بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 178 از 194
حدیث نمبر: 10660 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ بِإِسْنَادِهِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ , قََالَ: حَتَّى دَخَلَا عَلَى أُمِّهِمَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10660]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 10661 مسند احمد
رَوْحٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، ابْنِ شِهَابٍ ، حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ الْأَسْلَمِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ الْأَسْلَمِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيُهِلَّنَّ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ بِفَجِّ الرَّوْحَاءِ بِالْحَجِّ أَوْ الْعُمْرَةِ، أَوْ لَيُثَنِّيَهُمَا جَمِيعًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایسا ضرور ہوگا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مقام فج الروحاء سے حج یا عمرہ یا دونوں کا احرام باندھیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10661]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م:1252
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م:1252
حدیث نمبر: 10662 مسند احمد
رَوْحٌ ، هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، وَحُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ , وَحُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَقَدَّمُوا قَبْلَ رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ , إِلَّا رَجُلًا كَانَ يَصُومُ صِيَامًا فَيَصِلُهُ بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے نہ رکھا کرو البتہ اس شخص کو اجازت ہے جس کا معمول پہلے سے روزہ رکھنے کا ہو کہ اسے روزہ رکھ لینا چاہئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10662]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1914، م: 1082
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1914، م: 1082
حدیث نمبر: 10663 مسند احمد
رَوْحٌ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَبِي عُثْمَانَ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ ثَابِتٍ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ , أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ فِي سَفَرٍ , فَلَمَّا نَزَلُوا أَرْسَلُوا إِلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي , قََالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : صَدَقَ , وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ، وَثَلَاثَةُ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، صَوْمُ الدَّهْرِ كُلِّهِ" , فَقَدْ صُمْتُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ أَوَّلِ الشَّهْرِ , فَأَنَا مُفْطِرٌ فِي تَخْفِيفِ اللَّهِ , صَائِمٌ فِي تَضْعِيفِ اللَّهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوعثمان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سفر میں تھے لوگوں نے ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کھانا کھانے کے لئے بلا بھیجا وہ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے انہوں نے قاصد سے کہلا بھیجا کہ میں روزے سے ہوں چنانچہ لوگوں نے کھانا کھانا شروع کردیا جب وہ کھانے سے فارغ ہونے کے قریب ہوئے تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی آگئے اور کھانا شروع کردیا لوگ قاصد کی طرف دیکھنے لگے اس نے کہا مجھے کیوں گھورتے ہو انہوں نے خود ہی مجھ سے کہا تھا کہ میں روزے سے ہوں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ سچ کہہ رہا ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ماہ رمضان کے مکمل روزے اور ہر مہینے میں تین روزے رکھ لیناپورے سال روزہ رکھنے کے برابر ہے چنانچہ میں ہر مہینے تین روزے رکھتا ہوں میں جب روزہ کھولتاہوں (نہیں رکھتا) تو اللہ کی تخفیف کے سائے تلے اور رکھتا ہوں تو اللہ کی تضعیف (ہر عمل کا بدلہ دگنا کرنے) کے سائے تلے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10663]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10664 مسند احمد
رَوْحٌ ، صَالِحٌ ، بْنُ شِهَابٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا صَالِحٌ , حَدَّثَنَا بْنُ شِهَابٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ يَطُوفُ فِي مِنًى أَنْ: " لَا تَصُومُوا هَذِهِ الْأَيَّامَ , فَإِنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو منیٰ میں گھوم پھر کر یہ اعلان کرنے کے لئے بھیجا کہ ان ایام میں روزہ نہ رکھوایام تشریق کھانے پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے دن ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10664]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف صالح
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف صالح
حدیث نمبر: 10665 مسند احمد
رَوْحٌ ، عَوْفٌ ، وَهِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا عَوْفٌ , وَهِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ , أَوْ شَرِبَ نَاسِيًا وَهُوَ صَائِمٌ، فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص روزہ رکھے اور بھولے سے کچھ کھا پی لے تو اسے اپنا روزہ پھر بھی پورا کرنا چاہئے کیونکہ اسے اللہ نے کھلایا پلایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10665]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1933، م: 1155
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1933، م: 1155
حدیث نمبر: 10666 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، زُهَيْرٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ , وَالْإِمَامُ ضَامِنٌ , اللَّهُمَّ أَرْشِدْ الْأَئِمَّةَ , وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا امام ضامن ہوتا ہے اور مؤذن امانت دار اے اللہ اماموں کی رہنمائی فرما اور موذنین کی مغفرت فرما۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10666]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10667 مسند احمد
رَوْحٌ ، مَالِكٌ ، الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يُنْبَذَ فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دباء اور مزفت میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10667]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1993
الحكم: إسناده صحيح، م: 1993
حدیث نمبر: 10668 مسند احمد
رَوْحٌ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، الْمَسْعُودِيُّ ، عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، أَبِي الرَّبِيعِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , وَأَبُو النَّضْرِ , قَالَا: حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ , عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ , عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِنْ دُعَائِهِ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ , وَمَا أَخَّرْتُ , وَمَا أَسْرَرْتُ , وَمَا أَعْلَنْتُ , وَإِسْرَافِي , وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي , أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ , لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یوں دعاء فرمایا کرتے تھے اے اللہ میرے اگلے پچھلے پوشیدہ اور ظاہر سب گناہوں اور حد سے تجاوز کرنے کو معاف فرما اور ان گناہوں کو بھی معاف فرما جنہیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے تو ہی آگے پیچھے کرنے والا ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10668]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10669 مسند احمد
رَوْحٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، ابْنُ شِهَابٍ ، أَبِي عُبَيْدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ , حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ , عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ، إِمَّا مُسِيءٌ فَيَسْتَغْفِرُ، أَوْ مُحْسِنٌ فَيَزْدَادُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے کیونکہ اگر وہ نیکو کار ہے تو ہوسکتا ہے کہ اس کی نیکیوں میں اور اضافہ ہوجائے اور اگر وہ گناہگار ہے تو ہوسکتا ہے کہ توبہ کرلے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10669]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7235، م: 2682
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7235، م: 2682
حدیث نمبر: 10670 مسند احمد
رَوْحٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَوْفٌ ، الْحَسَنِ ، مُحَمَّدٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، وَخِلَاسٌ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَوْفٌ , عَنِ الْحَسَنِ , قََالَ: بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِائَةُ رَحْمَةٍ، وَإِنَّهُ قَسَمَ رَحْمَةً وَاحِدَةً بَيْنَ أَهْلِ الْأَرْضِ، فَوَسِعَتْهُمْ إِلَى آجَالِهِمْ، وَذَخَرَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ رَحْمَةً لِأَوْلِيَائِهِ، وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَابِضٌ تِلْكَ الرَّحْمَةَ الَّتِي قَسَمَهَا بَيْنَ أَهْلِ الْأَرْضِ إِلَى التِّسْعَةِ وَالتِّسْعِينَ فَيُكَمِّلُهَا مِائَةَ رَحْمَةٍ لِأَوْلِيَائِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" , قَالَ مُحَمَّدٌ فِي حَدِيثِهِ: وَحَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ , وَخِلَاسٌ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے پاس سو رحمتیں ہیں جن میں سے اللہ نے تمام زمین والوں پر صرف ایک رحمت نازل فرمائی ہے اور باقی ننانوے رحمتیں اللہ نے اپنے اولیاء کے لئے رکھ چھوڑی ہیں پھر اللہ اس ایک رحمت کو بھی لے کر ان ننانوے رحمتوں کے ساتھ ملا دے گا اور قیامت کے دن اپنے اولیاء پر پوری سور حمتیں فرمائے گا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10670]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2752، وله إسنادان، الأول: مرسل، والثاني: صحيح من جهة ابن سيرين، ومنقطع من خلاس فإنه لم يسمع من أبى هريرة
الحكم: حديث صحيح، م: 2752، وله إسنادان، الأول: مرسل، والثاني: صحيح من جهة ابن سيرين، ومنقطع من خلاس فإنه لم يسمع من أبى هريرة
حدیث نمبر: 10671 مسند احمد
رَوْحٌ ، عَوْفٌ ، خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا عَوْفٌ , عَنْ خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَهُ.
