بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 133 از 194
حدیث نمبر: 9760 مسند احمد
وَكِيعٌ ، حَوْشَبُ بْنُ عَقِيلٍ ، مَهْدِيٌّ الْعَبْدِيُّ ، عِكْرِمَةَ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَوْشَبُ بْنُ عَقِيلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَهْدِيٌّ الْعَبْدِيُّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فِي بَيْتِهِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ صَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَاتٍ؟، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ :" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ صَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَاتٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے گھر ان کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے ان سے میدان عرفات میں عرفہ کے دن روزہ رکھنے کا مسئلہ پوچھا انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میدان عرفات میں یوم عرفہ کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9760]
حکم دارالسلام
إسناده ضيف لجهالة مهدي
الحكم: إسناده ضيف لجهالة مهدي
حدیث نمبر: 9761 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هَارُونَ الثَّقَفِيِّ ، عَطَاءً ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هَارُونَ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: " فِي كُلِّ صَلَاةٍ قِرَاءَةٌ، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ، وَمَا لَمْ يُسْمِعْنَا لَمْ نُسْمِعْكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہر نماز میں ہی قرأت کی جاتی ہے البتہ جس نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں (جہر کے ذریعے) قرأت سنائی ہے اس میں ہم بھی تمہیں سنائیں گے اور جس میں سراً قرأت فرمائی ہے اس میں ہم بھی سراً قراءت کریں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9761]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 772، م: 396
الحكم: إسناده صحيح، خ: 772، م: 396
حدیث نمبر: 9762 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، ابْنِ أَبِي ذُبَابٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذُبَابٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشِعْبٍ فِيهِ عَيْنٌ عَذْبَةٌ، قَالَ: فَأَعْجَبَتْهُ، يَعْنِي طِيبَ الشِّعْبِ، فَقَالَ: لَوْ أَقَمْتُ هَاهُنَا وَخَلَوْتُ، ثُمَّ قَالَ: لَا، حَتَّى أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَسَأَلَهُ فَقَالَ: " مُقَامُ أَحَدِكُمْ يَعْنِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ عِبَادَةِ أَحَدِكُمْ فِي أَهْلِهِ سِتِّينَ سَنَةً، أَمَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَتَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ؟، جَاهِدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُوَاقَ نَاقَةٍ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ایک صحابی کا کسی ایسی جگہ سے گذر ہوا جہاں پر میٹھے پانی کا چشمہ تھا اور انہیں وہاں کی آب و ہوا بھی اچھی لگی انہوں نے سوچا کہ میں یہیں رہائش اختیار کرکے خلوت گزیں ہوجاتا ہوں پھر انہوں نے سوچا کہ نہیں پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھوں گا چنانچہ انہوں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی کا جہاد فی سبیل اللہ میں شریک ہونا اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہتے ہوئے ساٹھ سال تک مسلسل عبادت کرنے سے کہیں زیادہ بہتر ہے کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں بخش دے اور تم جنت میں داخل ہوجاؤ؟ اللہ کی راہ میں جہاد کرو جو شخص اونٹنی کے تھن میں دودھ اترنے کی مقدار کے برابر بھی اللہ کے راستہ میں جہاد کرتا ہے اس کے لئے جنت واجب ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9762]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 9763 مسند احمد
وَكِيعٌ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " كُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا، لَا تَعَادَوْا وَلَا تَبَاغَضُوا؟، سَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَأَبْشِرُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ کے بندو! آپس میں بھائی بھائی بن کر رہا کرو آپس میں دشمنی اور بغض نہ رکھا کرو راہ راست پر رہو صراط مستقیم کے قریب رہو اور خوشخبری قبول کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9763]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9764 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ صَالِحٍ يَعْنِي مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي مَجْلِسٍ فَتَفَرَّقُوا، وَلَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَيُصَلُّوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا كَانَ مَجْلِسُهُمْ تِرَةً عَلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو لوگ کسی جگہ پر مجلس کریں لیکن اس میں اللہ کا ذکر اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر دورد نہ بھیجیں اور جدا ہوجائیں وہ ان کے لئے قیامت کے دن باعث حسرت ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9764]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9765 مسند احمد
