بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3865
صفحہ 138 از 194
حدیث نمبر: 9860 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شَرِيكٌ ، أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " تَفْضُلُ صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ عَلَى صَلَاةِ الْوَحْدَةِ سَبْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً، أَوْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اکیلے نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت ستائیں یا پچیس درجے زیادہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9860]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 648، م: 649، شريك - وإن كان سيئ الحفظ - قد توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 648، م: 649، شريك - وإن كان سيئ الحفظ - قد توبع
حدیث نمبر: 9861 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شَرِيكٌ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَرِيرٍ ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ، دَعَا بِمَاءٍ فَاسْتَنْجَى، ثُمَّ مَسَحَ بِيَدِهِ عَلَى الْأَرْضِ ثُمَّ تَوَضَّأَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو پانی منگوا کر استنجاء کرتے پھر اپنا ہاتھ زمین پر رگڑ کر اسے دھوتے پھر وضو فرماتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9861]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، شريك سيئ الحفظ
الحكم: إسناده ضعيف، شريك سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 9862 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَلْيَغْتَسِلْ، وَمَنْ حَمَلَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میت کو غسل دے اسے چاہئے کہ خود بھی غسل کرلے اور جو شخص جنازہ اٹھائے وہ وضو کرلے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9862]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات غير صالح، وهو صدوق كان قد اختلط ، وقد اختلف في رفع الحديث ووقفه
الحكم: رجاله ثقات غير صالح، وهو صدوق كان قد اختلط ، وقد اختلف في رفع الحديث ووقفه
حدیث نمبر: 9863 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شَرِيكٌ ، سَلْمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّخَعِيِّ ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سَلْمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّخَعِيِّ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ تَسَمَّى بِاسْمِي، فَلَا يَتَكَنَّى بِكُنْيَتِي، وَمَنْ تَكَنَّى بِكُنْيَتِي، فَلَا يَتَسَمَّى بِاسْمِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص میرے نام پر اپنا نام رکھے وہ میری کنیت اختیار نہ کرے اور جو میری کنیت پر اپنی کنیت رکھے وہ میرا نام اختیار نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9863]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 9864 مسند احمد
أَسْوَدُ ، شَرِيكٌ
حَدَّثَنَاه أَسْوَدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9864]
حکم دارالسلام
انظر ما قبله
الحكم: انظر ما قبله
حدیث نمبر: 9865 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَلَا شَيْءَ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص نماز جنازہ مسجد میں پڑھے اس کے لئے کوئی ثواب نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9865]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف من أجل صالح
الحكم: إسناده ضعيف من أجل صالح
حدیث نمبر: 9866 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عِرَاكٍ ، أَبِي هُرَيْرَة
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِرَاكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ، الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ , وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگوں میں سب سے بدترین شخص وہ آدمی ہوتا ہے جو دوغلا ہو ان لوگوں کے پاس ایک رخ لے کر آتا ہے اور ان کے پاس دوسرا رخ لے کر آتا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9866]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7179، م: 2526
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7179، م: 2526
حدیث نمبر: 9867 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَبَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ، فَوُضِعَتْ فِي يَدَيَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے جوامع الکلم کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے اور ایک مرتبہ سوتے ہوئے زمین کے تمام خزانوں کی چابیاں میرے پاس لا کر میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9867]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2977، م: 523
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2977، م: 523
