عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ ، حَرِيزٌ ، شَبِيبٍ أَبِي رَوْحٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا حَرِيزٌ , عَنْ شَبِيبٍ أَبِي رَوْحٍ , أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى أَبَا هُرَيْرَةَ , فَقَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ , حَدِّثْنَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ , فَقَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَلَا إِنَّ الْإِيمَانَ يَمَانٍ , وَالْحِكْمَةَ يَمَانِيَةٌ , وَأَجِدُ نَفَسَ رَبِّكُمْ مِنْ قِبَلِ الْيَمَنِ , وَقَالَ أَبُو الْمُغِيرَةَ: مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ , أَلَا إِنَّ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَقَسْوَةَ الْقَلْبِ فِي الْفَدَّادِينَ , أَصْحَابِ الشَّعْرِ وَالْوَبَرِ , الَّذِينَ يَغْتَالُهُم الشَّيَاطِينُ عَلَى أَعْجَازِ الْإِبِلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شبیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آکر کہنے لگا کہ اے ابوہریرہ! ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کوئی حدیث سنایئے چنانچہ انہوں نے ایک حدیث ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا یاد رکھو! ایمان بھی اہل یمن میں ہے اور حکمت بھی اور میں یمن کی طرف سے تمہارے رب کی آہٹ محسوس کرتا ہوں اور یاد رکھو! کفروفسق اور دل کی سختی ان بالوں اور پشم والے لوگوں میں ہوتی ہے جنہیں شیطان اونٹوں کی دموں پر اچک لیتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10978]
حکم دارالسلام
صحيح، خ: 4388، م: 52، دون قوله: وأجد نفس ربكم من قبل اليمن وفيه نكارة، فقد تفرد به شبيب، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان
الحكم: صحيح، خ: 4388، م: 52، دون قوله: وأجد نفس ربكم من قبل اليمن وفيه نكارة، فقد تفرد به شبيب، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان