بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 193 از 194
حدیث نمبر: 10960 مسند احمد
كَثِيرٌ ، جَعْفَرٌ ، يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا كَثِيرٌ , حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ , وَلَكِنْ إِنَّمَا يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور مال و دولت کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10960]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2564
الحكم: إسناده صحيح، م: 2564
حدیث نمبر: 10961 مسند احمد
كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ , حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" عَبْدِي عِنْدَ ظَنِّهِ بِي , وَأَنَا مَعَهُ إِذَا دَعَانِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں اپنے بندے کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق معاملہ کرتا ہوں اور میں اس کے اس کے ساتھ ہی ہوتاہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10961]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2420، م: 2675
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2420، م: 2675
حدیث نمبر: 10962 مسند احمد
كَثِيرٌ ، جَعْفَرٌ ، يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا كَثِيرٌ , حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَتُقَامَ، ثُمَّ أَخْرُجَ بِفِتْيَانِي مَعَهُمْ حُزَمُ الْحَطَبِ , فَأُحَرِّقَ عَلَى قَوْمٍ فِي بُيُوتِهِمْ , يَسْمَعُونَ النِّدَاءَ ثُمَّ لَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ" , فَسُئلَ يَزِيدُ: أَفِي الْجُمُعَةِ هَذَا أَمْ فِي غَيْرِهَا , قَالَ مَا سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَذْكُرُ جُمُعَةً وَلَا غَيْرَهَا إِلَّا هَكَذَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرادل چاہتا ہے کہ ایک آدمی کو حکم دوں اور وہ نماز کھڑی کردے پھر اپنے نوجوانوں کو لے کر نکلوں جن کے پاس لکڑیاں ہوں گٹھوں اور وہ ان لوگوں کے پاس جائیں جو نماز باجماعت میں شرکت نہیں کرتے اور لکڑیوں کے گٹھوں سے ان کے گھروں میں آگ لگا دیں یزید نے پوچھا کہ اس حدیث کا تعلق جمعہ کے ساتھ ہے یا کسی اور نماز سے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث صرف اسی طرح بیان کرتے ہوئے سنا تھا انہوں نے اس میں جمعہ وغیرہ کا کوئی تذکرہ نہیں کیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10962]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 651
الحكم: إسناده صحيح، م: 651
حدیث نمبر: 10963 مسند احمد
كَثِيرٌ ، جَعْفَرٌ ، يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا كَثِيرٌ , حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ أَيَّتُهَا الْأُمَّةُ , كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا بِلَيْلٍ , فَأَقْبَلَتْ إِلَيْهَا هَذِهِ الْفَرَاشُ وَالدَّوَابُّ الَّتِي تَغْشَى النَّارَ , فَجَعَلَ يَذُبُّهَا، وَتَغْلِبُهُ إِلَّا تَقَحُّمًا فِي النَّارِ , وَأَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ , أَدْعُوكُمْ إِلَى الْجَنَّةِ , وَتَغْلِبُونِي إِلَّا تَقَحُّمًا فِي النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی جب آگ نے آس پاس کی جگہ کو روشن کردیا تو پروانے اور درندے اس میں گھسنے لگے وہ شخص انہیں پشت سے پکڑ کر کھینچنے لگے لیکن وہ اس پر غالب آجائیں اور آگ میں گرتے رہیں، یہی میری اور تمہاری مثال ہے کہ میں تمہیں پشت سے پکڑ کر کھینچ رہا ہوں کہ آگ سے بچ جاؤ اور تم اس میں گرے چلے جا رہے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10963]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3426، م: 2284
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3426، م: 2284
حدیث نمبر: 10964 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، جَعْفَرٌ ، يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ , حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ , قََالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : يَقُولُونَ: " أَكْثَرْتَ أَكْثَرْتَ فَلَوْ حَدَّثْتُكُمْ بِكُلِّ مَا سَمِعْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَمَيْتُمُونِي بِالْقِشَعِ وَمَا نَاظَرْتُمُونِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یزید بن اصم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی نے حضرت ابویرہرہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ بڑی کثرت سے حدیثیں بیان کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہوئی ہر حدیث بیان کرنا شروع کردوں تو تم مجھ پر چھلکے پھینکنے لگو اور مجھے دیکھنے تک کے روادار نہ رہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10964]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10965 مسند احمد