وَكِيعٌ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا حَجَّ بِنِسَائِهِ , قَالَ: " إِنَّمَا هِيَ هَذِهِ الْحَجَّةُ، ثُمَّ الْزَمْنَ ظُهُورَ الْحُصْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ حج کیا تو فرمایا کہ یہ حج تو ہوگیا اس کے بعد تمہیں گھروں میں بیٹھنا ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9765]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 9766 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ شَرِيكٍ ، عَطَاءٌ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شَرِيكٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " نِعْمَ الْإِبِلُ الثَّلَاثُونَ يُحْمَلُ عَلَى نَجِيبِهَا، وَتُعِيرُ أَدَاتَهَا، وَتُمْنَحُ غَزِيرَتُهَا، وَيُجْبِيهَا يَوْمَ وِرْدِهَا فِي أَعْطَانِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بہترین اونٹ (تعداد کے اعتبار سے) تیس ہوتے ہیں جن میں سے عمدہ اونٹ پر آدمی سامان لادتا ہے کم درجے والے کو عاریت پردے دیتا ہے دودھ سے لبریز کو ہدیہ کردیتا ہے اور جب وہ باڑے میں آتے ہیں تو انہیں دوہ لیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9766]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9767 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، شَيْخٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ شَيْخٍ , سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُخَيَّرُ الرَّجُلُ فِيهِ بَيْنَ الْعَجْزِ وَالْفُجُورِ، فَلْيَخْتَرْ الْعَجْزَ عَلَى الْفُجُورِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جس میں انسان کو لاچاری اور فسق و فجور میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کا موقع دیا جائے گا جو شخص وہ زمانہ پائے اسے چاہئے کہ لاچاری کو فسق و فجور پر ترجیح دے کر اسی کو اختیار کرلے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9767]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة الراوي المبهم
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة الراوي المبهم
حدیث نمبر: 9768 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟، قَالَ: " أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ شَحِيحٌ، أَوْ صَحِيحٌ تَأْمُلُ الْعَيْشَ، وَتَخْشَى الْفَقْرَ، وَلَا تُمْهِلْ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بِالْحُلْقُومِ قُلْتَ: لِفُلَانٍ كَذَا، وَلِفُلَانٍ كَذَا، وَقَدْ كَانَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کس موقع کے صدقہ کا ثواب سب سے زیادہ ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سب سے افضل صدقہ یہ ہے کہ تم تندرستی کی حالت میں صدقہ کرو جبکہ مال کی حرص تمہارے اندر موجود ہو۔ تمہیں فقروفاقہ کا اندیشہ ہو۔ اور تمہیں اپنی زندگی باقی رہنے کی امید ہو اس وقت سے زیادہ صدقہ خیرات میں تاخیر نہ کرو کہ جب روح حلق میں پہنچ جائے تو تم یہ کہنے لگو کہ فلاں کو اتنا دے دیا جائے اور فلاں کو اتنا دے دیا جائے حالانکہ وہ تو فلاں (ورثاء) کا ہوچکا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9768]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1419، م: 1032
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1419، م: 1032
حدیث نمبر: 9769 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مَنْصُورُ بْنُ دِينَارٍ ، أَبِي عِكْرِمَةَ الْمَخْزُومِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي عِكْرِمَةَ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدُكُمْ جَارَهُ أَنْ يَضَعَ خَشَبَاتِهِ عَلَى جِدَارِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار پر لکڑی (یا شہتیر) رکھنے سے منع نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9769]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5627، وهذا إسناد ضعيف لضعف منصور، ولجهالة أبي عكرمة
الحكم: حديث صحيح، خ: 5627، وهذا إسناد ضعيف لضعف منصور، ولجهالة أبي عكرمة
حدیث نمبر: 9770 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أَفْلَحَ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، سَلْمَانَ الْأَغَرِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَفْلَحَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ سَلْمَانَ الْأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمَدِينَةُ مَنْ صَبَرَ عَلَى شِدَّتِهَا وَلَأْوَائِهَا، كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص بھی مدینہ منورہ کی مشقتوں اور سختیوں پر صبر کرے گا میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی بھی دوں گا اور سفارش بھی کروں گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9770]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9771 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي مَيْمُونَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا، فَأَرَادَتْ أَنْ تَأْخُذَ وَلَدَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " اسْتَهِمَا فِيهِ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: مَنْ يَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ ابْنِي؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم لِلِابْنِ:" اخْتَرْ أَيَّهُمَا شِئْتَ". فَاخْتَارَ أُمَّهُ فَذَهَبَتْ بِهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک عورت جسے اس کے شوہر نے طلاق دے دی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی وہ اپنا بچہ لینا چاہتی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قرعہ اندازی کرلو بچے کا باپ کہنے لگا کہ میرے اور میرے بچے کے درمیان کون حائل ہوسکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لڑکے کو اختیار دیتے ہوئے فرمایا اے لڑکے ان میں سے جس کے ساتھ جانے کا ارادہ ہو اسے اختیار کرلے اس نے اپنی ماں کو ترجیح دی اور وہ اسے اپنے ساتھ لے گئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9771]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1378
الحكم: إسناده صحيح، م: 1378
