لِأَنَّ الرَّجُلَ يَشْتَغِلُ فِيهِ عَنْ صِيَامِهِ وَصَلَاتِهِ وَعِبَادَتِهِ، فَإِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ نَهْمَتَهُ مِنْ سَفَرِهِ، فَلْيُعَجِّلْ الرُّجُوعَ إِلَى أَهْلِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سفر بھی عذاب کا ایک ٹکڑا ہے جو تم میں سے کسی کو اس کے کھانے پینے اور نیند سے روک دیتا ہے اس جب تم میں سے کوئی شخص اپنی ضرورت کو پورا کرچکے تو وہ جلد از جلد اپنے گھر کو لوٹ آئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10445]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1804، م: 1927، وهذا إسناد ضعيف، أبو عبدالله البكري، مجهول
الحكم: حديث صحيح، خ: 1804، م: 1927، وهذا إسناد ضعيف، أبو عبدالله البكري، مجهول
حدیث نمبر: 10446 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَ حَدِيثًا , ثُمَّ قَالَ: " أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ أَنْ يَجِدَ فِيهِ ثَلَاثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ؟ لَثَلَاثُ آيَاتٍ يَقْرَؤُهُنَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثِ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی آدمی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے اہل خانہ کے پاس تین صحت حاملہ اونٹنیاں لے کر لوٹے؟ صحابہ نے عرض کیا جی ہاں (ہر شخص چاہتا ہے) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو آدمی قرآن کریم کی تین آیتیں نماز میں پڑھتا ہے اس کے لئے وہ تین آیتیں تین حاملہ اونٹنیوں سے بہتر ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10446]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 802
الحكم: إسناده صحيح، م: 802
حدیث نمبر: 10447 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ ، شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنِي النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ ، عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَافَظَ عَلَى شُفْعَةِ الضُّحَى، غُفِرَتْ ذُنُوبُهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص چاشت کی دو رکعتوں کی پابندی کرلیا کرے اس کے سارے گناہ معاف ہوجائیں گے اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10447]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف النهاس، وشداد لم يسمع من ابي هريره
الحكم: إسناده ضعيف لضعف النهاس، وشداد لم يسمع من ابي هريره
حدیث نمبر: 10448 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الذِّمَارِيُّ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الذِّمَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ النِّسَاءَ خُلِقْنَ مِنْ ضِلَعٍ، لَا يَسْتَقِمْنَ عَلَى خَلِيقَةٍ، إِنْ تُقِمْهَا تَكْسِرْهَا، وَإِنْ تَتْرُكْهَا تَسْتَمْتِعْ بِهَا وَفِيهَا عِوَجٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عورت پسلی کی طرح ہوتی ہے اگر تم اسے سیدھا کرنے کی کوشش کروگے تو اسے توڑ ڈالوگے اور اگر اسے اس کے حال پر چھوڑ دوگے تو اس کے اس ٹیڑھے پن کے ساتھ ہی اس سے فائدہ اٹھا لوگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10448]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 3331، م: 1468
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 3331، م: 1468
حدیث نمبر: 10449 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، رِشْدِينُ ، عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، نُعَيْمًا الْمُجْمِرَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، حَدَّثَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ , أَنَّ نُعَيْمًا الْمُجْمِرَ حَدَّثَهُ , أَنَّهُ صَلَّى وَرَاءَ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَرَأَ أُمَّ الْقُرْآنِ، فَلَمَّا قَالَ: " غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 , قَالَ: آمِينَ، ثُمَّ كَبَّرَ لِوَضْعِ الرَّأْسِ، ثُمَّ قَالَ حِينَ فَرَغَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نعیم المجمررحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی انہوں نے سورت فاتحہ کی تلاوت کرتے ہوئے آخر میں جب " غیرالمغضوب علیہم ولاالضالین " کہا تو آمین کہا پھر سر جھکانے کے لئے تکبیر کہی پھر فارغ ہو کر فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں نماز میں تم سب سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مشابہہ ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10449]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 795، م: 392، وهذا إسناد ضعيف لضعف رشدين، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 795، م: 392، وهذا إسناد ضعيف لضعف رشدين، لكنه توبع
حدیث نمبر: 10450 مسند احمد
مُعْتَمِرٌ ، لَيْثٍ ، مُجَاهِدٍ ، وَشَهْرٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ , وَشَهْرٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ:" أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ: أَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ، وَأَنْ أَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَأَنْ لَا أَدَعَ رَكْعَتَيْ الضُّحَى" . قََالَ عَبْد اللَّهِ: وَجَدْتُ هَذَيْنِ الْحَدِيثَيْنِ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے (میں انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا) (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٢) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی۔ (٣) چاشت کی دو رکعتیں کبھی ترک نہ کرنے کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10450]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1178، م: 721، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث، وشهر، وإن كان ضعيفا، قد توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 1178، م: 721، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث، وشهر، وإن كان ضعيفا، قد توبع
حدیث نمبر: 10451 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ يَعْنِي رَمَضَانَ بِيَوْمٍ وَلَا يَوْمَيْنِ، إِلَّا أَنْ يُوَافِقَ ذَلِكَ صَوْمًا كَانَ يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ، صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ، ثُمَّ أَفْطِرُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا رمضان سے ایک دو دن پہلے روزے نہ رکھا کرو البتہ اس شخص کو اجازت ہے جس کا معمول پہلے سے روزہ رکھنے کا ہو کہ اسے روزہ رکھ لینا چاہیے۔ تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عیدالفطر منالو اگر ابر چھاجائے تو تیس دن روزہ رکھو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10451]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1914، م: 1082
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1914، م: 1082
حدیث نمبر: 10452 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، الْأَشْعَثُ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي الْأَشْعَثُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ فُقِدَتْ، فَاللَّهُ أَعْلَمُ: الْفَأْرُ هِيَ أَمْ لَا! أَلَا تَرَى أَنَّهَا إِذَا وُضِعَ لَهَا أَلْبَانُ الْإِبِلِ، لَمْ تَطْعَمْهُ؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل کی ایک جماعت گم ہوگئی کسی کو پتہ نہیں چل سکا کہ وہ کہاں گئی؟ میرا تو خیال یہی ہے کہ وہ چوہا ہے کیا تم اس بات پر غور نہیں کرتے کہ اگر اس کے سامنے اونٹ کا دودھ رکھا جائے تو وہ اسے نہیں پیتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10452]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3305، م: 2997
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3305، م: 2997
حدیث نمبر: 10453 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، الْمُبَارَكُ ، الْحَسَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنِي الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَى ابْنِ آدَمَ ثَلَاثُ عُقَدٍ بِحَرِيرٍ إِذَا بَاتَ مِنَ اللَّيْلِ، فَإِنْ هُوَ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ، فَذَكَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ قَامَ فَعَزَمَ فَصَلَّى انْحَلَّتْ الْعُقَدُ جَمِيعًا، وَإِنْ هُوَ بَاتَ، وَلَمْ يَذْكُرْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، وَلَمْ يُصَلِّ حَتَّى يُصْبِحَ، أَصْبَحَ وَعَلَيْهِ الْعُقَدُ جَمِيعًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا رات کے وقت ابن آدم کے سر کے جوڑ کے پاس تین گرہیں لگ جاتی ہیں۔ اگر بندہ بیدار ہو کر اللہ کا ذکر کرلے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے وضو کرلے تو دو گرہیں کھل جاتی ہیں اور نماز پڑھ لے تو ساری گرہیں کھل جاتی ہیں اور اگر وہ اس حال میں رات گذارے کہ اللہ کا ذکر کرے اور نہ ہی وضو اور نماز یہاں تک کہ صبح ہوجائے تو وہ ان تمام گرہوں کے ساتھ صبح کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10453]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1142، م: 776، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم سمع من أبي هريرة
الحكم: حديث صحيح، خ: 1142، م: 776، وهذا إسناد منقطع، الحسن البصري لم سمع من أبي هريرة
حدیث نمبر: 10454 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، يُونُسَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ , وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے موقوفاً بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10454]
حکم دارالسلام
سیأتی ھذا لطريق برقم: 10457، انظر ما قبله
الحكم: سیأتی ھذا لطريق برقم: 10457، انظر ما قبله
حدیث نمبر: 10455 مسند احمد
هَاشِمٌ ، الْمُبَارَكُ ، الْحَسَنِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قََالَ: بَيْنَا أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ أَصْحَابَهُ، إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، وَهُوَ فِي الْمَجْلِسِ، فَأَقْبَلَ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ لَهُ، فَجَعَلَ يَمِيسُ فِيهَا حَتَّى قَامَ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، هَلْ عِنْدَكَ فِي حُلَّتِي هَذِهِ مِنْ فُتْيَا، فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ، وَقَالَ: حَدَّثَنِي الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ خَلِيلِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَيْنَا رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، يَتَبَخْتَرُ بَيْنَ بُرْدَيْنِ، فَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَأَمَرَ الْأَرْضَ فَبَلَعَتْهُ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّهُ لَيَتَجَلْجَلُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" ، اذْهَبْ أَيُّهَا الرَّجُلُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے شاگردوں کے سامنے احادیث بیان فرما رہے تھے کہ ایک آدمی ایک ریشمی جوڑا پہنے ہوئے آیا اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑے ہو کر کہنے لگا کہ اے ابوہریرہ! کیا میرے اس جوڑے کے متعلق آپ کے پاس کوئی فتویٰ ہے؟ انہوں نے اس کی طرف سر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا مجھے صادق ومصدوق میرے خلیل ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بتایا ہے کہ ایک آدمی اپنے قیمتی حلے میں ملبوس اپنے او پر فخر کرتے ہوئے تکبر سے چلا جارہا تھا کہ اسی اثنا میں اللہ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اب وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10455]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5789، م: 2088، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبي هريرة
الحكم: حديث صحيح، خ: 5789، م: 2088، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبي هريرة
حدیث نمبر: 10456 مسند احمد
هَاشِمٌ ، الْمُبَارَكُ ، الْحَسَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ، وَلَا يُبَاشِرُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت دوسری عورت کے ساتھ اپنا برہنہ جسم نہ لگائے اسی طرح کوئی مرد دوسرے مرد کے ساتھ ایسا نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10456]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبي هريرة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبي هريرة
حدیث نمبر: 10457 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، يُونُسَ ، الْحَسَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: " إِذَا نَامَ أَحَدُكُمْ، عُقِدَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثُ عُقَدٍ بِجَرِيرٍ، فَإِنْ قَامَ فَذَكَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، أُطْلِقَتْ وَاحِدَةٌ، وَإِنْ مَضَى فَتَوَضَّأَ أُطْلِقَتْ الثَّانِيَةُ، فَإِنْ مَضَى فَصَلَّى أُطْلِقَتْ الثَّالِثَةُ، فَإِنْ أَصْبَحَ وَلَمْ يَقُمْ شَيْئًا مِنَ اللَّيْلِ وَلَمْ يُصَلِّ، أَصْبَحَ وَهُوَ عَلَيْهِ" , يَعْنِي: الْجَرِيرَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا رات کے وقت ابن آدم کے سر کے جوڑ کے پاس تین گرہیں لگ جاتی ہیں اگر بندہ بیدار ہو کر اللہ کا ذکر کرلے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے وضو کرلے تو دو گرہیں کھل جاتی ہیں اور نماز پڑھ لے تو ساری گرہیں کھل جاتی ہیں اور اگر وہ اس حال میں رات گذارے کہ اللہ کا ذکر کرے اور نہ ہی وضو اور نماز یہاں تک کہ صبح ہوجائے تو وہ ان تمام گرہوں کے ساتھ صبح کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10457]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1142، م: 776، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبي هريرة، وهو في هذه الرواية موقوف
الحكم: حديث صحيح، خ: 1142، م: 776، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبي هريرة، وهو في هذه الرواية موقوف
حدیث نمبر: 10458 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قََالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَحْفِهِمَا جَمِيعًا، أَوْ انْعَلْهُمَا جَمِيعًا، فَإِذَا لَبِسْتَ فَابْدَأْ بِالْيُمْنَى، وَإِذَا خَلَعْتَ فَابْدَأْ بِالْيُسْرَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دونوں جوتیاں پہنا کرو یا دونوں اتار دیا کرو جب تم میں سے کوئی شخص جوتی پہنے تو دائیں پاؤں سے ابتداء کرے اور جب اتارے تو پہلے بائیں پاؤں کی اتارے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10458]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5856، م: 2097
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5856، م: 2097
حدیث نمبر: 10459 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: وَكَانَ يَمُرُّ بِنَا وَالنَّاسُ يَتَوَضَّئُونَ مِنَ الْمَطْهَرَةِ: أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ، فَإِنَّ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قََالَ: " وَيْلٌ لِلْعَقِبِ مِنَ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن زیاد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کچھ لوگوں کے پاس سے گذرے جو وضو کررہے تھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ اللہ تم پر رحم فرمائے وضو خوب اچھی طرح کرو کیا تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے کہ جہنم کی آگ سے ایڑیوں کے لئے ہلاکت ہے؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10459]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 165، م: 242
الحكم: إسناده صحيح، خ: 165، م: 242