عُمَرُ بْنُ أَيُّوبَ الْمَوْصِلِيُّ ، جَعْفَرٍ ، يَزِيدَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَيُّوبَ الْمَوْصِلِيُّ , عَنْ جَعْفَرٍ , عَنْ يَزِيدَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ , وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مالداری سازوسامان کی کثرت سے نہیں ہوتی اصل میں مالداری تو دل کی مالداری ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10965]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6446، م: 1051
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6446، م: 1051
حدیث نمبر: 10966 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ خَمْسٌ يُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ، وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ , وَيَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ , وَيَشْهَدُ جِنَازَتَهُ إِذَا مَاتَ , وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ" , قَالَ أَبِي غَرِيبٌ يَعْنِي هَذَا الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں ملاقات ہو تو سلام کرے چھینک کر الحمد اللہ کہے تو جواب دے، بیمار ہو تو عیادت کرے، فوت ہوجائے تو جنازے میں شرکت کرے اور دعوت دے تو قبول کرے، [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10966]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1240، م: 2162
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1240، م: 2162
حدیث نمبر: 10967 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ، فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَعْهُمْ يَا عُمَرُ، فَإِنَّهُمْ بَنُو أَرْفِدَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو کچھ حبشی اپنے نیزوں سے کرتب دکھانے لگے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عمر! انہیں چھوڑ دو یہ بنو ارفدہ ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10967]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2901، م: 893
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2901، م: 893
حدیث نمبر: 10968 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، وَأَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ , وَأَبُو الْمُغِيرَةِ , قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: أَنَا مَعَ عَبْدِي إِذَا هُوَ ذَكَرَنِي , وَتَحَرَّكَتْ بِي شَفَتَاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ارشادنبوی منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جب میرا بندہ میرا ذکر کرتا ہے اور اس کے ہونٹ میرے نام پر حرکت کرتے ہیں تو میں اس وقت اس کے قریب ہی ہوتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10968]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7405، م: 2675
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7405، م: 2675
حدیث نمبر: 10969 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَرَادَ أَنْ يَنْفِرَ مِنْ مِنًى قَالَ: " نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى بِالْمُحَصَّبِ، بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ , حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ" , وَذَاكَ أَنَّ قُرَيْشًا تَقَاسَمُوا عَلَى بَنِي هَاشِمٍ، وَعَلَى بَنِي الْمُطَّلِبِ , أَنْ لَا يُنَاكِحُوهُمْ وَلَا يُخَالِطُوهُمْ , حَتَّى يُسَلِّمُوا إِلَيْهِمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یوم النحر سے اگلے دن (گیارہ ذی الحجہ کو) جبکہ ابھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منیٰ ہی میں تھے) فرمایا کہ کل ہم (ان شاء اللہ) خیف بنی کنانہ جہاں قریش نے کفر پر قسمیں کھائی تھیں میں پڑاؤ کریں گے۔ مراد وادی محصب تھی دراصل واقعہ یہ ہے کہ قریش اور بنوکنانہ نے بنوہاشم اور بنوعبدالمطلب کے خلاف باہم یہ معاہدہ کرلیا تھا کہ قریش اور بنوکنانہ ان سے باہمی مناکحت اور خریدوفروخت نہیں کریں گے تاآنکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان کے حوالے کردیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10969]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1590، م: 1314
