بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 180 از 194
حدیث نمبر: 10700 مسند احمد
رَوْحٌ ، مَالِكٌ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ، الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ , وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگوں میں سب سے بدترین شخص وہ ہے جو دوغلا ہو ان لوگوں کے پاس ایک رخ لے کر آتاہو اور ان لوگوں کے پاس دوسر ارخ لے کر آتا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10700]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3494، م: 2526
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3494، م: 2526
حدیث نمبر: 10701 مسند احمد
رَوْحٌ ، مَالِكٌ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، وَلَا تَحَسَّسُوا , وَلَا تَجَسَّسُوا , َلَا تَنَافَسُوا , وَلَا تَحَاسَدُوا , وَلَا تَبَاغَضُوا , وَلَا تَدَابَرُوا , وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بدگمانی کرنے سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ یہ سب سے زیادہ جھوٹی بات ہوتی ہے کسی کی جاسوسی اور ٹوہ نہ لگاؤ باہم مقابلہ نہ کرو ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو قطع رحمی نہ کرو بغض نہ رکھو اور بندگان اللہ آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10701]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6724، م: 2563
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6724، م: 2563
حدیث نمبر: 10702 مسند احمد
رَوْحٌ ، مَالِكٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، وَلَكِنَّ الشَّدِيدَ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پہلوان وہ نہیں ہے جو کسی کو پچھاڑ دے اصل پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10702]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6114، م: 2609
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6114، م: 2609
حدیث نمبر: 10703 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، الْعَلَاءَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قََالَ: سَمِعْتُ الْعَلَاءَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " الْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا عَلَى الْبَادِئِ، حَتَّى يَعْتَدِيَ الْمَظْلُومُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا آپس میں گالی گلوچ کرنے والے دو آدمی جو کچھ بھی کہیں اس کا گناہ گالی گلوچ کی ابتداء کرنے والے پر ہوگا جب تک کہ مظلوم حد سے تجاوز نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10703]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2587
الحكم: إسناده صحيح، م: 2587
حدیث نمبر: 10704 مسند احمد
رَوْحٌ ، زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بيِ، وَأَنَا مَعَهُ حِينَ يَذْكُرُنِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ارشادباری تعالیٰ ہے میں اپنے بندے کے اپنے متعلق گمان کے مطابق معاملہ کرتا ہوں بندہ جب بھی مجھے یاد کرتا ہے میں اس کے پاس موجود ہوتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10704]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7505، م: 2675
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7505، م: 2675
حدیث نمبر: 10705 مسند احمد
الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِسُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں اس وقت تک تم بھی مجھے چھوڑے رکھو اس لئے کیونکہ تم سے پہلی امتیں بکثرت سوال کرنے اور اپنے انبیاء (علیہم السلام) سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہی ہلاک ہوئی تھیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10705]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد جيد، خ: 7288، م: 1337
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد جيد، خ: 7288، م: 1337
حدیث نمبر: 10706 مسند احمد
الضَّحَّاكُ ، ابْنُ عَجْلَانَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ شَاةً طُبِخَتْ , فقال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْطِنِي الذِّرَاعَ" , فَنَاوَلَهَا إِيَّاهُ، فَقَالَ:" أَعْطِنِي الذِّرَاعَ" , فَنَاوَلَهَا إِيَّاهُ , ثُمَّ قَالَ:" أَعْطِنِي الذِّرَاعَ" , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّمَا لِلشَّاةِ ذِرَاعَانِ، قَالَ:" أَمَا إِنَّكَ لَوْ الْتَمَسْتَهَا لَوَجَدْتَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بکری کا گوشت پکایا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے ایک دستی دینا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دستی دے دی گئی جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تناول فرمالی اس کے بعد فرمایا مجھے ایک اور دستی دو وہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دے دی گئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے بھی تناول فرمالیا اور فرمایا کہ مجھے ایک اور دستی دو کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ! ایک بکری میں دو ہی تو دستیاں ہوتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تو تلاش کرتا تو ضرور نکل آتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10706]
حکم دارالسلام
إسناده جيد
الحكم: إسناده جيد
حدیث نمبر: 10707 مسند احمد
الضَّحَّاكُ ، ابْنُ عَجْلَانَ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ , حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ، وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ , فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ , فَقَالَ: هَاهْ , فَإِنَّ ذَلِكَ شَيْطَانٌ يَضْحَكُ مِنْ جَوْفِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی سے نفرت کرتا ہے۔ لہٰذا جب آدمی جمائی لینے کے لئے منہ کھول کر ہاہا کرتا ہے تو وہ شیطان ہوتا ہے جو اس کے پیٹ میں سے ہنس رہا ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10707]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 3289، م: 2995