حدیث نمبر: 9772 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ إِسْرَائِيلُ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّهُمَا شَهِدَا لِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " مَا قَعَدَ قَوْمٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلَّا حَفَّتْ بِهِمْ الْمَلَائِكَةُ، وَتَنَزَّلَتْ عَلَيْهِمْ السَّكِينَةُ، وَتَغَشَّتْهُمْ الرَّحْمَةُ، وَذَكَرَهُمْ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے شہادۃً مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی جو جماعت بھی اللہ کا ذکر کرنے کے لئے بیٹھتی ہے فرشتے اسے گھیر لیتے ہیں ان پر سکینہ نازل ہوتا ہے رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ ان کا تذکرہ ملأ اعلیٰ میں کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9772]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6408، م: 2689
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6408، م: 2689
حدیث نمبر: 9773 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، سَعِيدِ ابْنِ مَرْجَانَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، عَنْ سَعِيدِ ابْنِ مَرْجَانَةَ ، أَنَّهُ حَدَّثَ عَلِيَّ بْنَ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً، كَانَ لَهُ بِعِتْقِ كُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوٌ مِنَ النَّارِ" . حَتَّى ذَكَرَ الْفَرْجَ، قَالَ: فَدَعَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ غُلَامًا لَهُ، فَأَعْتَقَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے، اللہ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے میں آزاد کرنے والے کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد فرما دیں گے حتی کہ ہاتھ کے بدلے میں ہاتھ کو اور پاؤں کے بدلے میں پاؤں کو اور شرمگاہ کے بدلے میں شرمگاہ کو۔ یہ حدیث سن کر علی بن حسین رحمہ اللہ نے اپنے غلام کو بلا کر اسے آزاد کردیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9773]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2517، م: 1509، وقد سقط من هذا الإسناد إسماعيل بن أبي حكيم
الحكم: حديث صحيح، خ: 2517، م: 1509، وقد سقط من هذا الإسناد إسماعيل بن أبي حكيم
حدیث نمبر: 9774 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " إِذَا قَامَ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسِهِ، ثُمَّ رَجَعَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ کر جائے تو واپس آنے کے بعد اس جگہ کا سب سے زیادہ حقدار وہی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9774]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2179
الحكم: إسناده صحيح، م: 2179
حدیث نمبر: 9775 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، الْجُرَيْرِيِّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، الطُّفَاوِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنِ الطُّفَاوِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَا يُبَاشِرُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ، وَلَا الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ، إِلَّا الْوَلَدُ وَالْوَالِدَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت دوسری عورت کے ساتھ اپنا برہنہ جسم نہ لگائے اسی طرح کوئی مرد دوسرے مرد کے ساتھ ایسا نہ کرے سوائے باپ بیٹے کے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9775]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله: « إلا الولد والوالد » ، وهذا إسناد ضعيف الجهالة الطفاوي
الحكم: حديث صحيح دون قوله: « إلا الولد والوالد » ، وهذا إسناد ضعيف الجهالة الطفاوي
حدیث نمبر: 9776 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ذَكْوَانَ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ذَكْوَانَ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " قَلْبُ الشَّيْخِ شَابٌّ عَلَى حُبِّ اثْنَتَيْنِ: جَمْعِ الْمَالِ، وَطُولِ الْحَيَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بوڑھے آدمی میں دو چیزوں کی محبت جوان ہوجاتی ہے لمبی زندگانی اور مال و دولت کی فراوانی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9776]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6420، م: 1046
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6420، م: 1046
حدیث نمبر: 9777 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ :" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ فَسَهَا، فَلَمَّا سَلَّمَ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی نماز کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سہو ہوگیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9777]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 482، م: 573
الحكم: إسناده صحيح، خ: 482، م: 573
حدیث نمبر: 9778 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، أَبُو صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ فُلَانًا يُصَلِّي بِاللَّيْلِ، فَإِذَا أَصْبَحَ سَرَقَ. قَالَ:" إِنَّهُ سَيَنْهَاهُ مَا يَقُولُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ فلاں آدمی رات کو نماز پڑھتا ہے اور دن کو چوری کرتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عنقریب اس کی نماز و تلاوت اسے اس کام سے روک دے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9778]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9779 مسند احمد
وَكِيعٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَامِلًا الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلَى عَاتِقِهِ، وَلُعَابُهُ يَسِيلُ عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو اپنے کندھے پر اٹھا رکھا ہے اور ان کا لعاب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر بہہ رہا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9779]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح