بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 173 از 194
حدیث نمبر: 10560 مسند احمد
يَزِيدُ ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، الْمَسْعُودِيُّ ، مُحَمَّدٍ ، عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قََالَ: يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ , عَنْ مُحَمَّدٍ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ , عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَلِجُ النَّارَ أَحَدٌ بَكَى مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , حَتَّى يَعُودَ اللَّبَنُ فِي الضَّرْعِ , وَلَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي مَنْخِرَيْ امْرِئٍ أَبَدًا" , وَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ: فِي مَنْخِرَيْ مُسْلِمٍ أَبَدًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ کے خوف سے رویاہو وہ جہنم میں کبھی داخل نہ ہوگا یہاں تک کہ دودھ تھنوں میں واپس چلا جائے اور کسی مسلمان کے نتھنوں میں کبھی بھی میدان جہاد کا غبار اور جہنم کا دھواں جمع نہیں ہوسکتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10560]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10561 مسند احمد
يَزِيدُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَلَا شَيْءَ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص نماز جنازہ مسجد میں پڑھے اس کے لئے کوئی ثواب نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10561]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لاختلاط صالح
الحكم: إسناده ضعيف لاختلاط صالح
حدیث نمبر: 10562 مسند احمد
يَزِيدُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ وَالْجَهْلَ، فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص روزہ رکھ کر بھی جھوٹی بات اور کام اور جہالت نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کے کھانا پینا چھوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10562]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1903
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1903
حدیث نمبر: 10563 مسند احمد
يَزِيدُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يُبَالِي الْمَرْءُ أَبِحَلَالٍ أَخَذَ الْمَالَ أَمْ بِحَرَامٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جس میں آدمی کو اس چیز کی کوئی پرواہ نہ ہوگی کہ وہ حلال طریقے سے مال حاصل کررہا ہے یا حرام طریقے سے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10563]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ:2059
الحكم: إسناده صحيح، خ:2059
حدیث نمبر: 10564 مسند احمد
يَزِيدُ ، وَأَبُو عَامَرٍ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَجْلَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , وَأَبُو عَامَرٍ , قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ عَجْلَانَ مَوْلَى الْمُشْمَعِلِّ , وَقَالَ أَبُو عَامَرٍ مَوْلَى حَكِيمٍ، وَقَالَ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ مَوْلَى حَمَاسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ََقَال: " لَا تَسَابَّ وَأَنْتَ صَائِمٌ، فَإِنْ شَتَمَكَ أَحَدٌ، فَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ , وَإِنْ كُنْتَ قَائِمًا فَاقْعُدْ" ." وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ , لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ , أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا روزے کی حالت میں گالی گلوچ نہ کرو اگر کوئی تم میں سے کرے تو اسے کہہ دو کہ میں روزے کی حالت میں ہوں اور اگر کوئی تم سے کرے تو اسے کہہ دو کہ میں روزے سے ہوں اور اگر کھڑے ہو تو بیٹھ جاؤ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10564]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7492، م: 1151
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 10565 مسند احمد
يَزِيدُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَجْلَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ عَجْلَانَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى مَا وَرَائِي , كَمَا أَنْظُرُ إِلَى مَا بَيْنَ يَدَيَّ , فَسَوُّوا صُفُوفَكُمْ , وَأَحْسِنُوا رُكُوعَكُمْ , وَسُجُودَكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں اپنے پیچھے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جیسے اپنے آگے اور سامنے کی چیزیں دیکھ رہا ہوتا ہوں اس لئے تم اپنی صفیں سیدھی رکھا کرو اور اپنے رکوع و سجود کو خوب اچھی طرح ادا کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10565]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 418، م: 423
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 418، م: 423
حدیث نمبر: 10566 مسند احمد
يَزِيدُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَجْلَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ عَجْلَانَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ رُكُوبِ الْبَدَنَةِ , فَقَالَ: " ارْكَبْهَا" , قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ! قَالَ:" ارْكَبْهَا وَيْلَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی نے قربانی کے جانور پر سوار ہونے کا حکم پوچھا (جبکہ انسان حج کے لئے جارہاہو اور اس کے پاس کوئی دوسری سواری نہ ہو) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اس پر سوار ہوجاؤ اس نے عرض کیا کہ یہ قربانی کا جانور ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اس پر سوار ہوجاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10566]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1689، م: 1322
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1689، م: 1322
حدیث نمبر: 10567 مسند احمد
يَزِيدُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَجْلَانَ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَجْلَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ عَجْلَانَ , وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ قََالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ الْمَعْنَى , عَنْ عَجْلَانَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْمَمْلُوكِ: " يَصْنَعُ طَعَامَكَ وَيُعَانِيهِ، فَادْعُهُ، فَإِنْ أَبَى فَأَطْعِمْهُ فِي يَدِهِ , وَإِذَا ضَرَبْتُمُوهُمْ , فَلَا تَضْرِبُوهُمْ عَلَى وُجُوهِهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا پکانے میں اس کی کفایت کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائے اگر ایسا نہیں کرسکتا تو ایک دو لقمے ہی اسے دے دے اور اگر تم اپنے غلاموں کو مارو تو چہروں پر مارنے سے اجتناب کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10567]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2557، 2559، م: 1663، 2612
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2557، 2559، م: 1663، 2612
حدیث نمبر: 10568 مسند احمد
يَزِيدُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ , وَقَفَتْ الْمَلَائِكَةُ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ , فَيَكْتُبُونَ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ , فَمَثَلُ الْمُهَجِّرِ إِلَى الْجُمُعَةِ، كَمَثَلِ الَّذِي يُهْدِي بَدَنَةً، ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي بَقَرَةً، ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي كَبْشًا، ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي دَجَاجَةً، ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي بَيْضَةً، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ وَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ، طَوَوْا صُحُفَهُمْ , وَجَلَسُوا يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب جمعہ کا دن آتا ہے تو مسجد کے ہر دروازے پر فرشتے آجاتے ہیں اور پہلے دوسرے نمبر پر آنے والے نمازی کا ثواب لکھتے رہتے ہیں چنانچہ جمعہ کی نماز میں سب سے پہلے آنے والا اونٹ قربان کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے دوسرے نمبر پر آنے والا گائے ذبح کرنے والے کی طرح تیسرے نمبر پر آنے والا مینڈھا قربان کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے پھر مرغی پھر انڈہ صدقہ کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے اور جب امام نکل آتا ہے اور منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو وہ اپنے صحیفے لپیٹ کر ذکر سننے کے لئے بیٹھ جاتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10568]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3211، م:850
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3211، م:850
حدیث نمبر: 10569 مسند احمد
يَزِيدُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، أَبِي الْوَلِيدِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ أَبِي الْوَلِيدِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِالطَّوَّافِ عَلَيْكُمْ أَنْ تُطْعِمُوهُ لُقْمَةً لُقْمَةً , إِنَّمَا الْمِسْكِينُ الْمُتَعَفِّفُ الَّذِي لَا يَسْأَلُ النَّاسَ إِلْحَافًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسکین وہ نہیں ہوتا جسے دو کھجوریں یا ایک دو لقمے لوٹا دیں اصل مسکین وہ ہوتا ہے جو لوگوں سے بھی کچھ نہ مانگے اور دوسروں کو بھی اس کی ضروریات کا علم نہ ہو کہ لوگ اس پر خرچ ہی کردیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10569]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين، خ: 1479، م: 1039
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين، خ: 1479، م: 1039
حدیث نمبر: 10570 مسند احمد
يَزِيدُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، أَبِي الْوَلِيدِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي أُحُدًا ذَهَبًا، يَمُرُّ بِي ثَالِثَةٌ عِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ، إِلَّا شَيْءٌ أُعِدُّهُ لِغَرِيمٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر میرے پاس احد پہاڑ سونے کا بن کر آجائے تو مجھے اس میں خوشی ہوگی کہ اسے اللہ کے راستہ میں خرچ کردوں اور تین دن بھی مجھ پر نہ گذرنے پائیں کہ ایک دینار یا درہم بھی میرے پاس باقی نہ بچے سوائے اس چیز کے جو میں اپنے اوپر واجب الاداء قرض کی ادائیگی کے لئے روک لوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10570]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين، خ: 2389، م: 991