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1590، م: 1314
حدیث نمبر: 10970 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، أَبِي عَمَّارٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَرُّوخَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , عَنْ أَبِي عَمَّارٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَرُّوخَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ , فِيهِ خُلِقَ آدَمُ , وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ , وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا , وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوتا ہے جمعہ کا دن ہے اسی میں حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق ہوئی اسی دن وہ جنت میں داخل ہوئے اور اسی دن جنت سے باہر نکالے گئے اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10970]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م:854
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م:854
حدیث نمبر: 10971 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ , وَالدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ , وَعَنِ الظُّرُوفِ كُلِّهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مٹکے کدو کی تو نبی کھوکھلی لکڑی کے برتن اور عام برتنوں میں بھی نبیذ کے استعمال سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10971]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 1993
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 1993
حدیث نمبر: 10972 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ، وَأَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ , وَأَوَّلُ شَافِعٍ , وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن میں ہی تمام اولاد آدم کا سردار ہوں گا سب سے پہلے زمین مجھ سے ہی شق ہوگی (سب سے پہلے میری قبر کھلے گی) میں پہلا سفارش کرنے والا ہوں گا اور سب سے پہلے میری ہی سفارش قبول کی جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10972]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2278
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2278
حدیث نمبر: 10973 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي بْنَ أَبِي طَلْحَةَ ، جَعْفَرِ بْنِ عِيَاضٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي بْنَ أَبِي طَلْحَةَ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عِيَاضٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الْفَقْرِ , وَالْقِلَّةِ , وَالذِّلَّةِ , وَأَنْ تَظْلِمَ أَوْ تُظْلَمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا فقروفاقہ قلت اور ذلت سے ظالم اور مظلوم بننے سے اللہ کی پناہ مانگا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10973]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الجهالة جعفر
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الجهالة جعفر
حدیث نمبر: 10974 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيِّ ، حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لَيُهِلَّنَّ ابْنُ مَرْيَمَ بِفَجِّ الرَّوْحَاءِ , حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ایسا ضرور ہوگا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مقام " فج الروحاء " سے حج یا عمرہ کا احرام باندھیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10974]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 1252
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 1252