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خلاس لم يسمع من أبى هريرة، وانظر ما قبله
الحكم: حديث صحيح، خلاس لم يسمع من أبى هريرة، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 10672 مسند احمد
رَوْحٌ ، عَوْفٌ ، مُحَمَّدٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا عَوْفٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10672]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 10673 مسند احمد
رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , فَقَالَ: الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ إِنَّ لِي عَشَرَةً مِنَ الْوَلَدِ , مَا قَبَّلْتُ مِنْهُمْ أَحَدًا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ اقرع بن حابس نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرات حسن رضی اللہ عنہ کو چوم رہے ہیں وہ کہنے لگے کہ میرے تو دس بیٹے ہیں لیکن میں نے ان میں سے کسی کو کبھی نہیں چوما؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو کسی پر رحم نہیں کرتا اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10673]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5997، م:2318
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5997، م:2318
حدیث نمبر: 10674 مسند احمد
رَوْحٌ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، نَافِعٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ , عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ , عَنْ نَافِعٍ , أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ , قََالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ الْعَبْدَ نَادَى جِبْرِيلَ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَبَّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ، فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ، ثُمَّ يُنَادِي جِبْرِيلُ فِي أَهْلِ السَّمَاءِ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَبَّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ , فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ , ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي أَهْلِ الْأَرْضِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ جب کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو جبرائیل (علیہ السلام) سے کہتا ہے کہ میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو اور جبرائیل آسمان والوں سے کہتے ہیں کہ تمہارا پروردگار فلاں شخص سے محبت کرتا ہے اس لئے تم بھی اس سے محبت کرو چنانچہ سارے آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اس کے بعد زمین والوں میں اس کی مقبولیت ڈال دی جاتی ہے [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10674]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3209، م: 2637
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3209، م: 2637
حدیث نمبر: 10675 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، دَاوُدَ بْنَ فَرَاهِيجَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قََالَ: سَمِعْتُ دَاوُدَ بْنَ فَرَاهِيجَ , قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ , حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حضرت جبرائیل (علیہ السلام) مجھے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت اتنے تسلسل کے ساتھ کرتے رہے کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا کہ عنقریب وہ اسے وارث قرار دے دیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10675]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10676 مسند احمد
رَوْحٌ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ نَفَّسَ عَنْ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الْآخِرَةِ , وَمَنْ سَتَرَ عَنْ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ , وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان سے دنیا کی پریشانیوں میں سے کسی ایک پریشانی کو دور کرتا ہے تو اللہ قیامت کے دن اس کی ایک پریشانی کو دور فرمائے گا جو شخص کسی مسلمان کے عیوب پر پردہ ڈالتا ہے اللہ آخرت میں اس کے عیوب پر پردہ ڈالے گا اور بندہ جب تک اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے اللہ تعالیٰ بندہ کی مدد میں لگا رہتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10676]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2699