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين، خ: 2389، م: 991
حدیث نمبر: 10571 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْمَسْعُودِيُّ ، عِمْرَانَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ عُمَيْرٍ , قََالَ: شَكَوْتُ إِلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَوْمًا مَنَعُونِي مَاءً , فَقَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قََالَ: الْمَسْعُودِيُّ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَدْ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَا يُمْنَعُ فَضْلُ مَاءٍ بَعْدَ أَنْ يُسْتَغْنَى عَنْهُ , وَلَا فَضْلُ مَرْعَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ زائد پانی روک کر نہ رکھاجائے اور نہ ہی زائد گھاس سے روکا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10571]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد فيه المسعودي: مختلط وهو متابع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه المسعودي: مختلط وهو متابع
حدیث نمبر: 10572 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْمَسْعُودِيُّ ، أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ ، أَبِيهِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ , عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَأَى رَجُلًا قَدْ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ وَقَدْ أُذِّنَ فِيهِ , فَقَالَ:" أَمَّا هَذَا، فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالشعثاء محاربی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نماز عصر کی اذان کے بعد ایک آدمی اٹھا اور مسجد سے نکل گیا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس آدمی نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نافرمانی کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10572]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وفي هذا الإسناد " المسعودي" وإن كان قد اختلط، متابع
الحكم: حديث صحيح، وفي هذا الإسناد " المسعودي" وإن كان قد اختلط، متابع
حدیث نمبر: 10573 مسند احمد
يَزِيدُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ مَظْلَمَةٌ مِنْ أَخِيهِ , مِنْ عِرْضِهِ أَوْ مَالِهِ , فَلْيَتَحَلَّلْهُ الْيَوْمَ قَبْلَ أَنْ يُؤْخَذَ حِينَ لَا يَكُونُ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ , وَإِنْ كَانَ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ , أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَظْلَمَتِهِ , وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ , أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهِ فَجُعِلَتْ عَلَيْهِ" , حدثنا عبد الله، حدثني أبي قال: وَقَالَ بِبَغْدَادَ:" قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمٌ لَيْسَ هُنَاكَ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے کسی مال یا آبرو کے حوالے سے ظلم کیا ہو تو ابھی جا کر اس سے معافی مانگ لے اس سے پہلے کہ وہ دن آجائے جہاں کوئی درہم اور دینار نہ ہوگا اگر اس کی نیکیاں ہوئیں تو اس کی نیکیاں دے کر ان کا بدلہ دلوایا جائے گا اگر اس کے گناہوں کا فیصلہ مکمل ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں تو حقداروں کے گناہ لے کر اس پر لاد دئیے جائیں گے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ امام احمد رحمہ اللہ کے استاذ نے بغداد میں یہ روایت سناتے وقت یہ فرمایا تھا کہ اس دن کے آنے سے پہلے جبکہ وہاں کوئی دینار اور درہم نہ ہوگا [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10573]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2449
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2449
حدیث نمبر: 10574 مسند احمد
رَوْحٌ
وَحَدَّثَنَاه رَوْحٌ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، وَقَالَ:" مِنْ قَبْلِ أَنْ يُؤْخَذَ مِنْهُ حِينَ لَا يَكُونُ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10574]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح،انظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح،انظر ما قبله
حدیث نمبر: 10575 مسند احمد
يَزِيدُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ , ثَلَاثَ مَرَّاتٍ لَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا وَلَوْ فِرْسِنَ شَاةٍ , وَلَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُسَافِرَ مَسِيرَةَ يَوْمٍ وَاحِدٍ، إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کرتے تھے خواتین اسلام! کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کی بھیجی ہوئی چیز کو حقیر نہ سمجھے خواہ بکری کا ایک کھر ہی ہو۔ اور کسی ایسی عورت کے لئے " جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو " حلال نہیں ہے کہ اپنے اہل خانہ میں سے کسی محرم کے بغیر ایک دن کا بھی سفر کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10575]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1088، 2017، م:1339,1030