حدیث نمبر: 10975 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، بْنِ جَابِرٍ ، إِسْمَاعِيل بْنُ عُبَيدِ اللَّهِ ، كَرِيمَةَ ابْنَةِ الْحَسْحَاسِ الْمُزَنِيَّةِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , عَنِ بْنِ جَابِرٍ , حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ عُبَيدِ اللَّهِ , عَنْ كَرِيمَةَ ابْنَةِ الْحَسْحَاسِ الْمُزَنِيَّةِ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ فِي بَيْتِ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " أَنَا مَعَ عَبْدِي إِذَا هُوَ ذَكَرَنِي , وَتَحَرَّكَتْ بِي شَفَتَاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ارشاد نبوی منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جب میرا بندہ میرا ذکر کرتا ہے اور اس کے ہونٹ میرے نام پر حرکت کرتے ہیں تو میں اس وقت اس کے قریب ہی ہوتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10975]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7405، م: 2675
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7405، م: 2675
حدیث نمبر: 10976 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، إِسْمَاعِيل بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، كَرِيمَةَ ابْنَةِ الْحَسْحَاسِ الْمُزَنِيَّةِ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ كَرِيمَةَ ابْنَةِ الْحَسْحَاسِ الْمُزَنِيَّةِ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ , قَالَتْ: حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ وَنَحْنُ فِي بَيْتِ هَذِهِ يَعْنِي: أُمَّ الدَّرْدَاءِ , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْثُرُهُ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنَّهُ قَالَ: " أَنَا مَعَ عَبْدِي مَا ذَكَرَنِي , وَتَحَرَّكَتْ بِي شَفَتَاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ارشاد نبوی منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جب میرا بندہ میرا ذکر کرتا ہے اور اس کے ہونٹ میرے نام پر حرکت کرتے ہیں تو میں اس وقت اس کے قریب ہی ہوتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10976]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 10977 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، رَجُلٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ , عَنْ أَبِي نَضْرَةَ , عَنْ رَجُلٍ مِنَ الطُّفَاوَةِ , قََالَ: نَزَلْتُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، قََالَ: وَلَمْ أُدْرِكْ مِنْ صَحَابَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا أَشَدَّ تَشْمِيرًا , وَلَا أَقْوَمَ عَلَى ضَيْفٍ مِنْهُ , فَبَيْنَمَا أَنَا عِنْدَهُ , وَهُوَ عَلَى سَرِيرٍ لَهُ , وَأَسْفَلَ مِنْهُ جَارِيَةٌ لَهُ سَوْدَاءُ , وَمَعَهُ كِيسٌ فِيهِ حَصًى وَنَوًى , يَقُولُ: سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ , حَتَّى إِذَا أَنْفَذَ مَا فِي الْكِيسِ أَلْقَاهُ إِلَيْهَا , فَجَمَعَتْهُ , فَجَعَلَتْهُ فِي الْكِيسِ , ثُمَّ دَفَعَتْهُ إِلَيْهِ , فَقَالَ لِي: أَلَا أُحَدِّثُكَ عَنِّي وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: بَلَى , قَالَ: فَإِنِّي بَيْنَمَا أَنَا أُوعَكُ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ , إِذْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ , فَقَالَ:" مَنْ أَحَسَّ الْفَتَى الدَّوْسِيَّ، مَنْ أَحَسَّ الْفَتَى الدَّوْسِيَّ؟" , فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: هُوَ ذَاكَ يُوعَكُ فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ , حَيْثُ تَرَى يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَجَاءَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيَّ , وَقَالَ لِي: مَعْرُوفًا , فَقُمْتُ , فَانْطَلَقَ حَتَّى قَامَ فِي مَقَامِهِ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ , وَمَعَهُ يَوْمَئِذٍ صَفَّانِ مِنْ رِجَالٍ , وَصَفٌّ مِنْ نِسَاءٍ , أَوْ صَفَّانِ مِنْ نِسَاءٍ , وَصَفٌّ مِنْ رِجَالٍ , فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمْ , فَقَالَ:" إِنْ نَسَّانِي الشَّيْطَانُ شَيْئًا مِنْ صَلَاتِي , فَلْيُسَبِّحْ الْقَوْمُ , وَلْيُصَفِّقْ النِّسَاءُ" , فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَلَمْ يَنْسَ مِنْ صَلَاتِهِ شَيْئًا , فَلَمَّا سَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِ. فَقَالَ: " مَجَالِسَكُمْ , هَلْ فِيكُمْ رَجُلٌ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ أَغْلَقَ بَابَهُ , وَأَرْخَى سِتْرَهُ , ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُحَدِّثُ , فَيَقُولُ: فَعَلْتُ بِأَهْلِي كَذَا؟ وَفَعَلْتُ بِأَهْلِي كَذَا؟" , فَسَكَتُوا , فَأَقْبَلَ عَلَى النِّسَاءِ، فَقَالَ:" هَلْ مِنْكُنَّ مَنْ تُحَدِّثُ" , فَجَثَتْ فَتَاةٌ كَعَابٌ عَلَى إِحْدَى رُكْبَتَيْهَا , وَتَطَالَتْ لِيَرَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَيَسْمَعَ كَلَامَهَا , فَقَالَتْ: إِي وَاللَّهِ , إِنَّهُمْ لَيُحَدِّثُونَ , وَإِنَّهُنَّ لَيُحَدِّثْنَ , فَقَالَ:" فَهَلْ تَدْرُونَ مَا مَثَلُ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ؟ إِنَّ مَثَلَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ , مَثَلُ شَيْطَانٍ وَشَيْطَانَةٍ , لَقِيَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ بِالسِّكَّةِ , قَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ" . ثُمَّ قَالَ: " أَلَا لَا يُفْضِيَنَّ رَجُلٌ إِلَى رَجُلٍ , وَلَا امْرَأَةٌ إِلَى امْرَأَةٍ , إِلَّا إِلَى وَلَدٍ أَوْ وَالِدٍ" , قَالَ: وَذَكَرَ ثَالِثَةً فَنَسِيتُهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابی نضرہ سے روایت ہے کہ مجھ سے طفاوہ کے ایک شخص نے بیان کیا کہ میں مدینہ منورہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے یہاں مہمان ہوا تو میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب میں سے عبادت اور مہمان نوازی میں اس قدر مستعد کسی کو نہیں دیکھا کہ جس قدر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا میں ایک روز ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور ابوہریرہ ایک تخت پر تشریف فرما تھے ایک تھیلی (ہاتھ میں) لئے ہوئے کہ جس میں کنکریاں گٹھلیاں بھری ہوئی تھیں اور نیچے ایک سیاہ رنگ کی باندی بیٹھی ہوئی تھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ان کنکریوں یا گٹھلیوں پر سبحان اللہ پڑھتے تھے جب تمام کنکریاں ختم ہوجاتی تو وہ باندی ان کو جمع کرکے پھر ان کو تھیلی میں ڈال دیتی اور ان کو اٹھا کر دے دیتی (پھر وہ ان کنکریوں پر تسبیح پڑھنا شروع کردیتے) انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ کیا میں اپنی حالت اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث مبارک نہ بیان کروں؟ میں نے کہا ضرور انہوں انہوں نے فرمایا ایک مرتبہ میں مسجد نبوی میں بخار میں تپ رہا تھا کہ اتنے میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد میں تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا (قبیلہ) دوس کے نوجوان شخص کو کسی شخص نے دیکھا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو مرتبہ یہی فرمایا ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ! (محبت و شفقت سے) اپنا دست مبارک مجھ پر پھیرا اور پیار سے گفتگو فرمائی میں اٹھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چل پڑے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس جگہ پر پہنچے کہ جہاں پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کی جانب چہرہ انور فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ مردوں کی دو صفیں تھیں اور ایک صف خواتین کی تھی یا خواتین کی دو صفیں تھیں اور ایک صف مردوں کی تھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر مجھے شیطان نماز میں بھلا دے تو مرد سبحان اللہ کہیں اور خواتین ہاتھ پر ہاتھ ماریں راوی نے بیان کیا کہ پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز ادا فرمائی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کسی جگہ بھول نہیں ہوئی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمام حضرات اپنی اپنی جگہ بیٹھے رہو کیا تم لوگوں میں کوئی ایسا شخص ہے کہ جو اپنی بیوی کے پاس پہنچ کر دروازہ بند کرلیتا ہے اور وہاں پردہ ڈال لیتا ہے پھر باہر نکل کر لوگوں کے سامنے خلوت کی باتیں بیان کرتا ہے؟ لوگ یہ بات سن کر خاموش ہوگئے پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خواتین کی جانب مخاطب ہوئے اور ارشاد فرمایا کیا تم میں سے کوئی ایسی خاتون ہے جو دوسری خاتون سے ایسی ایسی باتیں نقل کرتی ہو (یعنی شوہر کے جماع کرنے کی کیفیت بیان کرتی ہو) یہ سن کر خواتین خاموش رہیں اتنے میں ایک خاتون نے گھٹنے زمین پر رکھ کر خود کو اونچا کیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کو دیکھ لیں اور اس کی بات سن لیں اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مرد بھی اس بات کا تذکرہ کرتے ہیں اور خواتین بھی اس بات کا تذکرہ کرتی ہیں (یعنی مرد بھی ایسے ہیں کہ جو بیوی سے جماع کی کیفیت کو دوسروں سے بیان کرتے ہیں) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا تم لوگ واقف ہو کہ اس بات کی کیا مثال ہے؟ اس کی مثال یہ ہے کہ شیطان کسی شیطانہ سے راستہ میں ملاقات کرے اور اس سے اپنی خواہش نفسانی پوری کرے اور لوگ اس کو دیکھ رہے ہیں باخبر ہوجاؤ کہ مردوں کی خوشبو یہ ہے کہ اس کی خوشبو معلوم ہو اور اس کا رنگ معلوم نہ ہو اور خواتین کی خوشبو وہ ہے کہ جس کا رنگ معلوم ہو لیکن اس کی خوشبو معلوم نہ ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10977]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة الطفاوي، ولبعض قطع هذا الحديث طرق وشواهد تقويه
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة الطفاوي، ولبعض قطع هذا الحديث طرق وشواهد تقويه
حدیث نمبر: 10978 مسند احمد
عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ ، حَرِيزٌ ، شَبِيبٍ أَبِي رَوْحٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا حَرِيزٌ , عَنْ شَبِيبٍ أَبِي رَوْحٍ , أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى أَبَا هُرَيْرَةَ , فَقَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ , حَدِّثْنَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ , فَقَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَلَا إِنَّ الْإِيمَانَ يَمَانٍ , وَالْحِكْمَةَ يَمَانِيَةٌ , وَأَجِدُ نَفَسَ رَبِّكُمْ مِنْ قِبَلِ الْيَمَنِ , وَقَالَ أَبُو الْمُغِيرَةَ: مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ , أَلَا إِنَّ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَقَسْوَةَ الْقَلْبِ فِي الْفَدَّادِينَ , أَصْحَابِ الشَّعْرِ وَالْوَبَرِ , الَّذِينَ يَغْتَالُهُم الشَّيَاطِينُ عَلَى أَعْجَازِ الْإِبِلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شبیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آکر کہنے لگا کہ اے ابوہریرہ! ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کوئی حدیث سنایئے چنانچہ انہوں نے ایک حدیث ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا یاد رکھو! ایمان بھی اہل یمن میں ہے اور حکمت بھی اور میں یمن کی طرف سے تمہارے رب کی آہٹ محسوس کرتا ہوں اور یاد رکھو! کفروفسق اور دل کی سختی ان بالوں اور پشم والے لوگوں میں ہوتی ہے جنہیں شیطان اونٹوں کی دموں پر اچک لیتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10978]
حکم دارالسلام
صحيح، خ: 4388، م: 52، دون قوله: وأجد نفس ربكم من قبل اليمن وفيه نكارة، فقد تفرد به شبيب، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان
الحكم: صحيح، خ: 4388، م: 52، دون قوله: وأجد نفس ربكم من قبل اليمن وفيه نكارة، فقد تفرد به شبيب، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان
حدیث نمبر: 10979 مسند احمد
أَحْمَدُ أَبُو صَالِحٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ يَعْنِي بْنَ أَبِي الْوَضَّاحِ أَبُو سَعِيدٍ الْمُؤَدِّبُ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ أَبُو صَالِحٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ يَعْنِي بْنَ أَبِي الْوَضَّاحِ أَبُو سَعِيدٍ الْمُؤَدِّبُ فِي ذِي الْقَعْدَةِ سَنَةَ سَبْعِينَ , فَذَكَرَ حَدِيثًا , وَذَكَرَ هَذَا , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا تَصَدَّقَ بِتَمْرَةٍ مِنَ الطَّيِّبِ , وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا الطَّيِّبَ , وَقَعَتْ فِي يَدِ اللَّهِ , فَيُرَبِّيهَا لَهُ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ , أَوْ فَصِيلَهُ , حَتَّى تَعُودَ فِي يَدِهِ مِثْلَ الْجَبَلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بندہ جب حلال مال میں سے کوئی چیز صدقہ کرتا ہے تو اللہ اسے قبول فرما لیتا ہے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتا ہے اور جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنی بکری کے بچے کی پرورش اور نشو و نما کرتا ہے اسی طرح اللہ اس کی نشو و نما کرتا ہے اور انسان ایک لقمہ صدقہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں بڑھتے بڑھتے وہ ایک لقمہ پہاڑ کے برابر بن جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10979]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1410، م: 1014
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1410، م: 1014