الحكم: إسناده صحيح، م: 2699
حدیث نمبر: 10677 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُنْجِي أَحَدَكُمْ عَمَلُهُ" , قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" وَلَا أَنَا , إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ , فَسَدِّدُوا , وَقَارِبُوا , وَاغْدُوا , وَرُوحُوا , وَشَيْءٌ مِنَ الدُّلْجَةِ , وَالْقَصْدَ الْقَصْدَ تَبْلُغُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلاسکتا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ کو بھی نہیں فرمایا مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے لہذا تم راہ راست پر رہو۔ لیکن صراط مستقیم کے قریب رہو صبح وشام نکلو رات کا کچھ وقت عبادت کے لئے رکھو اور میانہ روی اختیار کرو منزل مقصد تک پہنچ جاؤگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10677]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5973، م:2816
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5973، م:2816
حدیث نمبر: 10678 مسند احمد
رَوْحٌ ، عَوْفٌ ، الْحَسَنِ ، وَخِلَاسٌ ، وَمُحَمَّدٌ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا عَوْفٌ , عَنِ الْحَسَنِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَخِلَاسٌ , وَمُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: " يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا سورة الأحزاب آية 69، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مُوسَى كَانَ رَجُلًا حَيِيًّا سِتِّيرًا , لَا يَكَادُ يُرِي مِنْ جِلْدِهِ شَيْئًا اسْتِحْيَاءً مِنْهُ , قَالَ: فَآذَاهُ مَنْ آذَاهُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ , قَالُوا: مَا يَتَسَتَّرُ هَذَا التَّسَتُّرَ إِلَّا مِنْ عَيْبٍ بِجِلْدِهِ , إِمَّا بَرَصًا وَإِمَّا أُدْرَةً، وَقَالَ رَوْحٌ مَرَّةً: أُدْرَةً وَإِمَّا آفَةً، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَرَادَ أَنْ يُبَرِّئَهُ مِمَّا قَالُوا، وَإِنَّ مُوسَى خَلَا يَوْمًا , فَوَضَعَ ثَوْبَهُ عَلَى حَجَرٍ , ثُمَّ اغْتَسَلَ، فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ إِلَى ثَوْبِهِ لِيَأْخُذَهُ , وَإِنَّ الْحَجَرَ عَدَا بِثَوْبِهِ , فَأَخَذَ مُوسَى عَصَاهُ وَطَلَبَ الْحَجَرَ , وَجَعَلَ يَقُولُ: ثَوْبِي حَجَرُ , ثَوْبِي حَجَرُ , حَتَّى انْتَهَى إِلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ , فَرَأَوْهُ عُرْيَانًا كَأَحْسَنِ الرِّجَالِ خَلْقًا , وَأَبْرَأَهُ مِمَّا كَانُوا يَقُولُونَ لَهُ , وَقَامَ الْحَجَرُ , فَأَخَذَ ثَوْبَهُ وَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا بِعَصَاهُ , قَالَ: فَوَاللَّهِ إِنَّ فِي الْحَجَرِ لَنَدَبًا مِنْ أَثَرِ ضَرْبِهِ ثَلَاثًا، أَوْ أَرْبَعًا، أَوْ خَمْسًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا اے اہل ایمان ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اذیت پہنچائی پھر اللہ نے انہیں ان کی کہی ہوئی بات سے بری کردیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بڑے شرم وحیاء اور پردے والے تھے اسی وجہ سے ان کے جسم پر کسی آدمی کی نظر نہیں پڑتی تھی، بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں نے انہیں اذیت دی اور وہ کہنے لگے کہ یہ جو اتنا پردہ کرتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے جسم میں کوئی عیب ہے برص کا یا غدود پھولے ہونے کا (یا کوئی بیماری) اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہوا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی کہی ہوئی باتوں سے بری کردیں چنانچہ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) غسل کرنے کے لئے گئے تو اپنے کپڑے حسب معمول اتار کر پتھر پر رکھ دئیے وہ پتھر ان کے کپڑے لے کر بھاگ گیا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس کے پیچھے پیچھے اے پتھر میرے کپڑے اے پتھر میرے کپڑے کہتے ہوئے دوڑے یہاں تک کہ وہ بنی اسرائیل کی ایک جماعت کے پاس پہنچ کر رک گیا انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو برہنہ دیکھا تو جسمانی طور پر وہ انتہائی حسین اور ان کے لگائے ہوئے عیب سے بری تھے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے اپنے کپڑے لے کر اسے مارنا شروع کردیا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ واللہ! اس پتھر پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مار کی وجہ سے چار پانچ نشان پڑگئے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10678]