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 3289، م: 2995
حدیث نمبر: 10708 مسند احمد
الضَّحَّاكُ ، حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي جَعْفَرٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ , حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لَا شَكَّ فِيهِنَّ: دَعْوَةُ الْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ , وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ , وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تین قسم کے لوگوں کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور ان کی قبولیت میں کوئی شک وشبہ نہیں مظلوم کی دعاء اور باپ کی اپنے بیٹے کے متعلق دعاء اور مسافر کی دعا [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10708]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وإسناده ضعيف لجهالة أبى جعفر
الحكم: حسن لغيره، وإسناده ضعيف لجهالة أبى جعفر
حدیث نمبر: 10709 مسند احمد
الضَّحَّاكُ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، أَبُو كَثِيرٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , حَدَّثَنَا أَبُو كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْخَمْرُ فِي هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ النَّخْلَةِ وَالْعِنَبَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا شراب ان دو درختوں سے بنتی ہے ایک کھجور اور انگور۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10709]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م:1985
الحكم: إسناده صحيح، م:1985
حدیث نمبر: 10710 مسند احمد
الضَّحَّاكُ ، هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، يَحْيَى ، أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ , أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْخَمْرُ فِي هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ النَّخْلَةِ وَالْعِنَبَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا شراب ان دو درختوں سے بنتی ہے ایک کھجور اور انگور۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10710]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 10711 مسند احمد
الضَّحَّاكُ ، الْحَسَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ فَرُّوخَ الضَّمْرِيِّ الْمَدَنِيِّ ، أَبَا سَلَمَةَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ , عَنِ الْحَسَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ فَرُّوخَ الضَّمْرِيِّ الْمَدَنِيِّ , قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ , يَقُولُ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَحْلِفُ عِنْدَ هَذَا الْمِنْبَرِ عَبْدٌ وَلَا أَمَةٌ عَلَى يَمِينٍ آثِمَةٍ , وَلَوْ عَلَى سِوَاكٍ رَطْبٍ، إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو مرد و عورت اس منبر کے قریب جھوٹی قسم کھائے اگرچہ ایک تر مسواک ہی کے بارے میں کیوں نہ ہو اس کے لئے جہنم واجب ہوگئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10711]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10712 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , أَخْبَرَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , أَخْبَرَنِي قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ , أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا، وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع کرنے سے منع فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10712]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5109، م: 1408
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5109، م: 1408
حدیث نمبر: 10713 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَر ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ مُغِيثٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَر , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ مُغِيثٍ , أَوْ مُعَتِّبٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَاذَا رَدَّ إِلَيْكَ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ فِي الشَّفَاعَةِ؟ قَالَ: لَقَدْ ظَنَنْتُ لَتَكُونَنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَنِي مِمَّا رَأَيْتُ مِنْ حِرْصِكَ عَلَى الْعِلْمِ، " شَفَاعَتِي لِمَنْ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا , يُصَدِّقُ قَلْبُهُ لِسَانَهُ , وَلِسَانُهُ قَلْبَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال پوچھا کہ شفاعت کے بارے آپ کے رب نے آپ کو کیا جواب دیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرا یہی گمان تھا کہ اس چیز کے متعلق میری امت میں سب سے پہلے تم ہی سوال کروگے کیونکہ میں علم کے بارے تمہاری حرص دیکھ رہا ہوں اور میری شفاعت ہر اس شخص کے لئے ہوگی جو خلوص دل کے ساتھ لا الہ الہ اللہ کی گواہی دیتا ہو اس کا دل اس کی زبان کی تصدیق کرتا ہو اور اس کی زبان اس کے دل کی تصدیق کرتی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10713]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6570، وهذا إسناد منقطع، يزيد لم يسمعه من معاوية
الحكم: حديث صحيح، خ: 6570، وهذا إسناد منقطع، يزيد لم يسمعه من معاوية
