بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 169 از 194
حدیث نمبر: 10480 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ ، أَبِي عَمَّارٍ شَدَّادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ شَدَّادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَافَظَ عَلَى شُفْعَةِ الضُّحَى، غُفِرَتْ ذُنُوبُهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص چاشت کی دو رکعتوں کی پابندی کرلیا کرے اس کے سارے گناہ معاف ہوجائیں گے اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10480]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف النهاس، وشداد لم يسمع من أبي ھریرہ
الحكم: إسناده ضعيف لضعف النهاس، وشداد لم يسمع من أبي ھریرہ
حدیث نمبر: 10481 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، خَالِدٌ ، وَهِشَامٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ , وَهِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا، مَنْ أَحْصَاهَا كُلَّهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ایک کم سو یعنی ننانوے اسماء گرامی ہیں جو شخص ان کا احصاء کرلے وہ جنت میں داخل ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10481]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6410، م: 2677، وهذا إسناد ضعيف لضعف علي، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 6410، م: 2677، وهذا إسناد ضعيف لضعف علي، وقد توبع
حدیث نمبر: 10482 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، خَالِدٌ ، وَهِشَامٌ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ , وَهِشَامٌ , عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10482]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3539، م: 2134، وهذا إسناد ضعيف لضعف علي، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 3539، م: 2134، وهذا إسناد ضعيف لضعف علي، وقد توبع
حدیث نمبر: 10483 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، مُجَاهِدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ: أَنْ " لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ، وَصَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَكْعَتَيْ الضُّحَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے تین چیزوں کی وصیت کی ہے میں سفروحضر میں انہیں کبھی نہ چھوڑوں گا۔ (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٢) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٣) چاشت کی دو رکعتوں کی بعد میں حسن کو وہ اس کی جگہ " غسل جمعہ " کا ذکر کرنے لگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10483]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1178، م: 721، وهذا إسناد ضعيف لضعف علي، وليث
الحكم: حديث صحيح، خ: 1178، م: 721، وهذا إسناد ضعيف لضعف علي، وليث
حدیث نمبر: 10484 مسند احمد
عَلِيٌّ ، الْحَذَّاءِ ، ابْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، عَنِ الْحَذَّاءِ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعَجْمَاءُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ارشاد فرمایا چوپائے کا زخم رائیگاں ہے کنوئیں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10484]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2355، م: 1710، وهذا إسناد ضعيف لضعف علي بن عاصم
الحكم: حديث صحيح، خ: 2355، م: 1710، وهذا إسناد ضعيف لضعف علي بن عاصم
حدیث نمبر: 10485 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ , عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيُصَلِّي أَحَدُنَا فِي الثَّوْبِ؟ قَالَ: " أَوَكُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی شخص نے پوچھا کہ ہم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا تم میں سے ہر ایک کو دو دو کپڑے میسر ہیں؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10485]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 365، م: 515، وهذا إسناد ضعيف لضعف علي
الحكم: حديث صحيح، خ: 365، م: 515، وهذا إسناد ضعيف لضعف علي
حدیث نمبر: 10486 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ , حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ الْجُمُعَةَ , فَلْيُصَلِّ بَعْدَهَا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کی نماز پڑھ لے تو اس کے بعد چار رکعتیں پڑھ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10486]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 881، وهذا إسناد ضعيف كسابقه، لكنه قد توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 881، وهذا إسناد ضعيف كسابقه، لكنه قد توبع
حدیث نمبر: 10487 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، الْحَجَّاجُ ، عَطَاءٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ , أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ كَتَمَ عِلْمًا يَعْلَمُهُ , جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَجَّمًا بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص سے علم کی کوئی بات پوچھی جائے اور وہ اسے خواہ مخواہ ہی چھپائے تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10487]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لتدليس الحجاج، لكنه متابع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لتدليس الحجاج، لكنه متابع
حدیث نمبر: 10488 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ ، ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ , حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ , عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: سَمِعْتُ نَبِيَّ التَّوْبَةِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَيُّمَا رَجُلٍ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ وَهُوَ بَرِيءٌ مِمَّا قَالَ , أَقَامَ عَلَيْهِ الْحَدَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , إِلَّا أَنْ يَكُونَ كَمَا قَالَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی التوبہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص نے اپنے کسی غلام پر ایسے کام کی تہمت لگائی جس سے وہ بری ہو قیامت کے دن اس پر اس کی حد جاری کی جائے گی، ہاں! اگر وہ غلام ویسا ہی ہو جیسے اس کے مالک نے کہا تو اور بات ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10488]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6858، م: 1660
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6858، م: 1660
حدیث نمبر: 10489 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، حَجَّاجٍ ، عَطَاءٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ , عَنْ حَجَّاجٍ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ" نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ , وَمَهْرِ الْبَغِيِّ , وَعَسْبِ الْفَحْلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جسم فروشی کی کمائی اور کتے کی قیمت اور سانڈ کی جفتی پر دینے کی قیمت سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10489]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2283
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2283
حدیث نمبر: 10490 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، الْحَجَّاجِ ، عَطَاءٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , عَنِ الْحَجَّاجِ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ:" نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ , وَكَسْبِ الْحَجَّامِ , وَمَهْرِ الْبَغِيِّ" , قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَمَنْ إِذًا؟.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سینگی لگانے والے کی اور جسم فروشی کی کمائی اور کتے کی قیمت سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10490]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، وانظر ما قبله
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 10491 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا قَامَ فِي الصَّلَاةِ , رَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو پھیلا کر رفع یدین فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10491]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10492 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدِ بْنِ سِمْعَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ سِمْعَانَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: تَرَكَ النَّاسُ ثَلَاثَةً مِمَّا كَانَ يَعْمَلُ بِهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ," كَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا , ثُمَّ سَكَتَ قَبْلَ الْقِرَاءَةِ هُنَيَّةً يَسْأَلُ اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ , فَيُكَبِّرُ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تین چیزیں ایسی ہیں جن پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عمل فرماتے تھے لیکن اب لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز شروع کرتے وقت دونوں ہاتھوں کو پھیلا کر رفع یدین کرتے تھے ہر جھکنے اور اٹھنے کے موقع پر تکبیر کہتے تھے اور قرأت سے کچھ پہلے سکوت فرماتے اور اس میں اللہ سے اس کا فضل مانگتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10492]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 744، 788، م: 392، 598
الحكم: إسناده صحيح، خ: 744، 788، م: 392، 598
حدیث نمبر: 10493 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الْمَقْبُرِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ , قََالَ: لَمَّا حَضَرَ أَبَا هُرَيْرَةَ الْمَوْتُ , قََالَ: لَا تُتْبِعُونِي بِمِجْمَرٍ , وَأَسْرِعُوا بِي , فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا وُضِعَ عَلَى سَرِيرِهِ , قَالَ: أَسْرِعُوا بِي , وَإِذَا وُضِعَ الْكَافِرُ عَلَى سَرِيرِهِ , قَالَ: وَيْلَاهُ أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن مہران رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جس وقت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وفات کا موقع قریب آیا تو وہ فرمانے لگے مجھ پر کوئی خیمہ نہ لگانا میرے ساتھ آگ نہ لے کر جانا اور مجھے جلدی لے جانا کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جب کسی نیک آدمی کو چارپائی پر رکھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے مجھے جلدی آگے بھیجو مجھے جلدی آگے بھیجو اور اگر کسی گناہ گار آدمی کو چارپائی پر رکھاجائے تو وہ کہتا ہے ہائے افسوس! مجھے کہاں لئے جاتے ہو؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10493]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، خ: 1314، م: 944
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، خ: 1314، م: 944