حکم دارالسلام
صحيح، خ: 278، م: 339، وله إسنادان، الأول: منقطع لأن الحسن لم يسمع من أبى هريرة، والثاني: صحيح من جهة ابن سيرين، ومنقطع من جهة خلاس لأنه لم يسمع من أبى هريرة
الحكم: صحيح، خ: 278، م: 339، وله إسنادان، الأول: منقطع لأن الحسن لم يسمع من أبى هريرة، والثاني: صحيح من جهة ابن سيرين، ومنقطع من جهة خلاس لأنه لم يسمع من أبى هريرة
حدیث نمبر: 10679 مسند احمد
رَوْحٌ ، عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ ، مُجَاهِدٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ , عَنْ مُجَاهِدٍ , أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُولُ: وَاللَّهِ، إِنْ كُنْتُ لَأَعْتَمِدُ بِكَبِدِي عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْجُوعِ، وَإِنْ كُنْتُ لَأَشُدُّ الْحَجَرَ عَلَى بَطْنِي مِنَ الْجُوعِ , وَلَقَدْ قَعَدْتُ يَوْمًا عَلَى طَرِيقِهِمْ الَّذِي يَخْرُجُونَ مِنْهُ , فَمَرَّ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , مَا سَأَلْتُهُ إِلَّا لِيَسْتَتْبِعَنِي , فَلَمْ يَفْعَلْ , فَمَرَّ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ , مَا سَأَلْتُهُ إِلَّا لِيَسْتَتْبِعَنِي , فَلَمْ يَفْعَلْ , فَمَرَّ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَفَ مَا فِي وَجْهِي , وَمَا فِي نَفْسِي , فَقَالَ: " أَبَا هُرَيْرَةَ" , فَقُلْتُ لَهُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَقَالَ:" الْحَقْ" وَاسْتَأْذَنْتُ , فَأَذِنَ لِي، فَوَجَدْتُ لَبَنًا فِي قَدَحٍ، فَقَالَ:" مِنْ أَيْنَ لَكُمْ هَذَا اللَّبَنُ؟" , فَقَالُوا: أَهْدَاهُ لَنَا فُلَانٌ أَوْ آلُ فُلَانٍ , قَالَ:" أَبَا هُرَيْرَةَ"، قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" انْطَلِقْ إِلَى أَهْلِ الصُّفَّةِ، فَادْعُهُمْ لِي" , قَالَ: وَأَهْلُ الصُّفَّةِ أَضْيَافُ الْإِسْلَامِ لَمْ يَأْوُوا إِلَى أَهْلٍ , وَلَا مَالٍ , إِذَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدِيَّةٌ , أَصَابَ مِنْهَا وَبَعَثَ إِلَيْهِمْ مِنْهَا , قَالَ: وَأَحْزَنَنِي ذَلِكَ , وَكُنْتُ أَرْجُو أَنْ أُصِيبَ مِنَ اللَّبَنِ شَرْبَةً أَتَقَوَّى بِهَا بَقِيَّةَ يَوْمِي وَلَيْلَتِي , فَقُلْتُ: أَنَا الرَّسُولُ , فَإِذَا جَاءَ الْقَوْمُ كُنْتُ أَنَا الَّذِي أُعْطِيهِمْ , فَقُلْتُ: مَا يَبْقَى لِي مِنْ هَذَا اللَّبَنِ؟ وَلَمْ يَكُنْ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ وَطَاعَةِ رَسُولِهِ بُدٌّ , فَانْطَلَقْتُ فَدَعَوْتُهُمْ , فَأَقْبَلُوا , فَاسْتَأْذَنُوا , فَأَذِنَ لَهُمْ , فَأَخَذُوا مَجَالِسَهُمْ مِنَ الْبَيْتِ , ثُمَّ قَالَ:" أَبَا هِرٍّ، خُذْ فَأَعْطِهِمْ" , فَأَخَذْتُ الْقَدَحَ , فَجَعَلْتُ أُعْطِيهِمْ , فَيَأْخُذُ الرَّجُلُ الْقَدَحَ , فَيَشْرَبُ حَتَّى يَرْوَى , ثُمَّ يَرُدُّ الْقَدَحَ , فَأُعْطِيهِ الْآخَرَ , فَيَشْرَبُ حَتَّى يَرْوَى , ثُمَّ يَرُدُّ الْقَدَحَ , حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى آخِرِهِمْ , وَدَفَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَخَذَ الْقَدَحَ , فَوَضَعَهُ فِي يَدِهِ , وَبَقِيَ فِيهِ فَضْلَةٌ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَنَظَرَ إِلَيَّ وَتَبَسَّمَ، فَقَالَ:" أَبَا هِرٍّ" , قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" بَقِيتُ أَنَا وَأَنْتَ"، فَقُلْتُ: صَدَقْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" فَاقْعُدْ فَاشْرَبْ" , قَالَ: فَقَعَدْتُ فَشَرِبْتُ , ثُمَّ قَالَ لِيَ:" اشْرَبْ" , فَشَرِبْتُ , فَمَا زَالَ يَقُولُ لِيَ:" اشْرَبْ" , فَأَشْرَبُ، حَتَّى قُلْتُ: لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا أَجِدُ لَهَا فِيَّ مَسْلَكًا , قَالَ:" نَاوِلْنِي الْقَدَحَ"، فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ الْقَدَحَ، فَشَرِبَ مِنَ الْفَضْلَةِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے اللہ کی قسم ہے میں بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ کو زمین پر سہارا دے لیتا تھا اور بھوک کے غلبے کی وجہ سے پیٹ پر پتھرباندھ لیتا تھا ایک روز میں مسلمانوں کے راستہ میں جا کر بیٹھ گیا اسی راستہ سے لوگ جایا کرتے تھے تھوڑی دیر میں ادھر سے ابوبکر رضی اللہ عنہ گزرے میں نے ان سے قرآن کی ایک آیت دریافت کی اور صرف اس لئے دریافت کی تھی کہ مجھے باتیں کرتے ہوئے اپنے ساتھ لے جائیں گے لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ چلے گئے کھانا نہ کھلایا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ گزرے میں نے ان سے بھی قرآن کی ایک آیت دریافت کی اور صرف اس لئے دریافت کی کہ مجھے باتیں کرتے ہوئے اپنے ساتھ لے جائیں گے لیکن وہ بھی گزر گئے اور کھانا نہ کھلایا۔ اخیر میں حضور گرامی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نکلے اور مجھے دیکھ کر مسکرائے میرے دل کی بات اور چہرہ کی علامات پہچان گئے پھر فرمایا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ میں نے عرض کیا جی حضور فرمایا (گھرآکر) ملنا یہ فرما کر تشریف لے گئے اور میں پیچھے پیچھے چل دیاحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اندر داخل ہوئے مجھے اجازت دی اور میں بھی اندر پہنچ گیا وہاں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک پیالہ دودھ رکھا ہوا ملا فرمایا یہ کہاں سے آیا؟ عرض کیا گیا فلاں شخص نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تحفہ میں بھیجا تھا فرمایا ابوہریرہ! میں نے عرض کیا جی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا اہل صفہ کو جا کر بلا لاؤ اہل صفہ درحقیقت اسلام کے مہمان تھے ان کا گھربار اور مال نہ تھا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جب صدقہ کا مال آتا تھا تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس میں سے خود کچھ نہ کھاتے تھے بلکہ ان کو بھیج دیتے تھے۔ اور تحفہ آتا تو خود بھی اس میں سے کچھ لیتے تھے اور ان کے پاس بھی بھیج دیتے تھے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں مجھے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس ار شاد پر ذراسی گھبراہٹ ہوئی اور میں نے کہا کہ اہل صفہ کے مقابلہ میں اس دودھ کی مقدار ہی کیا ہے؟ بہتر تو یہ تھا کہ میں اس میں سے پی لیتا تاکہ قوت حاصل ہوجاتی اب اہل صفہ آئیں گے تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھ کو حکم دیں گے اور میں حسب الحکم ان کو دوں گا اور ممکن نہیں ہے کہ میرے حصہ میں اس دودھ کی کچھ مقدار پہنچے لیکن چونکہ خداو رسول کی تعمیل حکم سے کوئی چارہ نہ تھا اس لئے میں جا کر اہل صفہ کو بلا لایا سب لوگ آگئے باریاب ہونے کی اجازت چاہی اجازت دے دی گئی سب لوگ گھر میں اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پیالہ لے کر ان کو دے دو میں پیالہ لے کر ایک آدمی کو دینے لگا وہ جب سیر ہو کر پی لیتا تو مجھے واپس دے دیتا اور میں دوسرے کو دے دیتا وہ بھی سیر ہو کر مجھے واپس دے دیتا تھا اسی طرح سب سیر ہوگئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک پیالہ پہنچنے کی نوبت پہنچی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پیالہ لے کر میرے ہاتھ پر رکھ دیا اور میری طرف دیکھ کر مسکرائے پھر فرمایا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ میں نے عرض کیا جی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا میں اور تم بس دو آدمی رہ گئے ہیں میں نے جواب دیا حضور نے سچ فرمایا فرمایا بیٹھ کر پی لو میں نے بیٹھ کر پیا فرمایا اور پیو میں نے اور پیا اس طرح برابر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھ سے فرماتے جاتے تھے کہ پیو اور میں برابر پیتا رہا یہاں تک کہ میں نے عرض کیا قسم ہے اس اللہ کی جس نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نبی برحق بنا کر بھیجا ہے اب گنجائش نہیں ہے فرمایا تو اب مجھے دکھاؤ میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پیالہ دے دیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اللہ کا شکر ادا کیا اور بسم اللہ کہہ کر بقیہ دودھ پی لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 10679]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6246
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6246