حدیث نمبر: 10714 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، ثَابِتٍ الزُّرَقِيِّ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , أَخْبَرَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ ثَابِتٍ الزُّرَقِيِّ , أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ , قََالَ: أَخَذَتْ النَّاسَ الرِّيحُ بِطَرِيقِ مَكَّةَ , فَاشْتَدَّتْ عَلَيْهِمْ , فَقَالَ عُمَرُ: لِمَنْ حَوْلَهُ مَا الرِّيحُ؟ فَلَمْ يَرْجِعُوا إِلَيْهِ شَيْئًا , فَبَلَغَنِي الَّذِي سَأَلَ عَنْهُ , فَاسْتَحْثَثْتُ رَاحِلَتِي حَتَّى أَدْرَكْتُهُ , فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ , أُخْبِرْتُ أَنَّكَ سَأَلْتَ عَنِ الرِّيحِ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الرِّيحُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , تَأْتِي بِالرَّحْمَةِ , وَتَأْتِي بِالْعَذَابِ , فَلَا تَسُبُّوهَا , وَسَلُوا اللَّهَ مِنْ خَيْرِهَا , وَعُوذُوا بِهِ مِنْ شَرِّهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حج پر جارہے تھے کہ مکہ مکرمہ کے راستے میں تیز آندھی نے لوگوں کو آلیا لوگ اس کی وجہ سے پریشانی میں مبتلا ہوگئے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا آندھی کے متعلق کون شخص ہمیں حدیث سنائے گا؟ کسی نے انہیں کوئی جواب نہ دیا مجھے پتہ چلا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے اس نوعیت کی کوئی حدیث دریافت فرمائی ہے تو میں نے اپنی سواری کی رفتار تیز کردی حتیٰ میں نے انہیں جالیا اور عرض کیا کہ امیرالمومنین! مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ نے آندھی کے متعلق کسی حدیث کا سوال کیا ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آندھی یعنی تیز ہوا اللہ کی مہربانی ہے کبھی رحمت لاتی ہے اور کبھی زحمت جب تم اسے دیکھا کرو تو اسے برا بھلا نہ کہا کرو بلکہ اللہ سے اس کی خیرطلب کیا کرو اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10714]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10715 مسند احمد
سَكَنُ بْنُ نَافِعٍ ، صَالِحٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سَكَنُ بْنُ نَافِعٍ , حَدَّثَنَا صَالِحٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , قََالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ , أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى , اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی مار ہو یہودیوں پر کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10715]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 437، م: 530، وهذا إسناد ضعيف الضعف صالح
الحكم: حديث صحيح، خ: 437، م: 530، وهذا إسناد ضعيف الضعف صالح
حدیث نمبر: 10716 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، مَالِكٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى , اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی مار ہو یہودیوں پر کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10716]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 437، م: 530
الحكم: إسناده صحيح، خ: 437، م: 530
حدیث نمبر: 10717 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، مَالِكٌ ، الزُّهْرِيِّ ، قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , أَخْبَرَنِي قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ , أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ نَهَى أَنْ " يُجْمَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا , وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع کرنے سے منع فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10717]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5109، م: 1408
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5109، م: 1408
حدیث نمبر: 10718 مسند احمد
عُثْمَانُ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي إِدْرِيسَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ , أَخْبَرَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ تَوَضَّأَ , فَلْيَسْتَنْثِرْ , وَمَنْ اسْتَنْجَى , فَلْيُوتِرْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص وضو کرے اسے ناک بھی صاف کرنا چاہئے اور جو شخص پتھروں سے استنجاء کرے اسے طاق عدد اختیار کرنا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10718]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 161، م: 237
الحكم: إسناده صحيح، خ: 161، م: 237
حدیث نمبر: 10719 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , أَخْبَرَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: " أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ , وَعُدِّلَتْ الصُّفُوفُ قِيَامًا , فَخَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمَّا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ ذَكَرَ أَنَّهُ جُنُبٌ , فَقَالَ لَنَا:" مَكَانَكُم" , ثُمَّ رَجَعَ فَاغْتَسَلَ , ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، فَكَبَّرَ فَصَلَّيْنَا مَعَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کی اقامت ہونے لگی اور لوگ صفیں درست کرنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور چلتے ہوئے اپنے مقام پر کھڑے ہوگئے تھوڑی دیر بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یاد آیا کہ انہوں نے تو غسل ہی نہیں کیا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا تم یہیں رکو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے گئے جب واپس آئے تو ہم اسی طرح صفوں میں کھڑے ہوئے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غسل فرما رکھا تھا اور سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تکبیر کہہ کر ہمیں نماز پڑھائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10719]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 640، م: 605
الحكم: إسناده صحيح، خ: 640، م: 605