حدیث نمبر: 10494 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَقُولُ أَحَدُكُمْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ , اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ , لِيَعْزِمْ الْمَسْأَلَةَ , قَالَ: لَا مُكْرِهَ لَهُ" . قَالَ عَبْد اللَّهِ: كَذَا كَانَ فِي كِتَابِ أَبِي مُبَيَّضٌ , " وَلَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ , لِيُمْنَعَ بِهِ فَضْلُ الْكَلَإِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص جب دعاء کرے تو یوں نہ کہا کرے کہ اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے معاف فرمادے بلکہ پختگی اور یقین کے ساتھ دعا کرے کیونکہ اللہ پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں ہے۔ اور زائد پانی روک کر نہ رکھاجائے کہ اس سے گھاس روکی جاسکے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10494]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2353، 7477، م: 1566، 2679
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2353، 7477، م: 1566، 2679
حدیث نمبر: 10495 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزِّنَادِ ، مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَصُومُ الْمَرْأَةُ إِذَا كَانَ زَوْجُهَا شَاهِدًا إِلَّا بِإِذْنِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت " جبکہ اس کا خاوند گھر میں موجود ہو " (ماہ رمضان کے علاوہ) کوئی نفلی روزہ اس کی اجازت کے بغیر نہ رکھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10495]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5195، م: 1026
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5195، م: 1026
حدیث نمبر: 10496 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَزْمٌ ، مُحَمَّدَ بْنَ وَاسِعٍ ، بَعْضِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا حَزْمٌ , قََالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ وَاسِعٍ , عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ نَفَّسَ عَنْ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا , نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الْآخِرَةِ , وَمَنْ سَتَرَ عَلَى أَخِيهِ , سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ , وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ , مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان سے دنیا کی پریشانیوں میں سے کسی ایک پریشانی کو دور کرتا ہے تو اللہ قیامت کے دن اس کی ایک پریشانی کو دور فرمائے گا جو شخص کسی مسلمان کے عیوب پر پردہ ڈالتا ہے اللہ آخرت میں اس کے عیوب پر پردہ ڈالے گا اور بندہ جب تک اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے اللہ تعالیٰ بندہ کی مدد میں لگا رہتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10496]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، والواسطة المبهمة، هو الأعمش أو محمد بن المنكدر وكلاهما ثقة ، م: 2699
الحكم: إسناده صحيح، والواسطة المبهمة، هو الأعمش أو محمد بن المنكدر وكلاهما ثقة ، م: 2699
حدیث نمبر: 10497 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، الزُّهْرِيِّ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ , عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَنِ الزُّهْرِيِّ وَغَيْرِهِ , قَالُوا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ , فَلَا يَضَعَنَّ يَدَهُ فِي الْغِسْلِ حَتَّى يَغْسِلَهَا , فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ کسی برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک اسے تین مرتبہ دھونہ لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10497]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 162، م: 278، له هنا إسنادان، الأول: متصل حسن، والثاني: مرسل
الحكم: حديث صحيح، خ: 162، م: 278، له هنا إسنادان، الأول: متصل حسن، والثاني: مرسل
حدیث نمبر: 10498 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ بِضَالَّتِهِ فِي فَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ عَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ کو اپنے بندے کی توبہ سے " جب وہ توبہ کرتا ہے " اس سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے جو کسی کو اپنی سواری ملنے پر ہوتی ہے جو جنگل میں گم ہوگئی ہو اور اس پر اس کے کھانے پینے کی چیزیں بھی موجود ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10498]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وإسناده حسن، م: 2747
الحكم: حديث صحيح، وإسناده حسن، م: 2747
حدیث نمبر: 10499 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ , عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ وَجَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ , لَمْ تَزَلْ الْمَلَائِكَةُ تَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ , اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ , مَا لَمْ يَقُمْ , أَوْ يُحْدِثْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھتا ہے پھر اپنے مصلی پر ہی بیٹھا رہتا ہے تو فرشتے مسلسل کہتے رہتے ہیں کہ اے اللہ اس کی بخشش فرما اے اللہ! اس پر رحم فرما بشرطیکہ وہ بےوضو نہ ہوجائے یا وہاں سے اٹھ نہ جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10499]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 477، م: 649، محمد بن إسحاق وإن كان مدلسا وقد عنعنه، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 477، م: 649، محمد بن إسحاق وإن كان مدلسا وقد عنعنه، لكنه توبع