حدیث نمبر: 9868 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبِي عُبَيْدٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَأَنْ يَحْتَزِمَ أَحَدُكُمْ حُزْمَةَ حَطَبٍ فَيَحْمِلَهَا عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهَا، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ رَجُلًا يُعْطِيهِ أَوْ يَمْنَعُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی آدمی لکڑیوں کا گٹھا پکڑ کر اپنی پیٹھ پر لاد کر اسے بیچے اور اس سے حاصل ہونے والی کمائی خود کھائے یا صدقہ کردے یہ بہت بہتر ہے بہ نسبت اس کے کہ کسی آدمی کے پاس جا کر سوال کرے اس کی مرضی ہے کہ اسے کچھ دے یا نہ دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9868]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2079، م: 1062
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2079، م: 1062
حدیث نمبر: 9869 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، خَالِدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ فَلَا يَغْمِسْ يَدَهُ فِي إِنَائِهِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثًا، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ کسی برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک اسے تین مرتبہ دھو نہ لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9869]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 162، م: 278
الحكم: إسناده صحيح، خ: 162، م: 278
حدیث نمبر: 9870 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، أَبَا الضَّحَّاكِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الضَّحَّاكِ ، يُحَدِّثُ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا سَبْعِينَ أَوْ مِائَةَ سَنَةٍ، هِيَ شَجَرَةُ الْخُلْدِ" . قَالَ حَجَّاجٌ:" أَوْ مِائَةَ سَنَةٍ , شَجَرَةُ الْخُلْدِ". قُلْتُ لِشُعْبَةَ:" هِيَ شَجَرَةُ الْخُلْدِ"!. قَالَ: لَيْسَ فِيهَا" هِيَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایک درخت ایسا ہے کہ سوار اس کے سائے میں ستر سال تک یا سواسال تک چل سکتا ہے وہی شجرہ خلد ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9870]
حکم دارالسلام
صحيح دون قوله: « شجرة الخلد » ، خ: 4881، م: 2826، وهذا إسناد ضعيف، أبو الضحاك مجهول
الحكم: صحيح دون قوله: « شجرة الخلد » ، خ: 4881، م: 2826، وهذا إسناد ضعيف، أبو الضحاك مجهول
حدیث نمبر: 9871 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، وَعَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَبُو الْوَلِيدِ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ . وَعَفَّانُ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الْجَبَّارِ يُحَدِّثُ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ الرَّحِمَ شُجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ , تَقُولُ: يَا رَبِّ إِنِّي قُطِعْتُ , يَا رَبِّ إِنِّي ظُلِمْتُ , يَا رَبِّ إِنِّي أُسِيءَ إِلَيَّ , يَا رَبِّ، يَا رَبِّ. فَيُجِيبُهَا رَبُّهَا عَزَّ وَجَلَّ , فَيَقُولُ: أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ، وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ" . حَدَّثَنَاه أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا رحم رحمن کا ایک جزو ہے جو قیامت کے دن آئے گا اور عرض کرے گا کہ اے پروردگار مجھے توڑا گیا مجھ پر ظلم کیا گیا پروردگار میرے ساتھ برا سلوک کیا گیا۔ اللہ اسے جواب دے گا کیا تو اس پر بات پر راضی ہے کہ میں اسے جوڑوں گا جو تجھے جوڑے گا اور میں اسے کاٹوں گا جو تجھے کاٹے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9871]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5988، م: 2554، وهذا إسناد ضعيف لجهالة محمد بن عبدالجبار
الحكم: حديث صحيح، خ: 5988، م: 2554، وهذا إسناد ضعيف لجهالة محمد بن عبدالجبار
حدیث نمبر: 9872 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، أَبِي الرَّبِيعِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ , قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَرْبَعٌ فِي أُمَّتِي مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لَنْ يَدَعُوهُنَّ: التَّطَاعُنُ فِي الْأَنْسَابِ، وَالنِّيَاحَةُ، وَمُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا، وَالْعَدْوَى الرَّجُلُ يَشْتَرِي الْبَعِيرَ الْأَجْرَبَ، فَيَجْعَلُهُ فِي مِائَةِ بَعِيرٍ فَتَجْرَبُ، فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ؟!" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا زمانہ جاہلیت کی چار چیزیں ایسی ہیں جنہیں میرے امتی کبھی ترک نہیں کریں گے۔ حسب نسب میں عار دلانا، میت پر نوحہ کرنا، بارش کو ستاروں سے منسوب کرنا اور بیماری کو متعدی سمجھنا، ایک اونٹ خارش زدہ ہوا اور اس نے سو اونٹوں کو خارش میں مبتلا کردیا، تو پہلے اونٹ کو خارش زدہ کس نے کیا؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9872]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9873 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَرْقَاءَ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَرْقَاءَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اقامت ہونے کے بعد وقتی نماز کے علاوہ کوئی نماز نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9873]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 710
الحكم: إسناده صحيح، م: 710
حدیث نمبر: 9874 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَبَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، أَبَا حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ الْمَعْنَى , يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ كَافِرٌ، فَكَانَ يَأْكُلُ أَكْلًا كَثِيرًا، ثُمَّ إِنَّهُ أَسْلَمَ فَكَانَ يَأْكُلُ أَكْلًا قَلِيلًا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: " إِنَّ الْكَافِرَ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ، وَإِنَّ الْمُسْلِمَ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی جو کافر تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور بہت سا کھانا کھا گیا بعد میں اس نے اسلام قبول کرلیا تو بہت تھوڑا کھانا کھایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا تذکرہ ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسلمان ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9874]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5397، م: 2062
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5397، م: 2062
حدیث نمبر: 9875 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَبَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، أَبَا حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: حَدَّثَنَا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ، وَمَنْ تَرَكَ كَلًّا وُلِّيتُهُ" ، قَالَ بَهْزٌ:" وَمَنْ تَرَكَ كَلًّا فَإِلَيْنَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص بچے چھوڑ کر جائے ان کی پرورش میرے ذمے ہیں اور جو شخص مال چھوڑ کر جائے وہ اس کے ورثاء کا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9875]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2398، م: 1619
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2398، م: 1619
حدیث نمبر: 9876 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، ذَكْوَانَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَحَدَنَا يُحَدِّثُ نَفْسَهُ بِالشَّيْءِ، مَا يُحِبُّ أَنَّهُ يَتَكَلَّمُ بِهِ، وَإِنَّ لَهُ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ، قَالَ: " ذَاكَ مَحْضُ الْإِيمَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے دل میں ایسے وساوس اور خیالات آتے ہیں کہ انہیں زبان پر لانے سے زیادہ مجھے آسمان سے نیچے گرجانا محبوب ہے (میں کیا کروں؟) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ تو صریح ایمان ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9876]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 132
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 132
حدیث نمبر: 9877 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ ، زَائِدَةُ ، عَاصِمٍ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، بِإِسْنَادِهِ , قَالَ: مِنْ شَأْنِ الرَّبِّ عَزَّ وَجَلَّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے مروی ہے تاہم یہاں آخر میں یہ الفاظ ہیں کہ یہ پروردگار عالم کا کام ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا زمانہ جاہلیت کی چار چیزیں ایسی ہیں جنہیں لوگ کبھی ترک نہیں کریں گے۔۔۔۔۔ پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9877]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، انظر ما قبله
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، انظر ما قبله
حدیث نمبر: 9878 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ ، أَبَا الرَّبِيعِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الرَّبِيعِ ، وَكَانَ يُقَاعِدُ أَبَا بُرْدَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَرْبَعٌ فِي أُمَّتِي..." , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے مروی ہے تاہم یہاں آخر میں یہ الفاظ ہیں کہ یہ پروردگار عالم کا کام ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا زمانہ جاہلیت کی چار چیزیں ایسی ہیں جنہیں لوگ کبھی ترک نہیں کریں گے۔۔۔۔۔ پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9878]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9879 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مَرْوَانَ الْأَصْغَرِ ، أَبَا رَافِعٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَرْوَانَ الْأَصْغَرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا رَافِعٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ سَجَدَ فِي السَّمَاءُ انْشَقَّتْ، قَالَ: فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: " سَجَدَ فِيهَا خَلِيلِي، وَلَا أَزَالُ أَسْجُدُ حَتَّى أَلْقَاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابورافع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سورت انشقاق میں سجدہ تلاوت کرتے ہوئے دیکھا میں نے ان سے پوچھا انہوں نے فرمایا کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس آیت پر سجدہ کیا ہے اس لئے میں اس آیت پر پہنچ کر ہمیشہ سجدہ کرتا رہوں گا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جا ملوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 9879]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 768، م: 578
الحكم: إسناده صحيح، خ: 768، م: 578