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1088، 2017، م:1339,1030
حدیث نمبر: 10576 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْعَوَّامُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ السَّائِبِ ، رَجُلٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ , حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ السَّائِبِ , عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الصَّلَاةُ إِلَى الصَّلَاةِ الَّتِي قَبْلَهَا كَفَّارَةٌ , وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ الَّتِي قَبْلَهَا كَفَّارَةٌ , وَالشَّهْرُ إِلَى الشَّهْرِ الَّذِي قَبْلَهُ كَفَّارَةٌ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ قَالَ: فَعَرَفْنَا أَنَّهُ أَمْرٌ حَدَثَ: إِلَّا مِنَ الشِّرْكِ بِاللَّهِ , وَنَكْثِ الصَّفْقَةِ , وَتَرْكِ السُّنَّةِ" , قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا الشِّرْكُ بِاللَّهِ قَدْ عَرَفْنَاهُ , فَمَا نَكْثُ الصَّفْقَةِ , وَتَرْكُ السُّنَّةِ , قَالَ:" أَمَّا نَكْثُ الصَّفْقَةِ: فَأَنْ تُعْطِيَ رَجُلًا بَيْعَتَكَ، ثُمَّ تُقَاتِلَهُ بِسَيْفِكِ، وَأَمَّا تَرْكُ السُّنَّةِ: فَالْخُرُوجُ مِنَ الْجَمَاعَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک فرض نماز اگلی نماز تک درمیان میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہوتی ہے اسی طرح ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک۔ ایک مہینہ (رمضان) دوسرے مہینے (رمضان) تک بھی درمیان میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا سوائے تین گناہوں کے، میں سمجھ گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ جملہ کسی خاص وجہ کی بناء پر فرمایا ہے۔ (بہرحال! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا) سوائے اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے۔ معاملہ توڑنے کے اور سنت چھوڑنے کے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے ساتھ شرک کرنے کا مطلب تو ہم سمجھ گئے معاملہ توڑنے سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا معاملہ توڑنے سے مراد یہ ہے کہ تم کسی شخص کے ہاتھ پر بیعت کرو۔ پھر اس کی مخالفت پر کمربستہ ہوجاؤ اور تلوار پکڑ کر اس سے قتال شروع کردو اور سنت چھوڑنے سے مرادجماعت مسلمین سے خروج ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10576]
حکم دارالسلام
صحيح دون قوله: «إلا من ثلاث» ، م: 233، وإسناده ضعيف لجهالة الرجل الأنصاري الراوي عن أبى هريرة
الحكم: صحيح دون قوله: «إلا من ثلاث» ، م: 233، وإسناده ضعيف لجهالة الرجل الأنصاري الراوي عن أبى هريرة
حدیث نمبر: 10577 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ ، إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قََالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فِي الْجَنَّةِ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ , وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ , وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایسی نعمتیں ہیں جنہیں کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل پر ان کا خیال بھی گذرا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10577]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3244، م: 2824
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3244، م: 2824
حدیث نمبر: 10578 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ , عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: " اسْتَقْرَضْتُ عَبْدِي فَلَمْ يُقْرِضْنِي، وَسَبَّنِي عَبْدِي وَلَا يَدْرِي , يَقُولُ: وَا دَهْرَاهُ وَا دَهْرَاهُ , وَأَنَا الدَّهْرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے بندے سے بندے سے قرض مانگا لیکن اس نے نہیں دیا اور میرا بندہ مجھے انجانے میں برا بھلا کہتا ہے اور یوں کہتا ہے ہائے زمانہ۔ ہائے زمانہ حالانکہ زمانے کا خالق بھی تو میں ہی ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10578]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6181، م: 2246
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6181، م: 2246
حدیث نمبر: 10579 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأْسُ الْكُفْرِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ، وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَهْلِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ فِي الْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ، وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کفر کا مرکز مشرق کی طرف ہے فخروتکبر اونٹوں اور گھوڑوں کے مالکوں میں ہوتا ہے اور سکون و اطمینان بکریوں کے مالکوں میں ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10579]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3499، م: 52
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3499، م: 52